دکھائیں کتب
  • 1 تفسیر السعدی(اردو)پارہ 19 (جمعرات 06 فروری 2014ء)

    مشاہدات:18323
    اللہ عزوجل نے لوگوں تک اپنا پیغام پہنچانےکے لیے جو کتابیں نازل فرمائیں،قرآن حکیم ان میں آخری کتاب ہے جو تاقیامت بنی نوع انسان کے لیے ہدایت ورہنمائی کا ذریعہ ہے ۔قرآن کے مطالب و مفاہیم کو اجاگر کرنے کی ذمہ داری جناب نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سونپی گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بہ طریق احسن سرانجام دیا۔بعد ازاں مفسرین عظام نے حدیث نبوی اور ارشادات صحابہ رضی اللہ عنہم کی روشنی میں قرآنی مطالب کو لوگوں تک پہنچایا۔اس فن میں اب تک بے شمار تفاسیر مختلف زبانوں میں لکھی جا چکی ہیں اور یہ سلسلہ اب تک جاری ہے۔علامہ عبدالرحمٰن بن ناصر سعدی رحمہ اللہ کی تفسیر بھی معتبر کتب تفاسیر میں شمار ہوتی ہے ۔آپ سعودی عرب کے نام ور عالم دین تھے۔زیر نظر ’تفسیر السعدی‘کی متعدد خصوصیات ہیں،مثلا:یہ اسرائیلی اور ضعیف روایات سے پاک ہے،قصص وواقعات سے عبر وحکم کا استنباظ بھی خوب اور نہایت عجیب ہے۔یہ تفسیر اختصار اور جامعیت کا حسین امتزاج ہے۔تفسیر میں منہج سلف کی پابندی کی گئی ہے۔آج کے مادی دور میں قرآنی حکمت وموعظت کے حصول کے لیے یہ تفسیر انتہائی مفید ہے ،جس کا مطالعہ ہر مسلمان کو کرنا چاہیے تاکہ وہ قرآن حکیم سے اپنے تعلق کو استوار کر سکے اور فلاح و کامرانی سے بہرہ مند ہو سکے۔(ط۔ا)


  • پچھلی صدی میں جدید تعلیم یافتہ طبقے میں سے بعض افراد کو یہ غلط فہمی لاحق ہو گئی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی احادیث ہم تک قابل اعتماد ذرائع سے نہیں پہنچی ہیں۔ اس غلط فہمی کے پھیلنے کی وجہ یہ تھی کہ اس کو پھیلانے والے حضرات اعلی تعلیم یافتہ اور دور جدید کے اسلوب بیان سے اچھی طرح واقف تھے۔ اہل علم نے اس نظریے کی تردید میں بہت سی کتابیں لکھی ہیں جو اپنی جگہ انتہائی اہمیت کی حامل ہیں۔ اور قرآن کریم اللہ کی آخری کتاب ہے،جسے اس نے دنیا کے لیےراہنما بنا کر بھیجا ہے۔اس کے کچھ الفاظ مجمل اور کچھ مطلق ہیں ،جن کی تشریح وتوضیح کے لیے نبی کریمﷺ کو منتخب فرمایا-قرآن کریم کی وضاحت وہی بیان کر سکتا ہے جس پر یہ نازل ہوا۔اس لیے صحابہ کرام کبھی بھی اپنی طرف سے قرآن کی تشریح نہ کرتے تھے،اور اگر کسی چیز کی سمجھ نہ آتی تو خاموشی اختیار کر لیتےتھے۔اللہ کے نبیﷺ نے جس طریقے اور صحابہ نے آپ کے طریقے کو اختیار کرتے ہوئے جس طریقے سے قرآن کی تشریح کی ہے اس کو علما نے تفسیر بالماثور ، اور جن لوگوں نے اپنی مرضی سے تفسیر کی اس کو تفسیر بالرائے کا نام دیا ہے۔ زیرِ تبصرہ کتاب ’’ علم تفسیر و حدیث کا ارتقاء گزشتہ چودہ صدیوں میں‘‘ ڈاکٹر محمد آفتاب خان ، ڈاکٹر مولانا عبد الحکیم اکبری کی ہے۔جس میں علم تفسیر کا ارتقاء چودہ صدیوں کا اجمالی جائزہ پیش کیا ہے۔مزید برصغیر پاک و ہند میں تفسیر کے ارتقاء کو اجاگر کرتے ہوئے حدیث، تدوین حدیث اور علم حدیث کا تاریخی پس منظربیان کیا ہےجس میں مستشرقین کے طرف سے اٹھائے جانے والے اعتراضات کو عیاں کرتے ہوئے ان کی تردید...

  • 3 قوموں کا عروج و زوال (ہفتہ 15 فروری 2014ء)

    مشاہدات:16691
    امام ابن حزم رحمۃ اللہ علیہ اگرچہ ظاہر ی تھے لیکن پھر بھی ان کی علمیت اور علوم اسلامیہ میں مہارت کےتمام لوگ معترف ہیں۔ انھوں نے بے شمار قیمتی کتابوں کا ذخیرہ اپنے پیچھے یادگارچھوڑا ہے۔ زیر مطالعہ کتاب موصوف کی مشہور زمانہ کتاب ’کتاب الفصل فی الملل والنحل‘ کا اردو ترجمہ ہے۔ جس میں انھوں نے ظاہری اصولوں کو عقائد پر منطبق کرنے کی کوشش کی ہے۔ انھوں نے فلاسفہ، ملاحدہ، مادیین، یہود، نصاریٰ غرض اکثر اہل مذاہب کے عقائد و خیالات نقل کیے ہیں اور ان کا شدت کے ساتھ رد کیا ہے۔ انھوں نے توراۃ و انجیل کے محرف ہونے پر جو بحث کی ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان کو یہود و نصاریٰ کی کتب پر مجتہدانہ عبور حاصل تھا۔ وہ اسلامی عقائد پر روشنی ڈالتے ہوئےہر فرقہ کے ان مسائل کا رد پیش کرتے ہیں جو اس کے نزدیک غلط اور باطل ہیں۔ اس سلسلہ میں انھوں نے ان تفسیری روایات کا شدت سے رد کیا ہے جن کے مطابق انبیا غیر معصوم ہیں۔ علاوہ ازیں انھوں نے جادو کی حقیقت و ماہیت پر تفصیلی گفتگو کی ہے اور دلائل کے ساتھ ثابت کیا ہے کہ جادو سے خرق عادت امور وجود میں نہیں آ سکتے۔ اس کے علاوہ بہت سی فلسفیانہ مباحث بھی کتاب کا حصہ ہیں۔ علامہ ابن حزم نے کتاب میں بعض ایسے خیالات کا بھی اظہار کیا ہے جن سے عام طور پر سلف متفق نہیں ہیں مثلاً ان کا دعویٰ ہے کہ عورتیں بھی پیغمبر ہو سکتی ہیں اور اس پر انھوں نے تفصیل کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے بہت سی قرآنی آیات سےاستدلال کیا ہے پھر انھوں نے اس خیال کا بھی تفصیل کے ساتھ رد کیا ہے کہ عورتوں کا درجہ مردوں سے کم ہے۔ اردو ترجمہ نہایت سلیس ہے جو کہ مولانا عبد...
  • 4 مصباح الخطیب (بدھ 22 جولائی 2015ء)

    مشاہدات:2857

    خطابت اللہ تعالیٰ کی عطاکردہ،خاص استعداد وصلاحیت کا نام ہے جس  کےذریعے  ایک مبلغ اپنے مافی الضمیر کے اظہار ،اپنے جذبات واحساسات دوسروں تک منتقل کرنے اور عوام الناس کو اپنے  افکار ونظریات  کا قائل بنانے کے لیے  استعمال کرتا ہے ۔ایک قادر الکلام خطیب اور شاندار مقرر مختصر وقت میں ہزاروں ،لاکھوں افراد تک اپنا پیغام پہنچا سکتا ہے  اوراپنے   عقائد ونظریات ان تک منتقل کرسکتا ہے۔خطابت  صرف فن ہی نہیں ہے  بلکہ اسلام میں خطابت اعلیٰ درجہ کی عبادت اورعظیم الشان سعادت ہے ۔خوش نصیب ہیں وہ ہستیاں جن کومیدانِ خطابت کے لیے  پسند کیا جاتا ہے۔شعلہ نوا خطباء حالات کادھارا بدل دیتے ہیں،ہواؤں کےرخ تبدیل کردیتے  ،معاشروں میں انقلاب بپا کردیتے ہیں ۔تاریخ کےہر دورمیں خطابت کو  مہتم بالشان اور قابل فخر فن کی حیثیت حاصل رہی ہے  اور اقوام وملل او رقبائل کے امراء وزعما کے لیے  فصیح اللسان خطیب ہونا  لازمی امرتھا۔قبل از اسلام زمانہ جاہلیت کی تاریخ پر سرسری نگاہ ڈالیں تو اس دور  میں بھی ہمیں کئی معروف ِ زمانہ فصیح اللسان اور  سحر بیان خطباء اس فن کی  بلندیوں کو چھوتے ہوئے  نظرآتے ہیں۔دورِ اسلام میں فنِ  خطابت اپنے  اوج کمال تک پہنچ گیا تھا ۔نبی کریم ﷺ  خود  سحرآفرین اور دلنشیں اندازِ خطابت اور حسنِ خطابت کی تمام خوبیوں سے  متصف تھے  ۔اللہ تعالیٰ نے ہر دور میں  وراثتِ نبوی کے تحفظ اور تبلیغِ دین کےلیے ایسی  نابغۂ روز گار اور فرید العصر شخصیات کو پیدا فرمایا کہ جنہوں نے اللہ تعالی  کی عطا کردہ صلاحیتوں اور اس کے ودیعت کردہ ملکۂ خطابت سے  بھر پور استفادہ کرتے ہوئے  پر...

  • 5 معانی القرآن الکریم (پیر 03 فروری 2014ء)

    مشاہدات:21206
    یہ ایک ناقابل انکار حقیقت ہے کہ آج اس کائنات میں قرآن شریف کے سوا کوئی ایسی کتاب موجود نہیں ہے ،جسے پوری قطعیت اور یقین کے ساتھ الہامی قرار دیا جاسکےیہ شرف محض قرآن مقدس ہی کو حاصل ہے ۔قرآن مجید کی تعلیمات پر عمل سے امت کو بلندی حاصل ہوئی ہے اور اس سے غفلت برتنے سے پستی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔امت مسلمہ کی موجودہ ذلت ورسوائی کا سبب بھی یہی ہے کہ آج افراد امت نے قرآن حکیم کو پس پشت ڈال رکھا ہے۔قرآن سے اعراض اور بے التفاتی ہی کا ایک مظہر یہ ہے کہ اسے سمجھنے کو کوشش نہیں کی جاتی بلکہ محض الفاظ کی تلاوت پر ہی اکتفا کیا جاتا ہے یوں یہ قرآن سے دوری کا مظہر بھی ہے اور سبب بھی کہ جب تک قرآن کے معانی سے واقفیت نہیں ہو گی اس سے تعلق بھی استوار نہیں ہو سکتا۔المختصر تعلق بالقرآن  کے لیے اس کے مفاہیم سے با خبر ہونا ضروری ہے ۔اس کے لیے جناب حافظ صلاح الدین یوسف حفظہ اللہ کے زیر نظر ترجمہ قرآن کا مطالعہ بہت مفید ثابت ہو گا جو معانی القرآن الکریم کے نام سے پیش کیا گیا ہے۔اس میں لفظی ترجمے کا انداز اختیار کیا گیا ہے ،جس سے الفاظ قرآنی کا مفہوم سمجھنے میں آسانی رہتی ہے۔(ط۔ا)

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 973
  • اس ہفتے کے قارئین: 13052
  • اس ماہ کے قارئین: 80304
  • کل مشاہدات: 40967058

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں