دکھائیں کتب
  • 1 تفسیر فضل القرآن ۔ جزء سوئم (اتوار 02 فروری 2014ء)

    مشاہدات:18974
    مولانا فضل الرحمن کا شمار ان لوگوں میں ہوتا ہے جو ابتدائی عمر میں تو دینی تعلیم حاصل نہیں سکے۔لیکن جب اللہ نے ان کے لیے ہدایت کا راستہ روشن کیا تو  انہوں نے سخت محنت سے اپنا مقام بنایا۔ آپ پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے عربی میں گولڈ میڈلسٹ ہیں اور پاکستان قومی کرکٹ ٹیم  کی نمائندگی بھی کر چکے ہیں۔ کرکٹ کے جھمیلوں سے نکللنے کے بعد آپ دینی تعلیم کی طرف راغب ہوئے اور مولانا عطاء اللہ حنیف کی شاگردی میں کتب احادیث اور دیگر علوم میں مہارت حاصل کی۔ آپ اب تک متعدد کتب اور کتابچے لکھ چکے ہیں۔ مولانا نے تفسیر قرآن میں بھی اپنی صلاحیتوں کا اظہار کیا اور ’تفسیر فضل القرآن‘ کے نام سے قرآن کی تفسیر لکھی جو اس وقت آپ کے سامنے ہے۔ مولانا نے اس میں تفسیر بالماثور کا اسلوب اختیار کیا ہےاور اسلاف کے نقطہ نظر کو سامنے رکھا ہے۔ جس جگہ پر آیات کی تفسیر آیات سے ہوسکتی تھی وہاں پر آیات ہی سے کی ہے پھر تشریح کے طور پر احادیث رسولﷺ سے استشہاد کیا ہے اور احادیث کو حوالوں سے مزین کیا ہے اگرچہ بہت سے مقامات ایسے بھی ہیں جہاں احادیث حوالوں سے خالی نظر آتی ہیں اور کچھ مقامات پر ضعیف احادیث بھی شامل ہو گئی ہیں۔ جا بجا اقوال صحابہ و ائمہ اور تاریخی واقعات بھی قلمبند کئے گئے ہیں۔ اس تفسیر کی سب سے اہم خوبی یہ ہے کہ حل لغات کے عنوان سے ہر آیت کے مشکل الفاظ کے اصل معنی کی وضاحت کر دی گئی ہے۔ جس سے آیت کا مدعا سمجھنے میں خاصی مدد ملتی ہے۔

  • 2 زندہ کا مردہ کے لیے ہدیہ اور ایصال ثواب (جمعہ 14 نومبر 2014ء)

    مشاہدات:2283

    دور ِحاضر میں مسلمانوں کے اندر بہت سی خرافات ورسومات نےجنم لے لیا ہے جن میں سے کسی آدمی کے فوت ہوجانے کے بعد ایصالِ ثواب کا مسئلہ   بہت غلط رنگ اختیار کرچکا ہے بالخصوص قرآن خوانی کے ذریعے مردوں کوثواب پہنچانے کارواج عام ہے ۔ قرآن خوانی اورگٹھلیوں وغیرہ پر کثرت سے تسبیحات پڑھ کر مرنے والے کو اس کا ثواب بخشا جاتاہے ۔حتی کہ قرآنی اور اایصال ثواب توایک پیشہ کی صورت اختیار کر چکی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ   قرآن پڑھنے کا میت کوثواب نہیں پہنچتا۔ البتہ قرآن پڑھنےکے بعد میت کے لیے دعا  کرنے سے میت کو فائدہ ہوسکتا ہے۔ہمارے ہاں جو اجتماعی طور قرآن خوانی ایک رواج ہے جس کا قرآن وحدیث سے کوئی ثبوت نہیں ملتا۔ احادیث کی رو سے چند ایک چیزوں کا ثواب میت کو پہنچتا ہے جن کی تفصیل حسب ذیل ہے۔ 1۔کسی مسلمان کا مردہ کےلیے دعا کرنا بشرطیکہ دعا آداب وشروط قبولیت دعا کے مطابق ہو۔2 میت کے ذمے نذرکے روزے ہوں جو وہ ادا نہ کرسکا تو اس کی طرف سے روزے رکھنا بھی باعث ثواب ہے ۔3 نیک بچہ جوبھی اچھے کام کرے گا والدین اس کے ثواب میں شریک ہوں گے۔4مرنے کے بعد اچھے آثار اپنے پیچھے چھوڑجانے سےبھی میت کو ثواب ملتا ہے،صدقہ جاریہ بھی اس میں شامل ہے۔ زیر نظر کتابچہ’’زندہ کامردہ کے لیے ہدیہ اور ایصال ثواب ‘‘ محترمہ ام عبد منیب صاحبہ کا مرتب شد ہ ہے۔جس میں انہوں نے مختلف اہل علم اور   فتاویٰ جات سے استفادہ کرکے   مذکورہ مسئلہ کی شرعی حیثیت کوواضح کیا ہے۔ محترمہ ام عبد منیب صاحبہ نے اصلاحی موضوعا ت پر بیسیوں کتابچہ جات تحریر کیے ہیں جن میں سے بعض تو کتاب وسنت ویب سائٹ پر موجود ہیں باقی بھی...

  • 3 گستاخان رسول شریعت کی عدالت میں (اتوار 09 فروری 2014ء)

    مشاہدات:10801
    انبیا کی جماعت میں سے سب سے زیادہ افضل شخصیت حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کا تقدس و تفوق ہمیشہ مسلم اور غیر مسلم سب انسانوں کے ہاں مسلمہ رہا ہے۔ بد قسمتی سے دور حاضر میں سیکولر ازم کا بہت زور ہے اس لیے کسی بھی شریعت اور نبوت کااحترام باقی نہیں بچا۔ اس سلسلہ میں اب نعوذ باللہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی گستاخی کرنے میں باک محسوس نہیں کیا جا رہا۔ زیر نظر مختصر سے رسالہ میں ابوثوبان عبدالقادر نے اسی ضمن میں گستاخان رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے دنیوی اور اخروی انجام پر روشنی ڈالی ہے۔ (ع۔م)


    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 1020
  • اس ہفتے کے قارئین: 27396
  • اس ماہ کے قارئین: 80345
  • کل مشاہدات: 40612383

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں