• #6564
    ستار طاہر

    1 دنیا کی سو عظیم کتابیں

    ستار طاہر قیامِ پاکستان سے قبل یکم مئی، 1940ء گورداسپور میں پیدا ہوئے موصوف  پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو کے نامور ادیب، مترجم، کالم نگار، صحافی اور محقق تھے۔انہوں نے کئی اہم جرائد کے ادارتی فرائض انجام دیئے جن میں سیارہ ڈائجسٹ، قومی ڈائجسٹ، ویمن ڈائجسٹ  شامل  ہیں  اس کے علاوہ  250 سے زائد کتب کے مصنف ومرتب اور مترجم ہیں۔ تین  روسی کتب کا ترجمہ بھی کیاان کی تحریر کردہ کتب میں سورج بکف و شب گزیدہ، حیات سعید، زندہ بھٹو مردہ بھٹو، صدام حسین، مارشل لا کا وائٹ پیپر، تعزیت نامے اور تنویر نقوی: فن اور شخصیت کے نام سرفہرست ہیں اور ان کی ترجمہ شدہ کتب میں ری پبلک، حسن زرگر، دو شہروں کی ایک کہانی، شہزادہ اور فقیر، سرائے، تاراس بلبا اور دنیا کی سو عظیم کتابیں سرِ فہرست ہیں۔ستار طاہر صاحب نے  25؍مارچ 1993ء کو لاہور میں  وفات پائی۔زیر نظر کتاب ’’ دنیا کی سو عظیم کتابیں‘‘ ستارطاہر صاحب کیا ہوا ایک  انگریزی کتاب کا ترجمہ  ہے۔اس  ایک کتاب میں  تاریخ انسانی کی 20ویں صدی تک لکھی گئیں  100 منتخب کتابوں کا بھر پور تعارف اور تنقیدی تجزیہ موجود ہے ۔ جنہوں نے ہماری اس دنیا پر حکمرانی کی ۔یہ  کتاب غالباً انگلستان کے رٹن سیمورسمتھ (1928ء-1998ء) کی انگریزی کتاب The 100 Most Influential Books Ever کا اردو ترجمہ  ہے کیونکہ مصنف کتاب ہذا ستار طاہر  نےاپنی اس کتاب میں اس انگریزی کتاب کاذکر نہیں کیا۔(م۔ا)

  • #6725
    عشرت حسین بصری

    2 تعلیم اور مغربی فکر

    مغربی مفکّرینِ تعلیم کے تعلیمی افکار  تعلیمی دنیا میں ایک نمایاں اورجداگانہ  مقام رکھتے  ہیں ان  دوامی شہرت کے مالک مفکرین نےتعلیمی فلسفہ کے میدان میں مختلف تعلیمی نظریات کے جو خوش رنگ نقوش چھوڑے ہیں وہ آج بھی فلسفۂ تعلیم اور تاریخ  تعلیم  کے  رخ پرنمایاں ہیں ان نظریات کی قدر وقیمت اور اہمیت مسلّمہ ہے  جس کے نتیجے  میں دور جدید کے تعلیمی نظریات میں دور قدیم کے فلسفیوں ومفکرینِ تعلیم کے تعلیمی افکار کا عکس جابجا دکھا دتیا ہے ۔مغربی تعلیمی افکار پر انگریزی زبان میں تو بے شمار کتب موجود  ہیں لیکن اردو  زبان میں اس قسم کی کتب  کم وبیش نایاب  ہیں ۔ زیر نظر کتاب ’’تعلیم اور مغربی فکر ‘‘  پر وفیسر عشرت حسین بصری کی کی کاوش ہے  ۔ اس کتاب میں  قدیم وجدید کے ان دس مشہور مغربی مفکرینِ  تعلیم کےتعلیمی افکار کو شامل کیا گیا ہےجن کے تعلیمی نظریات نے  نظامِ  تعلیم خصوصاً مغربی نظام تعلیم کو یکسر بدل  کے رکھ دیا ہے ۔ فاضل مصنف نے ہر مفکرِ تعلیم کی مختصر سوانح حیات ،  فلاسفی آف لائف، فلسفۂ تعلیم ، ضرورت واہمیت، مقاصد تعلیم، تعلیمی  نصاب، تعلیم نسواں، طریقۂ تدریس ، نظام تعلیم کی خصوصیات اور ان کے تعلیمی افکار کی خوبیوں وخامیوں پر تنقیدی جائزہ  لیتے ہوئے مفصل بحث پیش کی ہے ۔ یہ کتاب  طلباء کی ضروریات کے پیش نظر  یونیورسٹی  گرانٹس کمیشن کے جدید  سلیبس کے مطابق  بی ایڈ کے مغربی مفکرینِ تعلیم کےپرچہ کی تیاری کے لیے خاص طور پر تیار کی  گئی ہے طلباء اس  کتاب سے استفادہ کر کے   امتحان میں  امتیازی  نمبر حاصل کرسکتے  ہیں ۔(م۔ا)مغربیت

  • #6721
    مسلم سجاد

    3 پاکستان میں جامعات کا کردار

    اسلامی نقطہ نظر سے تعلیم محض حصول معلومات کا نام نہیں ،بلکہ عملی تربیت بھی اس کا جزو لاینفک ہے۔اسلام ایسا نظام تعلیم وتربیت قائم کرنا چاہتا ہے جو نہ صرف طالب علم کو دین اور دنیا  دونوں کے بارے میں صحیح علم دے بلکہ اس صحیح علم کے مطابق اس کے شخصیت کی تعمیر بھی کرے۔یہ بات اس وقت بھی نمایاں ہو سامنے آتی ہے جب ہم اسلامی نظام تعلیم کے  اہداف ومقاصد پر غور کرتے ہیں۔اسلامی نظام تعلیم کا بنیادی ہدف ہی یہ ہے کہ وہ ایک ایسا مسلمان تیار کرنا چاہتا ہے،جو اپنے مقصد حیات سے آگاہ ہو،زندگی اللہ کے احکام کے مطابق گزارے اور آخرت میں حصول رضائے الہی اس کا پہلا اور آخری مقصد ہو۔اس کے ساتھ ساتھ وہ دنیا میں ایک فعال ،متحرک اور با عزم زندگی گزارے ۔ایسی شخصیت کی تعمیر اسی وقت ممکن ہے جب تعلیم کے مفہوم میں حصول علم ہی نہیں ،بلکہ کردار سازی پر مبنی تربیت اور تخلیقی تحقیق بھی شامل ہو۔لیکن افسوس کہ  استعمار کی سازش سے ہمارے تعلیمی  اداروں میں دین ودنیا کو الگ الگ کر دیا گیا ہے۔دنیوی تعلیم حاصل کرنے والے دین کی بنیادی تعلیمات سے بھی عاری ہوتے ہیں ،جبکہ دین کے طالب علم  دنیوی تعلیم کے ماہر نہیں ہو پاتے ہیں۔ جس کا نقصان یہ ہوتا ہے کہ  دونوں طرح کے اداروں میں ایک مسلمان اور کارآمد بندہ تیار نہیں ہوپاتا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب’’ پاکستان میں جامعات کا کردار‘‘انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی سٹڈیز کے زیر اہتمام تعلیم  کے موضوع پر  منعقد کیے جانے  والے سیمینار میں  پیش کیے گئے  مقالات کا مجموعہ   ہے  ۔ جناب مسلم سجاد  اور سلیم منصور صاحب نے ان مقالات کو مرتب کیا  ہے۔او ر انسٹی  ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز ۔اسلام آباد نے اسے مجلہ ’’ تعلیم‘‘  کا خاص نمبر کے طور پر شائع کیا ہے ۔( م۔ا)

     

  • #6475
    ڈاکٹر عمیر محمود صدیقی

    5 غیر مسلم خودکش حملہ آور تاریخ تجزیہ

    افراد اور اقوام کی زندگی میں جو انقلابات اور تغیرات واقع ہوتے ہیں، ان سے بظاہر یہ محسوس ہوتا ہے کہ انسان اپنے مستقبل کی تعمیر وتشکیل اور اپنی قسمت کے بناؤ بگاڑ پر قادر نہیں ہے۔ہر فرد اور ہر قوم کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ اپنی موجودہ حالت سے آگے کی جانب قدم نہ  بڑھا سکے تو کم از کم پیچھے ہٹنے پر بھی مجبور نہ ہو۔اگر ترقی  اور اصلاح کی منازل طے نہ کر سکے تو اپنے آپ کو پستی اور ذلت سے محفوظ رکھے۔لیکن اس قسم کی کوششیں بارہا ناکام ہو جاتی ہیں۔افراد پر خوشحالی  اور آسودگی کے بعد اکثر اوقات تنگی اور افلاس کا دور آ جاتا ہے۔قومیں عروج وترقی کے بعد محکومی اور ذلت میں مبتلا ہو جاتی ہیں۔لیکن جب کسی گروہ یا خاندان پر خوشحالی اور قوت واقتدار کا ایک طویل دور گزر جاتا ہے تو اس کے افراد اس دھوکہ میں مبتلا ہو جاتے ہیں کہ ان کی یہ صورت حال ہمیشہ باقی رہے گی اور ان کی حکومت کبھی ختم نہ ہوگی۔اور اگر کبھی شکست کا دور آ جائے تو اسے ایسے اسباب سے نتھی کر دیتے ہیں  جن کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہوتا ۔زیرِ تبصرہ کتاب خاص تاریخ کے حوالے سے ہے جس میں مصنف نے سب سے پہلے ایک ضخیم مقدمہ قائم کیا ہے‘ اس کے بعد غیر مسلم اور باطنی خود کش حملہ آوروں کی تاریخ بیان کی ہے‘ پھر تاریخ انسانی کا پہلا خود کش حملہ اور بائبل کا عنوان دیا ہے او ر اس کا خلاصہ ونتائج بیان کیے ہیں۔خود کشی کی ابتدائی صورتیں اور مختلف تاریخی واقعات کو کتاب کی زینت بنایا گیا ہے۔ کتاب کا اسلوب نہایت عمدہ‘سادہ اور عام فہم ہے۔ یہ کتاب’’ غیرمسلم خود کش حملہ آور تا ریخ تجزیہ ‘‘ ڈاکٹر عمیر محمود صدیقی  کی تصنیف کردہ ہے۔آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی درجنوں  کتب اور  بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)( ح۔م۔ا )

  • #5107
    ڈاکٹر سید شاہد علی

    6 اردو تفاسیر بیسویں صدی میں

    قرآنِ مجید پوری انسانیت کے لیے کتاب ِ ہدایت ہے اور اسے یہ اعزاز حاصل ہے کہ دنیا بھرمیں سب سے زیاد ہ پڑھی جانے والی کتاب ہے۔ اسے پڑھنے پڑھانے والوں کو امامِ کائنات نے اپنی زبانِ صادقہ سے معاشرے کے بہتر ین لوگ قراردیا ہے اور اس کی تلاوت کرنے پر اللہ تعالیٰ نے ایک ایک حرف پر ثواب عنایت کرتے ہیں۔ دور ِ صحابہ سے لے کر عصر حاضر تک بے شمار اہل علم نے اس کی تفہیم و تشریح اور ترجمہ و تفسیرکرنے کی خدمات سر انجام دیں اور ائمہ محدثین نے کتبِ احادیث میں باقاعدہ ابواب التفسیر کے نام سے باب قائم کیے۔ اور مختلف ائمہ نے عربی زبان میں مستقل بیسیوں تفاسیر لکھیں ہیں۔ جن میں سے کئی تفسیروں کے اردو زبان میں تراجم بھی ہوچکے ہیں۔ اور ماضی قریب میں برصغیرِ پاک وہند کے تمام مکتب فکر کےعلماء نے قرآن مجید کی اردو تفاسیر لکھنے میں گراں قدر خدمات انجام دی ہیں۔ ہنوز یہ سلسلہ جاری وساری ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ارد وتفاسیر بیسویں صدی میں‘‘ ڈاکٹر سید شاہد علی مرتب شدہ ہے۔ اس کتاب میں انہوں نے بیسویں صدی میں اردو زبان میں لکھی جانی والی مکمل تفسیریں، جزوی تفسیریں، اور حواشی کی صورت میں لکھی جانے والی تفسیروں کا تعارف پیش کیا ہے۔ فاضل مصنف نے اس کتاب کو چار ابواب میں تقسیم کیا ہے باب اول میں 26 مکمل تفسیروں کا تعارف۔ باب دوم میں 37 جزوی تفسیروں کا تعارف۔ باب سوم میں چار تفسیری حواشی کاتعارف پیش کیا ہے اور باب چہارم حوالہ جات پر مشتمل ہے۔ صاحب کتاب نے اگرچہ اس کتاب کو بڑی محنت سے مرتب کیا ہے 20 صدی میں اردو زبان میں لکھی جانے والی مکمل جزوی، تفسیری حواشی کو اس میں جمع کرنے کی کوشش کی ہے لیکن راقم کے خیال میں اس کتاب میں ابھی تشنگی ہے کیونکہ مصنف تمام تفسیروں کا احاطہ نہیں کرسکے۔ مثلاً انہوں نے مکمل تفسیروں میں مولاناادریس کاندہلوی﷫ کی تفسیر معارف القرآن اور تفسیری حواشی میں اشرف الحواشی کاذکر نہیں کیا۔ تتبع و تلاش سے بیسویں صدی میں لکھی جانے والی مزید تفسیریں بھی مل سکتی ہیں۔ (م۔ا)

  • #3886
    محمد عطاء اللہ بندیالوی

    7 شرک کیا ہے

    یہ حقیقت ہےکہ شرک ظلمِ عظیم ہےشرک اکبر الکبائر ہے ،شرک رب کی بغاوت ہے شرک ناقابلِ معانی جرم ہے ، شرک ایمان کےلیے زہر قاتل ہے ، شرک اعمالِ صالحہ کے لیے چنگاری ہے ۔اور شرک ایک ایسی لعنت ہے جو انسان کوجہنم کے گڑھے میں پھینک دیتی ہے قرآن کریم میں شرک کوبہت بڑا ظلم قرار دیا گیا ہے اور شرک ایسا گناہ کہ اللہ تعالی انسان کے تمام گناہوں کو معاف کردیں گے لیکن شرک جیسے گناہ کو معاف نہیں کریں گے ۔شرک اس طرح انسانی عقل کوماؤف کردیتا ہےکہ انسان کوہدایت گمراہی اور گمراہی ہدایت نظر آتی ہے ۔پہلی قوموں کی تباہی وبربادی کاسبب شرک ہی تھا بہت سارے لوگ ایسے ہیں کہ جو شرک کے مفہوم کونہیں سمجھتےشرک کرنے کےباوجود وہ کہتے ہیں کہ وہ شرک نہیں کر رہے ان کے نزدیک شرک صرف یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جیساکوئی اور رب بنالیا جائے او راس کی عبادت کی جائے اصل میں وہ شرک کی حقیقت سےناواقف ہیں اسی لیے تو وہ کہتے ہیں انہوں نے کونسا کو ئی اور رب بنایا ہے۔شرک جیسی مہلک بیماری سے بچنے اور تو حید کواختیار کرنے کا انسانیت تک پہنچانےکے لیے اللہ تعالیٰ نےانبیاء کرام کو مبعوث کیا اور قرآن مجید نےسب سے زیادہ زور توحید کےاثبات اورشرک کی تردید پر صرف کیا ہے ۔سید البشر حضرت محمد ﷺ نے بھی زندگی بھر لوگوں کو اسی بات کی دعوت دی اورزندگی کے آخری ایام میں بھی اپنی امت کو شرک سے بچنے کی تلقین کرتے رہے ۔بعد میں صحابہ کرام ، تابعین ، ائمہ محدثین اور علمائے عظام نے دعوت وتبلیغ ، تحریر وتقریر کے ذریعے لوگوں کو شرک تباہ کاریوں سے اگاہ کیا ہنوز یہ سلسلہ جاری وساری ہے۔ زیر تبصرہ کتابچہ ’’شرک کیا ہے؟‘‘ مولانا محمد عطاء اللہ بندیالوی صاحب کے1421ء کےرمضان المبارک میں سرگودھا شہر کی جامع مسجد حنفیہ میں ’’شرک کیا‘‘ کےعنوان پر دروس کا مجموعہ ہے موصوف کے ان دروس کاسلسلہ تقریباً دس روز جاری رہا ۔جسے سامعین نے بہت زیادہ پسند کیا تو موصوف نے افادہ عام کےلیے اسے مرتب کرکے شائع کیا۔ اللہ تعالیٰ اسے عوام الناس کےلیے نفع بخش بنائے (آمین) (م۔ا)

  • #3887
    شاہ اسماعیل شہید

    8 تقویۃ الایمان ( تحقیق شدہ )

    جس طرح  امام ابن تیمیہ ﷫ کی تجدید دین کی خدمات کا انکار ناممکن ہے اسی طرح ہندوستان میں اسلا می روح اور سلفی عقیدے کی ترویج و اشاعت میں جو خدمات شاہ ولی اللہ ﷫ کے خاندان نے سر انجام دی ہیں ان کوبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا- تقویۃ الایمان شاہ اسماعیل شہید ﷫ کی ایک جاندار اور لا جواب تصنیف ہے۔ ’’تقویۃ الایمان‘‘ کا موضوع توحید ہے جو دین کی بنیاد ہے اس موضوع پر بے شمار کتابیں اور رسالے لکھے جاچکے ہیں ۔تقویۃ الایمان  بھی انہی کتب  میں سے ایک اہم کتاب ہے ۔یہ کتاب پہلی مرتبہ 1826ء میں شائع ہوئی جب  شاہ اسماعیل شہید سید احمدبریلوی ﷫ اور ان کی جماعت مجاہدین کےہمراہ وطن مالوف سے ہجرت کر کے جاچکے تھے ۔اور ہند وستان کی آزادی  وتطہیر کے لیے جہاد بالسیف کا آغاز  ہورہا تھا۔کتاب تقویۃ الایمان      اب تک لاکھوں کی تعداد میں  چھپ کر کروڑوں  آدمیوں  کے  لیے  ہدایت کا ذریعہ بن چکے ہے ۔شاہ اسماعیل شہید﷫ کا اندازِ بحث اور طرزِ استدلال سب سے نرالا ہے  اور سراسر مصلحانہ  ہے  علمائے حق کی طرح انہوں نے  صرف کتاب وسنت کومدار بنایا ہے ۔ آیات وآحادیث پیش کر کے  وہ نہایت سادہ اور سلیس میں ان کی تشریح  فرمادیتے ہیں  اور توحید کے مخالف جتنی  بھی غیر شرعی  رسمیں  معاشرے میں مروج تھیں ان کی اصل حقیقیت دل نشیں انداز میں  آشکارا کردیتے ہیں ۔انہوں نے  عقیدہ  وعمل کی ان تمام خوفناک غلطیوں کوجو اسلام کی تعلیم توحید کے  خلاف تھیں مختلف عنوانات کے تحت جمع کردیا۔مثلاً شرک فی  العلم ، شرک فی التصرف، شرک فی العبادات، شرک فی العادت۔ یوں  تقویۃالایمان توحید کے موضوع پر ایک جامع اور یگانہ کتاب بن گئی ۔اردو زبان میں  یہ کتاب  معمولی  پڑھے لکھے آدمی سے لےکر متبحر عالم دین تک سب کے لیےیکساں مفید ہے ۔زیر  تبصرہ   تقویۃ الایمان کا نسخہ  المکتبہ  السلفیۃ،لاہور سے طبع شد ہے  جس  میں  مولانا غلام رسول مہر ﷫ کا مبسوط مقدمہ  شامل اشاعت ہے  نیزاس  اس نخسے کی امتیازی  خوبی  یہ ہےکہ اس پر شارح نسائی مولانا عطا اللہ حنیف ﷫ کی  تحقیق موجود ہے ۔(م۔ا)

  • #3908
    ڈاکٹر راشد عبد اللہ الفرحان

    9 زوجین کے درمیان اسلام کا نظام معاشرت

    اسلام ہی واحد مذہب ہے جس میں برق رفتار زمانہ کے ہر چیلنج کا جواب دینے کی صلاحیت ہے۔اور داخلی و خارجی زندگی کے ہر قدم پر انسان کی رہنمائی کرتاہے ۔اسلام اصلاح معاشرہ کی تشکیل دیتا ہے اور اس کے بارے میں ترغیبی و ترہیبی تعلیم دیتاہے انسانی سماج کا سب سے اہم مسئلہ نکاح ہے کیوں کہ نکاح ہی سے خاندان وجود میں آتاہے ۔اسلام سے پہلے ہر دور میں کچھ رسم ورواج ،عادات و اطوار اورعر ف رہے ہیں لیکن اسلام نے نظام معاشرت کو مستحکم،مکمل و کامل بنایا۔موجودہ زمانہ میں بعض ازدواجی اختلافات کا رونما ہونا،زوجین کے درمیان بعض ناخوشگوار واقعات کا پیش آنا ،حتیٰ کہ فسخ وتفریق تک نوبت آنا اسلامی نظام معاشرت کے ناقص ہونے کی دلیل نہیں بلکہ اس کا حقیقی سبب اسلام کے معاشرتی نظام سے دوری اور کماحقہ نہ سمجھنا ،اور اس کو عملی جامہ نہ پہنانا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب "زوجین کے درمیان اسلام کا نظام معاشرت " ڈاکٹرراشد عبداللہ الفرحان کی عربی کتاب "النظام الاجتماعی فی الاسلام بین الرجل و المرأۃ" کا اردو ترجمہ ہے۔ کتاب کےمصنف کویت کی قانون ساز کمیٹی کے سابق ممبر بھی رہے ہیں۔ فاضل مصنف نے اس کتاب میں نکاح کی اہمیت،جائز و ناجائز صورتیں،ایجاب وقبول،موانع نکاح، شرائط،طلاق وخلع اور زوجین کے حقوق وغیرہ پر مفصل بحث کی ہے ۔محترم جنا ب مفتی محمد مصطفی ٰ عبدالقدوس ندوی نے کافی محنت اور لگن سے اسے اردو قالب میں ڈھالا ہے۔اللہ تعالی مصنف ،مترجم اور ناشرین کو اجر عظیم سے نوازےاور اہل اسلام کو اس سے مستفید ہو تے ہوئے معاشرتی زندگی کواسلام کے مطابق گزارنے کی توفیق عطافرمائے۔ آمین (عمیر)

  • #3909
    قاری محمد طیب

    10 شرعی پردہ

    اسلام دینِ فطر ت اور مکمل ضابطہ حیات ہے ۔ اس ضابطہ حیات میں ہر دو مرد وزن کی حفاظت وتکریم کے لیے ایسے قواعد مقرر کئے گئے ہیں کہ ان پر عمل پیرا ہونے میں نہ کوئی دقت پیش آتی ہے نہ فطرت سلیم انہیں قبول کرنے میں گرانی محسوس کرتی ہے ۔اسلام باوقار زندگی گزارنے کادرس دیتا ہے۔ جس   کے تحفظ کے لیے تعزیری قوانین نافذ کئے گئے ہیں تاکہ عزت نفس مجروح کرنے والوں کا محاسبہ ہوتا رہے ۔عورت کے لیے پردے کاشرعی حکم اسلامی شریعت کا طرۂ امتیاز اور قابل فخر دینی روایت ہے۔اسلام نے عورت کو پردےکا حکم دے کر عزت وتکریم کے اعلیٰ ترین مقام پر لاکھڑا کیا ۔پردہ کاشرعی حکم معاشرہ کو متوازن کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے اور مردکی شہوانی کمزوریوں کا کافی وشافی علاج ہے ۔اس لیے دخترانِ اسلام کو پردہ کے سلسلے میں معذرت خواہانہ انداز اختیار کرنے کی بجائے فخریہ انداز میں اس حکم کو عام کرنا چاہیے تاکہ پوری دنیا کی خواتین اس کی برکات سے مستفید ہو سکیں۔اللہ تعالیٰ کے حکم کی رو سے عورت پر پردہ فرض عین ہے جس کا تذکرہ قرآن کریم میں ا یک سے زیادہ جگہ پر آیا ہے اور کتبِ احادیث میں اس کی صراحت موجو د ہے۔ کئی اہل علم نے عربی واردو زبان میں پردہ کے موضوع پرمتعدد کتب تصنیف کی ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب’’شرعی پردہ ‘‘دیوبند مکتبہ فکر جید عالم دین مولانا قاری محمد طیب صاحب کی تصنیف ہے۔ اس کتاب میں انہوں نے اسلام کے نظام عفت وعصمت کاحسین مرقع،پردہ کی ضرورت اور پردہ کی اہمیت کاقرآن وحدیث سے ثبوت اور پردہ پر کیے جانے والے اعتراضات و اشکالات کا بہترین حل پیش کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ مصنف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور اسے عامۃ المسلمین کی اصلاح کاذریعہ بنائے۔ (آمین) (م۔ا)

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • کل مشاہدات: 39807863

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں