• علامہ شبلی نعمانی

    اس روئے ارض پر انسانی ہدایت کے لیے حق تعالیٰ نے جن برگزیدہ بندوں کو منتخب فرمایا ہم انہیں انبیاء ورسل﷩ کی مقدس اصطلاح سے یاد کرتے ہیں اس کائنات کے انسانِ اول اور پیغمبرِاول ایک ہی شخصیت حضرت آدم کی صورت میں فریضۂ ہدایت کےلیے مبعوث ہوئے ۔ اور پھر یہ کاروانِ رسالت مختلف صدیوں اور مختلف علاقوں میں انسانی ہدایت کے فریضے ادا کرتے ہوئے پاکیزہ سیرتوں کی ایک کہکشاں ہمارے سامنے منور کردیتاہے ۔درخشندگی اور تابندگی کے اس ماحول میں ایک شخصیت خورشید جہاں تاب کی صورت میں زمانےاور زمین کی ظلمتوں کو مٹانے اورانسان کےلیے ہدایت کا آخری پیغام لے کر مبعوث ہوئی جسے محمد رسول اللہ ﷺ کہتے ہیں ۔ آج انسانیت کےپاس آسمانی ہدایت کا یہی ایک نمونہ باقی ہے۔ جسے قرآن مجید نےاسوۂ حسنہ قراردیا اور اس اسوۂ حسنہ کےحامل کی سیرت سراج منیر بن کر ظلمت کدۂ عالم میں روشنی پھیلارہی ہے ۔حضرت محمد ﷺ ہی اللہ تعالیٰ کے بعد ،وہ کامل ترین ہستی ہیں جن کی زندگی اپنے اندر عالمِ انسانیت کی مکمل رہنمائی کا پور سامان رکھتی ہے ۔ ۔ شروع ہی سے رسول کریم ﷺکی سیرت طیبہ پر بے شمار کتابیں لکھیں جا رہی رہیں۔یہ ہر دلعزیز سیرتِ سرورِ کائنات کا موضوع گلشنِ سدابہار کی طرح ہے ۔جسے شاعرِ اسلام سیدنا حسان بن ثابت سے لے کر آج تک پوری اسلامی تاریخ میں آپ ﷺ کی سیرت طیبہ کے جملہ گوشوں پر مسلسل کہااور لکھا گیا ہے او رمستقبل میں لکھا جاتا رہے گا۔اس کے باوجود یہ موضوع اتنا وسیع اور طویل ہے کہ اس پر مزید لکھنے کاتقاضا اور داعیہ موجود رہے گا۔ گزشتہ چودہ صدیوں میں اس ہادئ کامل ﷺ کی سیرت وصورت پر ہزاروں کتابیں اورلاکھوں مضامین لکھے جا چکے ہیں ۔اورکئی ادارے صرف سیرت نگاری پر کام کرنے کےلیےمعرض وجود میں آئے ۔اور پورے عالمِ اسلام میں سیرت النبی ﷺ کے مختلف گوشوں پر سالانہ کانفرنسوں اور سیمینار کا انعقاد کیا جاتاہے جس میں مختلف اہل علم اپنے تحریری مقالات پیش کرتے ہیں۔ ہنوذ یہ سلسلہ جاری وساری ہے ۔ اردو زبان میں سرت النبی از شبلی نعمانی ،سیدسلیمان ندوی رحمہما اللہ ، رحمۃللعالمین از قاضی سلیمان منصور پوری اور مقابلہ سیرت نویسی میں دنیا بھر میں اول آنے والی کتاب الرحیق المختوم از مولانا صفی الرحمن مبارکپوری کو بہت قبول عام حاصل ہوا۔ زیر تبصرہ کتاب ’’سیرت النبی ﷺ‘‘ برصغیر پاک وہند میں سیرت کےعنوان مشہور ومعروف کتاب ہے جسے علامہ شبلی نعمانی﷫ نے شروع کیا لیکن تکمیل سے قبل سے اپنے خالق حقیقی سے جاملے تو پھر علامہ سید سلیمان ندوی ﷫ نے مکمل کیا ہے ۔ یہ کتاب محسن ِ انسانیت کی سیرت پر نفرد اسلوب کی حامل ایک جامع کتاب ہے ۔ اس کتاب کی مقبولیت اور افادیت کے پیش نظر پاک وہند کے کئی ناشرین نےاسے شائع کیا ۔زیر تبصرہ نسخہ ’’مکتبہ اسلامیہ،لاہور ‘‘ کا طبع شدہ ہے اس اشاعت میں درج ذیل امور کا خاص خیال رکھا گیا ہے۔قدیم نسخوں سےتقابل وموازنہ ، آیات قرآنیہ ، احادیث اورروایات کی مکمل تخریج،آیات واحادیث کی عبارت کو خاص طور پرنمایاں کیا ہے ۔نیز اس اشاعت میں ضیاء الدین اصلاحی کی اضافی توضیحات وتشریحات کےآخر میں (ض) لکھ واضح کر دیا ہے ۔تاکہ قارئین کوکسی دقت کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔علاوہ ازیں اس نسخہ کو ظاہر ی وباطنی حسن کا اعلیٰ شاہکار بنانے کی بھر پور کوشش کی گئی ہے۔اور کتاب کی تخریج وتصحیح ڈاکٹر محمد طیب،پرو فیسر حافظ محمد اصغر ، فضیلۃ الشیخ عمر دارز اور فضیلۃ الشیخ محمد ارشد کمال حفظہم اللہ نےبڑی محنت سے کی ہے ۔اللہ تعالیٰ اس کتاب کی طباعت میں تمام احباب کی محنت کو قبول فرمائے اور ان کےلیے نجات کا ذریعہ بنائے (آمین) (م۔ا)

  • ام عبد منیب

    ولیمہ ایک دعوت ہے جو رشتہ ازدواج سےمنسلک ہونے کی خوشی میں مسلمان مرد کی طرف سےکی جاتی ہے اس دعوت میں کئی حکمتیں پوشیدہ ہیں مثلاً دعوت ولیمہ کرنےسے لوگوں کومعلوم ہوجاتا ہے کہ ولیمہ کرنے والے مرد نے نکاح کیا لہٰذا اس پر کو ئی شک نہیں کر سکتا کہ نامعلوم وہ کون سی اور کیسی عورت کے ساتھ رہ رہا ہے او ر دعوت ولیمہ کرنے میں بیوی کی عزت افزائی کااظہار پایا جاتا ہے ،دوستوں پڑوسیوں اور رشتہ داروں کی دعوت کرنے سے خوشی کالطف دوبالا ہوجاتا ہے،شادی خانہ آبادی یعنی نئے گھر کے آغاز پر مل کر اظہار محبت اور برکت حاصل کی جاتی ہے ،بہت سےنادار ، بھوکے اور مفس لوگوں کوکھانا مل جاتا ہے اور وہ بھی اس خوشی میں شریک ہوجاتے ہیں ۔حدیث نبوی کے مطابق سب سے برا ولیمہ وہ ہے جس میں مالداروں کوبلایا جائے او رناداروں کودعوت نہ دی جائے۔ زیرنظر کتابچہ ’’ ولیمہ ایک مسنون دعوت‘‘ محترمہ ام عبد منیب صاحبہ   کی اصلاح معاشرہ کے سلسلے میں ایک اہم کاوش ہے جس میں انہوں اپنے دعوتی واصلاحی اندازمیں مسنون دعوت ولیمہ کو بیان کرنے کےساتھ دعوت ولیمہ کے سلسلے میں کیے جانے والے غیرشرعی امور اور قباحتوں،رسوم ورواج کی بھی نشاندہی کی ہے اللہ تعالی ٰ ان کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور عوام الناس کی اصلاح کاذریعہ بنائے ۔ آمین( م۔ا)

  • حافظ زبیر علی زئی

    علم حدیث  ایک عظمت ورفعت پر مبنی موضوع ہے کیونکہ اس  کا تعلق براہ راست رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات بابرکات سے ہے۔جتنا یہ بلند عظمت ہے اتنا ہی اس کے عروج میں رکاوٹیں کھڑی کی گئیں اور اس کو مشکوک بنانے کی  سعی ناکام کی گئی۔علمائے حدیث نے دفاع حدیث کے لیے ہر موضوع پر گرانقدر تصنیفات لکھیں۔اسی سلسلے کی ایک کڑی عظمت حدیث کے نام سے عبدالرشید عراقی صاحب کی تصنیف ہے  جس میں انہوں نے عظمت حدیث کےساتھ ساتھ حجیت حدیث ،مقام حدیث،تدوین حدیث،اقسام کتب حدیث،اصطلاحات حدیث،مختلف محدثین ائمہ کرام جو کہ صحاح ستہ کے مصنفین ہیں ان کے حالات اور علمی خدمات،مختلف صحابہ کا تذکرہ  کرتے ہوئے مختلف شروحات حدیث کو اپنی اس کتاب میں موضوع بنایا ہے۔

     

     

     

  • امام احمد بن حنبل
    زیر نظر کتاب امام المحدثین،شمس الموحدین اور کتاب وسنت کے بے باک داعی  امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کی خدمت حدیث کے  سلسلہ میں معرکہ آراء تصنیف ہے ۔جس کی حسن ترتیب اور بہترین انتخاب کی دنیا معترف ہے ۔یہ کتاب احادیث نبویہ کا عظیم و وسیع ذخیرہ ہے ،جس میں  تیس ہزار کے لگ بھگ مرویات ہیں ۔اتنا بڑا ذخیرۂ احادیث  کسی ایک مؤلف کی الگ تالیف میں ناپید ہے۔ان اوصاف کے سبب علمائے حدیث اور شائقین  تحقیق ہمیشہ سے اس کتاب کے دلدادہ اور طالب رہے ہیں ۔اس کتاب کی افادیت و اہمیت کے پیش نظر حافظ احمد شاکر اور شعیب ارنؤوط نے اس کی تحقیق و تخریج کی جس  وجہ سے اس کتاب سے استفادہ کرنا آسان ہو گیا اور صحیح ،حسن اور ضعیف روایات کی پہچان سہل ہو گئی۔احادیث نبویہ کے اس وسیع ذخیرے سے عربی دان طبقہ ہی اپنی علمی تشنگی دور کر سکتا تھا لیکن اردو دان طبقہ کے لیے اس سے استفادہ مشکل تھا۔چنانچہ علم حدیث کو عام کرنے اور عامیوں کو  احادیث نبویہ سے روشناس کرانے کے لیے اردو مکتبہ جات نے کمرہمت کسی اور ہر مکتبہ نے اپنی استعدادو استطاعت کے  مطابق کتب احادیث کے تراجم و فوائد شائع کرنے کا آغاز کیا اور یہ سلسلہ صحاح ستہ سے بڑھتا ہوا دیگر کتب احادیث تک جا پہنچا ۔پھر عوام الناس کے کتب احادیث سے ذوق و شوق کے سبب مالکان مکتبہ جات  میں حوصلہ بڑھا اور انہوں نے بڑی کتب احادیث کے تراجم پیش کرنے کا عزم کیا اسی سلسلہ کی کڑی مسند احمد بن حنبل کا زیر نظر ترجمہ ہے ۔جو مکتبہ رحمانیہ کی بہت بڑی علم دوستی اور جذبہ  خدمت  حدیث کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔کتاب کے ترجمہ میں مترجم کی علمی گہرائی اور وسعت مطالعہ کی داد دینا پڑتی ہے ۔نیز  احادیث کی مختصر تخریج اور روایات کے صحت و ضعف کے حکم کی وجہ سے کتاب کی اہمیت دو چند ہوگئی ہے ۔احادیث پر اکثر حکم تو الشیخ شعیب ارنؤوط کا ہے البتہ بعض روایات پر شیخ البانی  کا حکم نقل کیا گیا ہے۔عمومی و اجتماعی فوائد کے اعتبار سے یہ نہایت مفید کتاب ہے لیکن اشاعت کی عجلت یا کسی ضروری مصلحت کی وجہ سے کتاب کو معیاری بنانے  میں کوتاہی کی گئی ہے ۔کیونکہ احادیث کی تخریج و تحقیق کے اسلوب کی نا تو مقدمہ میں وضاحت کی گئی ہے اور نہ ہی تخریج و تحقیق کا معیار ایک ہے۔بلکہ کچھ احادیث کی مختصر تخریج ہے اور بعض احادیث تخریج سے یکسر خالی ہیں۔یہی معاملہ تحقیق کا ہے کہیں شعیب ارنؤوط کا حکم نقل ہے ،کہیں علامہ البانی کا اور کہیں دونوں کے متضاد حکم درج ہیں۔اور اکثر ضعیف روایات کے اسباب ضعف غیر منقول ہیں اس کے برعکس کچھ مزید علمی فوائد ہیں:مثلاً حدیث نفس صفحہ بارہ پر مسند احمد کے راویوں کی ترتیب کا بیان ہے چونکہ یہ ترتیب غیر ہجائی ہے اس لیے صفحہ چھیالیس پر تمام راویوں کی حروف ہجائی  کے اعتبار سے  ترتیب نقل کی گئی ہے ۔نیز احادیث کی تلاش کی خاطر آخری دو جلدوں میں احادیث کے اطراف درج کیے گئے ہیں ۔جس سے احادیث کی تلاش قدرے آسان ہو گئی ہے۔یہ کتا ب چودہ جلدوں اور اٹھائیس ہزار ایک سو ننانوے احادیث پر مشتمل ہے ۔

  • احمد بن حجر قاضی دوحہ قطر
    بعض غفلت شعار لوگوں کی نیک نیتی کی بناء پر یا اپنے تئیں دین میں بگاڑ پیدا کرنے کے لیے بعض مفسدہ پرداز لوگوں کے سبب ایام قدیم سےمسلمانوں میں بدعات کی ایجاد اور ان پر عمل کا سلسلہ جاری ہے۔ دنیا میں ایسے علماء سوء کی کمی نہیں ہے جو ان بدعات کی نشر و اشاعت کے ذریعےدادِ عیش حاصل کرنے میں مصروف ہیں۔ زیر مطالعہ کتاب بدعات کے موضوع پر شیخ احمد بن حجر کی ایک شاندار تصنیف ہے جس میں حقیقی طور پر موضوع سے متعلقہ تمام مواد کا جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ کتاب میں عقائد و عبادات سے متعلق بہت سی بدعات کو جمع کرنے کے ساتھ ساتھ ایسے قواعد کا تذکرہ موجود ہے جو اس موضوع پر بنیادی اصول کا درجہ رکھتے ہیں۔جہاں اہل بدعات کے شبہات کا ذکر اوران کا مدلل رد موجود ہے وہیں بدعت کی تمام اقسام کا تذکرہ کرتے ہوئے ان کی تشریعی حیثیت کو بھی کتاب کی زینت بنایا گیا ہے۔ کتاب کا خاتمہ مختلف ابواب میں وارد شدہ موضوع احادیث کے مجموعہ پر کیا گیا ہے جس نے کتاب کی افادیت میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ اگر اس کتاب کو بدعات کا قلع قمع کرنے والی تلوار کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔

  • حافظ عمران ایوب لاہوری

    امت مسلمہ کو شرک سے بچانےکےلیے نہ صر ف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے شرک  کی مذمت بیان کی بلکہ ان اسباب وذرائع کابھی انسداد فرمایا جو کسی بھی طرح سے شرک کا ذریعہ بن سکتے تھے توحید کی اس قدر اہمیت اور شرک کی مذمت وروک تھام کے باوجود ہم دیکھتے ہیں کہ امت کی اکثریت شرک میں مبتلا  ہے ایک اللہ کو چھوڑ کر مصائب ومشکلات میں یارسول اللہ ،یاعلی مدد،یاغوث اعظم،امداد کن یا شیخ عبدالقادر کے نعرے ورد زبان ہیں اصحاب القبور اور فوت شدگان کو مدد کےلیے پکارا جارہا ہے مزاروں پر عرسوں او رمیلوں کا انعقاد او روہاں چراغاں کرنا ،کھانا تقسیم کرنا ،عبادت کرنا،دعائیں کرنا او رسرکاری سطح پر ان کاموں کی پذیرائی ،سب اسباب وذرائع شرک ہیں۔شرک کی درج بالا اور دیگر مروجہ صورتوں کی بنیادی سبب دین سے جہالت ہے اس کتاب میں قرآن وسنت کو مد نظر رکھتے ہوئے  توحید وشرک کی معرفت ،اقسام ،احکام او ردیگر تفصیلات کو بیان کیا گیا ہے تاکہ جس سے انسان آگاہی حاصل کرکے اللہ کا سچا موحد بندہ بن کر روز قیامت فلاح پاسکے
     

  • صالح بن فوزان الفوزان
    یہ کتاب بھی اصل میں ڈاکٹر صالح الفوزان کی ہے جس کو ایک انداز میں سعودی عرب کے دعوتی ادارے نے شائع کیا تھا جس کا نام عورتوں کے مخصوص مسائل رکھا گیا اور اسی کتاب کو دار لابلاغ نے تحفہ برائے خواتین کے نام سے شائع کیا ہے جس میں مختلف قسم کی اصلاحات ،خوبصورتی اور معیار کو بہتر کرنے کی کوشش کی گئی ہے- مصنف نے اس کتاب میں خواتین کے حوالے سے ان سے متعلقہ مسائل کی قرآن وسنت کی روشنی میں وضاحت کی ہے تاکہ عورت اپنے مسائل سے آگاہ ہو سکے-مثلا کہ ایام مخصوصہ کے مسائل،طہارت و پاکیزگی کے مسائل،پردے سے متعلقہ مسائل،نماز سے متعلق خواتین کے مخصوص مسائل،روزہ سے متعلق احکام،حج وعمرہ سے متعلق مسائل، ازدواجی زندگی سے متعلق مخصوص مسائل اور اسی طرح عورتوں کی عفت وپاک دامنی سے متعلق اہم بحثیں موجود ہیں-اس لیے ان مسائل کی قرآن وسنت میں جس انداز سے وضاحت کی گئی ہے اس وجہ سے یہ کتاب اپنی مثال آپ کی حیثیت رکھتی ہے-

  • سید بدیع الدین شاہ راشدی
    مسائل کو سمجھنے کے اعتبار سے ذہنوں کے مختلف ہونے کی وجہ سے ایک ہی بات مختلف انداز میں سمجھ آتی ہے لیکن قابل تسلیم بات وہی ہوتی ہے جس کی تائید قرآن وسنت کر رہے ہوں-اس لیے بنیاد قرآن وسنت ہو تو اس بنیاد پر سمجھے جانے والے مسائل اپنا ایک خاص تعارف رکھتے ہیں-زیر نظر رسالہ میں شیخ العرب والعجم سید بدیع الدین شاہ راشدی نے نے انتہائی سادہ علمی انداز میں  نمازوں کے اوقات کا تعین،نواقض وضو،سینے پر ہاتھ باندھنا،فاتحہ خلف الامام، آمین بالجہر اور رفع الیدین ،جلسہ استراحت  اور تشہد میں بیٹھنے کے طریقے وغیرہ کے حوالے سے مسلک اہل حدیث کا مؤقف واضح کرتے ہوئےثابت کیاہے کہ یہی وہ مسلک ہے جن کاعمل  سنت رسول، آثار صحابہ وتابعن اور اقوال آئمہ کے عین مطابق ہے-

  • نذیر احمد رحمانی

    اس کتاب میں نہایت پرزور دلائل سے اس حقیقت کو واضح کیا گیا ہے کہ تراویح کی آٹھ رکعتیں بلاشبہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے ثابت اور محقق ہیں اور اس کے مقابلے میں بیس رکعت تراویح بسند صحیح نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے اور نہ خلفاء راشدین رضی اللہ عنہم سے اور نہ اجماع امت سے۔ مؤلف "رکعات تراویح" نے اہل حدیث کے دلائل پر جتنے شبہات وارد کئے ہیں اور اپنے مزعومہ دعاوی کے ثبوت میں جتنی بھی دلیلیں پیش کی ہیں ان میں سے ایک بھی اصولِ حدیث اور فنِ رجال کی تحقیق کی رو سے قبولیت و استناد کے قابل نہیں۔

     

  • ابن قدامہ مقدسی
    توحید و رسالت اسلامی عقیدے کی بنیاد ہے اس عقیدے پر دل سے یقین رکھنا،زبان سے اقرار کرنا اور جوارح کے ساتھ اعمال کر کے اسلام کی بنیاد ہے-اس کے بعد ہی اعمال کی قبولیت ہو گی اگر پہاڑ پہاڑ جیسے اعمال اللہ کے ہاں بھیجے جائیں لیکن عقیدہ توحید درست نہیں ہو گا تو ان اعمال کا اللہ کے ہاں کوئی درجہ اور اہمیت نہیں ہوگی-توحید کا علم جس طرح سے سیکھنا بہت ضروری ہے اسی طرح اس پر کاربند رہنا بھی ایک انتہائی مشکل مرحلہ ہے-اس لیے ابن قدامہ نے اس کو بڑی حکمت اور نہایت اچھے اسلوب سےبیان کیا ہے-جس میں توحید ربوبیت ،توحید الوہیت،توحید اسماء وصفات کے ساتھ ساتھ علم غیب اور قضا وقدر کے مسئلے انتہائی اچھے اندازسے بیان کیا ہے-اور انداز بیان میں سلاست پیدا کرنے کے لیے ہر بحث کو الگ الگ فصلوں میں تقسیم کر دیا ہے جس سے بات کو سمجھنا اور بھی آسان ہوجاتا ہے ۔

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • کل مشاہدات: 39752850

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں