منکرین حدیث کے چار اعتراضات اور ان کا علمی و تحقیقی جائزہ(239#)

عبد الرحمن کیلانی
ابو سیاف اعجاز احمد تنویر
دار الاندلس،لاہور
112
2240 (PKR)
2.6 MB

فلسفہ اور سائینٹیفک نظریات نیز مغربی مادی ترقی سے مرعوبیت زدہ ذہن لئے ہوئے اور اتباع نفس کے تحت قرآنی آیات کی من مانی تحریف نما تاویل کی تکنیک استعمال کرتے ہوئے موجودہ دور کے نام نہاد اہل قرآن (منکرین حدیث) رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ثابت شدہ سنتوں میں تشکیک پیدا کرکے سنت کو ناقابل اعتبار قرار دینے کی روش اختیار کئے ہوئے ہیں۔ زیر نظر کتاب میں منکرین حدیث کی طرف سے بتکرار و شدت پیش کئے جانے والے بنیادی نوعیت کے چار اعتراضات کا تسلی بخش جواب دیا گیا ہے۔ وہ سوالات یہ ہیں:
1۔  کیا "ظن" دین بن سکتا ہے۔
2۔  کیا واقعی حدیث اور تاریخ ایک ہی سطح پر ہیں یا ان میں کچھ فرق ہے؟ (تقابلی جائزہ)
3۔ کثرت احادیث مثلاً یہ اعتراض کہ امام بخاری رحمہ اللہ کو چھ لاکھ احادیث یاد تھیں۔ وہ آ کہاں سے گئیں اور پھر گئیں کدھر؟
4۔ طلوع اسلام والوں کے ہاں معیار حدیث کیا ہے؟
 یہ کتاب دراصل منکرین حدیث کے خلاف لکھی گئی مبسوط کتاب "آئینہ پرویزیت" کا ایک باب ہے۔ جسے اس کی اہمیت کے پیش نظر علیحدہ سے شائع کیا گیا ہے۔

عناوین

 

صفحہ نمبر

خطبہ مسنونہ

 

13

پیش لفظ

 

15

معتزلہ سے 'طلوع اسلام'تک

 

16

قرآنی مسائل

 

16

دوام حدیث

 

16

دفاع حدیث

 

16

'طلوع اسلام 'کا اسلام

 

17

ابتدائے نگارش

 

21

اعتراض نمبر1:حدیث ظنی علم ہے اور ظن دین نہیں ہو سکتا

 

 

'طلوع اسلام'کا دعوی

 

29

مغالطے اور جھوٹ

 

30

ظن اور یقین کی بحث

 

31

لفظ ظن کی لغوی بحث

 

32

'طلوع اسلام'کی دیانت

 

35

محدثین کےنزدیک لفظ ظن  کا مفہوم

 

35

سنن متواترہ ومتعاملہ

 

35

احادیث متواترہ

 

36

حدیث عزیزاور مشہور

 

36

حدیث غریب

 

37

حدیث مقبول کی اقسام

 

38

حدیث مردود کی اقسام

 

38

عقلوں کا فرق

 

39

ظن غالب پر دین کی بنیادیں

 

40

نگاہ بازگشت

 

40

کیا ظن دین ہوسکتا ہے؟

 

42

1-قرآن سے استدلال

 

42

1-شہادت

 

42

2-ثالثی فیصلہ

 

43

3-اعمال کے نتائج

 

44

ائمہ رجال اورمولانامودودی صاحب

 

45

2-سنت رسول سے استدلال

 

48

3-دینی معلومات سے استدلال

 

50

4-'طلوع اسلام' کےنظریہ سے استدلال

 

51

5-عام معمولات سے استدلال

 

51

اعتراض نمبر 2:تاریخ اورحدیث کا فرق

 

 

صحیح البخاری کے پورے نام کی وضاحت

 

53

الجامع

 

53

الصحیح

 

54

المسند

 

70

المختصر

 

71

من امور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم

 

71

وسننہ وایامہ

 

72

تاریخ اور حدیث کا تقابل

 

73

احادیث اور اناجیل

 

76

اعجاز حدیث

 

77

اعتراض نمبر 3:کثرت احادیث

 

 

احادیث کی عددی کثرت کے اسباب

 

78

بلحاظ وسعت معانی

 

78

بلحاظ اسناد اور طرق

 

79

سنت رسول  صلی اللہ علیہ وسلم کا دارومدار زیادہ ترتعامل صحابہ رضی اللہ عنہم پر

 

79

موضوع احادیث کا وجود

 

80

موضوع احادیث کے طرق  اور اسناد

 

81

حدیثوں کی تعداد

 

81

کذب بیانی اور دھوکہ دہی

 

83

احادیث کی اصل تعداد

 

84

ذخیرہ احادیث میں رطب ویابس کا اندراج

 

85

صحیح احادیث کی صحت کی عقلی دلیل

 

86

'طلوع اسلام'کا سفید جھوٹ

 

86

حدیثوں کے ضیاع کی فکر

 

87

'طلوع اسلام' کی اصل شکایت

 

88

کفر کی اصل وجہ

 

90

کثرت احادیث اور صحیفہ ہمام بن منبہ رحمہ اللہ

 

91

چند غور طلب حقائق

 

92

اعتراض نمبر 4:'طلوع اسلام' کا معیار حدیث

 

 

معیار اول:قرآن کےمطابق ہو

 

96

معیار دوم:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین

 

101

معیار سوم:توہین صحابہ

 

102

معیار چہارم:خلاف علم نہ ہو

 

105

معیار پنجم:خلاف عقل نہ ہو

 

106

عقل کے استعمال کی دلیل

 

108

ایک دھوکہ

 

111

اس مصنف کی دیگر تصانیف

اس ناشر کی دیگر مطبوعات

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 326
  • اس ہفتے کے قارئین: 4711
  • اس ماہ کے قارئین: 18682
  • کل قارئین : 48351891

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں