کل کتب 152

دکھائیں
کتب
  • 131 #3781

    مصنف : خرم علی بلہوری

    مشاہدات : 1388

    نصیحۃ المسلمین

    (اتوار 29 نومبر 2015ء) ناشر : المکتبہ السلفیہ شیش محل روڈ، لاہور

    اخروی نجات ہر مسلمان کا مقصد زندگی ہے جو صرف اور صرف توحید خالص پرعمل پیرا ہونے سے پورا ہوسکتا ہے۔ جبکہ مشرکانہ عقائد واعمال انسان کو تباہی کی راہ پر ڈالتے ہیں جیسا کہ قرآن کریم نے مشرکوں کے لیے وعید سنائی ہے ’’ اللہ تعالیٰ شرک کو ہرگز معاف نہیں کرے گا او اس کے سوا جسے چاہے معاف کردے گا۔‘‘ (النساء:48) لہذا عقیدۂ توحید کو اختیار کرنا اور شرک کی الائشوں سے بچنا ایک مسلمان کے لیے ضروری ہے ۔اس کے بغیر آخرت کی نجات ممکن ہی نہیں ۔ حضرت نوح نے ساڑے نوسوسال کلمۂ توحید کی طرف لوگوں کودعوت دی ۔ اور اللہ کے آخری رسول سید الانبیاء خاتم النبین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نےبھی عقید ۂ توحید کی دعوت کے لیے کس قدر محنت کی اور اس فریضہ کو سر انجام دیا کہ جس کے بدلے آپ ﷺ کو طرح طرح کی تکالیف ومصائب سے دوچار ہوناپڑا۔ عقیدہ توحید کی تعلیم وتفہیم کے لیے جہاں نبی کریم ﷺ او رآپ کے صحابہ کرا م نے بے شمار قربانیاں دیں اور تکالیف کو برداشت کیا وہاں علمائے اسلام نےبھی عوام الناس کوتوحید اور شرک کی حقیقت سےآشنا کرنے کےلیے دن رات اپنی تحریروں اور تقریروں میں اس کی اہمیت کو خوب واضح کیا ۔ہنوز یہ سلسلہ جاری وساری ہے۔ زیر تبصرہ کتاب’’ نصیحۃ المسلمین‘‘ سیدشاہ اسماعیل شہید کے قافلہ جہاد کے اہل علم وعمل اور صاحب ِ حال وقال سپاہی مولانا خرم علی بلہوری (متوفی1373ھ) کا تصنیف شدہ رسالہ ہے۔توحید کےمسئلہ پر یہ نہایت ہی مفید رسالہ ہے جسے موصوف نے 1228ء میں تحریر فرمایا اور صدہا مرتبہ شائع ہو کر اللہ کےبندوں کوہدایت کی راہ دکھانے میں کامیاب ثابت ہوا۔اس رسالہ کی زبان نہایت سادہ ،عام فہم اورطرزِ استدلال دلکش ہے۔ کٹ حجت لوگوں کےحیلوں بہانوں کےنہایت لطیف مگر مسکت جواب بھی تحریر فرمائے جس سےاس کی افادیت اور بھی بڑھ گئی ۔زیرتبصرہ ایڈیشن میں مولانا عطاء اللہ حنیف ﷫ نے اپنی طرف سےسے مناسب عنوان بھی قائم کیے ہیں جس سے اس رسالہ سے استفاد ہ کرنا آسان ہوگیا ہے۔ اور اسی طرح اس ایڈیشن میں افادۂ عام کے لیے ایک مسدس بھی درج کردی گئی ہے جو مؤلف مرحوم کی نظم متعلقہ توحید پر بطور تضمین کہی گئی ۔قرآن حکیم اور اردو سکھانے کےبعد بعد یہ رسالہ ہر شخص کوپڑھنا چاہیے اور ہر معمولی پڑھے لکھے تک بھی اس رسالہ کو پہنچانا چاہیے ۔ اللہ تعالیٰ امت مسلمہ کو عقیدۂ توحید پر قائم دائم اور شرک سے محفوظ رکھے ۔ (آمین) (م۔ا)

  • 132 #6132

    مصنف : محمد افضل احمد

    مشاہدات : 721

    نظام عالم اور امت مسلمہ

    (بدھ 03 جنوری 2018ء) ناشر : افضل پیلیکیشنز دہلی

    حق وباطل کے مابین عروج و زوال کی کشمکش اور غلبے کی مسابقت کو مشیت خداوندی میں ایک تکوینی مسلمہ کا مقام حاصل ہے ۔ اہل باطل اس امر سے واقف ہیں کہ اہل حق پر مکمل غلبے کے لیے محض جنگی مشینوں میں یورش اور فوجی یلغار کافی اور دیر پا نہیں ہو سکتی ، کیونکہ کہ دوسری اقوام سے مختلف ، ملت اسلامیہ کی قوت وتوانائی اور عزم وحوصلہ کااصل سرچشمہ اساسیات دین اور اس کی اسلامی تہذیبی اقدار اور اخلاقی ضابطے ہیں ۔ لہٰذا اس قوت کو مضمحل اور کمزور کر دینا صرف فکری و نظریاتی یلغار ہی سے ممکن ہے ۔ تاہم قرآن پاک کی آیت مبارکہ، انما المومنون اخوۃ کے مطابق تمام مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں اور ان سب کا دکھ درد اور ان کے مسائل ایک ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب’’نظام عالم اور امت مسلمہ‘‘ محمد افضل احمدکی ہے۔ جس میں اصول و عقائد،عبادات و اطاعت، صفحہ ہستی یے مٹ جانےوالی معذب قومیں،مختلف فرقہ جات اور امت مسلمہ کا خون ارزاں کے حوالے سے مبحوث پیش کی ہیں اور  امت مسلمہ کے ان افرادکو ان کا فرض منصبی یاد دلانے کی ادنیٰ سی کوشش کی گئی ہے۔ جن کی یہ آرزو ہو کہ امت مسلمہ دنیا بھر میں پژر سے بلند ہو اور یہ کہ جو خود اپنے آپ کو، اپنے اہل عیال کوکو عذاب دنیا اور آخرت سے بچانے اور اپنی آنے والی نسلوں کی بقا و تحفظ کا سامان مہیا کرنے کا اپنے اندر داعیہ، حوصلہ اور جرات پیدا کرلیں۔ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کا حامی و ناصر ہو۔ آمین- (رفیق الرحمن)

  • 133 #2705

    مصنف : ام عبد منیب

    مشاہدات : 1895

    نعرہ بازی

    (ہفتہ 06 دسمبر 2014ء) ناشر : مشربہ علم وحکمت لاہور

    دور حاضر میں نعرہ بازی کسی انجمن،جماعت یا ادارے کے نظریات ومقاصد کی تشہیر کا سب سے آسان ،پرکشش اور عمومی ذریعہ بن چکا ہے۔یہ ایک ایسا ذریعہ تشہیر ہے کہ جس پر زیادہ لاگت یا خاص محنت کی ضرورت نہیں ہوتی ہے۔گو یہ کام  اکیلا آدمی بھی کر سکتا ہے،لیکن دو چار ہم نوا مل جائیں تو پھر کیا ہی کہنے !نعرے بازی کے لئے کسی پڑھے لکھے اور سمجھدار انسان کی بھی ضرورت نہیں ہوتی ہے۔مطلوبہ نعرہ کسی بچے کو سکھلا کر اس سے بھی یہ کام لیا جاسکتا ہے۔نعروں کے الفاظ ترتیب دیتے وقت اس بات کا خصوصی خیال رکھا جاتا ہےکہ اس کے الفاظ کم سے  کم اور پر کشش ہوں،جو عوام کے دلوں میں تیر کی طرح اتر جائیں اور لوگ اس کی طرف کھنچے چلے آئیں۔لیکن اگر اسلامی تعلیمات کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ عمل سراسر  طلب شہرت ، جھوٹ  اور انا خیر منہ جیسے متکبرانہ طرز عمل پر مبنی ہوتا ہے ،جس سے نبی کریم نے  سختی سے منع فرمایا ہے۔اور ایسا کرنے والوں کے سخت وعیدیں سنائی ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب  " نعرہ بازی "معروف  مبلغہ داعیہ،مصلحہ،مصنفہ کتب کثیرہ  اور کالم نگار  محترمہ ام عبد منیب  صاحبہ کی  تصنیف ہے ۔ جس  میں انہوں نے نعرہ بازی کی حقیقت کو منکشف کرتے ہوئے اس سے بچنے کی ترغیب دی ہے،کیونکہ یہ کام سراسر شریعت کے منافی ہے۔اللہ نے ان کو بڑا رواں قلم عطا کیا تھا،انہوں نے سو کے قریب چھوٹی بڑی اصلاحی کتب تصنیف فرمائی ہیں۔ محترمہ ام عبد منیب صاحبہ  محمد مسعود عبدہ  کی  اہلیہ ہیں ۔ موصوف   تقریبا 23 سال قبل  جامعہ لاہور الاسلامیہ میں عصری  علوم کی تدریس کرتے رہے اور  99۔جے  ماڈل ٹاؤن میں  بمع فیملی رہائش پذیر رہے  ۔موصوف کے صاحبزادے  محترم عبد منیب صاحب نے  اپنے  طباعتی ادارے ’’مشربہ علم وحکمت ‘‘  کی تقریبا تمام مطبوعا ت محدث لائبریری کے لیے ہدیۃً عنائت کی  ہیں ۔اللہ تعالیٰ ان کی تمام مساعی جمیلہ کو  قبول فرمائے۔ آمین(راسخ)

  • 134 #5992

    مصنف : سلطان احمد اصلاحی

    مشاہدات : 1796

    وحدت ادیان کا نظریہ اور اسلام

    (جمعہ 24 نومبر 2017ء) ناشر : دار التذکیر

    زیرِ تبصرہ کتاب’’وحدت ادیان کا نظریہ اور اسلام‘‘جن حالات میں تصنیف کی گئی اس وقت دعوتِ اسلامی کو درپیش مسائل میں وحدتِ ادیان کا مسئلہ سرفہرست تھا اور مصنف کی کسی بھی سیمینار میں شرکت ہوتی تو آپ اسی بات پر اظہارِ خیال فرماتے کہ تمام مذاہب یکساں برحق ہیں اور ان میں سے کسی ایک کی پیروی سے کائنات کے خالق خدا کی رضا اور خوشنودی یکساں پر حاصل ہوتی ہے بظاہر تو یہ بات بھلی لگتی ہے لیکن اپنی حقیقت اور مضمرات کے اعتبار سے پریشان کن ہے۔ اس کتاب میں ان مضمرات کی نشاندہی کے ساتھ اس سے وابستہ الجھنوں اور دشواریوں کو پوری تفصیل سے واضح کرنے کی کوشش کی گئی اور وحدتِ ادیان میں بالعموم غیر مسلم برادران وطن کی طرف سے یہ سوال کہ اسلام کے ماننے والے کہتے ہیں کہ ان کا مذہب آسمانی ‘ آخری مذہب اور برحق ہے اور انسان کی نجات اسی پر عمل کی صورت میں ممکن ہے تو مصنف کہتے ہیں یہ تشدد کا رویہ ہے اور اس سے ایسے ملک جس میں مختلف مذہب کے لوگ بستے ہیں‘ اس میں بھائی چارے اور امن کے عظیم مقصد کو نقصان لاحق ہوتا ہے تو ان تمام باتوں کو مد نظر رکھ کر مصنف نے اپنی پوری کتاب میں ان تمام روکاوٹوں کو دور کرنے اور اسلام کی ترجمانی نہایت احسن انداز اور آداب کو ملحوظ رکھ کر کی ہے۔اور اس کتاب میں مصنف نے دو باب قائم کیے ہیں۔ پہلے باب میں تمام ادیان کے بنیادی نظریے اور عقائد وتصورات کو بیان کیا گیا ہے اور دوسرے باب میں وحدت ادیان کا نظریہ اور اسلام کے حوالے سے مکمل دلائل کا احاطۂ کر کے رہنمائی کی ہے۔ مولانا سلطان اصلاحی ۲۶؍فروری ۱۹۵۰ء میں اعظم گڑھ (یوپی) کے ایک گاؤں بھور مؤ میں پیدا ہوئے ۔ انہوں نے ۵۲؍ کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں اسلام ایک نجات دہندہ تحریک ، اسلام اور آزادی فکر وعمل، مسلمان اقلیتوں کا مطلوبہ کردار، اسلام کا تصور جنس،مشترکہ خاندانی نظام اور اسلام، پردیس کی زندگی، کمسنی کی شادی اور اسلام، مزدوری اور اسلام، بچوں کی ضرورت، امت مسلمہ کاکردار، جدید ذرائع ابلاغ اور اسلام، چند شاہکار کتابیں ہیں۔ اللہ تعالیٰ مصنف کے درجات بلند فرمائے اور اُن کی خدماتِ دین کو قبول فرمائے اور روز محشر رسوائیوں سے بچائے(آمین)( ح۔م۔ا )

  • 135 #6919

    مصنف : سٹیون ہاکنگ

    مشاہدات : 1205

    وقت کا سفر

    (اتوار 31 مارچ 2019ء) ناشر : مشعل بکس، لاہور

    وقت اس  کائنات میں  انسان کی عزیز ترین اور نہایت بیش قیمت متاع ہے۔ جن لوگوں  نے وقت کی قدروقیمت کا  ادراک کر کے  اپنی زندگی میں اس کابہتر استعمال کیا  و ہی لوگ کائنات کے سینے پر اپنا نقش  چھوڑنے  میں کامیاب ٹھہرے ۔در حقیقت انسان اس وقت  تک ’’وقت‘‘ کے درست مصرف پر اپنی توجہات کا ارتکاز نہیں کرسکتا جب تک اس کے سامنے اس کی زندگی کا کوئی متعین مقصد اور نصب العین نہ ہو۔جو انسان اپنی زندگی کو مقصدیت کے دائرے میں لے آیا ہو اور وہ اپنے اسی مقصد اورآدرش کے لیے ہی زندگی کے شب وروز بسرکرنا چاہتا ہو اس کی ساری توجہ اپنے مقصد پر لگ جاتی ہے ۔اِدھراُدھر کےلایعنی مسائل میں الجھ کر وہ اپنا وقت برباد نہیں کرتا۔ایک بندۂ مومن کے لیے  وقت کسی نعمت کبریٰ سے کم نہیں ۔ ایمان انسان کا ایک ایسا وصف  ہے جوگزر ے ہوئے وقت کو اس کےلیے ختم یا محو نہیں ہونے دیتا لکہ اس کو ہمیشہ کےلیے امر بنا دیتا ہے ۔ زیر نظر کتاب ’’ وقت کا سفر‘‘ عصر حاضر کے معروف سائنسدان سٹیون ہاکنگ کی کتاب (A Brief History of Time) کا اردو  ترجمہ دنیا کی اکثر زبانوں میں اس کا ترجمہ ہوچکا ہے  یہ اردو  ترجمہ  ناظر محمود  نے کیا ہے  یہ کتاب گیارہ ابواب پر مشتمل ہے موجودہ دور کے مشہور ومعروف سائنس داں کی یہ کتاب کائنات کے آغاز اور اس کے انجام کی حیرت انگیز تصویر پیش کرتی ہے۔(م۔ا)

  • 136 #5763

    مصنف : ڈاکٹر یوسف القرضاوی

    مشاہدات : 4215

    وقت کی قدر کیجیے

    (بدھ 06 ستمبر 2017ء) ناشر : مکتبہ اسلامیہ، لاہور

    وقت اس کائنات میں انسان کی عزیز ترین اور نہایت بیش قیمت متاع ہے۔ جن لوگوں نے وقت کی قدروقیمت کا ادراک کر کے اپنی زندگی میں اس کابہتر استعمال کیا و ہی لوگ کائنات کے سینے پر اپنا نقش چھوڑنے میں کامیاب ٹھہرے۔ ’’وقت‘‘انسان کی زندگی کا سب سے قیمتی سرمایہ ہے اور اللہ تبارک وتعالیٰ کی ایک بڑی نعمت ہے۔جس کی قدر ناشناسی اور ناشکری غفلت کی وجہ سےآج امت میں عام ہے،اورجس کی طرف امت کو توجہ دلانا خصوصا موجودہ دورمیں ایک بہت ضروری امرہے۔ورنہ تاریخ ایسے لوگوں کی داستانوں سے بھری پڑی ہے جووقت کی ناقدری کرتے رہے اور پھر وقت نے ان کو عبرت کا تازیانہ بنادیا۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ وقت کی قدر کیجیے‘‘علامہ یوسف القرضاوی کی عربی زبان میں ’’الوقت فی حیاۃ المسلم‘‘ تالیف ہے۔جس کا اردو ترجمہ مولانا عبد الحلیم فللاحی نے کیا ہے۔ اس کتاب میں وقت اہمیت، خصوصیات، وقت کے بارے میں مسلمان کی ذمہ داری اور ضیاع وقت کے اسباب کو قرآن و سنت کی روشنی میں اجاگر کیا گیا ہے۔فاضل مصنف نے وقت کی قدر وقیمت کوخاص طور اسلامی نقطہ نظر سے اجاگر کرکے ایک سچے اور راست باز مومن کو تضیع اوقات کے نقصان سے آگاہ کیا ہے۔ اس کتاب میں ایک عام انسان کے لیے بھی اور امت مسلمہ کےعلمبرداروں کےلیے بھی رہنمائی کابیش قیمت لوازمہ مہیا کیاگیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ان کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے ۔(رفیق الرحمن) 

  • 137 #6388

    مصنف : رؤف پاریکھ

    مشاہدات : 2109

    پاکستان اور ہندوستان میں اردو تحقیق و تدوین کا تاریخی و تنقیدی جائزہ

    (بدھ 09 مئی 2018ء) ناشر : ادارہ یادگار غالب کراچی

    تحقیق ایک اہم علمی فریضہ ہے۔ تحقیق کے ذریعے ہم نامعلوم کا علم حاصل کرتے ہیں۔ غیر محسوس کو محسوس بناتے ہیں۔ جو باتیں پردۂ غیب میں ہوتی ہیں، انہیں منصۂ شہود پر لاتے ہیں تا کہ کسی امر میں یقینی علم ہم کو حاصل ہو، اور اس کی بنیاد پر مزید تحقیق جاری رکھی جا سکے۔تحقیق ایک مسلسل عمل ہے۔مزید واقعاتی حقائق کا جائزہ لینے اور ان کے اثرات معلوم کرنے کا نام بھی تحقیق ہے ۔ تحقیق کے عربی لفظ کا مفہوم حق کو ثابت کرنا یا حق کی طرف پھیرنا ہے۔تحقیق کے لغوی معنیٰ کسی شئے کی حقیقت کا اثبات ہے۔ ’’تحقیق کے لیے انگریزی میں استعمال ہونے والا لفظ ریسرچ ہے…اس کے ایک معنیٰ توجہ سے تلاش کرنے کے ہیں، دوسرے معنیٰ دوبارہ تلاش کرنا ہے۔دور حاضر میں اصول تحقیق ایک فن سے ترقی کرتاہوا باقاعدہ ایک علم بلکہ ایک اہم علم کی صورت اختیار کرچکا ہے ۔ عالمِ اسلام کی تمام یونیورسٹیوں ، علمی اداروں ، مدارس اور کلیات میں تمام علوم پر تحقیق زور شور سے جاری ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اصول تحقیق کا مادہ تمام عالمِ اسلام کی یونیورسٹیوں میں عموماً ا ور برصغیر کی جامعات اور متعدد اداروں میں خصوصاً نصاب کے طور پر پڑھایا جاتا ہے ۔ان تمام اداروں میں بھی جہاں گریجویٹ اوراس کے بعد کی کلاسوں میں مقالہ لکھوایا جاتا ہے یا ایم فل وڈاکٹریٹ کی باقاعدہ کلاسیں ہوتی ہیں وہاں تحقیق نگاری یا اصول تحقیق کی بھی باقاعدہ تدریس ہوتی ہے ۔ اس طرح اصول تحقیق ، تحقیق نگاری، فن تحقیق یا تحقیق کا علم جامعات اورمزید علمی اداروں میں بہت زیادہ اہمیت حاصل کرچکا ہے۔تحقیق واصول تحقیق پر متعدد کتب موجود ہیں ۔زیرِ تبصرہ کتاب  اصول تحقیق کے حوالے سے ہی ہے جس میں اردو تحقیق وتدوین کی تاریخ بیان کی گئی ہے اور اس کے معیار کا تنقیدی جائزہ بھی لیا گیا ہے۔یہ اپنے موضوع پر مختصر اور جامع کتاب ہے۔کتاب کو نہایت عمدہ پیرائے میں ترتیب دیا گیا ہے مثلا مقالات ومضامین زمانی ترتیب کے لحاظ سے بیان کیے گئے اور تحقیقی جائزوں کے رجحانات اور حالیہ کاموں پر مبنی مقالات ہیں۔ اس کتاب میں 1980ء تک کے عشرے تک کے تحقیقی کاموں کا جائزہ لیا گیا ہے۔ کتاب کا اسلوب نہایت عمدہ‘سادہ اور عام فہم ہے۔ یہ کتاب’’ پاکستان اور ہندوستان میں اردو تحقیق وتدوین کا تاریخی و تنقیدی جائزہ ‘‘ رؤف پاریکھ  کی مرتب کردہ ہے۔آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتی ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی درجنوں  کتب اور  بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلفہ وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)( ح۔م۔ا )

  • 138 #6721

    مصنف : مسلم سجاد

    مشاہدات : 1377

    پاکستان میں جامعات کا کردار

    (جمعرات 02 اگست 2018ء) ناشر : انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی سٹڈیز، اسلام آباد

    اسلامی نقطہ نظر سے تعلیم محض حصول معلومات کا نام نہیں ،بلکہ عملی تربیت بھی اس کا جزو لاینفک ہے۔اسلام ایسا نظام تعلیم وتربیت قائم کرنا چاہتا ہے جو نہ صرف طالب علم کو دین اور دنیا  دونوں کے بارے میں صحیح علم دے بلکہ اس صحیح علم کے مطابق اس کے شخصیت کی تعمیر بھی کرے۔یہ بات اس وقت بھی نمایاں ہو سامنے آتی ہے جب ہم اسلامی نظام تعلیم کے  اہداف ومقاصد پر غور کرتے ہیں۔اسلامی نظام تعلیم کا بنیادی ہدف ہی یہ ہے کہ وہ ایک ایسا مسلمان تیار کرنا چاہتا ہے،جو اپنے مقصد حیات سے آگاہ ہو،زندگی اللہ کے احکام کے مطابق گزارے اور آخرت میں حصول رضائے الہی اس کا پہلا اور آخری مقصد ہو۔اس کے ساتھ ساتھ وہ دنیا میں ایک فعال ،متحرک اور با عزم زندگی گزارے ۔ایسی شخصیت کی تعمیر اسی وقت ممکن ہے جب تعلیم کے مفہوم میں حصول علم ہی نہیں ،بلکہ کردار سازی پر مبنی تربیت اور تخلیقی تحقیق بھی شامل ہو۔لیکن افسوس کہ  استعمار کی سازش سے ہمارے تعلیمی  اداروں میں دین ودنیا کو الگ الگ کر دیا گیا ہے۔دنیوی تعلیم حاصل کرنے والے دین کی بنیادی تعلیمات سے بھی عاری ہوتے ہیں ،جبکہ دین کے طالب علم  دنیوی تعلیم کے ماہر نہیں ہو پاتے ہیں۔ جس کا نقصان یہ ہوتا ہے کہ  دونوں طرح کے اداروں میں ایک مسلمان اور کارآمد بندہ تیار نہیں ہوپاتا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب’’ پاکستان میں جامعات کا کردار‘‘انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی سٹڈیز کے زیر اہتمام تعلیم  کے موضوع پر  منعقد کیے جانے  والے سیمینار میں  پیش کیے گئے  مقالات کا مجموعہ   ہے  ۔ جناب مسلم سجاد  اور سلیم منصور صاحب نے ان مقالات کو مرتب کیا  ہے۔او ر انسٹی  ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز ۔اسلام آباد نے اسے مجلہ ’’ تعلیم‘‘  کا خاص نمبر کے طور پر شائع کیا ہے ۔( م۔ا)

     

  • 139 #8021

    مصنف : رانا محمد شفیق خاں پسروری

    مشاہدات : 828

    چاند پر اختلاف کیوں ؟ ( مسئلہ رویت ہلال ، تحقیقی و تنقیدی جائزہ )

    (پیر 18 نومبر 2019ء) ناشر : فکس ڈاٹ پرنٹرز لاہور

    اسلام ایک ایسا دین ہے جو زندگی  کے تمام شعبوں کے متعلق رہنمائی فراہم کرتا ہے۔روزہ شروع کرنےاور عید منانے  کے مسئلے میں شریعت  مطہرہ نے جو معیار مقرر کیا  ہے وہ  یہ  ہے  کہ چاند دیکھ کرعید منائی جائے او رچاند دیکھ کر ہی روزہ کی ابتداء کی جائے ۔اور اگر گرد وغبار اور ابر باراں کی وجہ  سے چاند دکھائی نہ دے تو رواں مہینے کےتیس دن مکمل  کر لیے جائیں بالخصوص شعبان اوررمضان المبارک کے ۔ مذکورہ  قاعدہ کلیہ تمام مسلمانوں کیلئے ہے خو اہ وہ عربی ہو یا عجمی  ۔دور حاضر ہو یا دور ماضی ۔ایک وقت تک مسلمان اس اصول وقاعدہ  کے پابند رہےمگر پھر آہستہ آہستہ فقہائے دین و ائمہ مجتہدین اور ان  کے مقلدین کی دینی  خدمات کے نتیجے میں امت مسلمہ مختلف آراء میں بٹ گئی ۔اس سلسلے میں دو رائے پائی جاتی ہیں ۔ایک نقطۂ نظر کےمطابق مطالع کا اختلاف معتبر نہیں ہے اور ایک جگہ کی رؤیت پوری دنیا کے لیے  ہے۔اور دوسرے نقطۂ نظر کے حاملین کے نزدیک اختلاف مطالع معتبر ہے  لہٰذا ہر علاقہ کی رؤیت اس علاقہ کے لیے معتبر ہوگی ۔ قرآن وحدیث کے دلائل وبراہین کے مطابق اختلافِ مطالع معتبر ہونے کی رائے راجح ہے۔ وطنِ عزیز پاکستان میں سال کےبارہ مہینوں میں  زیادہ اختلاف شوال یا عید الفطرکےچاند پر ہوتا ہے۔باقی دس ماہ کے چاند ہمارے ملک میں تقریبا متفقہ ہوتے ہیں ۔اس مسئلے کے متعلق پاک وہند میں  مختلف سیمینار بھی منعقد ہوئے ہیں اور مختلف اہل علم نے اس موضوع پر کتب بھی تصنیف کی ہیں یہ کتاب بھی اسی سلسلہ کی ا یک اہم کاوش ہے ۔ زیرنظر کتاب ’’ چاند پر اختلاف کیوں؟ مسئلہ رؤیت ہلال تحقیقی وتنقیدی جائزہ ‘‘وطن عزیز کی معروف شخصیت کہنہ مشق صحافی رانا محمد شفیق خاں پسروی﷾(مرکزی رہنمامرکزی جمعیت اہلحدث ،رکن اسلامی نظریاتی کونسل،پاکستان) کی  کاوش ہے ۔موصوف نے کتاب کے آغاز میں خلاصۃً  بات کو خوب واضح کردینے کے بعد  روزنامہ پاکستان فورم میں اس موضوع پر منعقد  ہونے والے ایک علمی سیمینار  میں علماء کرام اور ماہرین کے بیانات  کے خلاصہ کو درج کیا ہے ۔مفسرقرآن  حافظ صلاح الدین یوسف﷾ کاایک عمدہ مضمون اور  چند مفتیان  کرام کے فتاویٰ جات بھی اس  کتاب کا حصہ ہیں ۔رانا صاحب نےاس موضوع سے متعلقہ مضامین کاتجزیہ کر کے بات کو خوب سمجھانے کی کوشش کرتے  ہوئے  پشاور سے اس موضوع پر  اختلاف کرنےوالے احباب کے  نقطۂ نظر پر نقد بھی کیا ہے ۔دوران تحریر اس ارشاد نبوی ﷺ  ’’چاند دیکھ کرروزےرکھو اور چانددیکھ ہی روزے چھوڑو۔‘‘کی روشنی میں اس موقف کاجواب بھی  آگیا ہے کہ پوری دنیا میں ایک ہی رؤیت ممکن نہیں ہے اور چاند پر موقوف معاملات اکٹھے نہیں ہوسکتے ۔اللہ تعالیٰ راناصاحب کی جماعتی ، دعوتی ،تحقیقی وتصنیفی جہود کو شرفِ قبولیت سے نوازے۔(آمین)(م۔ا)

  • 140 #2671

    مصنف : ام عبد منیب

    مشاہدات : 2227

    چندہ ( فنڈ)

    (جمعرات 27 نومبر 2014ء) ناشر : مشربہ علم وحکمت لاہور

    چندہ یا فنڈز ایسی رقم کو کہا جاتا ہے جو انفرادی یا اجتماعی رفاہی کاموں پر خرچ کرنے کے لیے دی جائے یا لی جائے۔پوری دنیا میں پائی جانے والی بہت ساری تنظیمیں جن کا تعلق ویلفیئر  یا انسانی حقوق سے متعلقہ ہے وہ اپنی اور تنظیمی ضروریات کے ساتھ ساتھ لوگوں کو وسائل پہنچانے کے لیے چندہ یا فنڈز اکٹھا کرنے کی مہم پر زور دیتے ہیں ۔مختلف مذاہب میں مختلف تہواروں کے موقع پر اس کام کو بڑے ذوق شوق اور اعلیٰ جذبات کے ساتھ توجہ مرکوز کی جاتی ہے جس میں خاص طور پر مذہبی تنظیموں کے ساتھ ساتھ مختلف سیاسی تنظیمیں بھی میدان میں اتر آتی ہیں۔محترمہ ام عبد منیب صاحبہ نے اس حساس موضوع پر قلم اٹھایا اور اس حوالے سے شرعی راہنمائی پیش کی ہے کہ ہمارے ہاں پایا جانے والا چندہ یا فنڈز اکٹھا کرنے کا نظام کن حالات کا شکار ہے اور شرعی اعتبار سے یہ کام کن لوگوں کے لیے جائز اور کس حد تک اور کس طریقے سے جائز بنتا ہے اس کو بڑی عمدہ وضاحت کے ساتھ پیش کیا ہے۔کیونکہ ہمارے ملک میں چندہ اور فنڈز کے ساتھ چلنے والے اداروں کی ایک لمبی فہرست ہے  جن کا سلسلہ معاش چندہ اور فنڈز پر چلتا ہے۔فنڈز اور چندہ پر چلنے والی ان تنظیموں کو تین حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے تاکہ بات واضح ہو سکے۔1۔خالص دینی تنظیمیں:یہ وہ تنظیمیں ہیں جو دین کی دعوت کے ساتھ ساتھ رفاہ عامہ کا کام بھی سنبھالے ہوئے ہیں2۔بے دین رفاہی تنظیمیں:یہ عام طور پر غیرملکی ایجنڈے کو فروغ دینے کے لیے مختلف این جی اوز کی شکل میں موجود ہیں جن کو اتحادی ممالک  امداد مہیا کرتے ہیں3۔غیر ملکی رفاہی تنظیمیں:جو کہ کسی ملک میں بذات خود مداخلت کر کے اس کے کسی نہ کسی نظام کو متاثر کرنا چاہتے ہوتے ہیں جیسے کہ مختلف ملٹی نیشنل کمپنیاں مختلف عریاں اور فحش اشتہارات کے ذریعے،مختلف ثقافتی فنکشن اور طائفوں کے ذریعے کرتے ہیں۔مصنفہ نے اس حوالے سے سیر حاصل بحث کی ہے کہ آیا اس چندہ اور فنڈ کے نظام کو شریعت کے اصولوں کی روشنی میں کس حد تک اور کس طریقے استعمال کیا جا سکتا ہے تاکہ اس ذریعے سے حاصل ہونے والے تعاون کو درست سمت دی جا سکے۔(م۔ا)

     

< 1 2 ... 8 9 10 11 12 13 14 15 16 >

ایڈ وانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین 1874
  • اس ہفتے کے قارئین 7714
  • اس ماہ کے قارئین 59747
  • کل قارئین49528840

موضوعاتی فہرست