دکھائیں کتب
  • 141 کتابستان ورلڈ اٹلس (پیر 04 جون 2018ء)

    مشاہدات:1265

    علم جغرافیہ کا شمار دنیا کے قدیم ترین علوم میں ہوتا ہے کیونکہ جب انسان لکھنے پڑھنے سے بھی واقف نہیں اس وقت بھی علم جغرافیہ اور نقشہ کی ضرورت تھی اور انسان اس فن سے بخوبی واقف تھا کیونکہ علم جغرافیہ کا مطلب ہے’’کیا۔کہاں اورکیوں‘‘ اور ان الفاظ کی اہمیت جتنی قدیم دور میں تھی اس سے کہیں زیادہ آج ہے کیونکہ صنعتی ومعاشی ترقی کے اس دور میں انسانی‘ معدنی اور صنعتی وسائل کی تقسیم‘ استعمال اور تجارت سے واقفیت کے بغیر کسی ملک کا گزارہ نہیں خواہ وہ ترقی یافتہ ملک ہو یا پسماندہ کیونکہ اگر پسماندہ ممالک کو در آمدات کے لیے دنیا کے وسائل سے واقفیت ضروری ہے تو ترقی یافتہ ممالک کو اپنی برآمدات کے لیے منڈیوں کی ضرورت ہےلہٰذا دنیا کے قدرتی وسائل سے واقفیت اور تقسیم کو جانے بغیر صنعتی ومعاشی ترقی ناممکن ہے اور یہ ضرورت علم جغرافیہ کما حقہ پوری کرتا ہے اور علم جغرافیہ سے واقفیت نقشے کے بغیر ممکن نہیں ہے۔زیرِ تبصرہ کتاب علم جغرافیہ کا ہی حصہ ہے۔ یہ کتاب تین حصوں پر مشتمل ہے پھلے حصے میں نظام شمسی اور زمین کے متعلق بنیادی معلومات فراہم کی گئی ہیں جبکہ دوسرے حصے میں پاکستان کے متعلق ضروری معلومات دی گئی ہیں، اہم عنوانات کے نقشہ جات اور جدول حاضر خدمت کیے ہیں جبکہ ابھی چند عنوان عدم تیاری کی وجہ سے تاخیر کا شکار ہیں اور تیسرا حصہ دنیا اور براعظموں کے طبعی وانتظامی نقشہ جات کے علاوہ دیگر ضروری نقشوں سے مزین ہے۔ کتاب کا اسلوب نہایت عمدہ‘سادہ اور عام فہم ہے۔ یہ کتاب’’ کتابستان ورلڈ اٹلس ‘‘پروفیسر نذیر احمد خالد...

  • 142 کفار سے مشابہت ایک شرعی وتحقیقی جائزہ (پیر 10 دسمبر 2012ء)

    مشاہدات:16877

    یہود و ہنود اپنی بھرپور منصوبہ بندی اور اور بےانتہا وسائل کے ساتھ اپنی گندی اور زہریلی ثقافت کے ذریعے مسلمانوں پر عمومی یلغار کر چکے ہیں۔ افسوس اس بات کا ہے کہ مسلمان اسی ظاہری چمک دمک سے مرعوب نظر آتے ہیں بلکہ اسے اپنانے پر فخر محسوس کرتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ مسلمانوں کو اغیار کی اندھی تقلید کرنے کرنے کے انجام سے خبر دار کیا جائے  اور انھیں مسلم تہذیب اختیار کرنے کے فوائد سے آگاہ کیاجائے۔  اسی سلسلہ میں ناصر بن عبدالکریم العقل نے ایک رسالہ ترتیب دیا جس کا اردو ترجمہ آپ کے سامنے ہے۔ ابو اسامہ محمد طاہر آصف نے اس کو اردو منتقل کرنے کے فرائض سرانجام دئیے۔ مصنف نے سب سے پہلے مشابہت کا صحیح مفہوم اور اس کے اصولوں پر روشنی ڈالی ہے۔ اس کے بعد جن امور میں مشابہت سے روکا گیا ہےاور مشابہت کے احکام کو بیان کیا ہے۔ علاوہ ازیں مشابہت کفار سے متعلقہ دیگر اہم مضامین کو کتابچہ کا حصہ بنایا گیا ہے۔(ع۔م)
     

  • 143 کیا آپ ملازمت کی تلاش میں ہیں (پیر 19 مئی 2014ء)

    مشاہدات:2651

    انسانی زندگی میں عمل ِصالح کی بڑی اہمیت ہے ۔معاشرے میں کسی فرد کانیک کردار نہ صرف خود اسے فائدہ دیتا ہے بلکہ معاشرے کے دیگر افراد بھی اس کی خوش اطواری سےمستفید ہوئے بغیر نہیں رہتے۔عمل صالح کی توفیق اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے ملتی ہے ۔یو ں عمل   صالح گویا ربانی ملازمت ہے جو آدمی اعمال صالحہ پر کاربند ہوتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے خادم کی حیثیت سے زندگی بسر کرتا ہے ۔ وہ دین کی بھی خدمت کرتا ہے اور لوگوں کو بھی نفع پہنچاتا ہے ۔آدمی کو دنیا میں رہتے ہوئے عمل صالح کی توفیق مل جائے تو اس سےبڑی خوشی نصیبی اور کوئی نہیں۔زیر نظر کتاب’’کیا آپ ملازمت کی تلاش میں ہیں ؟ ‘‘ ڈاکٹر محمد بن عبد الرحمن العریفی﷾ کی عربیتصنیف’’ هل تبحث عن وظيفة‘‘ کااردو ترجمہ ہے ۔جس میں انہوں نے روزہ مرہ اور تاریخی واقعات کے پس منظر میں یہی باور کرایا ہے کہ عملِ صالح ہی انسانی فلاح وبہبود کاضامن ہے۔امید ہے کہ یہ ایمان افروز کتاب قارئین کو عمل وکردار کے سنوارنے میں مدد دے گی ۔کتاب کے فاضل مصنف ڈاکٹر عبد الرحمن العریفی﷾ سعودی عرب کے جانے پہچانے مصنف ہیں۔ ریاض کی مقامی یونیورسٹی میں معلمی کے فرائض انجام دیتے ہیں ۔دعوتِ دین کےمیدان میں اُن کی مساعی جمیلہ کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اُن کا شمار علامہ ابن باز  کے ممتاز شاگردوں میں ہوتا ہے ۔ دیار ِعرب میں ان کی خطابت کا بھی بہت شہرہ ہے ۔ ان کی متعدد کتابیں خاصی پذیرائی حاصل کرچکی ہیں جن میں ان کی شہرۂ آفاق کتاب ’’زندگی سے لطف اٹھائیے ‘‘ سرفہرست ہے۔زیر تبصرہ کتاب کی اردور ترجمانی کے فرائض...

  • 144 گلوبلائزیشن اور اسلام (جمعرات 31 مئی 2018ء)

    مشاہدات:1556

    گلوبلائزیشن کا مطلب ہے سازوسامان اور علمی وثقافتی افکار وخیالات کا ایک جگہ سے دوسری جگہ بغیر کسی شرط اور قید کے منتقل کرنا یا ہونا ہے۔داخلی مارکیٹ کو خارجی مارکیٹ کے لیے کھول دینا ۔ زندگی کی تمام تر نقل وحرکت تگ ودو ، نشاطات اور وروابط کو ایک دوسرے کے ساتھ مربوط کردینا تاکہ ایک قوم دوسری قوم کےساتھ اجتماعی، ثقافتی اور اقتصادی ربط رکھ سکے اور ایک دوسرے سے متعارف ہوسکے ۔اور گلوبلائزیشن ایک ایسا نظریہ ہے جس کا مقصد پوری دنیا کو مغربی اورامریکی جھنڈے تلے جمع کردینا ہے ۔گلوبائزیشن ؍ یا عالمگیریت کا ایک مقصد اقتصادی میدان میں مقامی حکومتوں کی قوت اور اقتدار کا خاتمہ کر کے عالمی معیشت پر اسلام دشمن بالادستی قائم کرنا ہے۔ اس کی سب سے بڑی خرابی یہ ہے کہ یہ آزاد تجارت ومعیشت کےنام نہاد نعرے کے ذریعے پوری دنیا کی دولت سمیٹ کر چند ہاتھوں میں لےجانا چاہتی ہے۔ یہ اقتصادی اور معاشی استحصال کاوہ عالمگیر ہتھکنڈا ہے جس کے ذریعے چند بالادست بااختیار عالمی طاقتیں دنیا پر اپنا تسلط قائم کرناچاہتی ہیں۔ یہ معاشی استحصال کا عالمگیر ہتھیار اور ظلم استبداد کا استعماری پیمانہ ہے۔دانش وروں نے گلوبلائزیشن کی مختلف تعریفیں اور معانی بیان کیے ہیں۔جن کااس کتاب میں ملاحظہ کیا جا سکتاہے۔
    زیر نظر کتاب ’’ گلوبلائزیشن‘‘ مولانا یاسر ندیم کی ایک منفرد تحقیقی کاوش ہے۔اس کتاب میں انہوں نے علمی اور تاریخوں حوالو ں سےبتایا ہے کہ ’’ گلوبلائزیشن‘‘ یا عالمگیریت محض سیاسی یا اقتصادی تحریک ہی کا نام نہیں ہے بلکہ یہ براہ راست اسلام اور مسلم ا...

  • 145 گلوبلائزیشن اور عالم اسلام (بدھ 22 جون 2016ء)

    مشاہدات:2613

    گلوبلائزیشن کا مطلب ہے سازوسامان اور علمی وثقافتی افکار وخیالات کا ایک جگہ سے دوسری جگہ بغیر کسی شرط اور قید کے منتقل کرنا یا ہونا ہے۔داخلی مارکیٹ کو خارجی مارکیٹ کے لیے کھول دینا ۔ زندگی کی تمام تر نقل وحرکت تگ ودو ، نشاطات اور ورابط کو ایک دوسرے کے ساتھ مربوط کردینا تاکہ ایک قوم دوسری قوم کےساتھ اجتماعی، ثقافتی اور اقتصادی ربط رکھ سکے اور ایک دوسرے سے متعارف ہوسکے۔ اور گلوبلائزیشن ایک ایسا نظریہ ہے جس کا مقصد پوری دنیا کو مغربی اورامریکی جھنڈے تلے جمع کردینا ہے ۔دانش ورروں نے گلوبلائزیشن کی مختلف تعریفیں اور معنیٰ بیان کیے ہیں۔جن کااس کتاب میں ملاحظہ کیا جا سکتاہے۔ یہ کتاب ’’گلوبلائزیشن اور عالم اسلام ‘‘شیخ عبد الرزاق عبد الغفار سلفی کی تصنیف ہےاور اپنے موضوع پر ایک انتہائی گراں قدر کتاب ہے صاحب کتاب نے موضوع کا پوری طرح حق اداکرنے کی کوشش کی ہے گلوبلائزیشن کے ذریعہ پوری دنیا پر ایک نظام اور ایک تہذیب تھوپنے کی کوشش کو بے نقاب کیا گیا ہے اوراس میں عالم اسلا م پر اس کےاثرات کا بھی جائزہ لیا گیا ہے اور بتایا گیا ہےکہ کس طرح متعدد اسلامی ممالک امریکی پروپیگنڈہ کے زیر اثر ہیں۔ (م۔ا)

  • 146 ہر سوال کا جواب (منگل 05 جون 2018ء)

    مشاہدات:2634

    اللہ رب العزت نے دنیا میں کسی بھی چیز کو بے کار نہیں پیدا کیا یا ایسا نہیں کہ فضول اشیاء پیدا کی ہوں بلکہ ہر ایک کے پیدا کرنے کا کوئی نا کوئی مقصد ضرور ہے اور ہر ایک کے ذمہ کچھ نا کچھ کام ضرور ہیں کہ جن کا ادا کرنا ان کے لیے ضروری ہے۔ دنیا وما فیہا میں بہت سے مخلوقات زندگی بسر کر رہی ہیں اور ہر ایک کے بارے میں یا چند ایک کے بارے میں کوئی معلومات حاصل کرنا  عام افراد کے لیے مشکل ہے۔زیرِ تبصرہ کتاب میں کئی ایک مخلوقات کے حوالے سے معلومات جمع کی گئی ہیں اور کتاب نہایت عمدگی کے ساتھ ترتیب دی گئی ہے اور اہم ترین اور کسی حد تک مستند معلومات کو کتاب کا زینہ بنایا گیا ہے اور ہر ایک کے کچھ اوصاف اور اس کے نقصانات  بھی بیان کیے گئے ہیں اور تصاویر بھی پیش کی گئی ہیں اور ہر ایک مخلوق کی الگ سے دنیا مصنف نے بنائی ہے اور ان کے بارے میں دلچسپ معلومات پیش کی گئی ہیں اور کوشش کی گئی ہے کہ کتاب اختصار اور سوال وجواب کے دلچسپ انداز میں ہو۔ کتاب کا اسلوب نہایت عمدہ‘سادہ اور عام فہم ہے۔ یہ کتاب’’ ہرسوال کا جواب ‘‘شاذیہ اسلام کی تصنیف کردہ ہے۔آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی درجنوں  کتب اور  بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلفہ وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)( ح۔م۔ا )

  • 147 ہفتے کے دن اور ان کا تعارف (جمعرات 28 دسمبر 2017ء)

    مشاہدات:2299

    مہینوں کے ناموں کے بعد دنوں کے نام جو انگریزی میں رائج ہیں ان کی وجہ تسمیہ کیا ہے اور اس کے پیچھے کیا مشرکانہ عقائد ہیں اس کی معلومات اس لئے بھی ضروری ہے کیونکہ بالکل اسی سے ملتی جلتی کیفیت دنوں کے ہندی ناموں کی ہے جو ہم عام زندگی میں استعمال کرتے ہیں۔ یہ نام ہندوؤں کے یہاں نہ صرف دیوتاؤں سے وابستہ ہیں بلکہ آج بھی ان کی زندگی کا حصہ بنے ہوئے ہیں۔عربی، عبرانی اور فارسی کے نام : عربی میں دنوں کے نام نمبر شمار کے اعتبار سے ہوتے ہیں سوائے جمعہ اور سبت کے۔ ہفتہ کا پہلا دن ناموں کی ترتیب میں اتوار سے شروع ہوتا ہے۔ اوریہ نام الاحد،الاثنین،الثلاثہ، الاربعہ، الخمیس، الجمعہ اور السبت ہوتے ہیں۔جبکہ فارسی کیلنڈر میں بھی دنوں کے نام نمبر شمار کے مطابق ہیں سوائے جمعہ کے۔اس طرح گنتی اگر اتوارسے شروع کریں تویہ دن یکشنبہ ، دو شنبہ، سہ شنبہ ، چہار شنبہ، پنج شنبہ ،جمعہ اور شنبہ ہوتے ہیں ، جہاں تک یہودی یا عبرانی کیلنڈرمیں دنوں کے نام کا تعلق ہے وہاں بھی دنوں کو عربی کے انداز میں نمبر شمارکے حساب سے جانا جاتا ہے سوائے یوم السبت کے۔جیسے اتوار سے گنتی شروع کریں تویوم ریشون Yom Rishonپہلا دن،یوم شینیYom Sheiniدوسرا دن(عربی میں ثانی)،Yom Shlishiتیسرا دن (عربی ثالث) ، یوم ریوائی R’vi’i Yomچوتھا دن، یوم چامیشی Yom Chamishiپانچواں دن،یوم شیشی Yom Shishiچھٹا دن ، یوم شبّت Shabbat Yom ساتواں دن۔یوم السبت یہودیوں کے یہاں آرام کا دن تصور ہوتا ہے جبکہ عیسائیوں کے یہاں اتوار کو یہ مقام حاصل ہے۔ زیر تبصرہ کتاب’’ہفتے کے دن اور ان کا تعارف‘‘محمد ار...

  • 148 ہماری بدلتی قدریں (بدھ 28 اگست 2013ء)

    مشاہدات:4975

    پاکستان دنیا کے ان ممالک میں سے ہے جن کی  اساس  ایک نظریہ اور تصور حیات ہے ۔ بلکہ اگر کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا  کہ  ساری دنیا  میں صرف یہی ایک  واحد ملک  ہے  جو اپنی ایک  اسلامی نظریاتی اساس  رکھتا ہے ۔ استعمار نے اولیں کوششوں میں تو اسے سنجیدہ نہیں لیا تھا  لیکن  انیس سو  پینسٹھ  کی جنگ میں اہل پاکستان کی باہمی یگاگنت ، اتحاد و اتفاق  اور اخوت وایثار کی بے مثال قربانیاں دیکھیں  تو  اسے اندازہ ہو گیا کہ مملکت خداد  کا  انہدام و زوال اتنا آسان نہیں اور لہذا  دشمن نے ضروری جاناکہ پہلے  ان کے دماغوں سے  اسلام کی  محبت و تصور  کھرچ دیا جائے تو اس کے بعد ان کی تسخیر ممکن ہے ۔ چناچہ انہوں نے  اس سلسلے میں  کوئی محاذ نہ چھوڑا اور  نظام تعلیم کو بالخصوص اپنا ہدف بنا ڈالا ۔ پاکستانیوں کو اپنی زبان  سے بیگانہ کیا  جانے لگا۔انہیں اپنے نظریاتی سانچے میں ڈھالا جانے لگا۔آج اس  کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ  پاکستانی لوگ وہی تہوار اور روایات منارہے ہیں جو  کہ غیر مسلم یا یہود و ہنود  منا رہے  ہیں ۔ مثلا عالمی یوم خواتین ، مزدوروں کا عالمی دن ، ماؤوں کا  عالمی دن ، آبادی  کا عالمی دن وغیرہ ، اس کتاب میں   یہ واضح  کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ   اسلامی شریعت سے  تصادم کس طرح ہے ۔ اسی طرح میرا تھن ریس ،اپریل فول اور ویلنٹائن ڈے بھی مغربی تہوار ہیں ۔اور بسنت تو خالص  تو خالص ہندوانہ تہوار ہ...

  • 149 ہماری دنیا کی تصویری اٹلس (بدھ 20 جون 2018ء)

    مشاہدات:1828

    اطلس نقشوں کی کتاب کو کہتے ہیں۔ اطلس کی مدد سے ہم مختلف ملکوں، شہروں اور جگہوں کو ڈھونڈ سکتے ہیں۔ اطلس اپنی طرز کا دائرۃ المعارف (Encyclopedia) بھی ہے۔ مختلف براعظم، سمندر، پہاڑ، دریا، جنگل، جانور اور آبادیاں ایک نقشے میں ڈھونڈی جا سکتی ہیں۔ تاریخ کو بھی بہتر انداز میں اطلس کے ذریعے بہتر انداز میں دیکھا جاسکتا ہے۔ہر بچے اور بڑے کودنیا کے بارے میں نت نئی معلومات حاصل کرنے کا شوق ہوتا ہے ۔ بچے خصوصاً اس بارے میں بہت پر تجسس ہوتے ہیں کہ دنیا کے مختلف ممالک او رانکے باشندوں کا رہن سہن کیسا ہے ؟آج کل تو گوگل لوکیشن کے ذریعے کسی بھی بڑے شہر میں مطلوبہ جگہ ؍مکان ، دفتر ، ادارے میں بڑی آسانی پہنچا جاسکتاہے ۔ زیرتبصرہ کتاب’’ ہماری دنیا کی تصویری اٹلس‘‘حکومت پنجاب کی طرف سے تیار کر کے بچوں کے لیے بڑے خوبصورت انداز سے رنگین کلر میں شائع کی گئی ہے اس کتاب کی مدد سے بچے اپنے کر ۂ ارض پر موجود مختلف براعظموں ان میں موجود ملکوں اور سمندروں وغیرہ کے بارے میں اہم اور جدید معلومات حاصل کر سکتے ہیں ۔(م۔ا)

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 1992
  • اس ہفتے کے قارئین: 10526
  • اس ماہ کے قارئین: 29819
  • کل قارئین : 47769817

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں