#2632

مصنف : ام عبد منیب

مشاہدات : 3220

سجدہ سہو

  • صفحات: 19
  • یونیکوڈ کنورژن کا خرچہ: 380 (PKR)
(جمعرات 13 نومبر 2014ء) ناشر : مشربہ علم وحکمت لاہور

سہو بھول جانے کو کہتے ہیں، جب کبھی نماز میں بھولے سے ایسی کمی یا زیادتی ہو جائے جس سے نماز فاسد تو نہیں ہوتی لیکن ایسا نقصان آ جاتا ہے جس کی تلافی نماز میں ہی ہو سکتی ہے اس نقصان کی تلافی کے لئے شریعت  نے    یہ طریقہ بتایا کہ  کہ آخری قعدے کے تشہد کے بعد  سلام  پھیرنے سے  قبل  یا بعد میں  دوسجدے کیے جائیں ۔ سجدۂ سہو رب کریم کی  مسلمانوں پر مہربانی،نرمی اور آسانی کامظہر ہے۔اگر نماز میں کسی  کمی و بیشی  یا بھول چوک  کی   وجہ سے  پوری  نماز ہی  باطل قرار دے  دی جاتی توپھر از سر نو نماز پڑھنا پڑتی۔زیر تبصرہ کتابچہ  ’’سجدہ سہو‘‘  محترمہ  ام عبد منیب صاحبہ نے ترتیب دیا ہے  جس  میں انہو  ں جن  امور کی وجہ سےسجدہ سہو کیا  جاسکتاہے ان کو بیان کرنے کےساتھ ساتھ سجدہ سہو کےطریقوں کو احادیث نبویﷺ اور علمائے  اسلام کےفتاوی کی روشنی میں بڑے   آسان انداز میں  بیا ن کیا اللہ  تعالیٰ اسے عوام الناس کےلیے  نفع بخش بنائے او رمرتبہ کی  اس کاوش کو قبول فرمائے (آمین) م۔ا)

 

عناوین

 

صفحہ نمبر

سجدہ سہو

 

4

سجدہ سہو واجب ہے یا سنت

 

4

سجدہ سہو کرنے کا طریقہ

 

6

سجدہ سہو کرنے کا غلط طریقہ

 

7

سجدہ سہو کب

 

8

زیادہ رکعتیں پڑھ جانے پر

 

9

اگر پہلے تشہد میں بیٹھنا یاد نہ رہے

 

10

اگر کوئی رکعت رہ جائے

 

11

نماز سے فارغ ہو کر باتیں کر چکنے کے بعد

 

12

وتر میں دعائے قنوت بھول جانے پر

 

15

اگر امام بھول جائے

 

15

اگر امام سری نماز میں جہری قرات کر بیٹھے

 

15

کن چیزوں کے بھول جانے پر سجدہ سہو نہیں

 

15

 

ایڈ وانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین 1900
  • اس ہفتے کے قارئین 4671
  • اس ماہ کے قارئین 31314
  • کل قارئین61460661

موضوعاتی فہرست