#3638

مصنف : اشتیاق احمد

مشاہدات : 2468

ثمود کی تباہی

  • صفحات: 26
  • یونیکوڈ کنورژن کا خرچہ: 520 (PKR)
(ہفتہ 03 اکتوبر 2015ء) ناشر : دار السلام، لاہور

قوم ثمود یہ شمالی عرب کی ایک زبردست قوم تھی۔ فن تعمیر میں عاد کی طرح اس کو بھی کمال حاصل تھا۔ پہاڑوں کو کاٹ کر مکان بنانا، پتھروں کی عمارتیں اور مقبرے تیار کرتا اس قوم کا خاص پیشہ تھا۔یہ قوم بھی پہلی بھٹکی ہوئی قوموں کی طرح  بت پرست تھی اور جب ان کے فسق و فجور حد سے بڑھ گئے تو اللہ تعالیٰ نے اپنی سنت کے مطابق قوم ثمود میں ہی سے حضرت صالح   کو نبوت کا شرف دے کر مبعوث کیا تاکہ وہ ان بدکردار لوگوں کو اگلی قوموں کے انجام کی داستانیں سنا کر ان کو بتائیں کہ ان کے خوفناک انجام کو دیکھو اور اپنی سرکشی سے باز آؤ، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم بھی اللہ  کے عذاب میں گرفتار ہوکر ان قوموں کی طرح دنیا سے ہمیشہ کے لیے نیست و نابود ہوجاؤ۔جب اللہ تعالیٰ نے سیدنا صالح  کو نبی بنا کر قوم ثمود کی طرف بھیجا تو انہوں نے اپنی قوم کو جمع کرکے برے کاموں سے بچنے اور اللہ کی راہ اختیار کرنے کی ہدایت کی آپ نے اپنی قوم کو بار بارسمجھایا، اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرایا اور ان پر اللہ  کے فضل و کرم جتائے، لیکن ان پر کوئی اثر نہ ہوا، بلکہ اس کے جواب میں انہوں نے کہا۔اے صالح، ہماری قوت، شوکت، دولت  کی فراوانی، کھیتوں کی سرسبزی، عالی شان مکانات، غرض یہ کہ دنیا جہان کے عیش و آرام جو ہمیں حاصل ہیں تیرے ہی الہ  کی طرف سے ہیں تو پھر وہ لوگ کیوں غریب اور نادار ہیں جو تیرے الہ کو ایک مانتے ہیں۔ اس کا تو مطلب یہ ہے کہ وہ راست پر نہیں اور یہ ہمارے ہی معبودوں کی تو کرم فرمائیاں ہیں۔سیدنا صالح نے ان سے فرمایا کہ اس عقل و دولت اور شان و شوکت پر ہرگز گھمنڈ اورغرور نہ کرو۔ ایسی چیزیں پل بھر میں فنا ہوجایا کرتی ہیں۔قوم ثمود کو سب سے بڑا تعجب یہ تھا کہ ہم میں سے ہی ایک شخص کیسے نبی بن گیا اور اس پر اللہ  کا پیغام نازل ہونے لگا، اگر ایسا ہی ہونا تھا تو کیا ہم اس کے اہل نہ تھے، ہم جیسے رئیسوں اور بڑے آدمیوں کو چھوڑ کر اللہ نے غریب اور کمزور لوگوں کو اپنے پیغام کے لیے کیوں چنا۔حضرت صالح  نے بارگاہ الٰہی  میں دعا کی اور اللہ کا یہ نشان ایک اونٹنی کی صورت میں نمودار ہوا۔اللہ تعالیٰ کا اپنے رسول کے ذریعے یہ معجزہ بھی ان سرکشوں کو اللہ کی طرف راغب نہ کرسکا۔ تاہم آپ نے اپنی قوم کو نصیحت کی کہ یہ اونٹنی اللہ تعالیٰ  کی طرف سے تم پر حجت ہے، اللہ تعالیٰ کا نشان تم پر ظاہر ہوچکا ہے، اگر تم اپنی بھلائی چاہتے ہو تو اس اونٹنی کو ہرگز ہرگز نقصان نہ پہنچانا، یہ آزادی سے جہاں چاہے چرے، ہاں ایک روز یہ اونٹنی چشمے سے پانی پیا کرے گی اور دوسرے دن تم اور تمہارے جانور دیکھو اس میں فرق نہ آئے۔کچھ دن تک اونٹنی کے حیرت انگیز واقعہ نے اس قوم کو حیران و پریشان رکھا اور وقتی طور پر اونٹنی سے کوئی معترض نہ ہوا، لیکن آہستہ آہستہ جن برائیوں کے ماحول میں انہوں نے پرورش پائی تھی وہ ابھرنے لگا اور انہوں نے سازش کرکے اونٹنی کو ہلاک کردیا جب حضرت صالح  کو اس واقعہ کی اطلاع ہوئی تو آپ کو بہت رنج ہوا اور آنکھوں میں آنسو آگئے۔تین دن کے بعد کڑک اور گرج کی ایک ہیبت ناک آواز پیدا ہوئی، جس نے ہر انسان کو جو جس حالت میں تھا ہلاک کردیا، لیکن جو لوگ حضرت صالح  پر ایمان لے آئے تھے اس عذاب الہٰی سے بچ گئے، جب قوم ثمود پر عذاب نازل ہورہا تھا تو حضرت صالح  نے قرآن حکیم کے الفاظ میں اپنی قوم سے مخاطب ہوتے ہوئے فرمایا:’’اے قوم، بلاشبہ میں نے اپنے پروردگار کا پیغام تم تک پہنچادیا اور تم کو نصیحت کی، لیکن تم تو نصیحت کرنے والوں کو دوست ہی نہ رکھتے تھے‘‘۔ زیر تبصرہ کتاب’’ثمود کی تباہی‘‘ سلسلۃ قصص الانبیاء کا پانچواں  حصہ ہےاس کتابچہ  میں محترم  جناب اشتیاق احمد صاحب نے  سید نا صالح   او رانکی  قوم ثمود کی تباہی کےانجام کو  ایک کہانی اور مکالمے کی صورت میں  انتہائی آسان انداز میں  بیان کیا ہے ۔(م۔ا)

عناوین

 

صفحہ نمبر

دیباچہ

 

5

آپ کے براؤزر میں پی ڈی ایف کا کوئی پلگن مجود نہیں. اس کے بجاے آپ یہاں کلک کر کے پی ڈی ایف ڈونلوڈ کر سکتے ہیں.

اس ناشر کی دیگر مطبوعات

ایڈ وانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین 2272
  • اس ہفتے کے قارئین 4472
  • اس ماہ کے قارئین 66211
  • کل قارئین51167095

موضوعاتی فہرست