دکھائیں کتب
  • 91 فن تعلیم و تربیت (پیر 14 مئی 2018ء)

    مشاہدات:3074

    بچوں کی صحیح تعلیم وتربیت ایک اہم دینی فریضہ ہے۔ اس کی ادائیگی کی پوری فکر ہونی چاہیے ورنہ سخت گرفت کا اندیشہ ہے۔ اس ذمہ داری میں والدین اور اساتذہ کے ساتھ اگرچہ پوری ملت‘ معاشرہ اور مملکت بھی شریک ہیں لیکن براہِ راست ذمہ داری والدین اور اساتذہ پر عائد ہوتی ہے اس لیے انہی کو اس ضمن میں سب سے زیادہ فکر مند بھی ہونا چاہیے۔ خصوصاً آج کے حالات میں تو اس طرف غیر معمولی توجہ دینے کی ضرورت ہے کیونکہ معمولی سی غفلت نہایت خطرناک نتائج سے دو چار کر سکتی ہے۔الحمد للہ صورت حال کی سنگینی کا اب کسی حد تک احساس ہو چلا ہے اور مختلف اداروں اور جماعتوں کی انفرادی واجتماعی کوششوں کے نتیجے میں لوگ اس طرف متوجہ ہو رہے ہیں۔زیرِ تبصرہ کتاب خاص اسی موضوع پر ہے  جس میں عوام الناس کی اصلاح وتربیت کی گئی ہے  ۔ اس میں زبان آسان اور سلیس‘ انداز عام فہم اور شگفتہ ہے۔یہ کتاب اساتذہ‘والدین اور تعلیم میں دلچسپی رکھنے والے تمام حضرات کے لیے یکساں دلچسپ اور مفید ہے۔اس میں تعلیم وتربیت سے متعلق تمام اہم مباحث پر روشنی ڈالی گئی ہے او راسلامی نقظۂ نظر سے بحث کی گئی ہے۔اس کتاب میں سینتیس ابواب مرتب کیے گئے ہیں۔ کتاب کا اسلوب نہایت عمدہ‘سادہ اور عام فہم ہے۔ یہ کتاب’’ فن تعلیم وتربیت ‘‘افضل حسین ایم اے ‘ ایل ٹی کی تصنیف کردہ ہے۔آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی درجنوں  کتب اور  بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان...

  • 92 فُکُوّ العانی (قیدیوں کو چھڑاؤ) (جمعہ 05 جون 2015ء)

    مشاہدات:1794

    قید وبند یا جیل کی سلاخیں تعذیب کی بد ترین شکل ہیں۔اس کی خطرناکی کاا ندازہ کرنے کے لئے محض یہ مثال کافی ہے کہ غلام کو بھی دھمکانا ہو تو کہا جاتا ہے کہ تجھے جیل میں سڑا دیں گے۔اسلام چونکہ دین فطرت ہے اور انسان کو ہر طرح کی بندشوں سے پاک،آزاد فضا میسر کرانے اور عدل وانصاف پر مبنی نظام برپا کرنے کی غرض سے آیا ہے،اسی لئے اس کے نظام تعزیرات میں جیل کی حیثیت ایک عبوری مرحلہ سے زیادہ نہیں ہے۔نیز سماجی طور پر اس نے اس ملت کی اس نہج پر تربیت کی ہے کہ قیدی خواہ جنگی ہو یا شہری،اس کی خبر گیری اور قیام وطعام کا انتظام ایک اجتماعی فریضہ بن جائے۔اس سے آگے بڑھ کر فی سبیل اللہ قیدی کو آزاد کرنا تو گویا جہنم سے آزادی کا پروانہ ہے۔دوسری جانب خدا بیزار تہذیبوں نے ہمیشہ جیلوں کو آباد رکھا ہے۔خواہ وہ فرعون کا دور جبر ہو یا آج کا لادینی جمہوری زمانہ،تمام ہی ادوار میں مجرموں سے زیادہ حق پرستوں کے ذریعے جیلیں آباد رہی ہیں۔ مصر کا جیل خانہ ہو یا گونتاناموبے کے تنگ وتاریک سیل،فی سبیل اللہ قیدیوں کی کراہوں سے گونجتے رہتے ہیں۔ قیدیوں کی رہائی ایک اہم ترین فریضہ اور سخت ترین مرحلہ ہے، اسی لئے اس کی بڑی فضیلت ہے ،مگر یہ کام ہرکس وناکس کے بس کا نہیں ہے۔ اس کام کے لئے ایک ایسے اجتماعی ضمیر کی ضرورت ہے جو خود ہر طرح کی بندشوں سے آزاد ہو۔ زیر تبصرہ کتاب" فکوا العانی (قیدیوں کو چھڑاؤ)"محترم شاہد بدر فلاحی صاحب کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے قیدیوں کی آزادی کے شرعی حکم کو واضح کیا ہے اور امت کو اس طرف دھیان دینے کی ترغیب دلائی ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس محنت کو...

  • 93 فہم الریاضی (جمعرات 02 مئی 2013ء)

    مشاہدات:5669

    حساب ان علوم میں سے ہے جو بیک وقت قرآن، حدیث اور فقہ کا خادم ہے۔ ان تینوں سے استفادہ کرنے کے لیے بسا اوقات حساب کی ضرورت پڑتی ہے۔ دینی مدارس کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ اس میں حساب سکھایا نہیں جاتا اس لیے بعض ضروری دینی علم تک ان کی رسائی نہیں ہوتی۔ یہ بات کلیتاً تو غلط تھی لیکن جزوی طور پر اس حد تک صحیح تھی کہ یا تو حساب پڑھایا نہیں جاتا تھا یا اگر پڑھایا جاتا تھا تو ان میں دینی تقاضوں کو پیش نظر نہیں  رکھا جاتا تھا۔ ضرورت اس امر کی تھی کہ فقط دینی امور پر مشتمل حساب کے لیے ایک کتاب لکھی جائے۔ زیر مطالعہ کتاب اسی مقصد کو سامنے رکھ کر لکھی گئی ہے۔ جس میں ریاضی کے مشکل سوالات سے قطع نظر صرف حساب کے وہ طریقے سمجھانے کی کوشش کی گئی ہے جس کی ضرورت عام طور پر دینی طلبہ کو رہتی ہے۔ جس کو مرتب کرنے والے صاحب سید بشیر احمد کاکاخیل ہیں۔ جنھوں نے محمد رفیع عثمانی صاحب کی فرمائش پر یہ کام سرانجام دیا ہے جس کا اظہار کتاب کے ٹائٹل پر جلی حروف میں کرنا ضروری سمجھا گیا ہے۔ میں سمجھتا ہے کہ دینی مدارس کے طلبا کے لیے یہ ایک کامیاب کوشش ہے جس کو سراہے جانے کی ایک صورت یہ ہو سکتی ہے کہ دینی مدارس اپنے نصاب میں اس کتاب کو جگہ دیں۔ سوالات کے ساتھ ساتھ کیلکولیٹر کے ذریعے ان کا حل اور کیلکولیٹر کا صحیح استعمال بھی بتایا گیا ہے۔ (ع۔م)
     

  • 94 قرآن اور تخلیق انسان (The Developing Human) (جمعہ 30 جنوری 2015ء)

    مشاہدات:2716

    ہر صاحب شعور انسان ہمیشہ سے اپنی زندگی اور کائنات کے حقائق کو جاننے کے لئے سرگرداں رہا ہے۔وہ جاننا چاہتا ہے کہ میں کیا چیز ہوں اور میری زندگی کا مقصد کیا ہے۔؟اس وسیع وعریض کائنات کا کیا مقصد ہے؟ یہ کس طرح وجود میں آئی ،کیا یہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گی یا فنا ہو جائے گی؟یہ وہ چند سوالات ہیں جن کے جوابات ہر دور میں ہر اس شخص نے تلاش کرنے کی کوشش کی جس نے غور وفکر اور تلاش حق کو اپنی زندگی کا مشن بنا لیا۔ایسی روش اختیار کرنے والوں کو ہم فلاسفر یا سائنسدان کہتے ہیں۔اور ان تمام سوالوں کے جوابات خالق کائنات ،رب کائنات اللہ تعالی اپنے پیغمبروں کے ذریعے انسانوں کو بتاتا ہے۔ان حیران کن سوالوں کے جوابات جب لوگوں کو بتائے جاتے تھے تو وہ ان کا انکار کر دیتے تھے،پھر انہیں ان حقائق کا یقین دلانے کے لئے اللہ تعالی مختلف معجزات دکھاتے تھے،جن سے اہل دانش مطمئن ہو کر اللہ کی دعوت کو قبول کر لیتے تھے۔اب ہمارے سامنے سوال یہ ہےکہ موجودہ دور میں انسان کو تسلی دل اور اطمینان قلبی کا یہ سامان کس طرح مہیا کیا جائے؟اس کے لئے ہمیں قرآن مجید کی طرف رجوع کرنا پڑے گا۔کیونکہ اللہ تعالی نے آج سے چودہ سو سال پہلے قرآن مجید میں ایسے حقائق بیان کر دئیے تھے،جن کے سچا ہونے کا علم آنے والے دور میں بطور معجزہ کے سامنے آنا تھا۔قرآن مجید میں تقریبا 750 آیات ایسی موجود ہیں جن میں آفاق اور انفس کے حقائق کا بیان موجود ہے۔بیسویں صدی میں انسان نے جب ترقی کی تو وہ حقائق ایک ایک کر کے سامنے آنے لگے۔اور یہ حقائق احکام الہیہ پر عمل کرنے کے لئے ترغیب کا باعث ہیں۔زیر تبصرہ کتاب " قرآن اور تخ...

  • دو ہزار پانچ میں پاکستان کے اندر  زلزلے کے بہت خطرناک جھٹکے آئے تھے ۔ ایک مذہبی و دینی ملک ہونے کے ناطے سے مملکت خداد کے اندر کئی ایک بحثوں نے جنم لیا ۔ مثلا زلزلے کے بارے میں ایک رائے یہ اپنائی گئی کہ یہ عذاب الہی ہے ۔ یعنی متاثرہ علاقوں میں لوگوں کی برائیاں اس قدر بڑھ  گئیں تھیں کہ ان کے اوپر اللہ کا عذاب نازل ہو گیا ۔ چناچہ اس توجیہ کے ضمن میں ایک اہم ترین سوال یہ پیدا ہوا کہ اگر یہی صورتحال تھی تو پھر دیگر کئی ایک شہروں میں جہاں برائی کی یہی صورت تھی یا اس سے بھی بڑھ کر تھی وہاں کیوں نہیں یہ عذاب نازل ہوا؟ اس سلسلے میں دوسری رائے یہ تھی کہ  یہ خدا کی طرف سے عذاب نہیں بلکہ ایک آزمائش تھی ۔ یعنی اللہ نے اپنے بندوں کو آزمایا ہے کہ وہ راہ حق یا صراط مستقیم پر کس قدر گامزن ہیں؟ اس تناظر میں سیکو لر حلقوں کی طرف سے اس خیال کا اظہار کیا گیا کہ اس طرح کی مذہبی توجیہات غیر حقیقی اور غیر سائنسی و علمی ہیں ۔ اس باب میں ہمیں خالصتا سائنٹیفک توجیہ کرنی چاہیے ۔ درج ذیل کتاب میں انہی آراء کو سامنے رکھتے ہوئے قرآن وسنت کی روشنی میں ان کا تجزیہ کیا گیا ہے ۔ اس رائے میں قرآن کا اصلی مؤقف واضح کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔ قرآن نے گزشتہ اقوام کی ہلاکت کے جو اسباب بیان کیے ہیں انہیں سامنے رکھتے ہوئے قانون عذاب الہی کا تعین کرنے کی سعی کی گئی ہے ۔ اللہ  مصنف کتاب خلیل الرحمان چشتی کو بے بہا اجر سے نوازے وہ ایک عرصہ لوگوں کو قرآن سمجھانے میں مصروف عمل ہیں ۔ (ع۔ح)
     

  • 96 لائبریری کا فروغ مواد اور تقاضے (جمعرات 10 مئی 2018ء)

    مشاہدات:1249

    لائبریری کا فروغ ایک انتہائی اہم اور حساس موضوع ہےجو کتب خانوں کے نظم ونسق اور خدمات میں کلیدی کردار کا حامل رہا ہے۔ در حقیقت یہی مواد کتب خانہ ہی تو ہے جو کتب خانوں کی روح رواں ہے اور جس کے دم سے کتب خانے قائم ودائم ہیں۔ کتب خانوں میں نئے مواد کی آمد‘ موجودہ مواد میں رد وبدل اور کم مستعمل مواد کا خروج لازمی امر ہے۔ جن سے کتب خانے صحیح معنوں میں پروان چڑھتے ہیں۔ لائبریری کا فروغ جیسے اہم موضوع پر ایسا نہیں کہ بالکل نہ لکھا گیا ہو۔ انگریزی زبان میں اس موضوع پر کئی کتب ومضامین موجود ہیں۔ ہمارے ہاں پاکستانی رسائل میں بھی کہیں اِکا دُکا مضامین نظر آتے ہیں لیکن ان میں عصر جدید سے ہم آہنگی کا فقدان ہے۔ ہمارے نصاب اور کتب خانوں کے استعمال میں جس سرعت سے تبدیلی آرہی ہے اس نسبت سے اس اہم موضوع کا احاطہ کرنے کی بہت ضرورت محسوس کی جاتی ہے۔زیرِ تبصرہ کتاب اس موضوع کی کمی پوری کرنے کے لیے تصنیف کی گئی ہے اور مصنف نے اس نازک موضوع پر طبع آزمائی کی ہے اور انتہائی نفاست وبلاغت سے دور جدید کے نصاب اور تقاضوں کےمطابق مختلف اہم ذیلی عنوانات پر سیر حاصل بحث کی ہے۔ گذشتہ کل اور آج کے عصرِ جدید کے تقاضوں کے مطابق ان اہم عنوانات کو خود کاریت اور تکنیکی زاویوں سے پیش کرنا ان کی مہارت اور مضمون پر دسترس کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کتاب ک مطالعے سے کتب خانوں کے نظم ونسق‘ مواد میں اضافہ‘ وسعت اشتراک اور خروج بذریعہ کمپیوٹر کے بارے میں اہم نکات سے آگاہی ہوگی۔۔ کتاب کا اسلوب نہایت عمدہ‘سادہ اور عام فہم ہے۔ یہ کتاب’’ لائبریری کا  فروغ مواد...

  • 97 لازوال خالق کے تخلیقی عجائب (جمعرات 30 اکتوبر 2014ء)

    مشاہدات:2751

    معمولی سے معمولی زندگی بھی اتفاقا پیدا نہیں ہوئی ،بلکہ اس کو پیدا کرنے والی ایک عظیم ذات ہے جواس ساری کائنات کی مالک ہے۔ یہ لا محدود کائنات ،جس میں ہم رہتے ہیں،کس طرح وجود میں آئی ؟یہ تمام توازن،ہم آہنگی اور نظم وضبط کس طرح سے پیدا ہوئے؟یہ کیونکر ممکن ہوا کہ یہ زمین ہمارے رہنے کے لئے موزوں ترین اور محفوظ قیام گاہ بن گئی؟ایسے سوالات نوع انسانی کے ظہور ہی سے توجہ کا مرکز رہے ہیں۔ان کے جوابات کی تلاش میں  سرگرداں سائنس دان اور فلسفی ،اپنی عقل ودانش اور عقل سلیم کی بدولت اسی نتیجے پر پہنچے ہیں کہ  کائنات کی صورت گری اور اس میں موجود نظم وضبط کسی اعلی ترین خالق مطلق کی موجودگی کی شہادت دے رہے ہیں۔جو اس ساری کائنات کا خالق و مالک ہے۔یہ ایک غیر متنازعہ سچائی ہے ،جس تک ہم اپنی ذہانت استعمال کرتے ہوئے پہنچ سکتے ہیں۔اللہ تعالی نے اس حقیقت کا اعلان اپنی مقدس کتاب قرآن مجید میں واشگاف الفاظ میں کر دیا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب " لازوال خالق کے تخلیقی عجائب "ہارون یحیی کی انگریزی کتاب کا اردو ترجمہ ہے ۔ترجمہ محترمہ گلناز کوثر نے کیا ہے ۔مصنف 1956ء میں انقرہ ترکی میں پیدا ہوئے ۔آپ نے آرٹس کی تعلیم میمار سینان یونیورسٹی سے اور فلسفے کی تعلیم استنبول یونیورسٹی سے حاصل کی۔آپ کی سیاست ،سائنس اور اسلامی عقائد پر متعدد کتب شائع ہو چکی ہیں۔آپ کا شمار ان معروف مصنفین میں ہوتا ہے جنہوں نے ارتقاء پرستی اور ارتقاء پرستوں کے دعووں کو طشت ازبام کیا اور ان کی حقیقت سے پردہ اٹھایا۔آپ کی یہ کتب دنیا کی متعدد زبانوں میں چھپ چکی ہیں۔آپ کی کتب مسلمانوں ،غیر مسلموں سب...

  • 98 لاہور اور فن خطاطی (بدھ 13 مارچ 2019ء)

    مشاہدات:888

    خطاطی ایک فن خط تحریر ہے۔ یہ فن دنیا کے ہر گوشے میں اور ہر زبان میں پایا جاتا ہے۔ یہ فن خوش خطی کے لیے ہے۔ رومن، لاطینی، عربی زبانوں میں یہ فن خطاطی کافی مقبول ہے۔ جب پاکستان بنا تو اس وقت لاہور میں ساٹھ کے قریب خطاطی سیکھنے کے مراکز تھے لاہور میں خطاطی کی نمائشوں کا آغاز ممتاز خطاط عبدالواحد نادر قلم نے کیا۔ مرحوم نے عبد المجید پروین رقم سے تربیت حاصل کی تھی۔حافظ محمد یوسف سدیدی نے لاہور میں عربی خطوط (ثلث ، محقق ، طغرا) کو ایک بار پھر زندہ کیا جو مغلیہ عہد میں لکھے جاتے رہے مگر بعد ازاں آہستہ آہستہ ان کی طرف انگریزی عہد کی وجہ سے رجحان کم ہوگیا۔حافظ محمد یوسف سدیدی کا سب سے کمال یہ تھا کہ انہوں نے ان خطوط کو از خود کتب خطاطی سے سیکھا ، کیونکہ برصغیر پاک و ہند میں ان خطوط کا کوئی استاد موجود نہ تھا۔عالم اسلام کے شانہ بہ شانہ آنے کی لئے ان خطوط ( ثلث ، محقق ، طغرا ) میں کمال حاصل کرنا لازمی تھا۔ حافظ صاحب کے ساتھ سید انور حسین نفیس رقم نے بھی اس طرف خصوصی توجہ دی اور وہ ان عربی خطوط میں اپنا ایک خوبصورت انداز قائم کرنے میں کامیاب رہے۔ زیر نظر کتاب ’’ لاہور اورفن  خطاطی‘‘ ڈاکٹر محمد اقبال بھٹہ کی تصنیف ہے اس کتاب کو انہوں نے 10 ابواب میں تقسیم کیا ہے ابو اب کی تفصیل حسب ذیل ہے...

  • 99 لطائف علمیہ (جمعرات 27 فروری 2014ء)

    مشاہدات:6052

    خوشی طبعی اور مزاح، زندگی اور زندہ دلی  کی علامت ہے  بشرطیکہ فحش ،عریانی  اور  عبث گوئی سے  پاک ہو  ۔واقعات ِمزاح نفسِ انسانی  کے  لیے  باعث نشاط او رموجب ِحیات نو اور تازگی  کاسبب بنتے ہے  مزا ح اس خوش طبعی  کو کہتے  ہیں  جو دوسروں کے ساتھ کی جاتی  ہے او راس میں تنقیص یا تحقیر  کا پہلو نہیں  ہوتا ۔او ر   اس طرح  کامزاح یعنی  خوش طبعی  کرنا جائز ہے  اور  نبیﷺ نے  بھی  ایسے مزاح او ر خوش طبعی کو  اختیار کیا جس کی مثالیں اور واقعات  کتب  ِاحادیث میں  موجود ہیں  او ر جس  مزاح  سے منع کیا گیا ہے  وہ اس نوعیت  کی خوش طبعی اور مذاق ہوتا ہے  جس میں  جھوٹ اور زیادتی کا عنصر پایا جاتاہے  اس نوعیت  کا مذاق زیادہ ہنسی اور دل کی سختی  کا باعث بنتا ہے اس سے  بغض پیدا ہوتا ہے  اور انسان کارعب ودبدبہ اور وقار  ختم  ہو جاتاہے ۔ زیر نظر کتاب  ’’ لطائف علمیہ ‘‘ امام ابن  الجوزی کی  عربی کتاب    ’’کتاب الاذکیاء‘‘ کا  سلیس ترجمہ  ہے  اس کتاب کا اکثر حصہ تاریخی  واقعات او ر احادیث سے ماخوذ ہے  اس  میں   امام  ابن جوزی  نے  انبیاء﷩ ،نبی کریمﷺ ، خلفاء الراشدین   وسلاطین اور اکابر سلف کی  مجالس کے  مزاح وخو ش طبعی کے   واقعات...

  • 100 لعنت اور رحمت ( قرآن و حدیث کی روشنی میں) (بدھ 04 جون 2014ء)

    مشاہدات:3038

    لعنت ایک بددعا ہے لعنت کے معنی اللہ کی رحمت سے دور ہونے اور محروم ہونے کے ہیں جب کوئی کسی پر لعنت کرتا ہے توگویا وہ اس کے حق میں بدعا کرتا ہے کہ تم اللہ کی رحمت سے محروم ہو جاؤ رسول کریم ﷺ نے کسی پر لعنت کرنے کو بڑی سختی سے منع کیا فرمایا ہے یہاں تک کہ بے جان چیزوں پر بھی لعنت کرنے سے منع کیا فرمایا ہے لعنت اور ناشکری جہنم میں جانے کا باعث بن سکتے ہیں جیسے کہ نبی ﷺ نے فرمایا'' اے عورتو! صدقہ کیا کرو میں نےجہنم میں دیکھاکہ عورتوں کی تعدادزیادہ ہے عورتوں نےعرض کیا یارسول اللہﷺ اس کی کیاوجہ ہے؟ آپ نے ارشاد فرمایا کہ ''تم لعنت زیادہ کرتی ہو اور اپنے شوہر کی ناشکری کرتی ہو ''زیر تبصرہ کتا ب ''لعنت اور رحمت ''کی مؤلفہ نے اسی مذکورہ حدیث کے پیش نظر خصوصا خواتین کے لیے اس کتاب کو ترتیب دیا ہے کتاب کے پہلے حصے میں لعنت کا مفہوم،لعنت کی ممانعت لعنت کی سزا،اللہ ورسول اورفرشتوں کی لعنت کے مستحق لوگ اور دوسرے حصہ میں رحمت کامفہوم اس کے متعلق مزید تفصیلات کوقرآن واحادیث کی روشنی میں آسان فہم انداز میں بیان کیا ہےاللہ تعالیٰ اس کتاب کو معاشرےکی اصلاح بالخصوص خواتین کی اصلاح کا ذریعہ بنائے (آمین) (م۔ا)

     

     

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 313
  • اس ہفتے کے قارئین: 4698
  • اس ماہ کے قارئین: 18669
  • کل قارئین : 48351856

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں