دکھائیں کتب
  • 1 اتحاد امت نظم جماعت (بدھ 08 جنوری 2014ء)

    مشاہدات:32275
    فی  زمانہ مسلمانوں کے زوال وادبار کا ایک اہم سبب اتحادو اتفاق اور نظم وتنظیم کا فقدان ہے معروف عالم دین میاں محمد جمیل صاحب نے زیر نظر کتاب ''اتحادامت نظم جماعت''میں اسی موضوع پربحث کی ہے انہوں نے ثابت کیا ہے کہ قرآن وسنت سے تنظیمی امور سے متعلق ہدایت ورہنمائی موجود ہے کسی تنظیم یا جمعیت کے سربراہ اور کارکنان کے اوصاف کیا ہونے چاہئیں اور ان میں باہمی تعلق کی نوعیت کیا ہو اس کو بھی بحث وفکر کا ہدف بنایا ہے کتاب وسنت کو نصوص سے ان امور کی وضاحت کی ہے ہرمسلمان کو اس کتاب کا مطالعہ کرنا جاہیے اور ایک منظم جماعتی زندگی گزارنے کی کوشش کرنی چاہیے یہی اس کتاب کا پیغام ہے -


  • 2 احکام وقف (جمعہ 17 جولائی 2015ء)

    مشاہدات:1177

    اسلام دنیا کا وہ واحد مذہب ہے جس نے انسانوں کے سامنے ''فلاح دارین'' یعنی دونوں جہانوں کی کامیابی و کامرانی کا نظریہ بھرپور اور جامع طریقہ سے پیش کیا ہے ، اسی لئے اسلام میں جہاں عاقبت سنوارنے اور اس میں کامیابی حاصل کرنے کے طریقے سکھائے گئے ہیں وہاں موجودہ زندگی میں بھی کامیابی و ترقی حاصل کرنے کے زریں اُصول بیان کئے گئے ہیں۔اوقاف کا نظام بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے جس کے ذریعہ معاشرے کی کمزوریوں کی اصلاح کرکے اسے توانائی بہم پہنچائی گئی ہے اور یوں ایک سبق دیا گیا ہے کہ ''چلو تو زمانے کو ساتھ لے کے چلو'' نظام اوقاف سے جس طرح انسانوں کی دینی اور مذہبی ضروریات پوری ہوتی ہیں(مثلاً مساجد، مدارس اور خانقاہیں وغیرہ تعمیر ہوتی ہیں) اسی طرح اوقاف سے انسانوں کی طبعی و معاشی ضروریات کی بھی کفالت ہوتی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب " احکام وقف"محترم غلام عبد الحق محمد صاحب کی تصنیف ہے ،جس میں انہوں نے وقف کے حوالے سے اسلامی احکام کو تفصیل سے بیان کرتے ہوئے مختلف مسالک کے موقف کی وضاحت کی ہے۔یہ اپنے موضوع پر ایک منفر داور شاندار تصنیف ہے اور وقف سے متعلقہ تمام امور پر مشتمل ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اوران کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 3 اقوام عالم کے ادیان ومذاہب (بدھ 15 جنوری 2014ء)

    مشاہدات:16520
    یہ کتاب مدینہ یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر شیبۃ الحمد کی عربی کتاب "الادیان والفرق والمذاھب المعاصرۃ" کا اردو ترجمہ ہے۔ اس کتاب کی اہمیت کے ثبوت کیلئے یہ بیان کافی ہے کہ یہ عالم اسلام کی مایۂ ناز مدینہ یونیورسٹی میں گریجویشن میں بطور نصاب شامل ہے۔ اس کا اسلوب نگارش دور حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہے۔ اس تحقیقی کاوش میں مؤلف حفظہ اللہ نے ادیان و مذاہب اور فرقوں کا تفصیل سے تذکرہ کیا ہے، ان کے بانیان کے حالات سامنے رکھیں، ان ادیان و مذاہب کی ابتدا کے متعلق بتایا ہے، ان کے عقائد و نظریات واضح کیے ہیں، ان کی مقدس کتابوں کا ذکر کیا ہے، اور مختصر طور پر اسلام سے ان کا تقابل کیا ہے۔ نیز اسلام میں ان باطل گروہوں کے متعلق احکام آشکارا کئے ہیں۔ ہر مذہب اور ہر فرقے پر مضامین کے آخر میں اس مذہب کا خلاصہ بھی پیش کر دیا ہے۔

  • زمانہ جس قدر خیرالقرون سے دور ہوتا جارہا ہے، اتنا ہی فتنوں کی تعداد اور افزائش میں اضافہ ہوتا جارہا ہے ۔ہر روزایک نیا فتنہ سر اٹھاتا ہے اور عوام الناس کو اپنے نئے اعتقاد ،افکار اور اعمال کی طرف دعوت دیتاہے۔ اپنی خواہشات نفسانی کے پیش نظر قرآن وسنت کی وہ تشریح کرتا ہے جو ان کے خود ساختہ مذہب واعمال کے مطابق ہو۔عوام چونکہ ان کے مکروفریب سے ناواقف ہوتے ہیں ۔لہذا ان کے دام میں پھنس جاتے ہیں اور بعض اوقات اپنے ایمان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں ۔انہی فتنوں میں ایک تقلید کا فتنہ ہے،جس نے لوگوں کے اذہان کو جامد کر کے رکھ دیا ہے۔موزوں پر مسح کرنے کے بارے میں کسی کا کوئی اختلاف نہیں ہے جبکہ جرابوں پر مسح کرنے کے حوالے سے اہل علم کے ہاں دو مختلف رائے پائی جاتی ہیں۔اس اختلاف کاسبب فقہا میں یہ رہا ہے کہ بعض فقہا کے نزدیک وہ روایت جس میں جرابوں پر مسح کا ذکر ہوا ہے، اتنی قوی نہیں ہے یا ان تک وہ روایت نہیں پہنچی ہے۔ چنانچہ یہ استدلال کیا گیا ہے کہ صرف انہی جرابوں پر مسح کیا جا سکتا ہے جن میں نمی اندر نہ جا سکتی ہو۔ ہمارے نزدیک چمڑا ہو یا کپڑا مسح کی اجازت رخصت کے اصول پر مبنی ہے۔ جرابوں کی ساخت کی نوعیت اس رخصت کا سبب نہیں ہے۔ رخصت کاسبب رفعِ زحمت ہے۔ جس اصول پر اللہ تعالیٰ نے پانی کی عدم دستیابی یا بیماری کے باعث اس بات کی اجازت دی ہے کہ لوگ تیمم کر لیں، اسی اصول پر قیاس کرتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کی حالت میں جرابیں پہنی ہوں تو پاؤں پر مسح کرنے کی اجازت دی ہے۔ اصول اگر رخصت، یعنی رفعِ زحمت ہے تو اس شرط کی کوئی وجہ نہیں ہے کہ یہ جراب...

  • 5 ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر میں (جمعرات 16 جنوری 2014ء)

    مشاہدات:11084

    نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اخلاق و کردار اور افعال و اقوال سے قلب و فکر کو جس قدر جلابخشی اس میں کوئی دوسرا ان کا شریک نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک مسلمان کی اخروی و دنیوی فلاح کو صرف اور صرف  اسوہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں ہی پنہاں رکھا گیا ہے۔ فاضل مصنف ’عبدالمالک قاسم‘زیر نظر مختصر سے رسالہ میں عام فہم انداز میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے ایک دن کے معمولات کو سامنے لائے ہیں۔ کتابچے میں آپ جہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے طرز گفتار، اعزہ و اقربا اور ازداوجی زندگی سے متعارف ہوں گے وہیں سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے خادمین، طرز گفتار اور اجتماعی زندگی کے مختلف مراحل کی مفید معلومات بھی حاصل ہوں گی۔ کتاب میں بیان کردہ صفات کو اپنا کر ہم ایک اچھے مؤمن کی حیثیت سےزندگی گزار سکتے ہیں۔

  • 6 پاکپتن کے بہشتی دروازے کی شرعی حیثیت (بدھ 08 جنوری 2014ء)

    مشاہدات:15150

    دین اسلام میں جس قدر عقائد کی اصلاح اور شرک کی مذمت پر زور دیا گیا ہے بدقسمتی سے امت مسلمہ، اور خصوصاً برصغیر پاک وہند میں اکثریت اسی شدو مد کے ساتھ  خانقاہی سلسلوں کی صورت اور درباروں کی شکل میں پھیلے ہوئے شرک کے جال میں  پھنسے نظر آتے ہیں-ان اوراق میں مصنف نے ان درباروں ، مزاروں اور جبوں وقبوں کی شرعی حیثیت واضح کرتے ہوئے پاکپتن میں واقع المشہور ''بہشتی دروازے'' کو موضوع بحث بنایا ہے – اور ان حضرات کے سامنے چند سوالات پیش کرتے ہوئے اس مسئلے کی نزاکت واضح کرنے کی کوشش کی ہے کہ  اگر  یہ واقعتا بہشتی دروازہ ہے تو سارا سال بند کیوں رہتا ہے اور مخصوص عرس کے ایام میں ہی کیوں کھولا جاتا ہے؟اگر یہ بہشتی دروازہ ہے تو کتاب وسنت میں اس کا ذکر کیوں موجود نہیں؟اور قرون اولی کے مسلمان اس سعادت سے کیوں محروم رہے؟ علاوہ ازیں ٹھوس دلائل کے ساتھ ثابت کیا گیاہے کہ خواجہ نظام الدین اولیاء کی جانب منسوب کی جانے والی روایت جھوٹ اور بہتات تراشی کے سوا کچھ نہیں-کتاب کے شروع میں روزنامہ نوائے وقت میں شائع ہونے والے مضمون '' باب جنت''کےجواب میں ابواسامہ کا مضمون شائع کیا گیا ہے-علاوہ ازیں  کتاب میں دیگر چند مزارات پر آنکھوں دیکھے ہوشربا مناظر کا تذکرہ کرتے ہوئے قبروں اور مزارات پر مساجد تعمیر کرنے کی شرعی حیثیت پر سیر حاصل بحث کی گئی ہے-

  • اسلام  ایک مکمل  ضابطۂ حیات  ہے  پور ی انسانیت کے لیے  اسلامی تعلیمات کے  مطابق  زندگی  بسر کرنے کی  مکمل راہنمائی فراہم کرتاہے  انسانی  زندگی میں  پیش  آنے  والے تمام معاملات ، عقائد وعبادات ، اخلاق وعادات  کے  لیے  نبی ﷺ کی  ذات مبارکہ  اسوۂ حسنہ کی صورت میں موجود ہے  ۔مسلمانانِ عالم کو اپنےمعاملات کو  نبی کریم ﷺ کے بتائے  ہوئے طریقے  کے مطابق سرانجام  دینے چاہیے ۔لیکن موجود دور میں  مسلمان رسم ورواج اور خرافات میں  گھیرے  ہوئے  ہیں  بالخصوص  برصغیر پاک وہند میں  شادی  بیاہ کے  موقع پر  بہت سے رسمیں اداکی جاتی ہیں جن کاشریعت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں  اور ان  رسومات میں بہت  زیادہ  فضول خرچی اور اسراف  سے  کا م لیا  جاتا ہے  جوکہ صریحاً اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے ۔ ان  مواقع پر  تمام  رسوم تو ادا کی جاتی  ہیں  ۔لیکن  لوگوں کی اکثریت  فریضہ  نکاح کے  متعلقہ مسائل  سے  اتنی غافل ہے  کہ میاں  کو بیو ی کے حقوق  علم نہیں ،  بیوی  میاں  کے حقوق  سے ناواقف ہے ،ماں باپ تربیتِ اولاد سے نا آشنا اور اولاد مقامِ والدین سے  نابلد ہے ۔ زیر نظر کتابچہ ’’تحفہ نکاح سوالاً جواباً‘‘  فضیلۃ الشیخ  ابو عبیدہ  ولید بن  محمد  ﷾ عربی رسالہ هدية العروسين كا  اردو ترجمہ  ہے  ۔ یہ  رسالہ  مسائل نکاح پر مشتمل ہے س میں  منگنی سے لے کر شبِ زفاف کے آداب اور ولیمہ تک کے مسائل سوالاً جواباً  مختصر اور عام فہم انداز میں خوش اسلوبی سے  قرآن واحادیث کی  روشنی  بیان کیے گئے  ہیں ۔نکاح سے  قبل  اس کتاب کا مطالعہ  انتہائی مفید ہے  عزیزواقارب کے لیے شادی کے  تحائف میں  شامل کرن...

  • 8 تصوف تاریخ وحقائق (جمعرات 16 جنوری 2014ء)

    مشاہدات:14031

    اسلام ایک دین فطرت ہے اور خدا تعالیٰ نے تمام تر احکامات انسان کی فطری ضرورتوں کے عین مطابق نازل فرمائے ہیں لیکن مسلم معاشرے میں ایک ایسے فرقے کا بھی وجود ہے جس نے اپنے عقائد میں اس قدر غلو اختیار کیا کہ عیسائیوں کے نظریہ تثلیث کو بھی پیچھے چھوڑ دیا۔ زیر مطالعہ کتاب شہید اسلام علامہ احسان الہٰی ظہیر کی گرانقدر تصنیف ہے جس میں انہوں نے اپنے مخصوص انداز میں صوفیت کے چہرے پر چڑھے ہوئے نقاب کو اتار پھینکا ہے۔ علامہ صاحب نے تصوف کے اصول، بنیاد اور مصادر پر تفصیلی مباحث پیش کرنے کے ساتھ ساتھ کسی تصنع اور تکلف کے بغیر تصوف کی دوسرے مذاہب کے ساتھ واضح مشابہت کو بیان کیا ہے۔ مولانا نے نہ صرف صوفیت کی اپنی معتبر کتابوں کے حوالے دئیے ہیں بلکہ دیگر مذاہب کی کتابوں کے ڈھیروں حوالے موجود ہیں۔ اس کتاب میں کچھ اشیاء ایسی پیش کی گئی ہیں جن سے ابھی تک کسی اور نے بحث نہیں کی اور ایسے پہلو سامنے لائے گئے ہیں جن کی طرف عام محققین کی نظر نہیں گئی۔ مولانا نے خصوصی طور پر ایک باب صوفیاء اور شیعہ کے متلعل قائم کیاہے جس میں ثابت کیا گیا ہے کہ صوفی اور شیعہ بہت سے عقائد میں مشترک ہیں۔

     

  • 9 تعویذ اور دم کی شرعی حیثیت (پیر 06 جولائی 2015ء)

    مشاہدات:2946

    اردو میں مستعمل لفظ ”تعویذ“ کا عربی نام ”التمیمة“ ہے۔ عربی زبان میں ”التمیمة‘ کے معنی اس دھاگے، تار ، یا گنڈے کے ہیں، جسے گلے یا جسم کے کسی اور حصے میں باندھا جائے۔اور شریعت اسلامیہ نے  ہر طرح کے تعویذات  کے استعمال سے مطلقا منع فرمایا ہے۔لیکن افسوس کہ آج کے بہت سارے مسلمان ان شرکیہ اور حرام کاموں میں مبتلاء ہیں،اور ان میں مختلف ناموں سے کثرت سے تعویذوں کا رواج پایا جاتا ہے۔مثلا بچوں کو  جنوں وشیاطین اورنظر بد وغیرہ سے حفاظت کے لیے، میاں بیوی میں محبت کے لیے ، اسی طرح اونٹوں، گھوڑوں، اور دیگر جانوروں پر نظر بدوغیرہ سے حفاظت کے لیے، اپنی گاڑیوں کے آگے یا پیچھے جوتے یا چپل، آئینوں پر بعض دھاگے اور گنڈے لٹکاتے ہیں، اسی طرح بعض مسلمان اپنے گھروں اور دوکانوں کے دروازوں پر گھوڑے کے نعل وغیرہ لٹکاتے ہیں، یا مکانوں پر کالے کپڑے لہراتے ہیں۔اسی طرح بعض لوگ بالخصوص عورتیں نظر بد وغیرہ سے بچاوٴ کے لیے بچوں کے تکیے کے نیچے چھری ،لوہا، ہرن کی کھال ، خرگوش کی کھال، اور تعویذیں وغیرہ رکھتی ہیں یا دیواروں پر لٹکاتی ہیں، یہ ساری چیزیں زمانہ جاہلیت کی ہیں، جن سے اجتناب کرنا بے حد ضروری ہے۔سلف صالحین، حضرات صحابہ وتابعین ، ائمہ و محدثین کرام اور دیگر اہل علم کی رائے کے مطابق یہی بات راجح اور صحیح بھی ہے کہ تعویذ خواہ قرآنی ہو یا غیر قرآنی اس کا لٹکانا حرام ہے ۔ زیر تبصرہ کتاب"تعویذ اور دم کی شرعی حیثیت"محترم رانا ڈاکٹر محمد اسحاق صاحب کی تصنیف ہے۔جس میں انہوں نے  تعویذ گنڈے کی حقیقت،تعویذ گنڈے کے مفاسد ،مشروع طریقہ علاج اور مسنون اذکار وادعیہ جیسی مباحث کو...

  • 10 تفسیر مظہری جلد اول (بدھ 20 مئی 2015ء)

    مشاہدات:1546

    قاضی ثناء اللہ پانی پتی 1810ء کو پانی پت میں پیدا ہوئے۔ آپ شیخ جلال الدین کبیر الاولیاء کی اولاد سے ہیں۔ قاضی ثناء اللہ پانی پتی نے سات برس کی عمر میں قرآن پاک حفظ کیا۔ اور بعد میں دوسرے علوم کی تحصیل میں مشغول رہے۔ تحصیل علم کی خاطر دہلی گئے۔ جہاں شاہ ولی محدث دہلوی  سے حدیث کا علم حاصل کیا۔ قاضی ثناء اللہ پانی پتی نے شاہ محمد عابدستانی کے ہاتھ پر بیعت کی۔ ان کے وصال کے بعد حضرت میرزا مظہر جان جاناں سے کسبِ فیض کیا۔علم کی تحصیل کے بعد وطن واپس آئےاور بقیہ عمر افتاء، تصنیف وتالیف اور نشر علوم میں گزاری دی۔ آپ نے پانی پت میں منصب قضاء بھی اختیار کیا اور اس بلند عہدے کا نہایت احسن طریقے سے حق ادا کیا۔ قاضی ثناء اللہ پانی پتی اپنے عہد کے عظیم فقیہ، محدث، محقق اور مفسر تھے۔ مولانا شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی انہیں بیہقی وقت کہا کرتے تھے۔ فقہ اصول میں آپ مرتبہ اجتہاد کو پہنچے ہوئے تھے۔ تفسیر وکلام میں وتصوف میں آپ کو یدطولیٰ حاصل تھا۔ آپ کی تیس سے زائد تصانیف وتالیفات ہیں۔ ان میں مشہور تصنیف زیر تبصرہ کتاب تفسیر مظہری عربی زبان میں دس جلدوں پر مشتمل ہے۔ اس کو آپ نے اپنے مرشد مرزا مظہر جانجاناں کے نام سے منسوب کیا۔ تفسیر کا انداز محدثانہ ہے۔ یہ تفسیر قدمائے مفسرین کے اقوال اور تاویلات جدیدہ کی جامع ہے۔ اس کا اردو ترجمہ کے فرائض ادارہ ضیاء المصنفین، بھیرہ شریف کے تین فضلاء نے انجام دئیے اور مذکور ادارے کے پچاس سے زائد فضلاء نے اس کے مصادر کی تخریج کی۔ ضیاء القرآن پبلی کیشنز نے اسے دس جلد وں شائع کیا ہے۔ (م۔ا)

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 1394
  • اس ہفتے کے قارئین: 27770
  • اس ماہ کے قارئین: 80719
  • کل مشاہدات: 40613663

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں