دکھائیں کتب
  • 111 مسئلہ ملکیت زمین (جمعرات 26 نومبر 2015ء)

    مشاہدات:2175

    اسلام نے ہمیں زندگی کے تمام شعبوں کے بارے میں راہنمائی فراہم کی ہے۔عبادات ہوں یا معاملات،تجارت ہو یا سیاست،عدالت ہو یا قیادت ،اسلام نے ان تمام امور کے بارے میں مکمل تعلیمات فراہم کی ہیں۔اسلام کی یہی عالمگیریت اور روشن تعلیمات ہیں کہ جن کے سبب اسلام دنیا میں اس تیزی سے پھیلا کہ دنیا کی دوسرا کوئی بھی مذہب اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا ہے۔اسلامی تعلیمات نہ صرف آخرت کی میں چین وسکون کی راہیں کھولتی ہیں ،بلکہ اس دنیوی زندگی میں اطمینان ،سکون اور ترقی کی ضامن ہیں۔اسلام کی اس بے پناہ مقبولیت کا ایک سبب مساوات ہے ،جس سے صدیوں سے درماندہ لوگوں کو نئی زندگی ملی اور وہ مظلوم طبقہ جو ظالموں کے رحم وکرم پر تھا اسے اسلام کے دامن محبت میں پناہ ملی۔ اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات اور دستور زندگی ہے۔اسلامی نظامِ حیات میں جہاں عبادت کی اہمیت ہے وہیں معاملات ومعاشرت اور اخلاقیات کو بھی اولین درجہ حاصل ہے،اسلام کاجس طرح اپنانظامِ معیشت ہے اوراپنے اقتصادی اصول ہیں اسی طرح اسلام کا اپنانظامِ سیاست وحکومت ہے،اسلام کا نظامِ سیاست وحکم رانی موجودہ جمہوری نظام سے مختلف اوراس کے نقائص ومفاسد سے بالکلیہ پاک ہے۔ زیر تبصرہ کتاب " مسئلہ ملکیت زمین "جماعت اسلامی پاکستان کے بانی محترم مولانا سید ابو الاعلی مودودی صاحب﷫ کی تصنیف ہے ، جس میں انہوں نے زمین کی شخصی ملکیت پر تفصیلی گفتگو کی ہے۔یہ بحث پہلے ترجمان القرآن میں چھپتی رہی اور اس کی اہمیت کے پیش نظر بعد میں اسے کتابی شکل میں شائع کر دیا گیا۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ان کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اض...

  • 112 مسلم کوئز کمپیٹیشن 1000+ سوالات اور ان کے جوابات (جمعہ 12 جولائی 2019ء)

    مشاہدات:983

    دنیا معلومات کا سمندر ہے یہاں ہر سیکنڈ میں بہت کچھ نیا اور حیرت انگیز واقعہ سامنے آتا ہے ۔جنرنل نالج میں اضافہ  انسان کو حاضر جواب بنانا دیتا ہے معلومات عامہ یا جنرل نالج سے مراد وہ   تمام معلومات ہوتی ہیں جو انسانی زندگی سے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کریں۔یہ ہرگز ضروری نہیں کہ  تمام معلومات تمام لوگوں کےلیے ہی اہمیت رکھتی ہوں بلکہ عام طور پر ہرشخص کو کسی خاص فیلڈ، ایریاز، کیٹاگریز کےحوالے سے معلومات میں انٹرسٹ ہوتاہے۔ مثال کےطور پر ایک مذہبی شخصیت کو دین ِاسلام سےمتعلق معلومات بھائیں گی۔ایک کھلاڑی کوسپورٹس کی معلومات میں دلچسپی  ہوگی۔ایک طالب علم اپنی تعلیم کے لحاظ سے سائنس،آرٹسٹ یادیگر ٹاپکس پر معلومات پسند کرے گا۔ایک ڈاکٹر انسانی جسم سےمتعلق نت نئی معلومات حاصل کرنے کا شوق رکھے گا۔  جن لوگوں کے پاس معلومات کا خزانہ موجود ہووہ زندگی کے اکثر معاملات میں اپنی ذہانت اور سمجھ بوجھ کو بروئے کار  لاتے ہوئے مختلف فیصلے کرسکتے ہیں اور جس شخص کے ذہن میں معلومات کا خزانہ دفن ہو ،  وہ دوسرے لوگوں کو اپنی شخصیت سے بھی متاثر کرتا ہے اوران کادل جیت کر ان کے قریب ہونے کا موقع بھی حاصل کرلیتا ہے ۔جنرل نالج کے حوالے مارکیٹ میں بیسیوں کتب موجود ہیں لیکن یہ کتب عموماً مستند ، مقابلہ جاتی امتحانات کااحاطہ نہیں کرتیں جس کی بڑی وجہ تحقیق وتخلیق کافقدان ہے۔ زیر نظر کتاب ’’ مسلم کوئز کمپیٹیشن +1000سوالات اور ان کےجوابات‘‘  محترم جناب فیصل اسلم صاحب کی  کاوش ہے  انہوں نے اپنی تحقیقی صلاحیتوں اور بڑ...

  • 113 مسنون تسمیہ (اتوار 03 نومبر 2013ء)

    مشاہدات:4989

    زیر نظر رسالہ میں اس مسئلے پر بحث کی گئی ہے کہ کھانے پینے اور دیگر امور کی ابتداء کے وقت مسنون طریقہ فقط بسم اللہ کہنا ہے یا مکمل بسم اللہ الرحمٰن الرحیم پڑھنا ہے۔  کتاب میں قولی و فعلی احادیث،آثار صحابہ رضی اللہ عنہم اور اقوال فقہاء سے یہ ثابت کیا گیا ہے کہ کھانے پینے اور دیگر امور کرتے وقت باستثنائے بعض امور کے، جس کی تفصیل اس کتاب میں آئے گی، سنت طریقہ صرف بسم اللہ کہنا ہے۔ نیزان علماء کے اقوال ودلائل بھی ذکر کیے گئے ہیں جو مکمل بسم اللہ الرحمٰن الرحیم پڑھنے کے قائل ہیں۔ تسمیہ کے موضوع پریہ  ایک جامع رسالہ ہے،اللہ تعالیٰ قارئین کے لیے اس کے مطالعہ کو فائدہ مند بنائے۔ آمین(ک۔ح)
     

  • 114 مشکوک اشیاء سے پرہیز (ہفتہ 04 اکتوبر 2014ء)

    مشاہدات:2114

    کسی چیز کو حلال یاحرام قرار دینے کا اختیار صرف اللہ تعالیٰ کو ہے۔دنیا کا کوئی بزرگ ، کوئی نبی ،کوئی ولی ،کوئی قانون ،کوئی اسمبلی کوئی عدالت حرام کوحلال اور حلال کوحرام قراددینے کا اختیار نہیں رکھتی اور اگر کوئی ایسا کرتا ہے تووہ شرک کاارتکاب کرتاہے ۔اللہ تعالی نے مسلمانوں پر جو احکام کئے ان کی تین اقسام ہیں۔حلال،حرام اور مشتبہات جس کی وضاحت قرآنو احادیث میں موجود ہے ۔حرام وہ تمام چیزیں یا کام ہیں جن کے کرنے سے شریعت اسلامیہ نے روک دیا ہے ۔اللہ تعالیٰ نےبڑی   وضاحت کےساتھ حرام اشیاء کا ذکر کیا ہے جیساکہ فرمان الٰہی ہے :قَدْ فَصَّلَ لَكُمْ مَا حَرَّمَ عَلَيْكُم(الانعام:120) اور حلال سے مرادکسی چیز کے استعمال یا کسی کام کے کرنے میں شرعا کھلے عام اجازت ہے۔اور مشتبہات یعنی مشکوک کام سے مراد وہ امور ہیں جن کے متعلق کبھی حرام ہونے کا شبہ ہوتا ہے اور کبھی حلال ہونے کاگمان ۔معاملہ شک ہی میں اٹکا رہتا ہے ۔جب کسی چیز کے حرام یا حلال ہونے کا قرآن وسنت سےواضح ثبوت نہ ملے تو اس صورت حال میں شک والے کام یا چیزکوچھوڑ دینے کاحکم ۔ زیر نظر رسالہ ’’مشکوک اشیاء سے پرہیز‘‘ محترمہ ام عبدمنیب صاحبہ کا مرتب شدہ ہے۔ جس میں انہوں نے مشکو ک اشیاء کے متعلق ایک مسلمان کا کیا طرزِ عمل ہونا چاہیے اسے قرآ ن وحدیث کی روسے   احسن انداز میں   واضح کرنےکی کوشش کی ہے ۔ اللہ تعالیٰ اس کتابچہ کو لوگوں کے نفع بخش بنائے ۔(آمین) محترمہ ام عبد منیب صاحبہ محمد مسعود عبدہ  کی اہلیہ ہیں ۔ موصوف   تقریبا 23 سال قبل جامعہ لاہور الا...

  • اسلام خدا کی طرف سے آخری دین اور مکمل دین ہے جو انسانیت کے تمام مسائل کا حل پیش کرتاہے اور آج کی سسکتی ہوئی انسانیت کو امن اور سکون کی دولت عطا کرتے ہوئے دنیاوی کامیابی کے ساتھ اخروی نجات کا باعث بن سکتا ہے ۔ اسلام وہ دین یا نظام حیات ہے جس میں حضور ختم المرسلینﷺ کی وساطت سے انسانیت کے نام خدا کے آخری پیغام یعنی قرآن مجید کی روشنی میں زندگی بسر کی جائے۔ اُس وحی خداوندی کی روشنی میں فطرت کی قوتوں کو مسخر کرتے ہوئے انسانیت کی فلاح و بہبود کے لیے بروئے کار لایا جائے۔ اُس ضابطہ حیات پر کامل ایمان لاتے ہوئے قوانینِ خداوندی کے سامنے اپنا سر تسلیم خم کرنے کا نام اسلام ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی رہنمائی کے لئے جو نظام اور قانون دیا ہے اس کا نام اسلام ہے۔ اس نظام زندگی کی رہنمائی انبیا اکرام کی صورت میں جاری رہی اور حضور پاک ﷺ پر یہ سلسلہ ختم ہوگیا۔ زیرِ تبصرہ کتاب’’ مغربی مسلمانوں کے روز مرہ مسائل اور ان کا شرعی حل‘‘ ڈاکٹر حافظ حسن مدنی کی ہے۔ جس مغربی مسلمانوں کے مسائل کو سوالیہ انداز میں بیان کیے گے ہیں جن کے جوابات حافظ ثناء اللہ مدنی صاحب نے قرآن و سنت کی روشنی میں عیاں کیے ہیں۔ اس کتاب میں نکاح و طلاق کے مسائل، مال اور روز گار کے مسائل،زکوٰۃ کے مصارف، صدقہ فطر کے بعض مسائل،دعوت و تبلیغ اور مساجد، اختلاط مرد و زن اور غیر مسلموں سے میل جول سے متعلقہ مسائل پر روشنی ڈالی گئی ہے۔مغربی مسلمانوں کے لئے اس کتاب کا مطالعہ انتہائی ضروری ہے۔امید ہے یہ کتاب تمام مسلمانوں کے مسائل کے حل میں معاون ثابت ہو گی۔اللہ تعالیٰ صاحب مصنف کی اس مب...

  • 116 مقام آدمیت نیابت الٰہی (جمعرات 05 جنوری 2017ء)

    مشاہدات:934

    ہر بادشاہ اپنے مرکز کے تحت صوبوں اور علاقوں کی اس وقت تک مدد کرتا ہے جب تک وہ مرکز سے منسلک رہیں اور اس کے قانون کے فرمانبردار رہیں۔ اگر بغاوت کر کے دشمن سے جا ملیں یا اپنی خواہش سے قانون بنا کر جاری کر دیں اور نیابت سے انکار کر کے خود مختار بادشاہ بن بیٹھیں تو وہ بجائے امداد کے بغاوت کی سزا پاتے ہیں۔ ٹھیک اسی طرح آسمانی بادشاہت کا قانون ہے۔ اللہ تعالی نے انسان کو اپنی زمین کا انتظام سپرد کر کے زمین میں اپنا نائب قرار دیا ہے۔ جب تک انسان خدا کا نائب بن کر آسمانی قانون کے تحت زمین کا نتظام کرتا ہے اور قانون فطرت یعنی شریعت کا پابند رہتا ہے، اللہ تعالی اپنے نائب کے طور پر اس کی ہر قسم کی مدد کرتا ہے۔اور جب آسمان سے مدد مانگنے کی بجائے غیر اللہ سے مدد مانگتا ہے تو باوجود افرادی قوت کے خدائی مدد سے محروم ہو جاتا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب "مقام آدمیت، نیابت الہی" محترم مولانا قدرت اللہ لکھوی صاحب کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے انسان کی اسی حقیقت کو آشکارہ کیا ہے کہ اگر انسان دنیا وآخرت دونوں جہانوں کی بھائی چاہتا ہے تو اسے اللہ کا نائب بن کر اس کے احکامات کی پابندی کرنا ہو گی اور اپنی خواہشات نفس کو کنٹرول کرنا ہوگا۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔ آمین(راسخ)

  • 117 مقام رسالت کا عملی تصور (ہفتہ 07 جولائی 2018ء)

    مشاہدات:1128

    اس روئے ارض پر انسانی ہدایت کے لیے حق تعالیٰ نے جن برگزیدہ بندوں کو منتخب فرمایا ہم انہیں انبیاء ورسل﷩ کی مقدس اصطلاح سے یاد رکرتے ہیں اس کائنات کے انسانِ اول اور پیغمبرِاول ایک ہی شخصیت حضرت آدم کی صورت میں فریضۂ ہدایت کےلیے مبعوث ہوئے ۔ اور پھر یہ کاروانِ رسالت مختلف صدیوں اور مختلف علاقوں میں انسانی ہدایت کے فریضے ادا کرتے ہوئے پاکیزہ سیرتوں کی ایک کہکشاں ہمارے سامنے منور کردیتاہے ۔درخشندگی اور تابندگی کے اس ماحول میں ایک شخصیت خورشید جہاں تاب کی صورت میں زمانےاور زمین کی ظلمتوں کو مٹانے اورانسان کےلیے ہدایت کا آخری پیغام لے کر مبعوث ہوئی جسے محمد رسول اللہ ﷺ کہتے ہیں ۔ آج انسانیت کےپاس آسمانی ہدایت کا یہی ایک نمونہ باقی ہے۔ جسے قرآن مجید نےاسوۂ حسنہ قراردیا اور اس اسوۂ حسنہ کےحامل کی سیرت سراج منیر بن کر ظلمت کدۂ عالم میں روشنی پھیلارہی ہے ۔ رہبر انسانیت سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ قیامت تک آنے والےانسانوں کےلیے’’اسوۂ حسنہ‘‘ ہیں ۔حضرت محمد ﷺ ہی اللہ تعالیٰ کے بعد ،وہ کامل ترین ہستی ہیں جن کی زندگی اپنے اندر عالمِ انسانیت کی مکمل رہنمائی کا پوراسامان رکھتی ہے ۔ انسان کے لکھنے پڑھنے کی ابتدا سے اب تک کوئی انسان ایسا نہیں گزرا جس کے سوانح وسیرت سے متعلق دنیا کی مختلف زبانوں میں جس قدر محمد رسول اللہ ﷺ سے لکھا جاچکا ہے اور لکھا جارہا ہے ۔اردو زبان بھی اس معاملے میں کسی بھی زبان سے پیچھے نہیں رہی اس میں حضورﷺ سے متعلق بہت کچھ لکھا گیا اور ہنوز یہ سلسلہ جاری ہے ۔حضور اکرم ﷺ کی ذات اقدس پر ابن اسحاق اورابن ہشام سے لے کر گزشتہ چودہ ص...

  • 118 مقدمہ بوسنیا (بدھ 07 مارچ 2018ء)

    مشاہدات:1058

    بوسنیا و ہرزیگووینا (bosnia-herzegovina) یورپ کا ایک نیا ملک ہے جو پہلے یوگوسلاویہ میں شامل تھا۔ اس کے دو حصے ہیں ایک کو وفاق بوسنیا و ہرزیگووینا کہتے ہیں اور دوسرے کا نام سرپسکا ہے۔ وفاق بوسنیا و ہرزیگووینا اکثریت مسلمان ہے اور سرپسکا میں مسلمانوں کے علاوہ سرب، کروٹ اور دیگر اقوام بھی آباد ہیں۔ یہ علاقہ یورپ کے جنوب میں واقع ہے۔ اس کا رقبہ 51،129 مربع کلومیٹر ( 19،741 مربع میل) ہے۔ تین اطراف سے کرویئشا کے ساتھ سرحد ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مغربی یورپی اقوام نے اس علاقے کی آزادی کے وقت اس بات کو یقینی بنایا کہ اسے ساحلِ سمندر نہ مل سکے چنانچہ اس کے پاس صرف 26 کلومیٹر کی سمندری پٹی ہے اور کسی بھی جنگ کی صورت میں بوسنیا و ہرزیگووینا کو محصور کیا جا سکتا ہے۔ مشرق میں سربیا اور جنوب میں مونٹینیگرو کے ساتھ سرحد ملتی ہے۔ سب سے بڑا شہر اور دارالحکومت سرائیوو ہے جہاں 1984 کی سرمائی اولمپک کھیلوں کا انعقاد ہوا تھا جب وہ یوگوسلاویہ میں شامل تھا۔ تاحال آخری بار ہونے والی 1991ء کی مردم شماری کے مطابق آبادی 44 لاکھ تھی جو ایک اندازا کے مطابق اب کم ہو کر 39 لاکھ ہو چکی ہے۔ کیونکہ 1990 کی دہائی کی جنگ میں لاکھوں لوگ قتل ہوئے جن کی اکثریت مسلمان بوسنیائی افراد کی تھی اور بے شمار لوگ دوسرے ممالک کو ہجرت کر گئے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’مقدمۂ بوسنیا‘‘ محمد الیاس انصاری کی تصنیف ہے۔ جس میں صلیبی جنگوں کے مناظر،مسلمانان بوسنیا کا الم اور ، بوسنیاکا زمانہ حال اور مستقبل کو مفصل بیان کیا ہے۔ یہ کتاب اپنے اس موضوع پر ایک شاندار اور مفید کتاب ہے ،جس کا ہر طا...

  • مفسرِ قرآن عبداللہ بن عمر بیضا میں پیدا ہوئے۔ آپ کی والد اتابک ابوبکر بن سعید زنگی کے زمانے میں فارس کے قاضی القضاۃ تھے۔ آپ نے قرآن، حدیث اور فقہ کی تعلیم حاصل کی اور شیراز کے قاضی مقرر ہوئے۔ پھر تبریز میں مقیم ہوگئے اور وہیں انتقال کیا۔ آپ کا سب سے بڑا کارنامہ قرآن مجید کی تفسیر ، انوار التنزیل و اسرار التاویل ہے اسے عموماً تفسیر بیضاوی کہتے ہیں۔ اہل سنت کے نزدیک یہ بڑے پائے کی تفسیر ہے۔ اور درس نظامی میں شامل ہے۔ امام فخرالدین رازیؒ کی تفسیر کے بعد مشکل تفسیروں میں تفسیر بیضاوی کا شمار ہوتا ہے، امام بیضاوی نے اس میں نحو، صرف، کلام اور قراء ت وغیرہ کے مباحث کو بھی بیان کیا ہے یہ تفسیر مدارس دینیہ میں شامل نصاب ہے اس لیے اس کی اردو شرح کی ضرورت ایک مسلم بدیہی حقیقت ہوگئی۔ اس کا جتنا حصہ داخلِ نصاب ہے؛ اس کی مختلف اوقات میں مختلف انداز کی شرحیں شائع ہوئی ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ مقدمہ شرح البیضاوی المسماۃ اثمار التکمیل لمافی انوار التاویل‘‘مولانا محمد موسیٰ الر روحانی البازی کی تصنیف ہے جو کہ ان کی تفسیربیضاوی کی مفصل شرح ’’ازہار التسہیل فی شرح انوار التنزیل‘‘کامقدمہ ہے مولانا اس کو پچاس جلدوں میں مکمل کرنا چاہتے تھے لیکن شاید وہ اس کام کو مکمل نہ کرپائے ۔ان کا یہ مقدمہ اثمار التکمیل مباحث متفرقہ مفید وتحقیقات بدیعہ وتاریخیہ نحویہ ادبیہ کلامیہ حدیثیہ، تفسیریہ پر مشتمل ہے۔ مصنف نے کئی کتب کی ورق گردانی کے بعد اس میں کئی فنون کے اہم مباحث جمع کردیے ہیں ۔اور اس میں تفسیر بیضاوی میں مذکور شعراء کی تاریخ...

  • 120 ملت اسلامیہ (منگل 04 ستمبر 2018ء)

    مشاہدات:802

    اسلامی تہذیب پانچ بنیادی عقائد پر مبنی ہے جو اجزائے ایمان بھی کہلاتے ہیں۔ یہ وہ بنیادی اور اصولی تعلیم ہے جو ہر زمانے کے نبی اپنے پیرو کاروں کو دیتے رہے ہیں ۔ اسلامی عقائد میں ایک خدا کو ماننا ، اس کے فرشتوں اور رسولوں ، آسمانی کتابوں اور آخرت کی زندگی پر ایمان لانا ضروری ہے ۔ اسلامی زندگی میں جوکام بھی بطور فرائض ( حکم ربی ، ہدایت رسول ﷺ) کیے جاتے ہیں وہ سب اسلامی تہذیب کے عنصر ہیں ۔ لہٰذ ا دین اسلام پر ایمان لانے والے شخص کی فکر اسلامی تعلیمات کے تابع ہوتی ہے اور یہی نظریات اس کی عملی زندگی پر اثر انداز ہوتے ہیں ۔نبی اکرم ﷺ کی سیرتِ مبارکہ نے ملتِ اسلامیہ کی زندگی کے ہر پہلو کے لئے راہنمائی فراہم کی ہے۔ ان میں سے ایک پہلو ثقافتی اور تہذیبی بھی ہے۔ دنیا کی تمام تہذیبوں اور ثقافتوں کے مقابلے میں اسلام کی تہذیب و ثقافت بالکل منفرد اور امتیازی خصوصیات کی حامل ہے۔ اس کی بنیادی وجہ وہ اُصول و ضوابط اور افکار و نظریات ہیں جو نبی اکرم ﷺ نے اپنے اُسوہ حسنہ کے ذریعے اُمتِ مسلمہ کو عطا فرمائے ہیں۔ ثقافت کی تمام ترجہات میں اُسوہ حسنہ سے ہمیں ایسی جامع راہنمائی میسر آتی ہے جس سے بیک وقت نظری، فکری اور عملی گوشوں کا احاطہ ہوتا ہے۔ ایسی جامعیت دنیا کی کسی دوسری تہذیب یا ثقافت میں موجود نہیں ہے۔ مغربی مفکرین اسلام اور پیغمبر اسلام کے بارے میں اپنے تمام تر تعصبات کے باوجود اسلام کی عظیم الشان تہذیب اور ثقافت کی نفی نہیں کر سکے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ملت اسلامیہ تہذیب وتقدیر ‘‘ جناب سراج منیر صاحب کی تصنیف ہے ۔اس کتاب کو انہوں دس ابواب میں تقس...

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 1337
  • اس ہفتے کے قارئین: 7860
  • اس ماہ کے قارئین: 21831
  • کل قارئین : 48386073

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں