قبے اور مزارات کی تعمیر ایک شرعی جائزہ(5423#)

محمد بن ابراہیم عبد اللطیف
صفی الرحمن مبارکپوری
دار السلام، لاہور
104
4680 (PKR)

یغمبرِ اسلام حضرت محمد ﷺ نے اپنی امت کو جتنی تاکید کے ساتھ شرکیہ امور سے بچنے کی ہدایت فرمائی تھی۔ افسوس ہے کہ آپﷺ کی یہ نام لیوا امت اسی قدر مشرکانہ عقائد و اعمال میں مبتلا ہے اور اپنے پیغمبر کی تمام ہدایات کو فراموش کر چکی ہے۔ آپﷺ نے واضح الفاظ میں اعلان فرمادیا تھا :أَلَا وَإِنَّ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ كَانُوا يَتَّخِذُونَ قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ وَصَالِحِيهِمْ مَسَاجِدَ، أَلَا فَلَا تَتَّخِذُوا الْقُبُورَ مَسَاجِدَ، إِنِّي أَنْهَاكُمْ عَنْ ذَلِك۔’’لوگو کان کھول کر سن لو تم سے پہلی امت کے لوگوں نے اپنے انبیاء اور نیک لوگوں ،اولیاء وصالحین کی قبروں کو عبادت گاہ (مساجد) بنالیا تھا ،خبر دار !تم قبروں کو مساجد نہ بنالینا۔میں تم کو اس سے روکتا ہوں اور آپ ﷺ اپنی مرض الموت میں یہود و نصاریٰ کے اس مشرکانہ عمل پر لعنت کرتےہوئے فرما یا: لَعَنَ اللهُ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى،اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ قبرپرستی شرک اورگناہ کبیرہ ہے نبی کریم ﷺ نے سختی سے اس سے منع فرمایا اور اپنی وفات کے وقت کے بھی اپنے صحابہ کرام کو اس سے بچنے کی تلقین کی۔ صحابہ کرام نے اس پر عمل کیا اور پھر ائمہ کرام اور محدثین نے لوگوں کو تقریر وتحریر کے ذریعے اس فتنہ عباد ت ِ قبور سے آگاہ کیا ۔مملکت سعودی عرب کے بانی ملک عبدالعزیز ﷫ اوران کے جانشین نے جب ارض سعودی عرب سے قبے مزارات کو ختم کیا تو شرک پھیلانے کے سب سے بڑے علمبر دارں، درباروں اور مزاروں کو کمائی کا ذریعہ بنانے والوں نے حجاز کانفرنس میں ملک عبد العزیز﷫ سے مسخ شدہ مزاروں کودوبارہ بنانے کامطالبہ کیا جس کے جواب میں توحید کے عملبردار شاہ عبد العزیز﷫ نے تاریخی کلمات کہے کہ: شریعت سے مزاروں او ردرباروں کی تعمیر کرنا ثابت کردیں تو میں گرائے گئے مزارات کو سونے اور چاندی سے دوبارہ تعمیر کروا دوں گا ۔اس چیلنج آمیز مطالبے سے مخالفین سناٹے میں آگئے اور انہیں لب ہلانے کی جرأت نہ ہوئی۔ ملک عبدالعزیز کے بعد ان کےصاحبزادے سعود بن عبد العزیز کے دور سلطنت میں علمائے بدعات وخرافات نے پاک وہند کے مشہور عالم جمعیۃ الدعوۃ الاسلامیہ پاکستان کے صدر محمد عبد الحامد قادری بدیوانی کی صدارت میں قبوں اور مزارات کو تعمیر کرنے کا مطالبہ پھر دہریا اور اس میں جان پیدا کرنے کےلیے ممانعت کی صریح اور دوٹوک نصوص کو چھوڑ کر کچھ الجھے ہوئے واقعات وشبہات سے دلائل کی ایک ریتلی عمارت تیار کی اور اسے ملک سعود کی خدمت میں تحریری صورت میں پیش کیا۔ملک سعود نے یہ رسالہ پاتے ہی دار الافتاء ریاض کے حوالے کیا۔ دار الافتاء کے اس وقت کے مسؤل شیخ محمد بن ابراہیم بن عبد اللطیف آل الشیخ نے ’’شفاء الصدور فی الرد علی الجواب المشکور‘‘ کے نام سے اس رسالہ کا مکمل اوربھرپور جواب لکھا کہ اس مسئلہ پر بحث ونظر کا کوئی گوشہ تشنہ نہ رہا۔ زیر نظر کتاب ’’قبے اور مزارات کی تعمیر کی شرعی حیثیت‘‘ اسی مذکورہ رسالہ کا اردو ترجمہ ہے۔اس اہم رسالہ کو سیرت نبوی پر اول انعام یافتہ   کتاب الرحیق المختوم کے مصنف مولانا صفی الرحمان مبارکپوری﷫ نےعربی سے اردو قالب میں منتقل کیا اور کتاب وسنت کی اشاعت کے عالمی ادارے ’’دار السلام‘‘ نے افادۂ عام کے لیے اسے حسنِ طباعت سے آراستہ کیا۔ اللہ تعالیٰ اس رسالہ کو لوگوں کی اصلاح اور شرک کے خاتمے کاذریعہ بنائے۔ (آمین) (م۔ا)

اس ناشر کی دیگر مطبوعات

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 1799
  • اس ہفتے کے قارئین: 3858
  • اس ماہ کے قارئین: 45720
  • کل قارئین : 46593644

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں