دکھائیں کتب
  • 1 اسلام اور سیکولرزم (جمعہ 26 جون 2015ء)

    مشاہدات:2983

    ایک آزاد ملک میں جہاں مسلمانوں کی اکثریت ہو اور انہیں سیاسی اقتدار بھی حاصل ہو،وہاں اسلام کا دائرہ کار کیا ہونا چاہئے؟وہ مسلمانوں کی فقط انفرادی زندگی ہی سے متعلق رہے یا ریاستی امور میں بھی اس کی بالا دستی کو تسلیم کیا جائے؟یہ مسئلہ ان فکری مسائل میں سر فہرست رہا ہے جو بیسویں صدی کے دوران پوری اسلامی دنیا میں زیر بحث رہے۔ مصر کو اس اعتبار سے مسلم دنیا میں نمایاں مقام حاصل ہے کہ یہاں ان بنیادی فکری مسائل پر بھرپور بحث ہوتی رہی ہے،اور انہی مسائل میں اسلام اور ریاست کے باہمی تعلق کا مسئلہ بھی موجود ہے۔اس صدی کی تیسری دہائی میں علی عبد الرزاق کی "الاسلام واصول الحکم"نامی کتاب سامنے آئی۔ جس میں انہوں نے یہ موقف اختیار کیا حکومت اور اس سے متعلقہ مسائل اسلام کے دائرہ کار کا حصہ نہیں ہیں۔اس کتاب کی اشاعت پر مصر کے دینی حلقوں میں شدید رد عمل پیدا ہوا اور اس موقف کی بڑے جوش وخروش سے تردید کی گئی۔الغرض بیسویں صدی میں دونوں نکتہ نظر کی متعدد کتب چھپ کر سامنے آئیں۔چند سال قبل مصر کے بائیں بازو کے ایک وقیع مفکر اور صاحب قلم جناب احمد فواد زکریا نے اپنی تحریروں سے خالص سیکولر نقطہ کی شدت سے وکالت کی ۔اس بار اسلامی نقطہ نظر کی وضاحت کے لئے عالم عرب کے نامور صاحب علم محترم ڈاکٹر یوسف القرضاوی صاحب سامنے آئے، اور زیر تبصرہ کتاب "اسلام اور سیکولرزم ایک موازنہ" تصنیف فرما کر سیکولرزم کے تصور کی نفی کی اور اسلام کے نظام حکومت کے خدوخال کو واضح کیا۔کتاب اصلا عربی میں لکھی گئی ہے جس کا اردو ترجمہ محترم ساجد الرحمن صدیقی صاحب نے کیا ہے۔ اللہ تعالی آپ ک...

  • 2 تصحیح العقائد (جمعرات 23 جنوری 2014ء)

    مشاہدات:11876
    اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت ہمارے ایمان کا حصہ ہے اور آپ کی اطاعت کے بغیر ہمارے ایمان ناقص ہے۔ پس آپ کی ذات سے محبت اورآپ کی اطاعت دین میں مطلوب ومقصود ہے۔محبت میںغلو آ ہی جاتا ہے جیسا کہ ہم دیکھتے ہیں کہ سابقہ اقوام نے بھی اپنے انبیاءکی محبت میںغلو کرتے ہوئے انہیں معاذ اللہ ، اللہ کا بیٹا بنا لیا ہے جیسا کہ عیسائیوں کا حضرت عیسی علیہ السلام کے بارے عقیدہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ نے اپنی امت کو اپنی تعریف میں غلوکرنے سے منع فرمایا ہے۔ایک روایت کا مفہوم ہے کہ آپ نے تلقین کی کہ میری تعریف میں ایسا مبالغہ نہ کرنا جیسا کہ نصاری نے حضرت عیسی علیہ السلام کی تعریف میں مبالغہ کیا ہے۔آپ کے مقام ومرتبہ کے بیان یامدح وثنا میںاہل حدیث کا کوئی اختلاف نہیںہے بلکہ وہ اسے جزو ایمان قرار دیتے ہیں، اختلاف اس صورت میں ہے جب آپ کے مقام ومرتبہ کے بیان یا نعت گوئی میں آپ کو اللہ کی ذات یااسماء و صفات کا شریک قرار دیا جائے کہ جس کی تردید کے لیے آپ نے اپنی ساری زندگی کھپا دی۔  
    بریلوی مسلک کے فضلا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مدح وثنا میں غلو کرتے ہوئے آپ کو ہر جگہ حاضر ناظر ثابت کرتے ہیں یا آپ کو ابتدائے کائنات سے قیام قیامت تک کی جزئیات و کلیات کا عالم الغیب ثابت کرتے ہیں۔ بریلوی حضرات کے اس غلو کے جواب میں مولانا عبد الرؤوف رحمانی صاحب نے ایک رسالہ ’تردید حاضر وناظر‘ کے نا م سے لکھا ہے۔جس کا جواب ایک بریلوی فاضل نے ’الشاہد‘ کے نام سے دیا۔ اس ’الشاہد‘ کے جواب میں مولانا محمد رئیس ندوی صاحب نے ’تصحیح العقائد بابطال شواھد الش...
  • 3 سیکولرازم ایک تعارف (جمعہ 12 اکتوبر 2018ء)

    مشاہدات:436

    سیکولرزم (Secularism)انگلش زبان کا لفظ ہے۔   جس کامطلب’لادینیت‘‘ یا ’’دُنیویت‘‘ ہے  اور یہ ایک ایسی اجتماعی تحریک ہے جو لوگوں کے سامنے آخرت کے بجائے اکیلی دنیا کو ہی ایک ہدف و مقصد کے طور پر پیش کرتی ہے۔ سیکولرازم محض ایک اصطلاح نہیں بلکہ ایک سوچ، فکر، نظریہ اور نظام کا نام ہے۔ مغربی مفکروں، دانشوروں، ادیبوں، فلسفیوں اور ماہرینِ عمرانیات کے مابین سیکولرازم کے مباحث میں مختلف النوع افکار و خیالات پائے جاتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ سیکولرازم کا کوئی ایک رنگ نہیں، یا اس کا کوئی ایک ہی ایڈیشن نہیں۔ یہ کبھی یکسر مذہب کا انکار کرتا ہے اور کبھی جزوی اقرار۔انفرادی سطح پر مذہب کو قبول کرنا اور اجتماعی (معاشی، سیاسی اور ریاستی) سطح پر اسے رد کردینا سیکولرازم کا جدید اسلوب ہے۔  دراصل ’سیکولرازم‘ مغرب کا تجربہ ہے جسے مغربی معاشروں نے صدیوں کی کشمکش کے بعد اختیار کیا ہے۔ زیر نظر کتاب’’سیکولرازم‘‘ جناب ڈاکٹر شاہد فریاد  صاحب  کی تصنیف ہے...

  • 4 معاصر اسلامی فکر۔2؛ اسلام اور سیکولرزم (منگل 28 نومبر 2017ء)

    مشاہدات:593

    اِسلامی نظریے کی ایک خصوصیت اُس کی ہمہ گیری اور جامعیت ہے۔ اِسلام نے زندگی کے ہر پہلو میں اِنسان کی رہنمائی کی ہے۔ اِسلام کی جامع رہنمائی اخلاقِ فاضلہ کی بلندیوں کی طرف اِنسان کو لے جاتی ہے اور بارِ امانت کا حق ادا کرنے کے لیے اس کو تیار کرتی ہے ۔ اِسلام نے اشخاص کی انفرادی اصلاح کو کافی نہیں سمجھا ہے بلکہ معاشرے اور ریاست کی اصلاح کو کلیدی اہمیت دی ہے۔ اسی طرح اسلام کے نزدیک صرف باطن کی درستگی کا اہتمام کافی نہیں بلکہ ظاہر کی طرف توجہ بھی ضروری ہے۔ انسانی زندگی کے تمام شعبے اسلام کے نزدیک اہم ہیں، خاندانی نظام، معاشرتی روابط ، معاشی تگ و دو، سیاست و حکومت، صلح وجنگ، تہذیب وتمدن، ثقافت و فنونِ لطیفہ اور تعلیم وتربیت سب پر اسلام نے توجہ کی ہے۔ اِسلام کی دعوت سامنے آجانے کے بعد سوال پیدا ہوتا ہے کہ سیکولرزم کس بات کا علمبردار ہے اور وہ اِنسانوں کے سامنے کیا پیغام پیش کرتا ہے؟ آج کل بحث وگفتگو میں سیکولرزم کی اصطلاح بہت استعمال ہوتی ہے۔یعنی ’’سیکولرزم ایسا نظریہ ہے جو اِس دنیا کے معاملات سے بحث کرتا ہے اور روحانیت یا تقدس سے عاری ہے۔ یہ مذہب یا مذہبی عقیدے سے کوئی سروکار نہیں رکھتا‘‘۔ زیرِ تبصرہ کتاب ’’اسلام اور سیکولرزم‘‘ مصنف یوسف القرضاوی نے ایک عام فہم اور پرزور اسلوب میں اسلامی ریاست کی وکالت، اس کے خدوخال کی وضاحت اور سیکولرزم کے تصور کی نفی کی ہےجس کے تحت اسلام کو ریاستی امور سے بے دخل قرار دیا جاتا ہے۔ بنیادی طور یہ کتاب عربی زبان میں ہے مگرکتاب کا موضوع اور اس کی علمی حیثیت کی بنا پراس کتاب کو ا...

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 607
  • اس ہفتے کے قارئین: 3650
  • اس ماہ کے قارئین: 16094
  • کل مشاہدات: 41356377

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں