روضئہ اقدس کی زیارت(631#)

امام ابن تیمیہ
محمد صادق خلیل
ادارہ ترجمہ و تالیف و الا شاعت ۔فیصل آباد
340
10200 (PKR)
7 MB

یہ کتاب شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب ’الرد علی الاخنائی‘ کا اردو ترجمہ ہے ۔اس میں جناب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے روضہ اقدس کی زیارت پر مبسوط بحث کی گئی ہے ۔روایتی فقہاء کا خیال ہے کہ روضہ رسول کی زیارت کے لیے سفر جائز ہے ،لیکن شیخ الاسلام رحمۃ اللہ علیہ نے عقلی و نقلی دلائل کے ساتھ سختی سے اس کی تردید کی ہے ۔شیخ الاسلام خوب سمجھتے تھے کہ اس نازک مسئلہ پر قلم اٹھانا آسان نہیں،لیکن انہوں نے رسول مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عتاب کے پیش نظر اپنے آپ کو اس کٹھن کام کے لیے آمادہ کیا اور عوام کی مخالفت اور دشمنی کی پروا نہ کرتے ہوئے اس کو مفصل ،مبسوط اور واضح شکل میں پیش کر دیا۔واضح رہے کہ امام صاحب نے روضہ رسول کی زیارت کے لیے سفر سے تو روکا ہے تاہم مطلق زیارت کو جائز قرار دیا ہے ۔اس کے ساتھ ساتھ بنی معظم صلی اللہ علیہ وسلم کا اجلال و احترام اور توقیر و اکرام ایسے پر کشش انداز اور دل نشین پیرائے میں ذکر فرمایا ہے جو کمال محبت،جذب و مستی اور وارفتگی میں اپنی مثال آپ ہے ۔
 

عناوین

 

صفحہ نمبر

شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ

 

9

افتتاحیہ

 

10

مقدمہ

 

13

عظمت انسان

 

13

رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عظمت

 

15

آپ پر درود بھیجنا

 

15

حافظ ابن تیمیہ اور زیارت روضہ نبوی

 

17

کیاروضہ اقدس پر کھڑے ہوکر درود بھیجنے والے کی آواز آپ سنتے ہیں؟

 

18

شیخ الاسلام ابن تیمیہ پر ناروا حملے

 

19

شیخ الاسلام کی جلالت علمی

 

20

پاک و ہند میں حافظ ابن تیمیہ کے علوم و معارف کا تعارف

 

24

الرد علی الاخنائی کا ترجمہ

 

26

تمہید

 

28

اتباع رسول

 

29

اللہ پاک کاخوف

 

32

عدم علم کا عذر قابل قبول نہیں

 

33

اللہ پاک کے علاوہ کسی کو اختیارنہیں

 

39

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کوبھی اختیار نہیں

 

40

سبب تالیف کتاب

 

43

قاضی اخنائی کی جہالت

 

44

قاضی اخنائی کا اعتراض

 

52

اثر ابن عمر

 

56

حافظ ابن حزم کا قول

 

57

امام مالک کا قول

 

61

آپ کی قبر شریف کی دوسری قبروں پر امتیازی حثییت حاصل ہے

 

63

صحابہ کرام میں زیارت قبر نبوی کا لفظ مستعمل نہ تھا

 

63

نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی فضیلت

 

65

مسجد نبوی کے فضائل

 

67

قاضی اخنائی کی الزام تراشی

 

70

سوال کے الفاظ

 

75

جواب کے الفاظ

 

76

من زارنی و زار ابی ........ حدیث کی تحقیق

 

77

من حج نزار قبری ......... حدیث کی تحقیق

 

77

من زار قبری و جبت لہ شفاعتی  حدیث کی تحقیق

 

77

ابومحمد مقدسی کا استدلال

 

79

غیر مساجد ثلاثہ کی نذر

 

81

زیارت قبر نبوی کی تمام حدیثیں ضعیف ہیں

 

81

امام احمد کا قول

 

82

قبر نبوی کی شرعی حیثیت

 

84

قبروں کی زیارت کے لیے سفر کی مشروعیت پر شیعہ نے حدیثیں وضع کیں

 

85

قاضی اخنائی کا الزام اور اس کا جواب

 

89

قاضی اسماعیل بن اسحاق کا قول

 

92

قاضی عبدالوھاب کا قول

 

94

قبروں پر دعا کے لیے آنا

 

96

قبر نبوی کی زیارت

 

96

امام شعبی نخعی ابن سیرین کا مسلک

 

97

صاحب قبر سے دعا کرنا شرک ہے

 

99

مشرکین کی تین قسمیں

 

100

جنوں انسانوں کی سفارش

 

102

امام مالک کا قول

 

106

قاضی عیاض کا قول

 

107

ابوالقاسم بن جلاب کا قول

 

107

محمد بن مواز کا قول

 

108

اہل مدینہ کے لیے قبر نبوی کی زیارت کا حکم

 

108

ابن القاسم کا قول

 

111

حدیث ردّ اللہ علیٰ روحی

 

112

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خصوصیات

 

113

زیارت قبور کے مقاصد

 

116

روضہ رسو ل کی زیارت

 

117

اہل بدعت کا حال

 

118

صحابہ کرام کی قبریں نجات دہند نہیں

 

120

ایک واقعہ

 

121

دوسرا واقعہ

 

121

کیا وفات کے بعد آپ پہلے کی طرح زندہ ہیں؟

 

122

قیام امن کے دو سبب

 

123

اولیاء کی قبریں حصول امن کا سبب نہیں

 

124

مدینہ منورہ کی خوشحالی کے اسباب

 

126

مکہ مکرمہ میں شرک کی ابتداء

 

129

غیر شرعی زیارت

 

131

بیت اللہ کے بالمقابل دیگر معبد خانوں کا حشر

 

132

عزیٰ اور منات کا ذکر

 

133

سفیان بن عینیہ سے استفتاء

 

135

قبور میں اور بُت پرستوں میں مماثلت

 

138

ایک مثال

 

139

دوسری مثال

 

139

عبادالرحمن کون ہیں؟

 

141

انبیاء کا دشمن کون ہے؟

 

144

روافض،خوارج کے اوہام باطلہ

 

146

قبروں کا حج کرنے والے اور خوراج

 

148

ادّلہ شرعیہ کا ماخذ

 

149

کیا نماز میں آپ پر درود بھیجنا ضروری ہے

 

151

امام محمد باقر کا قول

 

152

فرشتوں او رنبیوں کی قسم کھانا

 

153

موحدین کے عقائد

 

156

عصمت انبیاء

 

160

قاضی عیاض کی وضاحت

 

161

آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا بکریاں چرانا

 

161

آپ کا اُمی ہونا

 

163

آپ کا شق صدر

 

163

آپ کی متابعت

 

164

حقوق مصطفیٰ سے قبل مسجدنبوی کے حقوق مقدم ہیں

 

167

زیارت نبوی کے آداب

 

169

مشروع زیارت مسجد نبوی کی

 

170

قبروں کی زیارت میں اختلاف

 

171

چند امثلہ

 

172

عام قبروں پرنماز جنازہ جائز ہے

 

176

آپ کی قبر اطہر پر جنازہ پڑھنا ثابت نہیں

 

177

نہی کے بعد صیغہ امر وجوب کامتقاضی نہیں

 

179

مثال اوّل

 

179

مثال ثانی

 

180

مثال ثالث

 

181

مثال رابع

 

181

مثال خامس

 

181

مثال سادس

 

181

مثال سابع

 

182

زیارت قبور کے لیے سفر کرنا

 

184

اوّلین شفاعت کا اعزاز آپ کو حاصل  ہے

 

187

آپ کا اپنی والدہ کی قبر کی زیارت کرنا

 

187

زیارت روضہ رسول

 

188

ابن حبیب کا قول

 

196

میرا نظریہ

 

197

علی بن حسین زین العابدین کامقام

 

198

مسجدمیں داخل ہوتے وقت آپ پر صلوٰۃ و سلام بھیجنا

 

201

عمرو بن دینار کا قول

 

202

امام نخعی کا قول

 

202

عقلمہ اور کعب احبار کا قول

 

203

سلام تحیۃ اور صلوۃ سلام میں فرق

 

204

قیاس فاسد کی چند امثلہ

 

206

قبر اطہر کی زیارت کی عدم مشروعیت کے وجوہات

 

212

اہل بدعت کا طرز عمل

 

215

قبر اطہر کی زیارت کی مشروعیت کیونکر ممکن ہے

 

217

صحابہ کرام بدعات سےمحفوظ تھے

 

221

قبر اطہر پر دعا کرنا

 

222

مامن احد یسلم علی الحدیث کے جوابات

 

230

مسجد نبوی کی خصوصیات

 

231

زیارت قبر نبوی کاجواز

 

231

قبر نبوی پر ہاتھ پھیرنا

 

234

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت فرض ہے

 

235

آپ کی رسالت پر انبیاء کا عہد لینا

 

236

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سراجاً منیراً کہا گیا ہے

 

240

قبروں کا حج

 

242

عہد صحابہ کرام اور قبر نبوی

 

242

حجرہ عائشہ کو کب مسجد نبوی میں داخل کیا گیا

 

243

عمر بن عبدالعزیز کامشورہ

 

244

سعید بن مسیب کا قول

 

245

حجروں سے کیا مراد ہے

 

246

ازواج مطہرات کے حجرے وقتاً فوقتاً بنائے گئے

 

247

مسجدنبوی میں حضرت عثمان کی توسیع

 

248

مسجد نبوی میں ملحقہ جگہ کا حکم

 

248

سلام التحیتہ

 

251

الاماشاء اللہ کا استثناء

 

259

قاضی عیاض کا نقطہ نظر

 

260

اسحاق بن ابراہیم فقیہ کانقطہ نظر

 

260

مغالطہ کا ردّ

 

260

قبر نبوی پر بدعات

 

261

قبر نبوی کی زیارت کی نذر ماننا

 

262

آپ کی زندگی میں آپ کی طرف سفر ہجرت

 

265

وفود کا سلام کے لیے سفر کرنا

 

265

من زار نی بعد مماتی  حدیث کی حقیقت

 

267

کسی بھی قبر کی زیارت کے لیے سفر کرنا جائز نہیں

 

269

کیا قبر نبوی کی زیارت آپ سے محبت کی علامت ہے

 

269

مغالطہ کی تردید

 

270

کیا قبر نبوی کی زیارت کے لیے سفر کرنا معصیت ہے؟

 

274

سفیان ثوری کا قول

 

277

اہل قبور کے مناقشات

 

280

وہب بن منبہ کا قول

 

280

کیاانبیاء کی قسم اٹھانا جائز ہے؟

 

282

قبر نبوی کی زیارت کی قسمیں

 

282

کیا قبر نبوی کو ہاتھ لگانا ثابت ہے

 

285

سفیان بن عینیہ کا قول

 

287

ابراہیم بن سعد کا قول

 

287

ائمہ اربعہ او رجمہور علماء کا مسلک

 

288

ابن حزم کا نظریہ اور استدلال

 

289

وہ مقامات جہاں شیاطین رہتے ہیں

 

290

کیا رجال غیب ہیں؟

 

291

طور پہاڑ کی طرف سفر کی ممانعت

 

292

ابن عمر کی حدیث

 

292

ابو سعید خدری کی حدیث

 

293

جائز حکم کے وسائل

 

293

قبر نبوی کی زیارت کے مجوزین

 

295

ابن بطہ عسکری

 

295

ابوالوفا بن عقیل

 

296

زیارت قبر نبوی او راجماع فہم کا اختلاف

 

300

بلا دلیل کسی کو اجماع کا مخالف کہنا صحیح نہیں

 

302

امام احمد کا قول

 

302

قبروں کی زیارت ان کی تعظیم کے لیے ہے؟

 

304

رسو ل اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا شفاعت فرمانا

 

306

عباد قبور، عباد اوثان ایک ہیں

 

307

انبیاء کی تعظیم

 

308

اہل بدعت سے جہاد

 

313

شد رحال

 

315

خاتمہ

 

317

تمام انبیاء ایک دین پر تھے

 

318

خالص توحید

 

323

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عبدیت

 

324

حج قبور

 

327

ایک اشکال

 

328

کیا کسی کو شفاعت کا استحقاق ہے؟

 

330

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شفاعت

 

331

انبیاء اولیاء کی تعظیم میں غلو

 

333

روضہ نبوی کی زیارت

 

335

 

اس مصنف کی دیگر تصانیف

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 1172
  • اس ہفتے کے قارئین: 9511
  • اس ماہ کے قارئین: 30204
  • کل مشاہدات: 45300661

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں