دکھائیں کتب
  • 101 لڑکوں اور لڑکیوں کے ختنے کا شرعی حکم (منگل 09 ستمبر 2014ء)

    مشاہدات:4091

    اللہ تعالی نے انسان کو بہترین ساخت پر پیدا کیا ہے، اور اسے ہدایت کی ہے کہ وہ اپنی اس فطرت پر قائم رہے جس پر اسے بنایا گیا ہے۔اللہ تعالی کی بنائی ہوئی ساخت اور فطرت میں کسی بھی قسم کی تبدیلی کرنا ممنوع اور حرام ہے۔نبی کریم ﷺنے ایسی عورتوں لعنت فرمائی ہے جو اللہ تعالی کی ساخت میں تبدیلی کرتی ہیں۔تاہم اس حکیم وخبیر شارع نے جسم کو صاف ستھرا رکھنے اور صحت کے تحفظ کے لئے چند ایسی چیزوں کو ختم کرنے کی اجازت دے دی ہے ،جنہیں ہم طبی زبان میں "جلد کے لاحقے " کہتے ہیں۔ان کے خاتمے کو عین فطرت اور سنتیں قراردیا گیا ہے۔مثلا ناخن کاٹنا،زیر ناف اور زیر بغل بالوں کو نوچنا،مونچھیں تراشنا اور مرد کے عضو تناسل کی سپاری کے سرے کو ڈھانکنے والے کھال کے ٹکڑے کو ،جسے قلفہ کہا جاتا ہے کاٹنا۔اگر ان چیزوں کی صفائی کو نظر انداز کر دیا جائے تو بہت ساری بیماریوں کے پھیلنے کے خدشات پیدا ہو جاتے ہیں۔صفائی ستھرائی کے انہی امور میں سے ایک لڑکیوں کا ختنہ کرنابھی ہے،جس کا احادیث نبویہ میں کچھ  تذکرہ آتا ہے،لیکن  مولف ﷫کے نزدیک ان احادیث کی سند کمزور ہے۔زیر تبصرہ کتاب(لڑکوں اور لڑکیوں کے ختنے کا شرعی حکم) ﷫کی تصنیف ہے جس میں انہوں نے  لڑکوں اور لڑکیوں کے ختنے کے حوالے سے وارد احادیث نبویہ کی استنادی حیثیت پر ایک تحقیقی مقالہ پیش کیا ہے کہ شریعت میں ان کا کیا حکم ہے۔اللہ تعالی مولف ﷫کی اس کاوش کو قبول ومنظور فرمائے۔آمین(راسخ)

     

  • 102 لیس الذکر کا الانثی (ہفتہ 29 نومبر 2014ء)

    مشاہدات:2152

    آج سے تقریبا تین سو برس قبل پورپ میں جدید تحریک نسواں کا آغاز ہوا۔ جس میں یہ موقف اختیار کیا گیا کہ مرد اور عورت میں سماجی ذمہ داریوں اور تخلیقی صلاحیتوں کےلحاظ سے کوئی فرق نہیں ۔اگر مرد صدر یا وزیر اعظم بن سکتا ہے تو عورت بھی بن سکتی ہے ۔اگر مرد پر معاشی بوجھ ڈالا گیا ہے تو عورت بھی یہ بوجھ اٹھا سکتی ہے ۔اگر مرد جہاز اڑا سکتا ہے ،غوطہ زنی کر سکتا ہے ، مشینیں ٹھیک کر سکتا ہے ،کرکٹ ،اسکوائش ،پولو،ہاکی ،جوڈو کراٹے کھیل سکتاہے ،اگر مرد کار چلانے ،گھوڑے دوڑانے اور خود اپنی ٹانگوں کے بل دوڑنے کا مقابلہ کر سکتا ہے توپھر عورت پر ان تمام پیشوں اور مشغلوں کےدروازے بند کیوں؟اور جب عورت بھی مردکی طرح انسان ہے توپھر اس پر ایسی معاشرتی پابندیاں کیوں عائد کی گئی ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے گومرد اور عورت کو ایک ہی نوع قرار دیا ہے لیکن صنفی لحاظ سے دونوں میں فرق رکھا ہے۔ یہ فرق طبی،طبعی ،سماجی نفسیاتی ،جذباتی غرض ہر لحاظ سے ہے اور اس فرق کو دنیا کاکوئی انسا ن ختم نہیں کرسکتا۔ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد:’’َلَيْسَ الذَّكَرُ كَالْأُنْثَى‘‘اس کی واضح دلیل ہے۔ زیر نظر کتاب محترمہ ام عبدمنیب صاحبہ نے اللہ تعالیٰ کے پیدا کردہ اس تخلیقی فرق ہی کی تائید میں مرتب کی ہے ۔کتاب کے پہلے حصے میں مغربی معاشرے کے دانشووروں ،فلسفیوں، ڈاکٹروں، سائنس دانوں اور ماہر نفسیات کی آراء پیش کی گئی ہیں۔ نیز عورت اور مرد میں جسمانی اور عادات کے لحاظ سے جس نوعیت کابھی فرق پایا جاتا ہے اسے بیان کیا گیا ہے ، اس کے بعد بتایا گیا ہے کہ قرآن وسنت میں تخلیقی فرق کہاں کہاں ہے...

  • 103 لیڈر شپ (بدھ 06 جون 2018ء)

    مشاہدات:1266

    مسلمانانِ برصغیر کے لیے ایک آزاد اور خود مختار مملکت کی جد وجہد میں مسلم قائدین کے کردار کی اہمیت سے کون واقف نہیں۔ قیام پاکستان کے بعد بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح کے انتقال سے نوزائیدہ مسلم ریاست میں قیادت کا جو بحران اُٹھ کھڑا ہوا، وہ وقت گزرنے کے ساتھ زندگی کے ہر شعبہ میں کسی نہ کسی شکل میں موجود رہا اور پاکستان کی حیثیت اُس بادبانی کشتی کی ماند ہو گئی جس کا کوئی ناخذا نہ ہو۔ قوموں کی ترقی میں جلیل القدر قائدین کی رہنمائی کامیابی کی کلید اور مشعلِ راہ کا درجہ رکھتی ہے۔ معاشرہ میں ایک خاندان کے سربراہ سے لے کر ایک بڑے ادارے میں قائد کو جدید دور کے تیزی سے بدلتے ہوئے حالات کے تقاضوں کی روشنی میں کیا حکمت عملی اور لائحۂ عمل وضع کرنا چاہیے‘ دوسروں کے لیے کیسا’رول ماڈل‘ ہونا چاہیے اور انہیں کس طرح مل جل کر ایک مشترکہ نصب العین کے حصول کے لیے جدوجہد میں بامعنی اور مؤثر کردار اردا کرنے پر راغب کرنے کے لیے کیا کرنا چاہیے۔زیرِ تبصرہ کتاب اسی مقصد کے تحت لکھی گئی ہے جس میں  یہ بتایا گیا ہے کہ لیڈر شپ کیسے حاصل کی جا سکتی یا لیڈر کی خوبیاں اور ان کے اوصاف حمیدہ کون سے ہوتے ہیں؟ اور ایک شخص لیڈر بننے کے بعد کن ذرائع سے اپنے ماتحتوں کے دل میں گَھر کر سکتا ہے اور ان کے دلوں میں بسیرا کر سکتا ہے۔ کتاب کا اسلوب نہایت عمدہ‘سادہ اور عام فہم ہے۔ یہ کتاب’’ لیڈر شپ ‘‘سہیل بابر کی تصنیف کردہ ہے۔آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی درجنوں  کتب اور  بھی ہیں۔ دعا ہے کہ ا...

  • 104 مابعد جدیدیت (پیر 03 ستمبر 2018ء)

    مشاہدات:1959

    دین اسلام کی بنیاد وحی الٰہی پر قائم ہے اور اس کے سرمدی اصول غیر متبدل اور ناقابل تغیر ہیں۔ اِس بات میں کوئی شک نہیں کہ وحی الٰہی کی بنیاد پر ترتیب پانے والا معاشرہ نہ تو غیر مہذب ہوتا ہے اور نہ پسماندہ۔ مفکرین یورپ کو اس بات کی پریشانی رہتی ہے کہ وہ کونسی چیز ہو جس کی بنیاد پر مسلم معاشرے کی بنیادوں کو کھوکھلا کر دیا جائے۔ چنانچہ وہ اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کے لئے نئی سے نئی تھیوری و فلسفہ پیش کرتے ہیں۔ گذشتہ صدی ’’جدیدیت‘‘ کی صدی تھی۔ جدیدیت اصل میں ان نظریاتی، تہذیبی، سیاسی اور سماجی تحریکوں کا نام ہے جو گزشتہ دو صدیوں کے یورپ میں ’’روایت پسندی‘‘ Traditionalism اور کلیسائی استبداد کے رد عمل میں پیدا ہوئیں اور ’’ما بعد جدیدیت‘‘ ان افکار کے مجموعے کا نام ہے جو جدیدیت کے بعد اور اکثر اس کے ردّ عمل میں ظہور پذیر ہوئے۔ ما بعد جدیدیت کے نظریہ کا گہرائی سے عام لوگوں کو اگرچہ علم نہیں ہوتا لیکن وہ محسوس و غیر محسوس طریقوں سے اپنی عملی زندگی اور روّیوں میں اس کے اثرات قبول کر لیتے ہیں۔ اس کا سب سے نمایاں اثر یہ ہے کہ افکار، نظریات، آفاقی صداقت، مقصدیت اور آئیڈیالوجی سے لوگوں کی دلچسپی کو کم کر دیا جائے۔ اسلام کی نظر میں یہ خطرناک موڑ ہے کہ انسان اصول و مقاصد پر عدم یقینی کی کیفیت میں مبتلاء ہو جائے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ ما بعد جدیدیت مضمرات وممکنات‘‘ وہاب اشرفی صاحب کی کاوش ہے۔ جس میں ما بعد جدیدیت کے تشکیلی پہلو، مغربی مفکرین، نو آبادیات وپس نو آبادیات، تاریخ...

  • 105 مابعد جدیدیت اور اسلام(تحقیق وتجزیہ) (جمعہ 13 جنوری 2012ء)

    مشاہدات:18233

    دین اسلام کی بنیاد وحی الٰہی پر قائم ہے اور اس کے سرمدی اصول غیر متبدل اور ناقابل تغیر ہیں۔ اِس بات میں کوئی شک نہیں کہ وحی الٰہی کی بنیاد پر ترتیب پانے والا معاشرہ نہ تو غیر مہذب ہوتا ہے اور نہ پسماندہ۔ مفکرین یورپ کو اس بات کی پریشانی رہتی ہے کہ وہ کونسی چیز ہو جس کی بنیاد پر مسلم معاشرے کی بنیادوں کو کھوکھلا کر دیا جائے۔ چنانچہ وہ اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کے لئے نئی سے نئی تھیوری و فلسفہ پیش کرتے ہیں۔ گذشتہ صدی ’’جدیدیت‘‘ کی صدی تھی۔ جدیدیت اصل میں ان نظریاتی، تہذیبی، سیاسی اور سماجی تحریکوں کا نام ہے جو گزشتہ دو صدیوں کے یورپ میں ’’روایت پسندی‘‘ Traditionalism اور کلیسائی استبداد کے رد عمل میں پیدا ہوئیں اور ’’ما بعد جدیدیت‘‘ ان افکار کے مجموعے کا نام ہے جو جدیدیت کے بعد اور اکثر اس کے ردّ عمل میں ظہور پذیر ہوئے۔ ما بعد جدیدیت کے نظریہ کا گہرائی سے عام لوگوں کو اگرچہ علم نہیں ہوتا لیکن وہ محسوس و غیر محسوس طریقوں سے اپنی عملی زندگی اور روّیوں میں اس کے اثرات قبول کر لیتے ہیں۔ اس کا سب سے نمایاں اثر یہ ہے کہ افکار، نظریات، آفاقی صداقت، مقصدیت اور آئیڈیالوجی سے لوگوں کی دلچسپی کو کم کر دیا جائے۔ اسلام کی نظر میں یہ خطرناک موڑ ہے کہ انسان اصول و مقاصد پر عدم یقینی کی کیفیت میں مبتلاء ہو جائے۔ چنانچہ ایم فل کے زیر نظر مقالہ میں قابل مصنف نے مابعد جدیدیت کا اسلام سے تقابل کیا ہے جو ایک مفید اور قابلِ ستائش کوشش ہے۔ (م۔آ۔ہ)
     

  • 106 مادیت اور روحانیت (پیر 17 دسمبر 2018ء)

    مشاہدات:1058

    انسان مادے اور روح دونوں کا مجموعہ ہے۔ مادی ضروریات کو ہر انسان جانتا اور پہچانتا ہے۔ لیکن روح کی ضرورت کیا ہے، روحانیت کیسے پروان چڑھتی ہے اور روحانی تسکین کیسے ملتی ہے، اس معاملے میں لوگ اکثر بے اعتدالی کا شکار ہوجاتے ہیں۔درحقیقت روحانیت دو چیزوں کے مجموعے کا نام ہے، اللہ پر پختہ یقین واعتماد اور اللہ کو حاضر وناظر جان کر اعلیٰ اخلاقی اصولوں کے تحت مخلوقِ خدا سے معاملہ کرنا۔ روحانیت کا دوسرا حصہ یہ ہے کہ انسان اسی دنیا کی زندگی میں مصروف رہے اور اللہ کو حاضرو ناظر جان کر ہر کسی کے حقوق کا خیال رکھے۔ ایک انسان پر سب سے بڑا حق اُس کی اپنی ذات کا ہے۔غرض یہ کہ ہر وہ انسان جو کسی طریقے سے مخلوقِ خدا کو آرام اور آسانیاں بہم پہنچاتا ہے، وہ اللہ کی مخلوق کی خدمت کرتا ہے اور یہی خدمت انسان کو روحانی تسکین پہنچاتی ہے۔ اور روحانی تسکین کا سب سے اچھا طریقہ یہ ہے کہ انسان پانچ وقت کی نماز پڑھے، اللہ کے بڑے بڑے احکام کو بجا لائے، کبیرہ گناہوں سے بچنے کی حتی الوسع کوشش کرے، اپنی صحت کا خیال رکھے، روزانہ خدمتِ خلق کا براہ راست کوئی کام کرے، اپنے سب رشتہ داروں اور ہمسایوں کا خیال رکھے، غریبوں کی مدد کرے، قانون کی پابندی کرے، خوش اخلاقی کا رویہ اپنائے اور اپنی معاش میں دیانت دار رہے۔ یہی روحانیت ہے اور ایسی زندگی گزارنے سے روحانی تسکین ملتی ہے۔زیر نظر کتابچہ  ’’ مادیت اور روحانیت ‘‘ محمد فاروق  خاں ایم کا مرتب شدہ  ہے اس کتابچہ میں انہوں نے  مادیت اور روح...

  • 107 متاع وقت اور کاروان علم (ہفتہ 23 دسمبر 2017ء)

    مشاہدات:2545

    ’’وقت ‘‘انسان کی زندگی کا سب سے قیمتی سرمایہ  ہے اور اللہ تبارک وتعالیٰ کی ایک بڑی نعمت ہے۔جس کی قدر ناشناسی اور ناشکری غفلت کی وجہ سے آج امت میں عام ہے، اور جس کی طرف امت کو توجہ دلانا خصوصا موجودہ دورمیں ایک  بہت ضروری امرہے۔ ورنہ تاریخ ایسے لوگوں کی داستانوں سے بھری پڑی ہے جووقت کی  ناقدری  کرتے رہے اور پھر وقت نے ان کو عبرت کا تازیانہ بنادیا۔ وقت کی قدرو منزلت کو سامنے  رکھتے ہوئے ،امام شافعیؒ صوفیا کے اس قول  بڑا پسند کیا کرتے تھے،’’الوقت سيف ان لم تقطعه يقطعك‘‘ اور سیدنا علی ﷜ فرمایا کر تے تھے،’’الايام صحائف اعماركم فخلدوها بصالح اعمالکم‘‘ اور سب سے بھڑ کر خود رب العالمین نے قرآن مجید میں وقت کی گراں قدری کا تذکرہ کرتے ہوئے متعدد بار اس کی قسمیں اٹھائیں ،جس سےاس کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔ وقت کی اہمیت اور افادیت کوسامنے رکہتے ہوئے فاضل مصنف  ’’ابن الحسن عباسی‘‘ سلمہ اللہ نے موضوع کی اہمیت کا اندازہ کرتے ہوئے اس ضرورت کو آسان، سلیس، عام فہم اور دلچسپ پیرائے میں پورا کر کے علمائے امت کی جانب سے  اس قرض کو چکا دیا۔ اللہ ان کی اس کاوش  کو شرف قبولیت بخشے۔ آمین(شعیب خان)

  • 108 مجلس ذکر کی شرعی حیثیت (بدھ 25 مارچ 2009ء)

    مشاہدات:19937

    رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کے مطابق دین میں ہر نیا کام بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے اور ہر گمراہی جہنم مین لے جانے والی ہے۔ اتنی سخت وعیدیں ہونے کے باوجود آج مسلمانوں کی اکثریت دین کے نام پر بدعات کا شکار ہے۔ "مجلس ذکر" بھی اسی سلسلہ کا ایک شاخسانہ ہے۔ اللہ کے ذکر کے نام پر سادہ لوح مسلمانوں کو اکٹھا کر کے بدعات کا رسیا بنایا جاتا ہے۔ ان خودساختہ مصنوعی اذکار کی اتنی فضیلت بیان کی جاتی ہے کہ اللہ تعالٰی کے بجائے حضرت صاحب اور پیر صاحب سے تعلق گہرا ہوتا ہے۔ پھر امر بھی انہی کا چلتا ہے اور طاعت بھی۔ قرآن کے مطابق یہی تو پیروں کو رب بنانا ہے۔ اس کتابچہ میں مصنف نے ڈائیلاگ کے انداز میں نہایت ہی سادہ اور عام فہم طریق سے مجلس ذکر کی شرعی حیثیت کو واضح کیا ہے ۔

     

     

  • 109 محرم الحرام و مسئلہ سیدنا حسین و یزید (جمعہ 22 دسمبر 2017ء)

    مشاہدات:1612

    دنیا میں فرقےمختلف ناموں اور کاموں کے اعتبار سے موجود ہیں۔ کچھ فرقے فکری و نظریاتی بنیادوں پر وجود میں آتے ہیں اور فرقے سیاسی بنیادوں پر وجود پکڑتے ہیں۔ جہاں مختلف گروہ اسلام کی مخالفت پر برسر میدان ہیں وہاں ایک گروہ اہل تشیع بھی ہےجس کے گمراہ کن عقائد و نظریات روز روشن کی طرح عیاں ہیں۔ اہل تشیع نے امام حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت،عقیدت اہل بیت وغیرہ کی آڑ میں اسلام کی بنیادوں کو کھوکھلاکرنے کی ناپاک جسارت کی ہے۔ ماہ محرم میں اہل تشیع ماتم، نوحہ خوانی،مجالس کا انعقاد، تعزیہ داری کرنے وغیرہ کو عبادات کا درجہ دیتے ہیں۔ محرم حرام ان چار مہینوں میں سے ایک ہے جنہیں اللہ تعالیٰ نے حرمت والا مہینے قرار دیا اور اسی مہینے سے ہجری سن کا آغاز ہوتا ہے۔ اسی محرم کی دسویں تاریخ کو رسول اللہﷺ اور صحابہ کرام نے روزہ رکھا اور اس دن کے روزے کو ایک خصوصی فضیلت والا قرار دیا ہے۔ اسی دسویں تاریخ کو نواسہ رسولؐ کی شہادت رونما ہوئی جس کو سانحہ کربلا کے نام سے یاد کیا جاتا ہے جو تاریخ اسلام کا مشہور ترین واقعہ بن گیا۔ یہ وہ واقعہ ہے جس نے استحقاق سے زیادہ لوگوں کو اپنی طرف کھینچا اور ضرورت سے زیادہ عموم و خصوص کو الجھایا۔ یہ ایک نا خوشگوار حادثہ تھا، عواقب و انجام کے اعتبار سے دیکھا جائے تو یہ امت مسلمہ کے لیے ایک معرکۃ الآراء حادثہ تھا۔ اس کے بطن سے بے شمار گمراہیوں جنم لیا اور اس سے بدعات خرافات کا وہ طوفان برپا ہوا کہ اس دن کا جو اصل و مشروع کام تھا وہ بدعات کے اس طوفان میں مسلمانوں کی نظروں سے اوجھل ہوگیا۔ زیر نظر کتاب "محرم الحرام و مسئلہ سیدنا حسین و یزید"...

  • 110 مرشد جیلانی  کے ارشادات حقانی (جمعہ 27 نومبر 2015ء)

    مشاہدات:1715

    شیخ عبدالقادر جیلانی ؒ کی ذاتی تصنیفات کے حوالہ سے معلوم ہوتا ہےکہ وہ ایک عالم باعمل اور عقیدہ اہل السنۃ پر کاربند نظر آتے ہیں بلکہ آپ خود اپنے عقیدہ کے حوالہ سے لکھتے ہیں اعتقادنا اعتقاد السلف الصالح والصحابة ہمار عقیدہ وہی ہے جوصحابہ کرام اور سلف صالحین کا ہے اور شیخ عبد القادر دورسرں کو بھی سلف صالحین کا عقیدہ مذہب اختیار کرنے کی تلقین کرتے تھے ۔ مگر شیخ کے بعض عقیدت مندوں نے فرطِ عقیدت میں شیخ کی خدمات وتعلیمات کو پس پشت ڈال کر ایک ایسا متوازی دین وضع کر رکھا ہے جو نہ صرف قرآن وسنت کے صریح خلاف ہے بلکہ شیخ کی مبنی برحق تعلیمات کے بھی منافی ہے ۔ زیر تبصرہ کتاب’’ مرشدِ جیلانی کےارشادات ِحقانی ‘‘معروف اہل حدیث عالم دین مصنف کتب کثیرہ جناب محمد حنیف یزدانی کی تصنیف ہے ۔ اس کتاب میں انہوں نے حضرت شیخ عبد القادر جیلانی ﷫ کی تعلیمات کو افادۂ عام اور ان کے عقیدہ بالخصوص ’’مسئلہ توحیدکو ان ہی کی تصانیف غنیۃ الطالبین،فتوح الغیب وغیرہ کی روشنی میں واضح کیا ہے۔کیوں کہ جس مسئلہ کو حضرت شاہ جیلانی ﷫ تمام عمر بیان کرتے رہے ان کے عقیدت مندوں کواس مسئلہ کےسمجھنے میں دھوکہ ہوا۔ بجائے اس کے کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت وبندگی کی جاتی ۔حضرت شاہ جیلانی  کی بندگی شروع ہوگئی ۔اور تمام الٰہی اوصاف ان میں شمار ہونے لگے اور حضرت شاہ جیلانی کو حاجت روا ، مشکل کشا، مصیبتیں دو رکرنے والا ، عالم الغیب، حاضر ناضر نذرونیاز کے لائق سمجھا گیا ۔انہی کےنام کی نماز صلاۃ الغوثیہ اور ان ہی کےنام کاوظیفہ یاشیخ سید عبد القادر جیلانی شيأً لله شروع...

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 347
  • اس ہفتے کے قارئین: 4732
  • اس ماہ کے قارئین: 18703
  • کل قارئین : 48351971

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں