مشورہ اور استخارہ کی شرعی حیثیت(5381#)

محمد علی جانباز
مکتبہ رحمانیہ ناصر روڈ سیالکوٹ
75
1500 (PKR)
2.1 MB

اسلام نے ہمیں زندگی کے تمام شعبوں کے بارے میں راہنمائی فراہم کی ہے۔عبادات ہوں یا معاملات،تجارت ہو یا سیاست،عدالت ہو یا قیادت ، طب ہو یا انجینئرنگ ،اسلام نے ان تمام امور کے بارے میں مکمل تعلیمات فراہم کی ہیں۔اسلام کی یہی عالمگیریت اور روشن تعلیمات ہیں کہ جن کے سبب اسلام دنیا میں اس تیزی سے پھیلا کہ دنیا کی دوسرا کوئی بھی مذہب اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا ہے۔اسلامی تعلیمات نہ صرف آخرت کی میں چین وسکون کی راہیں کھولتی ہیں ،بلکہ اس دنیوی زندگی میں اطمینان ،سکون اور ترقی کی ضامن ہیں۔ اسلام مسلمانوں کو تمام معاملات میں مشورہ کرنے کا حکم دیتا ہے تاکہ بعد میں پشیمانی اور ندامت کا سامنا نہ کرنا پڑے۔مشورے کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ قرآن کریم میں "شوریٰ" نام کی ایک سورت ہے۔ اور نبی اکرم ﷺ کو صحابہ کرام ؓ کے ساتھ مشورہ کرنے کا حکم دیا گیا ۔اور استخارہ کے معنیٰ ہیں خیر طلب کرنا، اور شریعت کی زبان میں اس سے خاص دعا مراد ہے۔ جب کسی معاملے کے مفید یا مضر ہونے میں تردد ہو اور کوئی ایک فیصلہ انسان کے لئے مشکل ہو جائے تو اس مشکل اور تردد کو دور کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں یہ دعاءکرناتا کہ اس معاملے میں تردد دور ہو جائے اور مفید پہلو متعین ہو جائے، یہ دعاء”استخارہ“ کہلاتی ہے ۔ استخارہ در حقیقت مشورے کی ایک اعلیٰ ترین شکل ہے۔ دونوں میں فرق یہ ہے کہ مشورہ اپنے ہم جنس افراد سے کیاجاتا ہے تاکہ ان کے علم و تجربہ سے فائدہ اٹھا کر مفید سے مفید تر قدم اٹھایا جائے، جبکہ استخارہ میں اللہ تعالیٰ سے عرض کیا جاتاہے کہ اے اللہ! ہمارے اس معاملے کے مفید اور مضر تمام پہلوؤں سے آپ بخوبی واقف ہیں، آپ کے علم میں جو پہلو ہمارے لئے ،مفید اور بہتر ہو اسے ہمارے سامنے روشن کرکے ، ہمارے دلوں کو اس کی طرف مائل و مطمئن کردیجئے۔لہذا کسی جائزمعاملہ میں جب تردد ہو تواس کی بہتری والی جہت معلوم کرنےکےلیےاستخارہ کرنا مسنون عمل ہے،حضوراکرم ﷺ کی احادیث سے اس کی ترغیب ملتی ہے۔ زیرتبصرہ کتاب ’’مشورہ اور استخارہ کی شرعی حیثیت ‘‘ شیخ الحدیث مولانا محمد علی جانباز ﷫ کی تحریر ہے ۔ اس میں انہو ں نے قرآن وحدیث کی روشنی میں استخارہ اور مشورہ کےمتعلق تمام ضروری مسائل کویکجا کردیا ہے تاکہ عوا م الناس اس سے آسانی مستفید ہوسکیں ۔ (م۔ا)

عناوین

 

صفحہ نمبر

تمہید

 

5

مشورہ کی اہمیت و آداب

 

6

لفظ امر کی تحقیق

 

8

مشورہ اور شوری کی لغوی تحقیق

 

9

مشورہ کرنے کا حکم

 

13

مشورہ کی ضرورت و اہمیت

 

13

مشورہ کی شرعی حیثیت

 

15

مشورہ کے آداب

 

17

جس سے مشورہ کیا جائے وہ امین ہوتا ہے

 

19

مشورہ اقوال صحابہ ؓ اور سلف امت کی نظر میں

 

22

رسول کریم ﷺ کو صحابہ کرام  سے مشورہ لینے کا درجہ

 

24

حکومت اسلامی میں مشورہ کا درجہ کیا ہے

 

27

مشورہ میں اختلاف رائے ہو جائے تو فیصلہ کی کیا صورت ہو گی

 

32

رسول اللہ ﷺ کے مشاورات اور فیصلہ کی صورت

 

34

ایک او رواقعہ

 

37

تیسرا واقعہ

 

8

خلفاء راشدین ؓ کی مجالس شوری

 

40

حضرت ابوبکر ؓ کی مجالس شوری

 

41

فریضہ زکوۃ چھوڑنے والوں کے خلاف جہاد اور صحابہ کی آراء

 

41

حضرت عمر فاروقؓ

 

46

موجودہ جمہوریت اور اس کا تعارف

 

49

ایک اشکال اور اس کا جواب

 

54

صحابہ کرام کی صفت

 

55

مشورہ کی اہمیت اور اس کا طریقہ ہر کام میں مکمل تدبیر کرنے کے بعد

 

56

اللہ تعالیٰ پر توکل کرنا

 

63

استخارہ

 

65

دعاء استخارہ

 

68

استخارہ کا طریقہ

 

70

اس مصنف کی دیگر تصانیف

اس ناشر کی دیگر مطبوعات

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 1074
  • اس ہفتے کے قارئین: 7243
  • اس ماہ کے قارئین: 46811
  • کل قارئین : 47266669

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں