معراج الخطیب(5663#)

عبد المنان راسخ
مکتبہ اسلامیہ، لاہور
423
10575 (PKR)
6.1 MB

ادب  ہر کام کے حسن کا نام ہے  اور سایۂ ادب میں  جو الفاظ نکلیں وہ جادو سے زیادہ اثر رکھتے ہیں  کیونکہ ادب ایک روشنی  ہے  جس سے  زندگی کی تاریکیاں ختم ہوتی ہیں ۔ ادب ایک آلۂ اصلاح ہے جس سے زندگی کی نوک پلک سنور تی  ہے ۔ ادب ایک دوا ہے  جس سے مزاج کے ٹیڑھے پن کا مکمل خاتمہ ہوتا ہے، ادب ایک جوہر ہے جس شخصیت میں پختگی آتی ہے اور ادب ایک ایسا آب حیات ہے کہ جو جی بھر کر پی لے  وہ زندگی کاسفر کامیابی سے کرتے ہوئےپیاس محسوس نہیں کرتا ، بلکہ تروتازہ چہرہ لےکر اپنے  خالق ومالک کے حضور پیش ہوجاتا  ہے۔لیکن آج لوگ دنیا کے اقتدار کی توبہت فکر کرتے ہیں مگر ذاتِ الٰہ کی فکر سے غافل ہیں ۔اپنے  آداب کےلیے  ہزاروں  جتن ہوتے ہیں  مگر شہنشاہ کائنات کے آداب کوبروئے کار لانے کےلیے حددرجہ غفلت کی جاتی  ہے اورتاریخ اس بات پر شاہد ہے کہ جب  خودی کوخالق کےآداب پرمقدم کردیا جائے تو تباہی  وبربادی  کےسیلاب سے  بچنا  مشکل ہی نہیں  بسا اوقات ناممکن ہوجاتاہے بعینہ یہی کیفیت آج امت مسلمہ کی ہے ۔کسی کے دربار میں  بغیر آداب کے رونا فضول ہے تو پھر شہنشاہ کائنات کے سامنے آداب کاخیال رکھنا کس  قدر ضروری ہے ۔انسانیت کا دوسرا نام ادب ہے ۔ اور ادب کا دوسرا نام انسانیت ہے ۔ یعنی جو بادب  ہے وہ انسان ہے اور جو بے ادب ہ ےوہ انسانی شکل  میں بدترین حیوان ہے  ۔اور ہمارا سارا دین ادب ہے۔ ادب الٰہ کا معنی یہ ہےکہ اپنے خالق ومالک  کی خوشنودی ورضا جوئی کے لیے  دین کے  مطابق ایسا اعلیٰ سلیقہ، عمدہ طریقہ اور اچھا انداز اپنانا جو قابل تحسین اور باعث تعریف ہو ۔ جس  سے واضح معلوم ہو کہ بندہ اپنے الٰہ کو صرف مانتا ہی نہیں بلکہ اس کےدربار کےآداب سےبھی بخوبی آگاہے ۔سادہ لفظوں میں  ادب الٰہ کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی کبریائی  وبڑائی کومان کر اس کے سامنے بے بسی ، بے حیثیتی ، عاجزی وانکساری کاہر ایک  تقاضا اس انداز سےپورا کرنا کہ جس میں عمدگی، نفاست اوراعلیٰ تہذیب نظر آئے اور کوئی ایسی عادت وحرکت سرزد نہ ہو جو شہنشاہ کائنات کی عزت ،عظمت، بزرگی اور شان کے خلاف ہو ۔  غرض کہ اپنے الٰہ کی شایان شان معاملہ کرنا ادب ہے۔نبی کریم ﷺ نے ساری زندگی ادبِ الٰہی  کےتقاضوں کوپورا کرتےہوئےبسر کی ۔آپ نےقدم قدم پہ ادبِ الٰہ کی ایسی عظیم مثالیں پیش فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ نےآپﷺ کی اس صفت کوقرآن مجید میں بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: ’’ اے میرے محبوب ﷺ آپ   آداب کے اعلیٰ مقام پر فائز ہیں۔آپ ﷺ کوادب الٰہ  میں درجہ کمال اس لیے بھی حاصل تھا کہ آپ ﷺ کوتمام آداب اللہ تعالیٰ نے خود سکھلائے جس طرح کہ آپ ﷺ کافرمان ہے:  أدبني ربي فأحسن تأديبي میرے رب نےمجھے ادب سکھلایا  اور بہترین ادب سکھلایا۔آپ ﷺ نےاللہ تعالیٰ کی تعظیم ،احترام اور ادب میں کس قدر  عالی مقام پایا  اس  کی مکمل جھلک   مولانا ابو الحسن عبد المنان راسخ ﷾ نےزیرتبصرہ کتاب  ’’معراج الخطیب ‘‘میں  قرآن وحدیث  کی روشنی میں  بڑے آسان فہم اندازمیں پیش کی ہے۔فاضل مصنف   نےاس کتاب میں ادب ِالٰہی کے10 تقاضے بہت اختصار اور جامعیت سے بیان کیے  ہیں جن کو پورا کرنے  سے بندہ اپنےخالق ومالک کا بادب بن جاتا ہےاوران سے انحراف کرنے والاادب کی دولت سے محروم اور ناکام رہتا ہے۔ادب  الٰہ  کے 10 تقاضوں کوجامعیت کےساتھ بیان کرنے کےبعد موصوف نے  جعلی ادب کو بھی بیان کیا ہے ۔اس کتاب کی خصوصیت یہ ہے کہ یہ کتاب  غیر ثابت شدہ روایات وواقعات سے مکمل پاک ہے ۔اگرچہ اس میں خطیبانہ انداز غالب ہے ۔کیونکہ یہ مصنف کے مرکزی مسجد مومن آباد، فیصل آباد  میں پڑہائے گئے آداب الٰہی اور انکے تقاضوں پر مشتمل شاندار  خطبات کا مجموعہ ہے۔کتاب ہذا کے  مصنف  مولانا ابو الحسن  عبد المنان راسخ ﷾  جامعہ اسلامیہ،صادق آبادسے فراغت کےبعد شروع شروع میں جامعہ لاہور الاسلامیہ ،لاہور میں تدریس کے ساتھ ساتھ مجلس التحقیق الاسلامی ، لاہور میں  حافظ عبد الرحمن مدنی﷾ کی زیر نگرانی  بھی علمی وتحقیقی خدمات سرانجام دیتے رہے ۔ موصوف  ایک اچھے مصنف  ہونے کے ساتھ  ساتھ بڑے اچھے مدرس ، خطیب اور واعظ بھی ہیں ۔ عرصہ دراز سے فیصل آباد  میں خطابت کافریضہ انجام  دینے کےساتھ ساتھ  تصنیف وتالیف کا کام بھی کرتے ہیں ۔تقریبا دو درجن  کتب کےمصنف ہے۔ جن  میں سے   سات  کتابیں(خشبو ئے  خطابت ،ترجمان الخطیب،منہاج الخطیب ، حصن الخطیب، بستان الخطیب ، مصباح الخطیب، معراج الخطیب) خطابت کے موضوع پر ہیں۔ اللہ تعالیٰ مصنف  کی تمام مساعی حسنہ کو قبول فرمائے اور اسے عوام الناس کے لیے نفع بخش بنائے ( آمین) (م۔ا)

عناوین

صفحہ نمبر

ایک مہربان کےقلم سے

23

گزارشات راسخ

31

ادب کیاہے ؟اہمیت اورمطلب

35

نبیﷺادب الہٰ کےحددرجہ شناساتھے

37

غیروں کوداتاکہن

39

گلےشکووں کوبوچھاڑ

40

اہل توحید متوجہ ہوں

 

دعائیہ کلمات

 

حدیث طیبہ

 

خطبائے کرام کی خدمت میں ایک گزارش

46

آداب الہیٰ کی پہلی درسگاہ

47

روٹی اللہ دیتاہے

50

پرندوں کابےموسمی کھجوریں پھینکنا

52

بیٹااللہ کی سپرد

55

دینی مدارس اورسکولز کالجز کاکردار

57

طلباء کی روحانی تربیت کےلیے راہ نماکتب

 

آداب الہیٰ

57

اللہ کےوقار کےلائق

62

آدا ب الہیٰ کاپہلا تقاضا

65

عقیدہ توحید کااقرار

67

توحید کیاہے؟

70

توحید کی اقسام

71

شرک کرنےوالے بےادب کاانجام

75

قبروں کاپختہ بنانا

76

غیراللہ سےمدد مانگنا

76

غیراللہ کےنام پر جانور ذبح کرنا

79

کڑےدھاگے اورمنکے

81

توحید کےمعاملے میں غیرت

83

حرمت رسول اللہ ﷺ کےلیے

83

اکیلے اللہ کےنام کو اونچا کرنےکےلیے

84

بعض اولیائے کرام القابات پر ایک نظر

86

عقیدہ توحید کی سچائی کااظہار

88

ایمان افروز توحید  آیات واذکار

89

آداب الہیٰ کادوسرا تقاضا

 

اللہ کی پہچان

93

اجمالی پہچان

94

معرفت کی اہمیت

95

معرفت الہیٰ میں انداز اپنااپنا

96

معرفت الہیٰ کاصحیح ذریعہ

97

غوروفکر اورمعرفت

98

آیات معرفت

100

ہرشے کاخالق

100

ہرشے کامالک

101

ہرشے پر قابض

104

ہرچیز کارازق

105

معرفت الہیٰ کےتفصیلی شہ پارے

107

سب کو سلائے خودنہ سوئے

107

سب کو بھلائے ،خود نہ بھولے

107

سب کو کھلائے ،خود نہ کھائے

108

سب کوسکھائے ،خود نہ سیکھے

110

وہ سب کو پوچھے  مگراسے کوئی نہ پوچھے

112

لاحول ولاقوۃ الاباللہ اورمعرفت الہیٰ کےنکات

114

جنت کے دروازوں میں سےایک دروازہ

114

جنت کےپودے

115

جنت کےخزانوں میں سےایک خزانہ

116

لاحول ولاقوۃ الاباللہ کامفہوم

117

معرفت الہیٰ کےنتائج اورفوائد ثمرات

120

عارف باللہ کی مجلس کےفوائد

120

فرمان ھرم بن حیان ﷫

121

فرمان امام ابن جوزی ﷫

122

معرفت وٹھنڈک

122

فرمان ابن یعقوب فیزوزآبادی ﷫

123

فرمان یحییٰ بن معاذ ﷫

124

شیخ علی بن عثمان ہجویری کافرمان

125

امام ابن قیم ﷫کافرمان

125

آداب الہیٰ کاتیسرا تقاضا

127

سب سےزیادہ محبت  اپنے الہ کی جائے

129

سچے محب کی پہچان

130

رسول اللہ ﷺ کی ایک پیاری دعا

132

ایمان کی مٹھاس

131

اللہ تعالی کی ملاقات کوپسند کرنےوالا

135

آخرت میں دیدار الہیٰ کی سعادیت

137

اللہ تعالیٰ سےمحبت کیسے کی جاتی ہے

140

اللہ تعالیٰ کی محبت پانے والے خوش نصیب

141

ایمان والے

142

تقوی والے

142

سنت رسول اللہ ﷺ کےپیروکار

143

اللہ کی راہ میں دجہاد  کرنےوالے

143

ظاہروباطن کوپاک صاف رکھنے والے

144

انصاف کرنےوالے

145

اللہ تعالیٰ پر توکل کرنےوالے

145

صبر کرنےوالے

146

احسان کرنےوالے

146

توبہ کرنےوالے

147

حضرت حسین ﷜ سےپیار کرنےوالے

148

آداب الہیٰ کاچوتھا تقاضا

 

مکمل اطاعت

151

امام شافعی﷫ کےخوبصورت اشعار

151

آج کل کےلوگ

152

ظلم کی انتہا

153

صرف جزوی اطاعت کافی نہیں

154

نافرمانی والی نذر

155

رسول اللہ ﷺ کاجذبہ اطاعت

156

آپ ﷺ کی اطاعت بھری دعائیں

158

حق  تقاتہ کی تفسیر

159

اصل عبادت نافرمانی کاچھوڑنا

160

صحابہ کرام ﷢ اورجذبہ اطاعت

161

سیدنا معاذبن جبل ﷜ کاجذبہ اطاعت

162

اےعناق !اللہ نےزنا کو حرام کردیاہے

163

نافرمان حدردجہ گمراہ ہے

165

نافرمانی کےچار اسباب

167

اللہ کانافرمان جانور سےبھی بدتر

169

خوبصورت اشعار

170

اس مصنف کی دیگر تصانیف

اس ناشر کی دیگر مطبوعات

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 1024
  • اس ہفتے کے قارئین: 2731
  • اس ماہ کے قارئین: 30425
  • کل قارئین : 45893886

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں