صنعت و تجارت کی زکوٰۃ اور سعودی عرب میں اس کا نفاذ(3288#)

ڈاکٹر یوسف قاسم
عبد الرحمن کیلانی
چوہدری عبد الباقی نسم دار التبلیغ رحمانیہ لاہور
74
1480 (PKR)
2.7 MB

اسلام کے نظام معیشت کی بنیادی خصوصیت انفرادی ملکیت کو تسلیم کرنے کے ساتھ ساتھ دولت کی زیادہ سے زیادہ تقسیم اور اس کو ارتکاز سے بچانا ہے،اس کی ایک عملی مثال زکوۃ کا  نظام ہے۔زکوۃ کو واجب قرار دیا جانا ایک طرف اس بات کی دلیل ہے کہ سرمایہ دار خود اپنی دولت کا مالک ہےاور وہ جائز راستوں میں اسے خرچ کر سکتا ہے۔دوسری طرف اس سے یہ بات  بھی واضح ہوتی ہے کہ انسان کی دولت میں سماج کے غریب لوگوں کا بھی حق ہے ۔یہ حق متعین طور پر اڑھائی فیصد سے لیکر بیس فیصد تک ہے،جو مختلف اموال میں زکوۃ کی مقررہ شرح ہے،اور بطور نفل اپنی ضروریات کے بعد غرباء پر جتنا کرچ کیا جائے اتنا ہی بہتر ہے۔لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ آج کل مسلمان اس عظیم الشان فریضے کی ادائیگی سے سے بالکل  لا پرواہ ہو چکے ہیں۔اور زکوۃ نکالنے کا اہتمام مفقود نظر آتا ہے۔مسائل زکوۃ میں سے مال تجارت کی زکوۃ کا مسئلہ بہت اہم ہے،اور موجودہ صنعتی دور میں اس کی اہمیت اور بھی بڑھ گئی ہے۔خصوصا اس کی ذیلی تفصیلات پر غور وفکر کی ضرورت ہے تاکہ اس کے عملی نفاذ میں آسانی رہے۔ زیر تبصرہ کتاب" صنعت وتجارت کی زکوۃ  اور سعودی عرب میں اس کا نفاذ " ملک عبد العزیز یونیورسٹی ریاض سعودی عرب کے ایک محقق استاذ  محترم ڈاکٹر یوسف قاسم  کا ایک تحقیقی  عربی مقالہ ہے جو اسی یونیورسٹی کے ششماہی مجلہ الاقتصاد والادارہ کے شمارہ نمبر 5 رجب 1397ھ بمطابق جولائی 1977ء میں شائع ہوا تھا۔جبکہ اس کا ترجمہ کرنے کی سعادت جماعت اہل حدیث کے نامور عالم دین اور محقق محترم مولانا عبد الرحمن کیلانی صاحب  ﷫نے حاصل کی ہے۔اس مقالے میں دلائل شرعیہ کے ساتھ ساتھ سعودی عرب میں اموال وتجارت وصنعت پر زکوۃ کے طریق کار کی تفصیل بیان کی گئی ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

عناوین

 

صفحہ نمبر

عرض ناشر

 

1

فنی اصطلاحات اور انکا مفہوم

 

3

مقدمہ

 

9

موضوع کی اہمیت

 

10

بحث کی حدود

 

10

تمہید

 

11

زکوۃ کا حکم

 

13

اموال محل نصاب

 

15

پہلا باب تجارت و صنعت کے عام احکام

 

18

تجارت و صنعت کی زکوۃ کی فرضیت کے دلائل

 

19

قرآن کریم سے

 

19

سنت سے

 

21

عمل خلفائے راشدین سے

 

22

قیاس شرعی

 

25

تجارت و صنعت کی زکوۃ کے شرائط

 

28

تجارت و صنعت کی زکوۃ کون کونسے سامان پر عائد ہو گی

 

33

قابل زکوۃ مال کی تشخیص

 

33

صنعتی اور تجارتی مال کے قابل زکوۃ ہونے کا معیار

 

34

صنعتی اور تجارتی مال جو قابل زکاۃ ہے

 

35

صنعتی اور تجارتی اموال کیوں کر قابل زکوۃ ہوتے ہیں

 

39

تجارتی کاروبار

 

39

صنعتی کاروبار

 

41

پیشہ ورانہ کاروبار

 

41

موجودہ صنعت

 

42

زکاۃ کی ادائیگی میں مراعات کے قواعد

 

48

حقیقی منافعہ جات

 

49

علیحدہ کرنے کے قابل سامان

 

49

زکاۃ دہندہ کے قابل وصول قرضے

 

51

دوسرا باب سعودی عرب میں تجارتی اور صنعتی زکاۃ کا نظام

 

55

زکاۃ کے قابل سامان کا تعین

 

56

زکاۃ دہندگان جس کے پاس باقاعدہ حساب موجود ہے

 

56

جو کچھ سامان زکاۃ سے علیحدہ کیا جائے

 

58

زکاۃ دہندگان جس کے پاس حساب موجود نہیں

 

62

زکاۃ کے اندازہ کی کیفیت

 

62

مجوزہ زکاۃ پر حق اعتراض

 

62

زکاۃ کا نرخ

 

64

بعض دوسرے تنظیمی قواعد

 

65

ٹھیکیداروں کا محکمہ زکاۃ کو اطلاع پہنچانا

 

65

ٹینڈر میں اشتراک کے لیے زکاۃ کی بلیاتی کی شرائط

 

66

شکمی ٹھیکیداروں سے اطلاع کی ضرورت

 

66

ٹرانسپورٹ کی خالص آمدنی کا تعین

 

67

خاتمہ

 

68

 

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 1113
  • اس ہفتے کے قارئین: 7282
  • اس ماہ کے قارئین: 46850
  • کل قارئین : 47267260

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں