#4128

مصنف : سید ابو الاعلی مودودی

مشاہدات : 5498

معاشیات اسلام ( مودودی )

  • صفحات: 357
  • یونیکوڈ کنورژن کا خرچہ: 8925 (PKR)
(جمعہ 19 فروری 2016ء) ناشر : اسلامک پبلیکیشنز، لاہور

اسلامی معاشیات ایک ایسا مضمون ہے جس میں معاشیات کے اصولوں اور نظریات کا اسلامی نقطہ نظر سے مطالعہ کیا جاتا ہے۔ اس میں یہ دیکھا جاتا ہے کہ ایک اسلامی معاشرہ میں معیشت کس طرح چل سکتی ہے۔ موجودہ زمانے میں اس مضمون کے بنیادی موضوعات میں یہ بات شامل ہے کہ موجودہ معاشی قوتوں اور اداروں کو اسلامی اصولوں کے مطابق کس طرح چلایا جا سکتا ہے ۔ اسلامی معیشت کے بنیادی ستونوں میں زکوٰۃ، خمس، جزیہ وغیرہ شامل ہیں۔ اس میں یہ تصور بھی موجود ہے کہ اگر صارف یا پیداکاراسلامی ذہن رکھتے ہوں تو ان کا بنیادی مقصد صرف اس دنیا میں منافع کمانا نہیں ہوگا بلکہ وہ اپنے فیصلوں اور رویوں میں آخرت کو بھی مدنظر رکھیں گے۔ اس سے صارف اور پیداکار کا رویہ ایک مادی مغربی معاشرہ کے رویوں سے مختلف ہوگا اور معاشی امکانات کے مختلف نتائج برآمد ہوں گے۔ اسلامی مالیات اور کاروبار کے بنیادی اصول قرآن وسنت میں بیان کردیے گئے ہیں۔ اور قرآن وحدیث کی روشنی میں علمائے امت نے اجتماعی کاوشوں سے جو حل تجویز کیے ہیں وہ سب کے لیے قابل قبول ہونے چاہئیں۔کیونکہ قرآن کریم اور سنت رسول ﷺ کے بنیادی مآخذ کو مدنظر رکھتے ہوئے معاملات میں اختلافی مسائل کےحوالے سے علماء وفقہاء کی اجتماعی سوچ ہی جدید دور کے نت نئے مسائل سے عہدہ برآہونے کے لیے ایک کامیاب کلید فراہم کرسکتی ہے ۔ زیرتبصرہ کتاب’’معاشیات اسلام‘‘ عالمِ اسلام کے عظیم مفکر سید ابو الاعلی مودودی﷫ کی تصنیف ہے۔یہ کتاب فلسفۂ معیشت کی ایک راہ کشا کتاب ہے ۔ اس میں ان اولین امور سے بحث کی گئی ہے۔ جنہیں ماہرین معاشیات بالعموم چھوڑدیتے ہیں او رجن کے بارے میں غلط تصورات کےکارفرماہونے کی وجہ سے وہ آگےکی شاہراہوں پر ہرقدم پر ٹھوکریں کھاتے چلے جاتے ہیں ۔ یہ کتاب دراصل مولانا مودودی کی ان تحریروں کا مجموعہ ہے جو ان کےجاری کردہ رسالہ ’’ترجمان القرآن ‘‘ کی اشاعت کے آغاز سے مختلف مواقع پراسلام کے معاشی اصول واحکام کی توضیح او رزندگی کے موجود مسائل پران کے انطباق کےبارے میں وقتاً فوقتاً شائع ہوتی رہیں۔ تو پر وفیسر خورشد صاحب نے مولاناکی زندگی میں ہی اسے مرتب کیا اورمولانا کی نظر ثانی سے اس کتاب کا پہلا ایڈیشن 1969ء میں شائع ہوا ۔مرتب نے اس کتاب کو دوحصوں میں تقسیم کیا ہے ۔حصہ اول میں فلسفۂ معیشت سے بحث کی گئی ہے او ردنیا کے مروجہ معاشی نظاموں پر تنقیدی نظر ڈالنے کے ساتھ معیشت کے میدان میں اسلام کے مخصوص نقطۂ نظر کی پوری وضاحت کی گئی ہے۔نیزان اصولوں کوبھی ضروری تشریح کےساتھ پیش کیاگیا ہےجو قرآن وسنت میں مرقوم ہیں ۔کتاب کے دوسرے حصے میں مرتب نے مولانا مودودی کی ان تحریروں کو پیش کیا ہےجن کا تعلق ایک حیثیت سے اسلام کے فلسفۂ معیشت کے انطباق سے ہے۔ ایم اے اسلامیات ومعاشیات کے طلبہ اور اسلامی معاشیات کا ذوق رکھنےوالے اہل فکر کے لیے اس کتاب کا مطالعہ نہایت مفید ہے ۔ مولانامودودی ﷫کی اس کتاب کےعلاوہ بھی معیشت کے موضوع پر چار کتابین موجود ہیں۔(م۔ا)

عناوین

صفحہ نمبر

دیباچہ

12

پیش لفظ

13

مقدمہ

21

حصہ اول : اسلام کامعاشی تصور

29

باب اول : انسان کی معاشی مسئلہ او راس کااسلامی حل

31

جزوپرستی کافتنہ

32

اصل معاشی مسئلہ

36

معاشی انتظام کی خرابی کا اصل سبب

39

نفس پر ستی اور تغیش

40

سرمایہ پر ستی

42

نظام محاربہ

43

چند سری نظام

46

اشتراکیت کا تجویز کردہ حل

48

نیا طبقہ

48

نظام جبر

49

شخصیت کاقتل

50

فاشزم کاحل

51

اسلام کاحل

51

بنیادی اصو ل

52

حصول دولت

52

حقوق ملکیت

53

اصول صرف

54

سرمایہ پرستی کااستیصال

55

تقسیم دولت او ر کفالت عامہ

55

سوچنے کی بات

58

باب دوم :قرآن کی معاشی تعلیمات

61

بنیادی حقائق

61

جائز ناجائز کے حدود مقرر کرنا اللہ ہی کا حق ہے

62

حدود اللہ کے اندر شخصی ملکیت کا اثبات

63

معاشی مساوات کا غیر فطری تخیل

67

رہبانیت کے بجائے اعتدال اور پابندی حدود

70

کسب مال کے حرام وحلال کا امتیاز

71

کسب مال کے حرام طریقے

72

بخل اور اکتنا کی ممانعت

76

زرپرستی اورحرص مال مذمت

77

بے جاخرچ کی مذمت

77

دولت خرچ کرنے کے صحیح طریقے

78

مالی کفارے

81

انفاق کے مقبول ہونے کی لازمی شرائط

82

انفاق فی سیبل اللہ کی اصل حیثیت

83

لازمی زکوۃ اوراس کی شرح

86

اموال غنیمت کاخمس

88

مصارف زکوۃ

89

تقسیم میراث کا قانون

90

وصیت کا قاعدہ

91

نادان لوگوں کے مفاد کی حفاظت

92

سرکاری املاک میں اجتماعی مفاد کا لحاظ

93

ٹیکس عائد کرنے کے متعلق اسلام کااصولی ضابطہ

94

اسلامی نظام معیثت کی خصوصیات

94

فہر ست ماخذ

98

باب سوم: سرمایہ داری اور اسلام مافرق

99

1۔اکتساب مال کے ذاریع میں جائز اور ناجائز کی تفریق

99

2۔مال جمع کرنے کی ممانعت

101

3۔ خرچ کرنے کا حکم

102

4۔ زکوۃ

107

5۔قانون وراثت

110

غنائم جنگ اور اموال مفتوحہ کی تقسیم

110

اقتصاد کاحکم

112

باب چہارم: اسلامی نظام معیثت کے اصول او رمقاصد

115

اسلام کے معاشی نظام کی نوعیت

115

نظم معیثت کے مقاصد

116

(الف) انسانی آزادی

117

(ب) اخلاقی اورمادی ترقی میں ہم آہنگی

118

(ج) تعاون وتوفق اور انصاف کا قیام

119

بنیادی اصول

119

شخصی ملکیت اور اس کے حدود

120

منصفانہ تقسیم

121

اجتماعی حقوق

124

زکوۃ

126

قانون وراثت

129

مخت سرمایہ او رتنظیم کامقام

130

زکوۃ اور معاشی بہود

131

غیر سودی معیثت

132

معاشی اور سیاسی معاشرتی نظام کاتعلق

133

باب پنجم : معاشی زندگی کے چند بنیادی اصول

137

قرآن کی روشنی میں

137

1۔اسلامی معاشرے کی بنیادی قدریں

137

2۔ اخلاقی او ر معاشی ارتقاءکا اسلامی راستہ

140

3۔تصور رزق اور نظریہ صرف

142

4۔ اصول صرف

144

5۔ اصول عتدال

147

6۔معاشی دیانت وانصاف

148

حصہ دوم: اسلام کا معاشی نظام ....چند پہلو

151

باب ششم : ملکیت زمین کا مسئلہ

153

1۔قرآن اور شخصی ملکیت

154

2۔دور رسالت اورخلافت راشدہ کے نظائر

156

قسم اول کاحکم

157

قسم دوم کاحکم

159

قسم سوم کاحکم

160

قسم چہارم کاحکم

164

حقوق ملکیت بربنائے آبادی کاری

165

عطیہ زمین من جانب سرکار

168

عطیہ زمین کے بارے میں شر عی صابطہ

170

جاگیروں کے معاملے میں صحیح رویہ

172

حقوق ملکیت کا احترام

173

3۔اسلامی نظام او رانفرادی ملکیت

175

4۔زرعی اراضی کی تحدید کامسئلہ

178

5۔ بٹائی کا طریقہ او راسلا م کے اصول انصاف

180

6۔ملکیت پر تصرف کے حدود

181

باب ہفتم : مسئلہ سود

183

1۔سود کے متعلق اسلامی احکام

183

ربو اکامفہوم

183

جاہلیت کا ربوا

185

بیع او رربو میں اصولی فرق

186

علت تحریم

189

حرمت سود کی شدت

190

2۔سود کی ضرورت ایک عقلی تجزبہ

191

الف: خطرے اور ایثار کا عقلی تجزیہ

191

’’ب‘‘موقع او رمہلت کا معاوضہ

196

’’ج‘‘نفع آوری میں حصہ

197

د: معاوضہ وقت

200

شرح سودکی ’’معقولیت ‘‘

202

شرح سود کے وجوہ

205

سود کامعاشی فائدہ او راس کی ضرورت

209

کیا سود فی الواقع ضرور ی اور مفید ہے ؟

211

3۔سود کے مفسدات

216

4۔سود کے بغیر معاشی تعمیر

221

چند فہمیاں

221

اصلاح کی راہ میں پہلا قدم

224

انسداد سود کے نتائج

226

غیر سودی مالیات میں فراہمی قرض کی صورتیں

229

شخصی حاجات کے لیے

230

کاروباراغراض کے لیے

232

حکومتوں کی غیر نفع آور ضروریات کے لیے

234

بین الاقوامی ضرورت کے لیے

235

نفع آور اغراض کے لیے سرمایہ کی بہم رسانی

236

بینکنگ کی اسلامی صورت

239

5۔غیر مسلم مما لک سے اقتصادی او رصنعتی قرضے

243

باب ہشتم : زکوۃکی حقیقت اور اس کے احکام

245

1۔زکوۃ کی حقیقت او راس کے احکام

245

زکوۃ کے معنی

245

سنت ابنیاء

246

2۔ اجتماعی زندگی میں زکوۃ کا مقام

248

3۔زکوۃ کاحکم

255

4۔ مصارف زکوۃ

258

5۔زکوۃ کے اصولی احکام

267

6۔کیا زکوۃ کے نصاب او رشرح کو بدلااجاسکتاہے

292

7۔کمپنیوں کے حصوں میں زکوۃ کا مسئلہ

293

8۔شرکت ومضاربت کی صورت میں زکوۃ

298

9۔کنوز کا نصاب زکوۃ

300

10۔زکوۃ او رٹیکس کا فرق

302

11۔ کیا زکوۃ کے علاوہ انکم ٹیکس عائد کرنا جائز ہے ؟

303

باب نہم : اسلا م اور عدل اجتماعی

305

باطل حق بھیس میں

305

فریب اول :سرمایہ داری اور لادینی جمہوریت

305

فریب دوم: اجتماعی عدل اور اشراکیت

306

تعلیم یافتہ مسلمانوں کی ذہنی غلامی کی انتہا

306

عدالت اجتماعیہ کی حقیقت

307

عدل ہی اسلام کا مقصود ہے

309

عدل اجتماعی

309

انسانی شخصیت کا نشوونما

310

انفرادی جواب دہی 

310

انفرادی آزادی

311

اجتماعی ادارے اور ان کا اقتدار

311

سرمایہ داری او راشراکیت کی خامیا ں

313

اس مصنف کی دیگر تصانیف

ایڈ وانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین 1727
  • اس ہفتے کے قارئین 4073
  • اس ماہ کے قارئین 81000
  • کل قارئین57863262

موضوعاتی فہرست