دکھائیں کتب
  • 41 تراجم کے مباحث (اتوار 24 جون 2018ء)

    مشاہدات:1957

    عربی زبان میں لفظ ترجمہ کا مطلب بیان اور وضاحت کرنا ہے۔اصطلاح میں دوسری زبان کے کلام کی تعبیر اپنی زبان میں کرنا ترجمہ کہلاتا ہے۔اس طرح ترجمہ قرآن سے مراددوسری زبان سے قرآن کے عربی کلمات کی تعبیر کو واضح کرنا ہے۔ترجمہ ایک فن ہے اور اس کے اصول وضوابط پوری طرح منضبط شکل میں موجود ہیں اگرچہ اچھے کے حوالے سے ماہرین کے درمیان اختلاف موجود ہے لیکن اس کے باوجود موٹی موٹی باتوں پر کم وبیش اتفاق پایا جاتا ہے اصل متن اور ترجمہ شدہ متن ایک دوسرے سے کتنے قریب ہیں اور کتنا دو ر اس سے ہی ترجمہ کے اچھے ہونے یا خراب ہونے کا تعین کیا جاتا ہے ۔ علمی متن کے ترجمے اور ادبی متن کے ترجمے میں بھی فرق کیا جاتا ہے جہاں تک علمی اور سائنسی متون کے ترجمے کا تعلق ہے تو اس میں چونکہ دونوں متون کی زبان سادہ رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے اس لیے ترجمہ شدہ متن اصل کے جنتا قریب ہوگا اتنا ہی اعلیٰ کام ہے علمی متون میں چونکہ بہت سی اصطلاحات استعمال ہوتی ہیں اس لیے ان کے ترجمے میں اختلاف موجود ہے ماہرین کا ایک گروہ اس خیال کا حامل ہے کہ اصطلاحات کا ترجمہ کرنے کی بجائے ان کو اصل بمطابق نقل اپنی زبان میں شامل کر لینا چاہیے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ تراجم کے مباحث ‘‘ جناب ابو بکر فاروقی کی مرتب شدہ ہے ۔ مرتب موصوف نے اس کتاب میں ترجمہ کےفن کے متعلق مختلف قلمکاروں کے 38 مستند مضامین کو ذیلی فصلوں میں تقسیم کیا ہے ۔ موصوف نے اپنی مرتب کرد ہ کتاب میں ترجمے کی ضرورت ، اہمیت ترجمہ کے اصول ومبادیات اور فنی مباحث ، ترجمہ کے مسائل اور مشکلات کے مباحث ، ترجمہ روایت کے مباحث ، ترجمہ اصط...

  • 42 ترقی اور کامیابی بذریعہ تنظیم وقت (ہفتہ 09 ستمبر 2017ء)

    مشاہدات:2104

    وقت اس کائنات میں انسان کی عزیز ترین اور نہایت بیش قیمت متاع ہے۔ جن لوگوں نے وقت کی قدروقیمت کا ادراک کر کے اپنی زندگی میں اس کابہتر استعمال کیا و ہی لوگ کائنات کے سینے پر اپنا نقش چھوڑنے میں کامیاب ٹھہرے۔ ’’وقت‘‘انسان کی زندگی کا سب سے قیمتی سرمایہ ہے اور اللہ تبارک وتعالیٰ کی ایک بڑی نعمت ہے۔جس کی قدر ناشناسی اور ناشکری غفلت کی وجہ سےآج امت میں عام ہے،اورجس کی طرف امت کو توجہ دلانا خصوصا موجودہ دورمیں ایک بہت ضروری امرہے۔ورنہ تاریخ ایسے لوگوں کی داستانوں سے بھری پڑی ہے جووقت کی ناقدری کرتے رہے اور پھر وقت نے ان کو عبرت کا تازیانہ بنادیا۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ ترقی اور کامیابی بذریعہ تنظیمِ وقت ‘‘محمد بشیر جمعہ کی ہے۔ اس کتاب میں وقت اہمیت، خصوصیات، تنظیم وقت کے فوائد، اور ضیاع وقت کے اسباب کو قرآن و سنت کی روشنی میں اجاگر کیا گیا ہے۔فاضل مصنف نے وقت کی قدر وقیمت کوخاص طور اسلامی نقطہ نظر سے اجاگر کرکے ایک سچے اور راست باز مومن کو تضیع اوقات کے نقصان سے آگاہ کیا ہے۔ اس کتاب میں ایک عام انسان کے لیے بھی اور امت مسلمہ کےعلمبرداروں کےلیے بھی رہنمائی کابیش قیمت لوازمہ مہیا کیاگیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ان کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے ۔(رفیق الرحمن)

  • 43 تعلیم اور مغربی فکر (پیر 06 اگست 2018ء)

    مشاہدات:1297

    مغربی مفکّرینِ تعلیم کے تعلیمی افکار  تعلیمی دنیا میں ایک نمایاں اورجداگانہ  مقام رکھتے  ہیں ان  دوامی شہرت کے مالک مفکرین نےتعلیمی فلسفہ کے میدان میں مختلف تعلیمی نظریات کے جو خوش رنگ نقوش چھوڑے ہیں وہ آج بھی فلسفۂ تعلیم اور تاریخ  تعلیم  کے  رخ پرنمایاں ہیں ان نظریات کی قدر وقیمت اور اہمیت مسلّمہ ہے  جس کے نتیجے  میں دور جدید کے تعلیمی نظریات میں دور قدیم کے فلسفیوں ومفکرینِ تعلیم کے تعلیمی افکار کا عکس جابجا دکھا دتیا ہے ۔مغربی تعلیمی افکار پر انگریزی زبان میں تو بے شمار کتب موجود  ہیں لیکن اردو  زبان میں اس قسم کی کتب  کم وبیش نایاب  ہیں ۔ زیر نظر کتاب ’’تعلیم اور مغربی فکر ‘‘  پر وفیسر عشرت حسین بصری کی کی کاوش ہے  ۔ اس کتاب میں  قدیم وجدید کے ان دس مشہور مغربی مفکرینِ  تعلیم کےتعلیمی افکار کو شامل کیا گیا ہےجن کے تعلیمی نظریات نے  نظامِ  تعلیم خصوصاً مغربی نظام تعلیم کو یکسر بدل  کے رکھ دیا ہے ۔ فاضل مصنف نے ہر مفکرِ تعلیم کی مختصر سوانح حیات ،  فلاسفی آف لائف، فلسفۂ تعلیم ، ضرورت واہمیت، مقاصد تعلیم، تعلیمی  نصاب، تعلیم نسواں، طریقۂ تدریس ، نظام تعلیم کی خصوصیات اور ان کے تعلیمی افکار کی خوبیوں وخامیوں پر تنقیدی جائزہ  لیتے ہوئے مفصل بحث پیش کی ہے ۔ یہ کتاب  طلباء کی ضروریات کے پیش نظر  یونیورسٹی  گرانٹس کمیشن کے جدید  سلیبس کے مطابق  بی ایڈ کے مغربی مفکرینِ تعلیم کےپرچہ کی تیاری کے لیے خاص طور پر تیار کی&n...

  • 44 تعلیم بطور ڈسپلن (منگل 11 ستمبر 2018ء)

    مشاہدات:1276

    ڈسپلن انگریزی زبان کا لفظ ہے جو کہ لاطینی زبان کے لفظDisciple سے ماخوذ ہے ۔ اس کےلغوی معنیٰ شاگرد کے ہیں۔ڈسپلن فرد کی شخصیت کی ہمہ پہلونشو ونما کا اعلیٰ ترین حلقہ ہے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے تعلیمی ماحول میں ڈسپلن کا ماحول ہونا بہت ضروری ہے۔ ڈسپلن کا صحت مندانہ ماحوال فردکی شخصیت میں تنظیم وااطاعت اور ضبط نفسی جیسی اعلیٰ کرداری صفات پیدا کرتا ہے اور اسے قوم کا مطلوبہ فرد بناتا ہے ۔ڈسپلن کےذریعے ہی طلبہ کےکردار وشخصیت کو مطلوبہ مقاصد میں ڈھالا جاتا ہے اس سے فرد کے کردار کی تشکیل وتعمیر ہوتی ہے جو کہ نظم وضبط کےعمل کے بغیر ممکن نہیں ہے
    زیر نظر کتاب ’’ تعلیم بطور ڈسپلن ‘‘ جناب عشرت حسین بصری کی تصنیف ہے اس کتاب میں انہوں نے علم تعلیم کو بطور ڈسپلن پیش کیا ہے ۔کتاب میں طلبہ و اساتذہ کےلیے جو موضوعات بیان کیے گئے ہیں وہ اپنی موزونیت کے اعتبار سےانتہائی اہم ہیں جس میں خصوصاً تعلیم بطور ڈسپلن اور اس کےتاریخی پس منظر،ڈسپلن کی ضرورت واہمیت، معیار اور خصوصیات پر سیر حاصل بحث کی گئی ہے۔نیز نصاب ڈسپلن ،ڈسپلن کی مختلف اشکال خصوصاً تعلیمی تھیوری ، فوکالٹ اور ڈیریڈا کے نظریات اور ان کےتعلیم پر اثرات اور تعلیمی ڈسپلن وتحقیق جیسے موضوعات پر تفصیلی مواد اس کتاب میں موجود ہے ۔(م۔ا)

  • 45 تعلیمی تحقیق (بدھ 03 اکتوبر 2018ء)

    مشاہدات:1889

    تحقیق ایک اہم علمی فریضہ ہے۔ تحقیق کے ذریعے ہم نامعلوم کا علم حاصل کرتے ہیں۔ غیر محسوس کو محسوس بناتے ہیں۔ جو باتیں پردۂ غیب میں ہوتی ہیں، انہیں منصۂ  شہود پر لاتے ہیں تا کہ کسی امر میں یقینی علم ہم کو حاصل ہو، اور اس کی بنیاد پر مزید تحقیق جاری رکھی جا سکے۔تحقیق ایک مسلسل عمل ہے۔مزید واقعاتی  حقائق کا جائزہ لینے اور ان کے اثرات معلوم کرنے کا نام بھی تحقیق ہے ۔ تحقیق کے عربی لفظ کا مفہوم حق کو ثابت کرنا یا حق کی طرف  پھیرنا ہے۔تحقیق کے لغوی معنیٰ کسی شئے کی حقیقت کا اثبات ہے۔ ’’تحقیق کے لیے انگریزی میں استعمال ہونے والا لفظ ریسرچ ہے…اس کے ایک معنیٰ توجہ سے تلاش کرنے کے ہیں، دوسرے معنیٰ دوبارہ تلاش کرنا ہے۔دور حاضر میں اصول تحقیق ایک فن سے ترقی کرتاہوا باقاعدہ ایک علم بلکہ ایک اہم علم کی صورت اختیار کرچکا ہے ۔ عالمِ اسلام کی تمام یونیورسٹیوں ، علمی اداروں ، مدارس اور کلیات میں  تمام علوم پر تحقیق زور شور سے جاری ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اصول تحقیق کا مادہ تمام عالمِ اسلام کی یونیورسٹیوں میں عموماً ا ور برصغیر کی جامعات اور متعدد اداروں میں خصوصاً نصاب کے طور پر پڑھایا جاتا ہے ۔ان تمام اداروں میں بھی جہاں گریجویٹ اوراس کے بعد کی کلاسوں میں مقالہ لکھوایا جاتا ہے  یا ایم فل وڈاکٹریٹ کی باقاعدہ کلاسیں ہوتی ہیں وہاں تحقیق نگاری یا اصول تحقیق کی بھی باقاعدہ تدریس ہوتی ہے ۔ اس طرح اصول تحقیق ، تحقیق نگاری، فن  تحقیق یا تحقیق کا علم جامعات  اورمزید علمی اداروں میں بہت زیادہ اہمیت حاصل کرچکا ہے...

  • 46 تفریح کا اسلامی تصور (بدھ 13 اگست 2014ء)

    مشاہدات:1993

    تفریح فارغ وقت میں دل چسپ سرگرمی اختیار کرنے  کو کہتے ہیں  ۔ یہ  لفظ اردو عربی  اور فارسی تینوں زبانوں میں مستعمل ہے  ۔ دور جدید میں تفریح انسانی  زندگی کے  معمولات کا لازمی حصہ بن چکی ہے ۔تیز مشینی دو راور  مقابلے کی فضا میں کام کرنے سے انسان تھک کر چور  ہو جاتا ہے  اس کا حل اس نے  تفریح میں ڈھونڈا ہے ۔مگر بہت سی  تفریحی سرگرمیاں انسان کو  دوبارہ کام کے قابل بنانے  کے ساتھ ساتھ اس سے  دین بھی چھین لیتی  ہیں۔زیر نظر کتاب ’’تفریح  کااسلامی تصور ‘‘محترم نوید احمد شہزاد  کی  تصنیف ہے ۔ جس میں انہوں  نےتفریح  اسلامی  تصور  اور اس کی حدود،معاصر معاملات پر تحقیقی انداز سے  اسلامی نقظہ نظر واضح کرنے  کی  کوشش  کی ہے ۔ مصنف نے بنیادی اسلامی مصادر سے استفادہ کرتے ہوئے  موجودہ حالات میں موجود مختلف تفریحی سرگرمیوں کی نشاندہی  کی ہے ۔امید ہےکہ  یہ تحقیقی کام نہ  صرف محققین کے لیے بلکہ عام قارئین کے لیے  بھی بڑا مفید ہوگا ۔(م۔ا )
     

  • 47 تیسیر المنطق (اتوار 22 اپریل 2018ء)

    مشاہدات:1964

    منطق اس علم کو کہتے ہیں جس کے ذریعےمعلوم حقائق سے نامعلوم کی طرف پہنچاجاتاہے۔ یہ ایک فن بھی ہے کیونکہ اس کے ذریعے گفتگوکے دوران مناظرہ کےآداب اور اصول متعین کیے جاتے ہیں۔منطق کو یونانیوں نےمرتب کیا اس فن کا آغاز اور ارتقا ارسطو سے ہوا۔ پھریہ مسلمانوں کے ہاتھ لگا انہوں نے اس میں قابل قدر اضافےکیے۔ اس کے بعد اہل یورپ نے اس میں اضافہ جات کیے ۔منطق کو تمام زبانوںمیں لکھاگیا۔تاہم یہ ایک مشکل فن ہے اس لئے کتابوں کے اندر بھی اس کی پیچیدگی سامنےآتی تھی۔ اساتذہ کے بغیراس فن کا حصول ناممکن سا لگتا تھا۔ لیکن وقت کے ساتھ ساتھ اس علم پر بہت لکھا گیا ہے کہ اب اسے سمجھنا قدر آسان ہے۔زیرِ تبصرہ کتاب خاص اسی موضوع پر ہے جس میں اسباق کے ذریعے عوام کو کسی حد تک منطق سے واقف کروانے اور سمجھانے کی کوشش کی گئی ہے۔ ہر سبق کا ایک خاص عنوان دیا گیا ہے اورمختصر اور آسانی کے ساتھ اس کی وضاحت کی گئی ہے ۔اہم باتوں کو حاشیے میں بیان کیا گیا ہے اور متعلقہ سوالات کے بیان کے بعد ان کے جوابات تحریر کیے گئے ہیں۔ کتاب کا اسلوب نہایت عمدہ‘سادہ اور عام فہم ہے۔ یہ کتاب’’ تیسر المنطق ‘‘حضرت مولانا حافظ محمد عبد اللہ گنگوہی کی تصنیف کردہ ہے۔آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی درجنوں  کتب اور  بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)( ح۔م۔ا )

  • 48 جائز او رناجائز تبرک (بدھ 17 اپریل 2013ء)

    مشاہدات:4429

    صالح اور بزرگ حضرات کی شخصیات اور ان سے متعلق مقامات اور دیگر آثار سے تبرک حاصل کرنا عقیدہ و دین کے اہم مسائل میں سے ہے۔ اور اس بارے میں غلو اور حق سے تجاوز کی وجہ سے قدیم زمانہ سے آج تک لوگوں کی ایک معقول تعداد بدعات اور شرک میں مبتلا رہی ہے۔ تاریخی اعتبار سے یہ مسئلہ نہایت پرانا ہے حتیٰ کہ سابقہ جاہلیت جس میں رسول اللہﷺ مبعوث ہوئے، ان کا شرک بتوں کو پوجنا اور ان مورتیوں سے تبرک حاصل کرنا تھا۔ اس سلسلہ میں ڈاکٹر علی بن نفیع العلیانی نے ایک کتاب لکھی جس میں جائز اور ناجائز تبرک کو شد و مد کے ساتھ بیان کیا گیا تھا۔ زیر نظر کتاب اسی کتاب کا اردو قالب ہے جسے اردو میں منتقل کرنے کا کام ابوعمار عمر فاروق سعیدی نے انجام دیا ہے، جو کہ فاضل مدینہ یونیورسٹی اور بہت سی کتابوں کے مصنف ہیں۔ اس کتاب میں ثابت کیا گیا ہے کہ بعض شخصیات ، مقامات اور اوقات ایسے ہیں کہ ان میں اللہ تعالیٰ نے برکت رکھی ہے تو اس برکت سے استفادہ رسول اللہﷺ کے فرمودہ طریقے سے ہی ممکن ہے۔ کسی جگہ یا وقت کی فضیلت اس بات کا تقاضا نہیں کرتی کہ اس سے تبرک بھی لیا جائے مگر یہ کہ اللہ کی شریعت سے ثابت ہو۔(ع۔م)
     

  • 49 جدید جاہلیت (بدھ 31 دسمبر 2014ء)

    مشاہدات:2458

    دور جدید کے مفکرین اسلام میں محمد قطب کا نام اس لحاظ سے سر فہرست ہے کہ انہوں نے اپنی تصانیف میں بڑی خوبی اور عقلی استدلال کے ساتھ اسلام کی ایسی تعبیر نو پیش کی ہے جو جدید ذہن کے لئے قابل قبول ہو سکے۔آپ اسلامی علوم پر گہری نگاہ اور نظر بصیرت کے ساتھ جدید علوم پر مضبوط گرفت اور ناقدانہ رائے رکھتے ہیں۔انہوں نے تہذیب نو کا ہمہ جہتی مطالعہ کیا ہے اور مغربی تہذیب کے فکری بودے پن کی نشاندہی کی ہے،اور اس مادہ پرست تہذیب کے بخئیے ادھیڑ کر ثابت کیا ہے کہ اس کی ساری چمک دمک دراصل جھوٹے نگوں کی ریزہ کاری ہے۔انہوں نے اس موضوع پر اس کے علاوہ بھی کتب تصنیف کی ہیں،جن میں "الانسان بین المادیۃ والاسلام"،"منھج التربیۃ الاسلامیۃ"،"التطور والثبات فی النفس البشریۃ"قابل ذکر ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب "جدید جاہلیت"محترم محمد قطب کی کتاب "جاھلیۃ القرن العشرین" کا اردو ترجمہ ہے ،اور ترجمہ کرنے کی سعادت محترم ساجد الرحمن صدیقی نے حاصل کی ہے۔اس کتاب میں مصنف نے جاہلیت کی تاریخ اور اسلام اور جاہلیت کی کشمکش کو تفصیل سے بیان کرتے ہوئے بتایا ہے کہ جدید جاہلیت تاریخ کی تمام جاہلیتوں میں سے سب سے بد ترین ،سب سے خبیث اور سب سے عیار جاہلیت ہے۔اور اس جاہلیت نے انسانیت کو اس قدر مصائب وآفات میں مبتلاء کر دیا ہے کہ تاریخ میں کبھی انسانیت اس قدر ہولناک مصائب سے دوچار نہیں ہوئی ہے۔اور اب انسانیت کے لئے واحد راہ نجات یہی ہے کہ وہ اسلام کی جانب لوٹ آئے۔اللہ تعالی مولف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور تمام انسانوں کو صراط مستقیم پر چلائے۔آمین(راسخ) متفرق کتب 

  • 50 جسمانی حرکات اور شائستگی (اتوار 28 ستمبر 2014ء)

    مشاہدات:2408

    اللہ تعالیٰ نے جتنی بھی مخلوقات پیدا کیں ان سب میں انسان اس کی شاہکار تخلیق ہے خوبصورت ایسا ہ کہ اس کے بارے میں خود رب العالمین نے فرمایا:لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ فِي أَحْسَنِ تَقْوِيم(التین:4) اس کا نازک اور خوبصورت جسم ہر وقت محوِ حرکت ہے۔ ربِ کریم نے انسان کو دوسری مخلوقات کے مقابلے میں ایک امتیازی حیثیت دی ہے اوراسے وہ کچھ عطا کیا ہے جو مخلوقات میں کسی کو نہیں دیا۔انسان کے امتیازی اوصاف کی وجہ سے انسان اچھائی برائی کا مکلف بھی ہے اور اللہ تعالیٰ کے ہاں جواب دہ بھی۔انسان کے بعض افعال وحرکات میں انسان جانوروں سےمشابہ ہے لیکن جانوروں میں علم،عقل اوراختیار نہیں ہے جب کہ انسان کوجو چیز جانوروں سےممتاز کرتی ہے وہ اس کے افعال وحرکات میں شائستگی اور تہذیب ہے ۔کیوں کہ اسلام نے انسانی افعال وحرکات کو ایک خاص ضابطے کے اندر رکھنے کی تلقین کی ہے ۔انسانی جسم بہت سے اختیاری اوغیر اختیاری افعال میں ہر وقت مصروف رہتاہے ۔اسلام نے ان افعال کو بھی شائستگی کا حسن عطا کیا ہے تاکہ انسان حیوانوں سے ممتاز ہوسکے۔ زیر نظرکتابچہ’’جسمانی حرکات اور شائستگی ‘‘محترمہ ام عبد منیب صاحبہ کی تحریری کاوش ہے۔ جس میں انہوں نے انسان کی اختیاری اورغیراختیاری حرکات کوبیان کرنےکے ساتھ ساتھ   بڑے احسن انداز میں اس کےمتعلق اسلامی تعلیمات کو بھی پیش کیا ہے ۔اللہ تعالیٰ محترمہ کی اس کاوش کو لوگوں کی اصلاح کاذریعہ بنائے (آمین) محترمہ ام عبد منیب صاحبہ محمد مسعود عبدہ  کی اہلیہ ہیں ۔ موصوف   تقریبا 23 سال قبل جامعہ لاہور الاسلامیہ میں عصری علو...

  • ایڈوانس سرچ

    اعدادو شمار

    • آج کے قارئین: 1996
    • اس ہفتے کے قارئین: 10530
    • اس ماہ کے قارئین: 29823
    • کل قارئین : 47770203

    موضوعاتی فہرست

    ای میل سبسکرپشن

    محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

    رجسٹرڈ اراکین

    ایڈریس

            99--جے ماڈل ٹاؤن،
            نزد کلمہ چوک،
            لاہور، 54700 پاکستان

           0092-42-35866396، 35866476، 35839404

           0092-423-5836016، 5837311

           library@mohaddis.com

           بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں