کل کتب 45

دکھائیں
کتب
  • 26 #322

    مصنف : سید داؤد غزنوی

    مشاہدات : 17556

    قبر پرستی دنیا میں کیسے پھیلی

    (منگل 20 اپریل 2010ء) ناشر : مکتبہ محمدیہ، پشاور
    #322 Book صفحات: 34

    سیدنا انس ؓامیہ کے دور میں رویاکرتے تھے کہ عہداول کادین باقی نہیں رہا لیکن اگر وہ ہمارے اس دور کو دیکھتے تو کیاکہتے ؟کیا وہ ہمیں مشرک قرار نہ دیتے اور ہم انہیں کوئی برا نام نہ دیتے کیونکہ اس وقت اور آج کے اسلام میں اب اگر کوئی مشترک چیز باقی رہ گئی ہے تووہ فقط لفظ اسلام ہے یا چند ظاہری  ورسمی عبادات ہیں اور وہ بھی بدعت کی آمیزش سے پاک نہیں ۔کتاب اللہ اور سنت رسول ﷺ ہمارے پاس محفوظ تو ہیں لیکن بدنصیبی یہ ہے کو دونوں مہجور و متروک ہیں طاقوں او رالماریوں کی زینت یا کنڈوں ،تعویذوں میں مستعمل ہیں۔مسلمان اپنی عملی زندگی میں ان سے بالکل آزاد ہیں اوربا وجود ادعائے اتباع ان سے مخالف چل رہے ہیں ۔اجمیر کا عرس دیکھنے کےبعد کون کہہ سکتا ہے کہ یہ وہی مسلمان ہیں جوعامل قرآن اور علمبردارتوحید تھے ؟یہ کتابچہ قبرپرستی کیوں کر پھیلی ،اسباب اور فتنہ قبرپرستی کے انسداد کےلیے وسائل وذرائع  کی اہم مباحث پر مشتمل ہے ۔نیزیہ کتابچہ مصلحین امت کو یہ سبق دیتاہے کہ وہ اٹھیں او رعلماء سوء کے اس شرذمۂ مشومہ کے چہرہ سے نقاب الٹ دیں تاکہ مسلمان اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں کہ ان بڑی بڑی پگڑیوں کے نیچے شیطان...

  • 27 #2416

    مصنف : ابو مسعود عبد الجبار سلفی

    مشاہدات : 2604

    قبر پرستی کے فروغ کے لیے شیطان کی تدبیریں

    (اتوار 14 ستمبر 2014ء) ناشر : الہادی للنشر والتوزیع لاہور
    #2416 Book صفحات: 181

    پیغمبرِ  اسلام  حضرت محمد ﷺ نے اپنی امت کو جتنی تاکید کے ساتھ  شرکیہ امور سے  بچنے کی  ہدایت فرمائی تھی ۔افسوس ہے کہ آپﷺ کی یہ نام لیوا امت  اسی  قدر  مشرکانہ  عقائد واعمال  میں  مبتلا ہے  اور اپنے  پیغمبر  کی تمام ہدایات کو فراموش کر چکی ہے  ۔۔آپ  ﷺ   نے واضح  الفاظ میں اعلان فرمادیا تھا :أَلَا وَإِنَّ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ كَانُوا يَتَّخِذُونَ قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ وَصَالِحِيهِمْ مَسَاجِدَ، أَلَا فَلَا تَتَّخِذُوا الْقُبُورَ مَسَاجِدَ، إِنِّي أَنْهَاكُمْ عَنْ ذَلِك۔’’لوگو  کان کھول کر سن لو تم سے   پہلی امت کے لوگوں نے اپنے  انبیاء اور نیک لوگوں ،اولیاء  وصالحین کی قبروں کو عبادت گاہ (مساجد) بنالیا تھا ،خبر دار !تم  قبروں کو مساجد نہ  بنالینا۔میں تم کواس  روکتا ہوں۔اور آپ ﷺ اپنی مرض الموت میں  یہود ونصاریٰ کے اس مشرکانہ  عمل پر لعنت کرتےہوئے  فرما یا: لَعَنَ اللهُ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى، اتّ...

  • 28 #1874

    مصنف : ابن قیم الجوزیہ

    مشاہدات : 7171

    قبر پرستی کے فروغ کے لیے شیطان کی ہوشربا تدبیریں

    (ہفتہ 16 نومبر 2013ء) ناشر : محمدی پبلشنگ اینڈ کیسٹ ہاؤس لاہور
    #1874 Book صفحات: 130

    توحید  ایک  ایسا  تصور  ہے جس پر دین اسلام کی بنیاد اور اساس ہے۔یہ تمام انبیاء و رسل کی دعوت ہے۔اس کے بالمقابل شرک ہے۔ شرک  شعوری اور لاشعوری کئی طرح سے لوگوں میں آجاتا ہے۔تاہم شرک کی  سب سےزیادہ خطرناک صورت وہ ہے جب وہ لاشعوری طور پر آجائے۔انبیاء کے بعد اب یہ امت کے علماء کی ذمہ داری ہے کہ وہ ہرزمانے کے رسوم و رواجات کو سمجھتے ہوئے شرک وبدعت کی اشکال واضح کریں اور لوگوں کو ان موذی امراض سے بچائیں۔زیر نظر کتاب عالم اسلام کے مشہور و معروف عالم  ابن قیم کی تالیف ہے۔اس میں انہوں نے اپنے زمانے کا خیال کرتے ہوئےتصور توحید سمجھانے کی کوشش فرمائی ہے۔ لیکن مرور ایام کے باوجود آج  کے حالات اور اس کتاب کی علمیت کے باوصف  اس کی افادیت بعینہ اسی طرح برقرار ہے جیسے بوقت تحریر تھی۔واضح رہے کہ یہ کتاب ابن قیم کی  مشہور تالیف اغاثۃ اللفہان کے ایک جزء کا ترجمہ ہے ۔جسے مترجم موصوف نے بڑی محنت اور عرق ریزی سے  اصل اسلوب کتاب کا خیال کرتے  ہوئے اردو قالب میں ڈھالا ہے۔اور حتی الوسع کوشش کی ہے کہ  اردو میں اصل کتاب کا لطف آئے۔(ع۔ح)
    &...

  • 29 #475

    مصنف : ناصر الدین البانی

    مشاہدات : 3072

    قبروں پر مساجد اور اسلام

    (جمعرات 10 جون 2010ء) ناشر : مکتبہ اسلامیہ، لاہور
    #475 Book صفحات: 136

    اسلام دین توحید ہے  اسلامی تعلیمات تمام کی تمام عقیدہ توحید ہی کے گرد گھومتی ہیں توحید کی ضد شرک ہے کتاب وسنت میں شرک کی پرزور نفی کی گئی ہے اور ان امور سے بھی مجتنب رہنے کا حکم دیا گیاہے جو شرک کا ذریعہ بن سکتے ہیں انہی میں سے ایک مسئلہ قبروں پر مساجد تعمیر کرنےکابھی ہے کہ اس سے شرک کا دروازہ کھلتاہے رسول اکرم ﷺ نے اپنی حیات طیبہ کے آخری لمحات میں یہودونصاری پرلعنت فرمائی کے انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو مساجد کی حیثیت دے دی افسوس کہ آج امت مسلمہ میں یہ روش عام ہوچکی ہے اور بے شمار مزارات پرمساجد نظر آتی ہیں جہاں کھلم کھلاشرک ہورہا ہے عظیم محدث علامہ ناصر الدین البانی ؒ نے زیرنظر کتاب میں اسی مسئلے کی کتاب وسنت کی روشنی میں وضاحت کی ہے علامہ موصوف  نے ثابت کیاہے  کہ قبروں پرمسجدیں بنانا شریعت کی روسے قطعی حرام اور گناہ کبیرہ ہے او رتمام فقہی مکاتب فکر اسی کے قائل ہین علامہ ناصر الدین البانی ؒ  نے اس ضمن میں اہل بدعت کی طرف سے اٹھائے گئے شبہات کا بھی ٹھوس  علمی انداز میں ازالہ کیا ہے ہر بات کتاب وسنت کے محکم استدلال  اور قوی استشہاد کی بناء پر پی...

  • 30 #460

    مصنف : امام ابن تیمیہ

    مشاہدات : 16583

    قبروں کی زیارت اور صاحب قبر سے فریاد

    (پیر 28 فروری 2011ء) ناشر : دعوت وتوعیۃ الجالیات ربوہ۔ریاض
    #460 Book صفحات: 114

    آخرت کی یاد سے دنیوی زندگی کی بے ثباتی اور ناپائیداری کا احساس ہوتا ہے اور آخرت کی حقیقی زندگی کے لئے حسنِ عمل کا جذبہ اور رغبت پیدا ہوتی ہے۔ یادِ آخرت کا اہم ذریعہ زیارتِ قبور ہے۔ شہرِ خاموشاں میں جاکر ہی بدرجۂ اتم یہ احساس ہوتا ہے کہ موت کتنی بڑی حقیقت ہے جس کا مزہ ہر شخص چکھے گا۔ ابتدائے آفرینش سے آج تک یہ سلسلہ جاری ہے اور تا قیامت جاری رہے گا۔ جلیل القدر انبیاء ؑ مبعوث ہوئے اور باری باری موت کا مزہ چکھتے رہے۔ اسی طرح بزعمِ خویش خدائی کا دعویٰ کرنے والے بھی آئے، دارا و سکندر جیسے بادشاہ بھی گزرے لیکن موت کی آہنی گرفت سے کوئی بھی بچ نہ سکا۔ اگر اتنے نامور لوگوں کو بھی موت نے نہ چھوڑا تو ہم اور تم اس کے تصرف سے کیسے چھوٹ سکتے ہیں۔موت کی یاد تازہ کرنے کے لئے قبروں کی زیارت کرنا تو درست ہے لیکن قبر والوں سے جا کرمدد مانگنا ،قبروں پر چڑھاوے چڑھانا اور وہاں نذر ونیاز تقسیم کرنا وغیرہ ایسے اعمال جو شرک کے درجے کو پہنچ جاتے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب’’ قبروں کی زیارت اور صاحب قبر سے فری...

  • 31 #4686

    مصنف : ڈاکٹر صالح بن مقبل

    مشاہدات : 2612

    قبروں کے فتنے اور ان کی بدعتیں

    (پیر 13 جون 2016ء) ناشر : مکتبہ بیت السلام، مؤناتھ بھنجن، یو پی
    #4686 Book صفحات: 493

    پیغمبرِ  اسلام  حضرت محمد ﷺ نے اپنی امت کو جتنی تاکید کے ساتھ  شرکیہ امور سے  بچنے کی  ہدایت فرمائی تھی ۔افسوس ہے کہ آپﷺ کی یہ نام لیوا امت  اسی  قدر مشرکانہ  عقائد واعمال میں  مبتلا ہے  اور اپنے  پیغمبر  کی تمام ہدایات کو فراموش کر چکی ہے  ۔آپ  ﷺ نے واضح  الفاظ میں اعلان فرمادیا تھا :أَلَا وَإِنَّ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ كَانُوا يَتَّخِذُونَ قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ وَصَالِحِيهِمْ مَسَاجِدَ، أَلَا فَلَا تَتَّخِذُوا الْقُبُورَ مَسَاجِدَ، إِنِّي أَنْهَاكُمْ عَنْ ذَلِك۔ ’’لوگو  کان کھول کر سن لو تم سے   پہلی امت کے لوگوں نے اپنے  انبیاء اور نیک لوگوں ،اولیاء  وصالحین کی قبروں کو عبادت گاہ (مساجد) بنالیا تھا ،خبر دار !تم  قبروں کو مساجد نہ  بنالینا۔میں تم کواس سے  روکتا ہوں۔اور آپ ﷺ اپنی مرض الموت میں  یہود ونصاریٰ کے اس مشرکانہ عمل پر لعنت کرتےہوئے  فرما یا: لَعَنَ اللهُ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى،اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِه...

  • 32 #2646

    مصنف : ام عبد منیب

    مشاہدات : 2759

    قرآن خوانی

    (جمعہ 21 نومبر 2014ء) ناشر : مشربہ علم وحکمت لاہور
    #2646 Book صفحات: 43

    قرآن خوانی  فارسی زبان کا  لفظ ہےجس کامطلب ہےقرآن پڑھنا ۔ہمارے  معاشرے  میں اس سے مراد کسی حاجت برآری یا مردے کوثواب  پہنچانےکے لیے  لوگوں کاجمع ہو  کر  قرآن   مجید پڑھنا۔ قرآنی خوانی کےلیے لوگوں کوکسی مخصوص وقت پر بلایا جاتا ہے  جس جس میں یہ پیغام دیا جاتا ہے کہ فلاں مقصد کےلیے  قرآنی خوانی  ،یٰسین خوانی  یا آیت کریمہ وغیرہ  پڑھوانا ہے ۔ ساتھ حسبِ مقدور دعوت کابھی اہتمام کیا جاتاہے ۔لوگ اس میں باقاعدہ تقریب کےانداز میں آتے ہیں،حاضرین  میں  علیحدہ علیحدہ تیس پارے  بانٹ دیے جاتے ہیں ۔پڑھنے کےبعد  دعوت  اڑائی جاتی ہے ۔ بعض لوگ ختم بھی پڑھواتے ہیں اور بعض لوگ  رشتہ داروں کی بجائے مدارس کےبچوں کوگھر میں بلالیتے ہیں اور بعض مدرسہ میں ہی بیٹھ کر قرآن خوانی کرنے کا کہہ دیتے ہیں ۔اور بعض لوگ  گھروں میں سیپارے  بھیج دیتے ہیں۔ مردوں کو ثواب  پہنچانے والے اس طرح  کےتمام امور  شریعت کےخلاف ہیں  اور محض رسم ورواج کی حیثیت رکھتے ہیں۔حقیق...

  • 33 #134

    مصنف : مختار احمد ندوی

    مشاہدات : 17303

    قرآن خوانی اور ايصال ثواب

    (پیر 02 مارچ 2009ء) ناشر : مکتبہ دعوت توعیۃ الجالیات،ربوہ،ریاض
    #134 Book صفحات: 64

    اس کتاب میں قرآ ن و حدیث کے دلائل سے ثابت کیا گیا ہے کہ تیجا ،ساتواں،دسواں،چہلم اور برسی وغیرہ بدعات مروجہ کا ثواب مردوں کو نہیں پہنچتا , لہذا اس بات کو ثابت کرنے کے لیے بے شمار مسائل پر گفتگو کی گئی ہے مشروط اور غیر مشروط طریقہ کار , میت کے گھر کھا نا کھانے کی روایت , قبروں پر قرآن خوانی اور ایصال ثواب , قبروں کی زیارت اور آپّ کا معمول , آئمہ حدیث , مذاہب اربعہ , علماء اصول کے اقوال وغیر ہ چالیسویں کی بدعت , مزاروں پر تلاوت قرآن , قبروں پر اجتماع , قبروں پر نذر و ذبیحہ اور ختم قرآن  پر بحث کی گئی ہے-نگاہ دوڑائیے تو درگاہیں اور آستانے انسانوں کے ہجوم سے اٹے ہوئے ہیں اور مسجدیں تنہا اور ویران ہیں۔ اس کتاب کے ذریعے شرک میں مبتلا مسلمانوں کو عام فہم انداز میں آستانوں اور مزاروں پر ہونے والے شرکیہ امور سے متنبہ کیا گیا ہے۔ فاضل مصنف نے پاکستان کے مختلف علاقوں کا دورہ کر کے وہاں کی درگاہوں اور گدیوں پر ہونے والے شرمناک مناظر کی نشاندہی کی ہے اور کتاب و سنت کی روشنی میں ان کا خوب پوسٹ مارٹم کیا ہے۔ کتاب اپنے اسلوب، دلائل اور مشاہدات کے اعتبار سے ایک منفرد حیثیت کی حامل ہے۔
    &...

  • 34 #133

    مصنف : سید بدیع الدین شاہ راشدی

    مشاہدات : 22322

    قرآن خوانی کی شرعی حيثيت

    (منگل 03 مارچ 2009ء) ناشر : ادارہ صوت الاسلام،رحیم یار خان
    #133 Book صفحات: 49

    قرآن خوانی کی شرعی حیثیت کے موضوع پر علامہ بدیع الدین راشدی صاحب کی ایک بہترین اور جامع تحریر ہے-یہ کتابچہ اصل میں انہوں نے کسی سوال کے جواب میں تحریر فرمایا ہے جس میں انہوں نے مروجہ ایصال ثواب اور قرآنی خوانی کے ذریعے میت کے لیے ایصال ثواب کی شرعی حیثیت کو واضح کیا ہے-اس کتابچہ میں شاہ صاحب نے عقلی ونقلی دلائل سے اس چیز کو ثابت کیا ہے کہ کون سے ایسے امور ہیں جن کے کرنے سے مرنے کے بعد بھی انسان کے نامہ اعمال میں نیکیاں درج ہوتی رہتی ہیں اور کون سے ایسے خود ساختہ طریقے ہیں کہ جن کے کرنے سے میت کوئی فائدہ نہیں ہوتا ہے-مصنف نے اس چیز کو واضح کیا ہے کہ مروجہ قرآنی خوانی کا طریقہ اور ایصال ثواب کا طریقہ نہ تو رسول اللہ ﷺ کے دور میں تھا نہ کسی نے کیا اور نہ ہی صحابہ میں سے کسی نے کیا ہے اور نہ بعد میں تابعین سے اس کی کوئی گنجائش نکلتی ہے-اس لیے اگر اس کتاب کو معتدل مزاج کے ساتھ پڑھا جائے تو اصلاح کے لیے بہت سارے پہلو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے-
     

  • 35 #3694

    مصنف : عادل سہیل ظفر

    مشاہدات : 2041

    قرآن کریم اور صحیح ثابت شدہ سنت مبارکہ کے مطابق وسیلہ کیا ہے؟

    (منگل 13 اکتوبر 2015ء) ناشر : نا معلوم
    #3694 Book صفحات: 31

    وسیلہ کے معنی،ایسی چیز کے ہیں جو کسی مقصود کےحصول یا اس کے قرب کا ذریعہ ہو۔امام شوکانی ؒ فرماتے ہیں:"وسیلہ جو قربت کے معنی میں ہے،تقوی اور دیگر خصال خیرپر صادق آتا ہے جن کے ذریعے سے بندے اپنے رب کا قرب حاصل کرتے ہیں۔"اللہ کی طرف وسیلہ تلاش کرنے کا مطلب ہے کہ،ایسے اعمال اختیار کرو جس سے تمہیں اللہ کی رضا اور اس کا قرب حاصل ہو جائے۔اسی طرح منھیات ومحرمات کے اجتناب سے بھی اللہ کا قرب حاصل ہوتا ہے۔ حدیث میں اس مقام محمود کو بھی وسیلہ کہا گیا ہے جو جنت میں نبی کریم ﷺکو عطا فرمایا جائےگا،اسی لیےآپ نے فرمایا جو اذان کے بعد میرے لیے یہ دعائے وسیلہ کرےگا وہ میری شفاعت کا مستحق ہوگا۔شریعت اسلامیہ میں وسیلے کی دو قسمیں ہیں۔پہلی قسم جائز اور درست وسیلے کی ہے جبکہ دوسری قسم ناجائز اور ممنوع کی ہے۔ زیر تبصرہ کتابچہ" قرآن کریم، اور صحیح ثابت شدہ سنت مبارکہ کے مطابق "وسیلہ" کیا ہے؟" محترم عادل سہیل ظفر صاحب کی کاوش ہے جس میں انہوں نے وسیلے کا معنی ومفہوم اور اس کی حقیقت کوقرآن وسنت کی روشنی میں بیان فرمایا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ان...

  • 36 #2842

    مصنف : مختلف اہل علم

    مشاہدات : 3737

    ماہنامہ السنۃ وسیلہ نمبر

    (بدھ 28 جنوری 2015ء) ناشر : دار التخصص و التحقیق جہلم
    #2842 Book صفحات: 266

    وسیلہ کامطلب ہے ایسا ذریعہ استعمال کیا جو مقصود تک پہنچا دے۔ جائز وسیلہ کی تین صورتیں ہیں جو کہ قرآن و حدیث سے ثابت ہیں اور وہ درج ذیل ہیں۔
    1۔اللہ تعالیٰ کے اسماء کا وسیلہ قرآن میں ہے: وَلِلَّهِ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَى فَادْعُوهُ بِهَا(الاعراف:108)’’اور اللہ کے اچھے نام ہیں پس تم اس کے ناموں سے پکارو‘‘۔اللہ تعالیٰ سے اس کے اسماء حسنیٰ کے وسیلہ سے دعا کرنا درست ہے جیسا کہ اوپر آیت میں ذکر ہے جبکہ حدیث میں آتا ہے کہ حضرت ابوبکرؓ نے نبیﷺ سے دعا کا پوچھا تو آپﷺ نے یہ دعا پڑھنے کا کہا: " قُلْ: اللَّهُمَّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي ظُلْمًا كَثِيرًا، وَلاَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ، فَاغْفِرْ لِي مَغْفِرَةً مِنْ عِنْدِكَ، وَارْحَمْنِي إِنَّكَ أَنْتَ الغَفُورُ الرَّحِيمُ "(صحيح بخاری:834’)’اے اللہ ! یقیناً میں نے اپنی جان پر بہت ظلم کیا اور تیرے علاوہ کوئی بخشنے والا نہیں ۔پس تو اپنی خصوصی بخشش کے ساتھ میرے سب گناہ معاف کردے او رمجھ پر رحم فرما، بے شک تو ہی بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔‘‘اس د...

  • 37 #3885

    مصنف : محمد صادق سیالکوٹی

    مشاہدات : 5716

    مسئلہ وسیلہ کی شرعی حیثیت

    (اتوار 03 جنوری 2016ء) ناشر : ادارہ تبلیغ اسلام، جام پور، ضلع راجن پور
    #3885 Book صفحات: 52

    مسئلہ آخرت کاہو یا دنیا کاانسان ’’ وسیلہ‘‘ کامحتاج ہے ۔ وسیلہ زندگی کی ایک بنیادی حقیقت ہے ۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کااعتراف ہرحقیقت پسند کرتا ہے ۔اللہ تعالیٰ نے اہل یمان کووسیلہ کاحکم دیا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَابْتَغُوا إِلَيْهِ الْوَسِيلَةَ وَجَاهِدُوا فِي سَبِيلِهِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ (المائدہ) ’’اے ایمان والو اللہ سے ڈرو اور اس کی طرف وسیلہ تلاش کرو اوراس کی راہ میں جہاد کرو تاکہ تم کامیاب ہوجاؤ‘‘۔وسیلہ کامطلب ہے ایسا ذریعہ استعمال کیا جائے جو مقصود تک پہنچا دے۔توسّل اور اس کے شرعی حکم کے بارے میں بڑا اضطراب واِختلاف چلا آ رہا ہے ۔کچھ اس کو حلال سمجھتے ہیں اورکچھ حرام ۔کچھ کو بڑا غلو ہے اور کچھ متساہل ہیں ۔اور کچھ لوگوں نے تو اس وسیلہ کے مباح ہونے میں ایسا غلو کیا کہ اﷲکی بارگاہ میں اس کی بعض ایسی مخلوقات کا وسیلہ بھی جائز قرار دے دیاہے ، جن کی نہ کوئی حیثیت ہے نہ وقعت ۔مثلاً اولیاء کی قبریں ،ان قبروں پر لگی ہوئی لوہے کی جالیاں ،قبر کی مٹی ،پتھر ا...

  • 38 #7041

    مصنف : عبد الولی عبد القوی

    مشاہدات : 1213

    مسلمانان برصغیر ہند و پاک کے یہاں ناجائز برکت طلبیوں کے مظاہر اور ان کی بابت اسلام کا موقف

    (جمعرات 29 اگست 2019ء) ناشر : انجمن اصلاح معاشرہ انڈیا
    #7041 Book صفحات: 160

    تبرک عربی زبان کا لفظ ہے جس کا لغوی معنیٰ ہے  کسی سے برکت حاصل کرنا۔ قرآن و حدیث کی تعلیمات سے پتہ چلتا ہے کہ بعض چیزوں اور مقامات کو اللہ تعالٰی نے خصوصی خیر و برکت سے نوازا ہے اور اِن کو دیگر مخلوق پر ترجیح دی ہے۔ ان بابرکت ذوات اور اشیاء سے برکت و رحمت اور سعادت چاہنا اور ان کے وسیلہ سے اللہ تعالٰی کی بارگاہ میں دعا کرنا تبرک کے مفہوم میں شامل ہے۔ شریعت میں تبرک کی وہی قسم معتبر اور قابلِ قبول ہے جو قرآن و سنت اور آثارِ صحابہ سے ثابت ہو۔ہر مسلمان کو برکت اور تبرک کی معرفت اور اس کے اسباب وموانع کی پہچان حاصل کرنی چاہئے، تاکہ وہ اپنی زندگی میں ایسی عظیم خیر کو حاصل کر سکےاور ایسے تمام اقوال وافعال سے اجتناب کر سکے جو مسلمان کے وقت، عمر، تجارت اور مال وعیال میں برکت کےحصول میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ہر قسم کی خیر وبرکات کا حصول قرآن وسنت کی تعلیمات کے ذریعے ہی سے ممکن ہے، کیونکہ جس ذات بابرکات نے انسانوں کو پیدا کیا ہے، اسی نے وحی کے ذریعے سے انہیں آگاہ کیا ہے کہ کون سے راستے پر چلنے والے لوگ برکت ورحمت کے مستحق ہوتے ہیں اور کس راستے کے راہی...

  • 39 #3783

    مصنف : محمد نسیب الرفاعی

    مشاہدات : 2871

    مشروع اور ممنوع وسیلہ کی حقیقت ( نسیب الرفاعی )

    (پیر 30 نومبر 2015ء) ناشر : الدار السلفیہ، ممبئی
    #3783 Book صفحات: 339

    مسئلہ آخرت کاہو یا دنیا کاانسان ’’ وسیلہ‘‘ کامحتاج ہے ۔ وسیلہ زندگی کی ایک بنیادی حقیقت ہے ۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کااعتراف ہرحقیقت پسند کرتا ہے ۔اللہ تعالیٰ نے اہل یمان کووسیلہ کاحکم دیا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَابْتَغُوا إِلَيْهِ الْوَسِيلَةَ وَجَاهِدُوا فِي سَبِيلِهِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ (المائدہ) ’’اے ایمان والو اللہ سے ڈرو اور اس کی طرف وسیلہ تلاش کرو اوراس کی راہ میں جہاد کرو تاکہ تم کامیاب ہوجاؤ‘‘۔وسیلہ کامطلب ہے ایسا ذریعہ استعمال کیا جائے جو مقصود تک پہنچا دے۔توسّل اور اس کے شرعی حکم کے بارے میں بڑا اضطراب واِختلاف چلا آ رہا ہے ۔کچھ اس کو حلال سمجھتے ہیں اورکچھ حرام ۔کچھ کو بڑا غلو ہے اور کچھ متساہل ہیں ۔اور کچھ لوگوں نے تو اس وسیلہ کے مباح ہونے میں ایسا غلو کیا کہ اﷲکی بارگاہ میں اس کی بعض ایسی مخلوقات کا وسیلہ بھی جائز قرار دے دیاہے ، جن کی نہ کوئی حیثیت ہے نہ وقعت ۔مثلاً اولیاء کی قبریں ،ان قبروں پر لگی ہوئی لوہے کی جالیاں ،قبر کی مٹی ،پتھر ا...

  • 40 #2226

    مصنف : ناصر الدین البانی

    مشاہدات : 3001

    ممنوع اور مشروع وسیلہ کی حقیقت

    (بدھ 18 جون 2014ء) ناشر : نا معلوم
    #2226 Book صفحات: 158

    توسّل اور اس کے شرعی حکم کے بارے میں بڑا اضطراب واِختلاف چلا آ رہا ہے ۔کچھ اس کو حلال سمجھتے ہیں اورکچھ حرام ۔کچھ کو بڑا غلو ہے اور کچھ متساہل ہیں ۔اور کچھ لوگوں نے تو اس وسیلہ کے مباح ہونے میں ایسا غلو کیا کہ اﷲکی بارگاہ میں اس کی بعض ایسی مخلوقات کا وسیلہ بھی جائز قرار دے دیاہے ، جن کی نہ کوئی حیثیت ہے نہ وقعت ۔مثلاً اولیاء کی قبریں ،ان قبروں پر لگی ہوئی لوہے کی جالیاں ،قبر کی مٹی ،پتھر اور قبر کے قریب کا درخت۔اس خیال سے کہ ''بڑے کا پڑوسی بھی بڑا ہوتا ہے''۔اور صاحب قبر کے لئے اﷲکا اکرام قبر کو بھی پہنچتا ہے 'جس کی وجہ سے قبر کا وسیلہ بھی اﷲکے پاس درست ہوجاتا ہے ۔یہی نہیں بلکہ بعض متاخرین نے تو غیر اﷲسے استغاثہ کو بھی جائز قرار دے دیا اور دعویٰ یہ کیا کہ یہ بھی وسیلہ ہے 'حالانکہ یہ خالص شرک ہے جو توحید کی بنیاد کی خلاف ہے۔ زیر تبصرہ کتاب "ممنوع اور مشروع وسیلہ کی حقیقت" اردن کے معروف عالم دین محدث العصر شیخ محمد ناصر الدین البانی ﷫کی کی وش ہے۔اس میں انہوں نے وسیلے کی لغوی واصطلاحی تعریف،وسیلے کی اقسام ،مشروع وسیلہ اور ممن...

  • 41 #2706

    مصنف : ام عبد منیب

    مشاہدات : 3434

    نذر ( منت ) ماننا

    (جمعہ 05 دسمبر 2014ء) ناشر : مشربہ علم وحکمت لاہور
    #2706 Book صفحات: 34

    اسلامی شریعت میں نذر ایک اصطلاح ہے جس کا مطلب ہےکسی خیر کے کام کا عہد کرلینا۔یعنی نذریا منت ایک وعد ہ ہے  جو اللہ تعالیٰ سےکیا جاتا ہے ۔ لہذا تمام وعدوں کے نسبت اس وعدے کو پورا کرنا زیادہ اہم اور قابل ترجیح ہے ۔ اگرچہ عہد کوئی بھی ہو اسے پورا کرنا مسلمان پر لازم ہے جیسا کہ ارشاد باری ہے : وَأَوْفُوا بِالْعَهْدِ إِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْئُولًا(الاسراء:34) ’’اور عہد پورا کرو بے  شک  عہد کے متعلق سوال کیاجائے گا‘‘۔ نذرماننے میں قسم  کھانے کامفہوم خود بخود شامل ہے  لہذا یہ ایک  وعدہ ہے  کہ جس کے متعلق قسم کھائی جاتی ہے کہ اسے  ضرور پورا کروں گا۔نذ ر ماننا  فرض نہیں  لیکن  جب کوئی نذر مان لے  توپھر اسے پورا کرنا فرض ہے  ہوجاتا ہے اور نذرپوری نہ کرنا سخت گناہ ہے ۔زیرنظر کتابچہ ’’نذر(منت) ماننا‘‘ محترمہ  ام عبد منیب صاحبہ کا مرتب شدہ ہے  ۔جس میں  انہوں نے قرآن وحدیث کی روشنی میں کی نذر کی مشروعیت اور اس کی شرائط،جائز  وناجائز نذر ا...

  • 42 #1852

    مصنف : الشیخ محمد بن احمد بن عبد السلام

    مشاہدات : 5061

    وسیلہ انبیاء و اولیاء قرآن وحدیث کی روشنی میں

    (جمعہ 25 اکتوبر 2013ء) ناشر : طارق اکیڈمی، فیصل آباد
    #1852 Book صفحات: 86

    شرک وبدعت  امت مسلمہ کے لیے ایسے موذی امراض ہیں  جو امت کے لیے باعث ہلاکت ہیں۔ان کی وجہ سے جہاں امت کے عقائد  و اعمال میں دراڑیں پڑتی ہیں وہاں   اس کا دوسرا نقصان یہ ہوتا ہے کہ امت کا شیرازہ منتشر ہو جاتا ہے۔دینی اقدار ختم ہی نہیں بلکہ تبدیل ہو کر رہ جاتی ہیں۔جو ختم ہونے سے بھی   زیادہ نقصان دہ صورت حال ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسی شرک و بدعت کے خاتمے کے لیے اپنے لاکھوں کروڑوں انبیاء و رسل مبعوث  فرمائے۔ ان سب کا یہی مقصد تھا کہ اس دنیا سے یا اپنی اپنی امتوں سے شرک و بدعت کا خاتمہ کیا جائے۔ چنانچہ اس کےلیے  انہوں نے دن رات کوششیں کیں۔پھر انبیاء کے بعد  ان نیک لوگوں نے بھی اسی تعلیم کا درس دیا۔ یعنی انہوں نے انبیاء والا سلسلہ جاری رکھا۔ لیکن شرک کی بنیا گہری عقیدت کا جذبہ ہے چنانچہ بعد میں انسانوں نے ان نیک شخصیات کوہی وسیلہ شرک بنا لیا۔ زیرنظرکتاب میں انسانوں کی  اسی گمراہی کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ وہ  ان  دونوں طرح کی ہستیوں کو   اپنے اعمال  میں کہاں کہاں اور کیسے کیسے وسیلہ شرک بناتے ہیں۔ اور اس کے بالمقاب...

  • 43 #3806

    مصنف : ناصر الدین البانی

    مشاہدات : 2878

    وسیلہ کے انواع و احکام

    (پیر 07 دسمبر 2015ء) ناشر : طارق اکیڈمی، فیصل آباد
    #3806 Book صفحات: 202

    مسئلہ آخرت کاہو یا دنیا کاانسان ’’ وسیلہ‘‘ کامحتاج ہے ۔ وسیلہ زندگی کی ایک بنیادی حقیقت ہے ۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کااعتراف ہرحقیقت پسند کرتا ہے ۔اللہ تعالیٰ نے اہل یمان کووسیلہ کاحکم دیا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَابْتَغُوا إِلَيْهِ الْوَسِيلَةَ وَجَاهِدُوا فِي سَبِيلِهِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ (المائدہ) ’’اے ایمان والو اللہ سے ڈرو اور اس کی طرف وسیلہ تلاش کرو اوراس کی راہ میں جہاد کرو تاکہ تم کامیاب ہوجاؤ‘‘۔وسیلہ کامطلب ہے ایسا ذریعہ استعمال کیا جائے جو مقصود تک پہنچا دے۔توسّل اور اس کے شرعی حکم کے بارے میں بڑا اضطراب واِختلاف چلا آ رہا ہے ۔کچھ اس کو حلال سمجھتے ہیں اورکچھ حرام ۔کچھ کو بڑا غلو ہے اور کچھ متساہل ہیں ۔اور کچھ لوگوں نے تو اس وسیلہ کے مباح ہونے میں ایسا غلو کیا کہ اﷲکی بارگاہ میں اس کی بعض ایسی مخلوقات کا وسیلہ بھی جائز قرار دے دیاہے ، جن کی نہ کوئی حیثیت ہے نہ وقعت ۔مثلاً اولیاء کی قبریں ،ان قبروں پر لگی ہوئی لوہے کی جالیاں ،قبر کی مٹی ،پتھر ا...

  • 44 #297

    مصنف : حافظ مقصود احمد

    مشاہدات : 16214

    پاکپتن کے بہشتی دروازے کی شرعی حیثیت

    (اتوار 28 مارچ 2010ء) ناشر : مرکز دعوۃ التوحید، اسلام آباد
    #297 Book صفحات: 126

    دین اسلام میں جس قدر عقائد کی اصلاح اور شرک کی مذمت پر زور دیا گیا ہے بدقسمتی سے امت مسلمہ، اور خصوصاً برصغیر پاک وہند میں اکثریت اسی شدو مد کے ساتھ  خانقاہی سلسلوں کی صورت اور درباروں کی شکل میں پھیلے ہوئے شرک کے جال میں  پھنسے نظر آتے ہیں-ان اوراق میں مصنف نے ان درباروں ، مزاروں اور جبوں وقبوں کی شرعی حیثیت واضح کرتے ہوئے پاکپتن میں واقع المشہور ''بہشتی دروازے'' کو موضوع بحث بنایا ہے – اور ان حضرات کے سامنے چند سوالات پیش کرتے ہوئے اس مسئلے کی نزاکت واضح کرنے کی کوشش کی ہے کہ  اگر  یہ واقعتا بہشتی دروازہ ہے تو سارا سال بند کیوں رہتا ہے اور مخصوص عرس کے ایام میں ہی کیوں کھولا جاتا ہے؟اگر یہ بہشتی دروازہ ہے تو کتاب وسنت میں اس کا ذکر کیوں موجود نہیں؟اور قرون اولی کے مسلمان اس سعادت سے کیوں محروم رہے؟ علاوہ ازیں ٹھوس دلائل کے ساتھ ثابت کیا گیاہے کہ خواجہ نظام الدین اولیاء کی جانب منسوب کی جانے والی روایت جھوٹ اور بہتات تراشی کے سوا کچھ نہیں-کتاب کے شروع میں روزنامہ نوائے وقت میں شائع ہونے والے مضمون '' باب ج...

  • 45 #563

    مصنف : امام ابن تیمیہ

    مشاہدات : 16932

    کتاب الوسیلہ

    (بدھ 25 مئی 2011ء) ناشر : اسلامی اکادمی،لاہور
    #563 Book صفحات: 403

    شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ کا اسم گرامی محتاج تعارف نہیں ۔ساتویں صدی ہجری میں جب کہ ہر طرف شرک و بدعت ،تصوف و فلسفہ اور الحاد ولادینیت کے گھٹا گھوپ اندھیرے چھائے ہوئے تھے،حضرت الامام نے توحید رسالت اور آخرت پر ایمان و یقین کی قندیلیں روشن کیں او ر شرک و بدعت کے خلاف علم جہاد بلند کیا۔امام صاحب کے زمانہ میں ایک گمراہ کن عقیدہ یہ بھی فروغ پارہا تھا کہ اللہ تعالی تک رسائی حاصل کرنے کے لیے کسی بزرگ کے وسیلہ کی ضرورت ہے ۔جس طرح ایک عام شہری کسی درمیانی واسطہ کے بغیر براہ راست بادشاہ  وقت تک نہیں پہنچ سکتا،اسی طرح اللہ عزوجل کا تقرب بھی کسی توسط کے بغیر ممکن نہیں ۔ظاہر ہے کہ یہ نظریہ قرآن وحدیث سے کسی طرح میل نہیں کھاتا لہذا امام صاحب نے اس کی پرزور تائید کی اور شرعی دلائل کی روشنی میں وسیلہ کے جائز و ناجائز پہلوؤں پر سیر حاصل بحث کی۔موجودہ زمانے میں بھی یہ مسئلہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے کہ اہل بدعت وسیلہ کے غلط تصور کو معاشرے میں پھیلانے کے لیے کوشاں ہیں ۔لہذا ہر متبع سنت کو اس کتاب کا مطالعہ کرنا چاہیے تاکہ وہ حقیقت حال سے آگاہ ہو سکے اور شکوک و شبہات سے خود  بھی بچ سکے اور دو...

< 1 2 >

ایڈ وانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین 1465
  • اس ہفتے کے قارئین 17044
  • اس ماہ کے قارئین 14951
  • کل قارئین53257752

موضوعاتی فہرست