دکھائیں کتب
  • 1 آداب قبور اور فرمان محمدی (جمعرات 17 جولائی 2014ء)

    مشاہدات:2057

    اللہ تعالیٰ نے جس پر زور طریقے سے شرک کی مذمت کی ہے کسی اور چیز کی نہیں کی ہے۔حتی کہ شرک کی طرف جانے والے ذرائع اور اسباب سے بھی منع فرما دیا ہے۔ابتدائے اسلام میں شرک کے اندیشے کے پیش نظر قبروں کی زیارت سے منع کردیا گیا تھا اور پھر عقیدہ توحید پختہ ہوجانے کے بعد اس کی اجازت دے دی گئی۔زیارتِ قبور ایک جائز ومستحب بلکہ مسنون عمل ہے۔ نبی کریم ﷺبھی قبروں کی زیارت کے لئے تشریف لے جاتے اور اہل قبور کے لیےدعا کرتے اور فرماتے تم قبروں کی زیارت کیاکرو، وہ دنیا سے بے رغبتی کا سبب بنتی ہیں اور آخرت کی یاد دلاتی ہیں۔آخرت کی یاد سے دنیوی زندگی کی بے ثباتی اور ناپائیداری کا احساس ہوتا ہے اور آخرت کی حقیقی زندگی کے لئے حسنِ عمل کا جذبہ اور رغبت پیدا ہوتی ہے۔ زیارتِ قبور یادِ آخرت کا ایک اہم ترین ذریعہ ہے۔ شہرِ خاموشاں میں جاکر ہی بدرجۂ اتم یہ احساس ہوتا ہے کہ موت کتنی بڑی حقیقت ہے جس کا مزہ ہر شخص چکھے گا۔ ابتدائے آفرینش سے آج تک یہ سلسلہ جاری ہے اور تا قیامت جاری رہے گا۔ جلیل القدر انبیاء علیہم السلام مبعوث ہوئے اور باری باری موت کا مزہ چکھتے رہے۔ اسی طرح بزعمِ خویش خدائی کا دعویٰ کرنے والے بھی آئے، دارا و سکندر جیسے بادشاہ بھی گزرے لیکن موت کی آہنی گرفت سے کوئی بھی بچ نہ سکا۔ اگر اتنے نامور لوگوں کو بھی موت نے نہ چھوڑا تو ہم اور تم اس کے تصرف سے کیسے...

  • 2 آسمانی جنت اور درباری جہنم (بدھ 25 فروری 2009ء)

    مشاہدات:16401

    جنت اور جنہم دنیا میں کیے جانے والے اعمال کی جزا کا نام ہے-اپنے آپ کو اللہ کے حکموں کی پابندی کرنے والے اور اس کے احکامات کے مطابق اپنے زندگی بسر کرنے والوں کے لیے جزا کے طور پر جنت اور اس کی نافرمانی کرنے والوں کے لیےجزا کے طور پر جنہم مقرر کی گئی ہے-اس كتاب کےپہلے حصے میں اللہ تعالی کے مہمان خانے یعنی جنت کی سیر کا تذکرہ ہے جبکہ دوسرے حصے میں زمین پربنی جعلی اور خودساختہ بہشت کا آنکھوں دیکھا حال بیان کیا گیا ہے-تیسرے اور چوتھے حصے میں مصنف نے  مزید دودرباروں پر ہونے والے مشاہداتی مناظر کا تفصیلی تذکرہ کیاہے-مثال کے طور پر ڈھول کی تھاپ پر اللہ کا ذکر،قبروں کا طواف،قبروں پر حج،بہشتی دروازے کی حقیقت اور لوگوں کا عقیدہ،درباروں اور مزاروں پر ہونے والے حیا سوز اور اخلاق سوز مناظر،ولیوں کی دھمالیں وغیرہ- اس کتاب کے مطالعے سے یہ بات بخوبی عیاں ہوجائے گی کہ موجودہ پرفتن اور آندھیوں کے دور میں اس درباری جہنم سے اللہ کی مخلوق کو نکال کر آسمانی جنت میں داخل کرنے کی کوشش کرنا کس قدر ضروری ہے-
     

  • 3 اردو ترجمہ کتاب الوسیلہ (پیر 30 نومبر 2015ء)

    مشاہدات:2739

    شیخ الاسلام والمسلمین امام ابن تیمیہ﷫ کی شخصیت محتاجِ تعارف نہیں۔ آپ ساتویں صدی ہجری کی عظیم شخصیت تھے،آپ بہ یک وقت مفکر بھی تھے اور مجاہد بھی ، آپ نے اپنے قلم سے باطل کی سرکوبی کی۔ اسی طرح اپنی تلوار کو بھی ان کے خلاف خو ب استعمال کیا ۔ اورباطل افکار وخیالات کے خلاف ہردم سرگرم عمل او رمستعدر رہے جن کے علمی کارہائے نمایاں کے اثرات آج بھی پوری آب وتاب سے موجود ہیں۔آپ نے اپنی پوری زندگی دین اسلام کی نشرواشاعت ،کتاب وسنت کی ترویج وترقی اور شرک وبدعت اور مذاہب باطلہ کی تردید وتوضیح میں بسر کردی ۔امام صاحب علومِ اسلامیہ کا بحر ذخار تھے اور تمام علوم وفنون پر مکمل دسترس اور مجتہدانہ بصیرت رکھتے تھے۔آپ نے ہر علم کا مطالعہ کیا اور اسے قرآن وحدیث کے معیار پر جانچ کر اس کی قدر وقیمت کا صحیح تعین کیا۔آپ نے مختلف موضوعات پر 500 سے زائد کتابیں لکھیں۔ آپ کا فتاویٰ 37 ضخیم جلد وں میں مشتمل ہے زیر تبصرہ کتاب’’ اردو ترجمہ کتاب الوسیلہ‘‘امام ابن تیمیہ ﷫ کی ان معرکۂ آراء تصنیفات میں سے ایک ہےجن میں امام  نے بڑی تفصیل کے ساتھ بدعات اور عوام میں مروجہ افکار ونظریات کی تردید وابطال کیا ہے۔ مسئلہ وسیلہ ان مسائل میں سے ہے جن پر اہل بدعت بہت زیادہ زور دیتے ہیں ۔ امام ﷫ نے کتاب وسنت کی روشنی میں بڑے دل نشیں اور مؤثر انداز میں اس کی نقاب کشی کی اور حق کی راہ دکھلائی ہے۔یہ کتاب اگر چہ پہلے ویب سائٹ پر موجود تھی لیکن کتاب ہذا کا ترجمہ چونکہ شہید ملت علامہ احسان الٰہی ظہیر﷫ کا ہے اس لیے اسے بھی پبلش کردیاگیا ہے ۔اللہ تعالیٰ ہمیں راہ حق پر چلنے کی ت...

  • 4 اسلام میں پکی قبروں کی حیثیت (اتوار 09 فروری 2014ء)

    مشاہدات:17682

    دین اسلام شرک وبدعات ،افراط وتفریط اور غلو سے پاک دین ہے ۔شرعی دلائل کی رو سے شرک بہت خوفناک گناہ ہے ،جو انسان  کو رب تعالیٰ سے دور کردیتا اور جہنم کاسزاوار قرار دیتا ہے ۔سو شرکیہ عقائد ونظریات سے بچنے اور وہ اسباب ومحرکات جو شرک کا ذریعہ بنیں ،کتاب وسنت کے دلائل ان سے گریز کرنے کی سخت تاکید کرتے ہیں اورانسانو ں کو شرکیہ وکفریہ اعمال و افعال سے اجتناب کی پرزور تلقین کرتے ہیں۔ان شرکیہ او رکفریہ نظریات میں سے انتہائی خطرناک عقیدہ قبرپرستی اورمزارات کی پوجا ہے ۔شریعت اسلامیہ نے قبروں پر قبے او رمزارات تعمیر کرنے سے منع کیا ہے اور قبروالوں سے حاجات پوری کرانے اور انہیں مشکلات میں پکارنے کو حرام قراردیاہے ،قبروں پر قبوں کی تعمیر اورمزارات سازی امت مسلمہ میں شرک کا بہت بڑا محرک ہے ،جس کی وجہ سے امت مسلمہ کی اکثریت شرک جیسے سنگین جرم میں ملوث ہے اورتقدس و عقیدت کی آڑ میں تمام شرکیہ و کفریہ کام جاری ہیں ۔زیرنظر کتاب قبروں کی پختہ تعمیر ،مزارات و درگاہوں  کی تعمیر اور قبروں میں مدفون اولیا کرام کی پوجا پاٹ کی حرمت پر ایک شاندار علمی تصنیف ہے۔(ف۔ر)

  • 5 الجواب الباہر فی زوار المقابر (اردو) (اتوار 31 جنوری 2016ء)

    مشاہدات:1703

    اللہ اللہ تعالیٰ نے جس پر زور طریقے  سے شرک کی مذمت کی ہے کسی اور چیز کی نہیں کی ہے۔حتی کہ شرک کی طرف جانے والے ذرائع اور اسباب سے بھی منع فرما دیا ہے۔ابتدائے اسلام میں شرک کے اندیشے کے پیش نظر قبروں کی زیارت سے منع کردیا گیا تھا اور پھر عقیدہ توحید پختہ ہوجانے کے بعد اس کی اجازت دے دی گئی۔زیارتِ قبور  ایک جائز ومستحب بلکہ مسنون  عمل ہے۔ نبی کریم ﷺبھی قبروں کی زیارت کے لئے  تشریف لے جاتے اور اہل قبور کے لیےدعا کرتے اور فرماتے تم  قبروں کی زیارت  کیاکرو، وہ دنیا سے بے رغبتی کا سبب بنتی ہیں اور آخرت  کی یاد دلاتی ہیں۔آخرت کی یاد سے دنیوی زندگی کی بے ثباتی اور ناپائیداری کا احساس ہوتا ہے اور آخرت کی حقیقی زندگی کے لئے حسنِ عمل کا جذبہ اور رغبت پیدا ہوتی ہے۔ زیارتِ قبور  یادِ آخرت کا ایک اہم ترین ذریعہ ہے۔ شہرِ خاموشاں میں جاکر ہی بدرجۂ اتم یہ احساس ہوتا ہے کہ موت کتنی بڑی حقیقت ہے جس کا مزہ ہر شخص چکھے گا۔ ابتدائے آفرینش سے آج تک یہ سلسلہ جاری ہے اور تا قیامت جاری رہے گا۔ جلیل القدر انبیاء علیہم السلام مبعوث ہوئے اور باری باری موت کا مزہ چکھتے رہے۔ اسی طرح بزعمِ خویش خدائی کا دعویٰ کرنے والے بھی آئے، دارا و سکندر جیسے بادشاہ بھی گزرے لیکن موت کی آہنی گرفت سے کوئی بھی بچ نہ سکا۔ اگر اتنے نامور لوگوں کو بھی موت نے نہ چھوڑا تو ہم اور تم اس کے تصرف سے کیسے چھوٹ سکتے ہیں۔ لیکن قبروں کی یہ زیارت چند آداب کو ملحوظ رکھ کر کی جاتی ہے،تاکہ کسی بھی مومن سے کوئی شرکیہ فعل سرزد نہ ہوجائے۔ موت کی یاد تازہ کرنے کے لئے قبروں کی...

  • 6 اھداء ثواب (اتوار 03 جنوری 2016ء)

    مشاہدات:1206

    دور ِحاضر میں مسلمانوں کے اندر بہت سی خرافات ورسومات نےجنم لے لیا ہے جن میں سے کسی آدمی کے فوت ہوجانے کے بعد ایصالِ ثواب کا مسئلہ بہت غلط رنگ اختیار کرچکا ہے بالخصوص قرآن خوانی کے ذریعے مردوں کوثواب پہنچانے کارواج عام ہے ۔ قرآن خوانی اورگٹھلیوں وغیرہ پر کثرت سے تسبیحات پڑھ کر مرنے والے کو اس کا ثواب بخشا جاتاہے ۔حتی کہ قرآنی خوانی اور ایصال ثواب توایک پیشہ کی صورت اختیار کر چکی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ قرآن پڑھنے کا میت کوثواب نہیں پہنچتا۔ البتہ قرآن پڑھنےکے بعد میت کے لیے دعا کرنے سے میت کو فائدہ ہوسکتا ہے۔ہمارے ہاں جو اجتماعی طور قرآن خوانی ایک رواج ہے جس کا قرآن وحدیث سے کوئی ثبوت نہیں ملتا۔ احادیث کی رو سے چند ایک چیزوں کا ثواب میت کو پہنچتا ہے جن کی تفصیل حسب ذیل ہے ۔ 1۔کسی مسلمان کا مردہ کےلیے دعا کرنا بشرطیکہ دعا آداب وشروط قبولیت دعا کے مطابق ہو۔2 میت کے ذمے نذرکے روزے ہوں جو وہ ادا نہ کرسکا تو اس کی طرف سے روزے رکھنا بھی باعث ثواب ہے ۔3 نیک بچہ جوبھی اچھے کام کرے گا والدین اس کے ثواب میں شریک ہوں گے۔4مرنے کے بعد اچھے آثار اپنے پیچھے چھوڑجانے سےبھی میت کو ثواب ملتا ہے،صدقہ جاریہ بھی اس میں شامل ہے ۔ زیر تبصرہ کتابچہ ’’اھداء ثواب‘‘ محدث دوراں حافظ محمد گوندلوی﷫ کی رد بدعات کےسلسلے میں ایک علمی تحریر ہے۔ جس میں انہو ں میت کی نفع رسانی کےجائز اور ناجائز طریقے بیان کرنے کےساتھ ساتھ تیجے ،ساتویں وچالیسویں کے بدعت اور ناجائز ہونےکامدلل بیان ہے۔اور قرآن مجید کی آیت کریمہ’’ وَأَنْ لَيْسَ لِلْإِنْسَانِ إِلَّا...

  • 7 ایصال ثواب اور اس کی حقیقت (جمعہ 12 دسمبر 2014ء)

    مشاہدات:3614

    مسلمانوں کی بڑی اکثریت اس بات کو مانتی ہے کہ ہم دعا کے ذریعے سے اپنی نیکیوں کا اجر اپنے مرحوم اعزہ کو دے سکتے ہیں۔ چنانچہ اس تصور کے مطابق ایک شخص یا کچھ لوگ کوئی نیک عمل کرتے ہیں۔ پھر یہ دعا کی جاتی ہے کہ اس نیک عمل کا اجر فلاں مرحوم یا فلاں فلاں مرحوم کو عطا کیا جائے۔ ہمارے ہاں، اس کام کے لیے کچھ رسوم بھی رائج ہیں اور ان میں یہ عمل بڑے اہتمام سے کیا جاتا ہے۔یہ مسئلہ دور اول ہی سے موضوع بحث ہے۔ چنانچہ اس بات پر توسب متفق ہیں کہ میت کواخروی زندگی میں ہمارے دو طرح کے اعمال سے فائدہ پہنچتاہے۔ایک دعاے مغفرت، دوسرے وہ اعمال خیر جو میت کی نیابت میں کیے جائیں۔نیابت سے مراد یہ ہے کہ مرنے والااس عمل میں کسی نہ کسی نسبت سے شریک ہے۔ اس کی متعدد صورتیں ہو سکتی ہیں، مثلاً یہ کہ مرنے والے نے کوئی کام شروع کیا ہوا تھا اور تکمیل نہیں کر سکا، کوئی نذر مانی ہوئی تھی پوری نہیں کر سکا یا کوئی قرض تھا جسے وہ ادا نہیں کر سکا وغیرہ۔البتہ، اس میں اختلاف ہے کہ مرنے والے کی نسبت کے بغیر عمل کا ثواب بھی میت کو پہنچتا ہے یا نہیں۔مراد یہ ہے کہ میت کے اعزہ واقارب اپنے طور پر کوئی نیکی کا کام کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ ہمارے اس عمل کا ثواب فلاں کو دے دیا جائے۔مسئلہ یہ ہے کہ کیا یہ دعا کرنا درست ہے اور کیا یہ دعا قبول بھی ہوتی ہے، یعنی میت کو یہ ثواب واقعی دے دیا جاتا ہے۔ایک گروہ کی راے میں ان سوالوں کا جواب اثبات میں ہے۔ دوسرے گروہ کی راے میں ان کا جواب نفی میں ہے۔اور ہمارے ہاں اسی نفی والے قول پر ہی عمل ہے۔زیر تبصرہ کتاب " ایصال ثواب اور اس کی حقیقت"...

  • 8 ایصال ثواب جائز اور ناجائز صورتیں (ہفتہ 21 جنوری 2017ء)

    مشاہدات:1229

    عصرحاضر میں مسلمانوں کے اندر بہت سی خرافات ورسومات نےجنم لے لیا ہے جن میں سے کسی آدمی کے فوت ہوجانے کے بعد ایصالِ ثواب کا مسئلہ بہت غلط رنگ اختیار کرچکا ہے بالخصوص قرآن خوانی کے ذریعے مردوں کوثواب پہنچانے کارواج عام ہے ۔ قرآن خوانی اورگٹھلیوں وغیرہ پر کثرت سے تسبیحات پڑھ کر مرنے والے کو اس کا ثواب بخشا جاتاہے ۔حتی کہ قرآنی اور اایصال ثواب توایک پیشہ کی صورت اختیار کر چکی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ قرآن پڑھنے کا میت کوثواب نہیں پہنچتا۔ البتہ قرآن پڑھنےکے بعد میت کے لیے دعا کرنے سے میت کو فائدہ ہوسکتا ہے۔ہمارے ہاں جو اجتماعی طور قرآن خوانی ایک رواج ہے جس کا قرآن وحدیث سے کوئی ثبوت نہیں ملتا۔ احادیث کی رو سے چند ایک چیزوں کا ثواب میت کو پہنچتا ہے جن کی تفصیل حسب ذیل ہے ۔
    1۔کسی مسلمان کا مردہ کےلیے دعا کرنا بشرطیکہ دعا آداب وشروط قبولیت دعا کے مطابق ہو۔2 میت کے ذمے نذرکے روزے ہوں جو وہ ادا نہ کرسکا تو اس کی طرف سے روزے رکھنا بھی باعث ثواب ہے ۔3 نیک بچہ جوبھی اچھے کام کرے گا والدین اس کے ثواب میں شریک ہوں گے۔4مرنے کے بعد اچھے آثار اپنے پیچھے چھوڑجانے سےبھی میت کو ثواب ملتا ہے،صدقہ جاریہ بھی اس میں شامل ہے ۔ زیرتبصرہ رسالہ ’’ایصال ثواب کی جائز وناجائز صورتیں ‘‘ ادارہ دار السلام کے ریسرچ فیلو حافظ شبیر صدیق کی کاوش ہے۔یہ رسالہ پہلے ماہنامہ ’’ضیاء حدیث ‘‘ میں شائع ہوا ۔ بعد ازاں اسے افادۂ عام کی غرض سے مسلم پبلی کیشنز، لاہور کےمدیر جناب مولانانعمان فاروقی ﷾ نے اسے کتابی صورت میں شائع کیا ہے ۔فاضل مصنف نےاس میں...

  • 9 ایک سوال کی دس شکلیں (ہفتہ 21 فروری 2009ء)

    مشاہدات:15056

    حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سب سے پہلے اللہ تعالی کی وحدانیت کا درس دیا لیکن مرور زمانہ کے ساتھ ساتھ امت مسلمہ نے بھی پہلی قوموں کی روش اختیار کرتے ہوئے شرک کی مختلف صورتوں کو اپنا لیا- زیر نظر کتاب میں مصنف نے ''کیا اللہ تعالی کے علاوہ کوئی اور مشکل حل کرنے پر قادر ہے؟''سوال کی مختلف انداز میں دس شکلیں پیش کرتے ہوئے کتاب وسنت کی روشنی میں تسلی بخش جواب پیش کیاہے-جس میں انہوں نے اس چیز کو واضح کیا ہے کہ کیا اللہ کے علاوہ کوئی اور پکار کو سن سکتا ہے؟اگر سن سکتا ہے تو اس کی کیفیت کیا ہو گی؟کیا وہ سب کی پکار کو ایک ہی لمحے میں سن سکتا ہے؟کیا اس کو دنیا میں پائی جانے والی تمام زبانوں کے علم کا ہونا ضروری ہے یا نہیں-مصنف نے انتہائی سادہ انداز میں امت مسلمہ کو یہ سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ اہل قبور سے مانگنا ،ان کو تصرفات دینا اور اپنے معاملات میں ان کو بااختیار سمجھنا یہ سب شرک کی اقسام میں ہی آتا ہے –اسی طرح احناف کی معتبر کتب سے پائے جانے والی عقیدے کی خرابیوں کو واضح کیا ہے-جیسے قبروں کو پکا بنانا،ان کو بوسہ دینااور کسی ولی یا پیر فقیر کی قبر کے واسطے سفر کرنا ،ولی کےواسطے سے دعا کرنا،انبیاء اور اولیاء کی قبروں کا طواف کرنا اور نذریں چڑھانا-
     

  • 10 جنازہ ،قبر اور تعزیت کی چند بدعات (جمعہ 11 ستمبر 2009ء)

    مشاہدات:19350

    چند صفحات پر مشتمل یہ کتابچہ ان مشہور بدعات کی نشاندہی کرتا ہے جن میں اکثر و بیشتر مسلمان شعوری یا لاشعوری طور پر گرفتار ہیں۔ جنازہ، قبر اور تعزیت سے متعلقہ اکثر بدعات کو بہت سے کتاب و سنت کے شیدائی بھی بدعات نہیں سمجھتے اور ان میں بالواسطہ یا بلا واسطہ شریک ہو جاتے ہیں۔ زیر تبصرہ کتابچہ ان تمام احباب کیلئے انشاء اللہ سنت و بدعت کے درمیان تفریق کا شعور پیدا کرے گا۔

     

     

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 1388
  • اس ہفتے کے قارئین: 8912
  • اس ماہ کے قارئین: 41312
  • کل مشاہدات: 43644245

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں