• ڈاکٹر حافظ محمود اختر

    اس روئے ارض پر انسانی ہدایت کے لیے حق تعالیٰ نے جن برگزیدہ بندوں کو منتخب فرمایا ہم انہیں انبیاء ورسل﷩ کی مقدس اصطلاح سے یاد رکرتے ہیں اس کائنات کے انسانِ اول اور پیغمبرِاول ایک ہی شخصیت حضرت آدم ﷤ کی صورت میں فریضۂ ہدایت کےلیے مبعوث ہوئے ۔ اور پھر یہ کاروانِ رسالت مختلف صدیوں اور مختلف علاقوں میں انسانی ہدایت کے فریضے ادا کرتے ہوئے پاکیزہ سیرتوں کی ایک کہکشاں ہمارے سامنے منور کردیتاہے ۔درخشندگی اور تابندگی کے اس ماحول میں ایک شخصیت خورشید جہاں تاب کی صورت میں زمانےاور زمین کی ظلمتوں کو مٹانے اورانسان کےلیے ہدایت کا آخری پیغام لے کر مبعوث ہوئی جسے محمد رسول اللہ ﷺ کہتے ہیں ۔ آج انسانیت کےپاس آسمانی ہدایت کا یہی ایک نمونہ باقی ہے۔ جسے قرآن مجید نےاسوۂ حسنہ قراردیا اور اس اسوۂ حسنہ کےحامل کی سیرت سراج منیر بن کر ظلمت کدۂ عالم میں روشنی پھیلارہی ہے ۔ رہبر انسانیت سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ قیامت تک آنے والےانسانوں کےلیے’’اسوۂحسنہ‘‘ ہیں ۔ حضرت محمد ﷺ ہی اللہ تعالیٰ کے بعد ،وہ کامل ترین ہستی ہیں جن کی زندگی اپنے اندر عالمِ انسانیت کی مکمل رہنمائی کا پور سامان رکھتی ہے ۔ سیرت طیبہ ایک ایسا چشمۂ فیض ہے جو ہردور میں انسانوں کے لیے مینارۂ نور کی حیثیت رکھتا ہے اس چشمہ صافی سے اربوں انسانوں کی تاریک زندگیوں کوروشنی فراہم ہوئی لوگوں نے آپ ﷺ کی حیات طیبہ اور تعلیمات نبویﷺ پر جس محبت اور خلوص کے ساتھ لکھا ہے وہ آپ ﷺکی ذاتِ گرامی کےساتھ ہی مخصوص ہے ۔ گزشتہ چودہ صدیوں میں اس ہادئ کامل ﷺ کی سیرت وصورت پر ہزاروں کتابیں اورلاکھوں مضامین لکھے جا چکے ہیں ۔اورکئی ادارے صرف سیرت نگاری پر کام کرنے کےلیےمعرض وجود میں آئے ۔اور پورے عالمِ اسلام میں سیرت النبی ﷺ کے مختلف گوشوں پر سالانہ کانفرنسوں اور سیمینار کا انعقاد کیا جاتاہے   جس میں مختلف اہل علم اپنے تحریری مقالات پیش کرتے ہیں۔ ہنوذ یہ سلسلہ جاری وساری ہے ۔آج کے دور میں مسلمان گوناں گوں مسائل سے دوچار ہیں ۔ ان مسائل میں سے ایک بنیادی مسئلہ مسلمانوں میں وحدت ویگانگت کا فقدان ہے۔ اس بات کی ضرورت ہے کہ لوگوں کو اس بات سے آگاہ کیا جائے کہ نبی کریم ﷺ کےساتھ ہمارا تعلق محض اس قدر ہی نہیں ہے کہ آپ ﷺ کے ساتھ وارفتگی کے ساتھ محبت کریں۔ یہ تعلق انسان کی بہت بڑی متاع ہے لیکن محبت کا حق اس وقت ادا ہوگا جب آپ کے اسوۂ احسنہ کوہم اپنی عملی زندگیوں میں بھی زیر عمل لائیں گے ۔نبی کریم ﷺ نے روز مرہ زدندگی کے جو اصول ہمیں دئیے ہیں ہم ان پر بڑی آسانی سے عمل کرسکتے ہیں۔ زیر نظر کتاب ’’استحکامِ مملکت اور بدامنی کا انسداد تعلیماتِ نبویﷺ کی روشنی میں ‘‘ ڈاکٹر حافظ محمود اخترصاحب (سابق چیئر مین شبعہ علوم اسلامیہ ،پنجاب یونیورسٹی ،لاہور) کی کاوش ہے اس کتاب میں انہوں نے اتحاد ویگانگت کےموضوع پر احادیث نبویہ یکجا کرنے کی کوشش کی ہے۔ اتحاد ویگانگت پیدا کرنے کے لیے سیرت طیبہ کے فکری وعملی دونوں پہلو پیش کیے ہیں ۔اسلامی حکومت پر اتحاد ویگانگت پیدا کرنے کے حوالے سے جوذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں ۔اور جو ایک اسلامی حکومت کے لیے ’’راہنما اصول ‘‘ کی حیثیت رکھتی ہیں ان کا ذکر بھی اختصار کےساتھ کیا ہے ۔ اور سب سے اہم بات کہ بدامنی اورفتنہ وفساد کا انسداد کس طرح کیا جاسکتاہے اور اس سلسلے میں سیرت طیبہ میں کیا لائحہ عمل دیاگیا ہے اس پر قلم اٹھانے کی کوشش کی ہے ۔اللہ تعالیٰ مصنف کی اس کاوش کوقبول فرمائے اور ہمیں اپنی زندگیوں کوسیرت طیبہ کے سنہری اصولوں کے مطابق بسر کرنے کی توفیق دے ۔(آمین) (م۔ا)

  • علامہ ارشد حسن ثاقب

    علومِ نقلیہ کی جلالت وعظمت اپنی جگہ مسلمہ ہے مگر یہ بھی حقیقت کہ ان کے اسرار ورموز اور معانی ومفاہیم تک رسائی علم نحو کے بغیر ممکن نہیں۔ کیونکہ علومِ عربیہ میں علم نحو کو جو رفعت ومنزلت حاصل ہے اس کا اندازہ اس امر سے بہ خوبی ہو جاتاہے کہ جو بھی شخص اپنی تقریر وتحریر میں عربی دانی کو اپنانا چاہتا ہے وہ سب سے پہلے نحو کےاصول وقواعد کی معرفت کا محتاج ہوتا ہے کلام ِالٰہی ،دقیق تفسیر ی نکات،احادیث رسول ﷺ ،اصول وقواعد ،اصولی وفقہی احکام ومسائل کا فہم وادراک اس علم کے بغیر حاصل نہیں ہو سکتا یہی وہ عظیم فن ہےکہ جس کی بدولت انسان ائمہ کےمرتبے اور مجتہدین کی منزلت تک پہنچ جاتاہے ۔عربی مقولہ ہے : النحو فی الکلام کالملح فی الطعام یعنی کلام میں نحو کا وہی مقام ہے جو کھانے میں نمک کا ہے ۔ قرآن وسنت اور دیگر عربی علوم سمجھنےکے لیے’’ علم نحو‘‘کلیدی حیثیت رکھتاہے اس کے بغیر علوم ِاسلامیہ میں رسوخ وپختگی اور پیش قدمی کاکوئی امکان نہیں ۔ قرنِ اول سے لے کر اب تک نحو وصرف پرکئی کتب اور ان کی شروح لکھی کی جاچکی ہیں ہنوز یہ سلسلہ جاری ہے۔ زیر تبصرہ کتاب’’ ریح العبیر فی شرح نحومیر‘‘علامہ ارشد حسن ثاقب﷾ کی کاوش ہے ۔ یہ شرح علم نحو کی ایک عمیق وجاندار تحقیق اور نحومیرکی ایک نہایت واضح او رمفصل شرح ہے۔یہ شرح نہ صرف نحومیر بلکہ شرح جامی تک تمام نحوی کتب کی تدریس اساتذہ کے لیے معاون ہے ۔ علم نحوکی یہ پہلی کتاب ہے جس میں درجنوں عربی اشعار کے علاوہ تیرہ صد سے زائد قرآنی آیات کو نحوی شواہد کےطور پر پیش کیا گیا ہے۔اللہ تعالیٰ شارح کی اس کاوش کوقبول فرمائے اور طالبانِ علوم نبوت کے نافع بنائے ( آمین) (م۔ا)

  • عبد العزیز نورستانی

    نماز انتہائی اہم ترین فریضہ اور سلام کا دوسرا رکن ِ عظیم ہے جوکہ بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے ۔ کلمہ توحید کے اقرار کےبعد سب سے پہلے جو فریضہ انسان پر عائد ہوتا ہے وہ نماز ہی ہے ۔اسی سے ایک مومن اور کافر میں تمیز ہوتی ہے۔ بے نماز ی کافر اور دائرۂ اسلام سے خارج ہے۔ قیامت کےدن اعمال میں سب سے پہلے نماز ہی سے متعلق سوال ہوگا۔ فرد ومعاشرہ کی اصلاح کے لیے نماز ازحد ضروری ہے۔ نماز فواحش ومنکرات سےانسان کو روکتی ہے ۔بچوں کی صحیح تربیت اسی وقت ممکن ہے جب ان کوبچپن ہی سےنماز کا پابند بنایا جائے ۔ قرآن وحدیث میں نماز کو بر وقت اور باجماعت اداکرنے کی بہت زیاد ہ تلقین کی گئی ہے۔ نماز کی ادائیگی اور اس کی اہمیت اور فضلیت اس قد ر اہم ہے کہ سفر وحضر اور میدان ِجنگ اور بیماری میں بھی نماز ادا کرنا ضروری ہے۔ نماز کی اہمیت وفضیلت کے متعلق بے شمار احادیث ذخیرۂ حدیث میں موجود ہیں او ر بیسیوں اہل علم نے مختلف انداز میں اس موضوع پر کتب تالیف کی ہیں۔ نماز کی ادائیگی کا طریقہ جاننا ہر مسلمان مرد وزن کےلیے ازحد ضروری ہے کیونکہ اللہ عزوجل کے ہاں وہی نماز قابل قبول ہوگی جو رسول اللہ ﷺ کے طریقے کے مطابق ادا کی جائے گی ۔او ر ہمارے لیے نبی اکرم ﷺکی ذات گرامی ہی اسوۂ حسنہ ہے۔ انہیں کے طریقے کےمطابق نماز ادا کی جائے گئی تو اللہ کے ہاں مقبول ہے۔ اسی لیے آپ ﷺ نے فرمایا صلو كما رأيتموني اصلي لہذا ہر مسلمان کےلیے رسول للہ ﷺ کے طریقۂ نماز کو جاننا بہت ضروری ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’آیئے اپنی نماز کو سنت نبویؐ کے مطابق ڈھالیں‘‘ پشاور کے ممتاز عالم دین شیخ عبد العزیز نورستانی ﷫ کی نماز کے موضوع پر مختصر کتاب ہے جس میں انہوں نے اختصار کے ساتھ نماز کا مکمل مسنون طریقہ بیان کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ شیخ کی تمام مساعی جمیلہ کو قبول فرمائے اور اس کتاب کو عوام الناس کے لیے فائدہ مند بنائے (آمین)

  • قاری رحیم بخش پانی پتی

    قرآن مجید اللہ تعالی کی طرف سے نازل کی جانے والی  کتب سماویہ میں سے سب سے  آخری  کتاب ہے ۔جسےاللہ تعالی نے امت کی آسانی کے لئے سات حروف پر نازل فرمایا ہے۔ یہ تمام کے تمام ساتوں حروف عین قرآن اور منزل من اللہ ہیں۔ان تمام پرایمان لانا ضروری اور واجب ہے،اوران کا انکار کرنا کفر اور قرآن کا انکار ہے۔اس وقت دنیا بھر میں سبعہ احرف پر مبنی دس قراءات  اور بیس روایات پڑھی اور پڑھائی جارہی ہیں۔اور ان میں سے چار روایات (روایت قالون،روایت ورش،روایت دوری اور روایت حفص)ایسی ہیں جو دنیا کے کسی نہ کسی حصے میں باقاعدہ رائج اور متداول ہیں،عالم اسلام کے ایک بڑے حصے پر قراءت امام عاصم بروایت حفص رائج ہے، جبکہ مغرب ،الجزائر ،اندلس اور شمالی افریقہ میں قراءت امام نافع بروایت ورش  ، لیبیا ،تیونس اور متعدد افریقی ممالک میں روایت قالون عن نافع ،مصر، صومالیہ، سوڈان اور حضر موت  میں روایت دوری عن امام ابو عمرو بصری رائج اور متداول ہے۔ہمارے ہاں مجلس التحقیق الاسلامی میں ان چاروں متداول روایات(اور مزید روایت شعبہ) میں مجمع ملک فہد کے مطبوعہ قرآن مجید بھی موجود ہیں۔عہد تدوین علوم سے کر آج تک قراءات قرآنیہ کے موضوع پر بے شمار اہل علم اور قراء نے عربی و اردو میں کتب تصنیف فرمائی ہیں اور ہنوز یہ سلسلہ جاری وساری ہے۔ زیر نظر کتاب '' قراءۃ حضرت امام حمزہ کوفی ﷫ بروایتین سیدنا امام خلف وسیدنا امام خلاد " مدرسہ عربی،خیر المدارس ملتان کے استاذ شیخ القراء واستاذ الاساتذہ محترم قاری رحیم بخش بن فتح محمد صاحب پانی پتی﷫ کی ایک منفرد اور شاندار تالیف ہے۔جس میں مولف  نے  امام حمزہ کوفی کے  دونوں راویوں امام خلف اور امام خلادکی روایتوں کو انتہائی  آسان اور سہل انداز میں پیش کیا ہے۔اس رسالے میں بھی مولف نے پہلے اصول بیان کئے ہیں اور پھر دونوں رواۃ کے فروش کو اکٹھے بیان کرتے ہوئے ہر راوی کے اختلاف کے نیچے اس کا نام لکھ دی اہے۔قاری رحیم بخش صاحب نے قراءسبعہ میں سے ہر قاری کے دونوں رواۃ کی روایتوں کو الگ الگ رسالے میں قلم بند کیا ہے،اور آپ کے یہ رسالے اتنے محقق اور مستند ہیں کہ راقم نے جمع کتابی کے پروجیکٹ پر کام کرنے کے دوران ان کا متعدد بار مطالعہ کیا مگر ان میں کوئی سہو اور غلطی نظر نہ آئی۔ مولف موصوف﷫ علم قراءات کے میدان میں بڑا  بلند اور عظیم مقام ومرتبہ رکھتے ہیں۔آپ نے علم قراءات پر متعددعلمی وتحقیقی کتب تصنیف فرمائی ہیں۔ اللہ تعالی قراء ات  قرآنیہ  کے حوالے سے سر انجام دی گئی ان کی ان خدمات جلیلہ کو قبول فرمائے۔آمین(راسخ)

    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • میاں محمد جمیل ایم ۔اے

    دینِ اسلام کا جمال وکمال یہ ہے کہ یہ ایسے ارکان واحکام پر مشتمل ہے جن کا تعلق ایک طرف خالق ِکائنات اور دوسری جانب مخلوق کےساتھ استوار کیا گیا ہے ۔ دین فرد کی انفرادیت کا تحفظ کرتے ہوئے اجتماعی زندگی کوہر حال میں قائم رکھنے کاحکم دیتاہے۔اس کے بنیادی ارکان میں کوئی ایسا رکن نہیں جس میں انفرادیت کے ساتھ اجتماعی زندگی کو فراموش کیا گیا ہو ۔انہی بینادی ارکان خمسہ میں سے ایک اہم رکن زکوٰۃ ہے۔ عربی زبان میں لفظ ’’زکاۃ‘‘ پاکیزگی ،بڑھوتری اور برکت کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔جبکہ شریعت میں زکاۃ ایک مخصوص مال کے مخصوص حصہ کو کہا جاتا ہے جو مخصوص لوگوں کو دیا جاتا ہے ۔اور اسے   زکاۃ اس لیے کہاجاتا ہے کہ اس سے دینے والے کا تزکیہ نفس ہوتا ہے اور اس کا مال پاک اور بابرکت ہوجاتا ہے۔ نماز کے بعد دین اسلام کا اہم ترین حکم ادائیگی زکاۃ ہے ۔اس کی ادائیگی فر ض ہے اور   دینِ اسلام کے ان پانچ بنیادی ارکان میں سے ایک ہے جن پر دین قائم ہے۔زکاۃ ادا کرنےکے بے شمار فوائد اور ادا نہ کرنے کے نقصانات ہیں ۔قرآن مجید اور احادیث نبویہ میں تفصیل سے اس کے احکام ومسائل بیان ہوئے ۔جو شخص اس کی فرضیت سےانکار کرے وہ یقینا کافر اور واجب القتل ہے ۔یہی وجہ کہ خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق﷜ نے مانعین زکاۃ کے خلاف اعلان جنگ کیا۔اور جو شخص زکاۃ کی فرضیت کا تو قائل ہو لیکن اسے ادا نہ کرتا ہو اسے درد ناک عذاب میں مبتلا کیا جائے گا۔جس کی وضاحت سورہ توبہ کی ایت 34۔35 اور صحیح بخاری شریف کی حدیث نمبر1403 میں موجود ہے ۔ اور اردو عربی زبان میں زکوٰۃ کے احکام ومسائل کےحوالے سے بیسیوں کتب موجود ہیں۔ زیر نظر کتاب ’’ زکوٰۃ کے مسائل وفوائد ‘‘سابق ناظم اعلی مرکزی جمعیت اہل حدیث ،کنونئیر تحریک دعوت توحید ،پاکستان ،مدیر وبانی ابو ھریرہ اکیڈمی ،لاہور محترم میاں محمد جمیل ایم اے ﷾ کی   کاوش ہے۔ جس میں انہوں نے زکوٰۃ کی اہمیت وفضیلت ،تاریخ ، فوائد وثمرات اور زکوٰۃ کے جملہ احکام ومسائل کو   قرآن وحدیث کے دلائل کی روشنی میں بڑے آسان فہم انداز میں بیان کیا ہے۔ موصوف اس کتاب کے علاوہ بھی تقریبا ایک درجن کتب کے مصنف ہیں۔ اوردینی وعصری علوم کےمعیاری ادارے ابوھریرہ اکیڈمی چلانے کے علاوہ پاکستان میں دعوتِ توحید کوعام کرنے کے لیے ’’تحریک دعوت توحید‘‘ کی قیادت کرتے ہوئے شرک وبدعات کے خاتمے کےلیے بڑے فعال ہیں۔اللہ تعالیٰ موصوف کی تصنیفی،تبلیغی واصلاحی خدمات کوشرفِ قبولیت سے نوازے اور کتاب ہذا کو عوام الناس کے لیے نفع بخش بنائے۔آمین( م۔ا)

  • محمد ادریس فاروقی

    صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کے دور میں وقوع پذیر ہونے والے واقعات کے متعلق کچھ لکھنا تنے ہوئے رسے پر چلنے کے مترادف ہے۔ذرا سا توازن بگڑنے سے انسان کسی گہری  کھائی میں گر سکتا ہے۔یہ موضوع جتنا حساس ہے اس میں اتنی  ہی بے احتیاطی برتی گئی ہے۔ایک طرف تو لوگ اس حد تک چلے گئے ہیں کہ سیدہ عائشہ ،سیدنا طلحہ،سیدنا زبیر،سیدنا معاویہ،سیدنا عمرو بن عاص اور سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ  پر تنقید کے نشتر چلاتے ہیں تو دوسری طرف اس حد تک جا پہنچے ہیں کہ سیدنا حسین ﷜کو باغی قرار دے دیا ہے۔ان کی دیدہ دلیری دیکھئے کہ وہ یہ کہتے ہوئے بھی نہیں چوکتے کہ سیدنا حسین ﷜کا مقصد محض دنیاوی اقتدار کا حصول تھا۔حالانکہ یہ درست نہیں ہے۔اگر غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ جنگ جمل ،جنگ صفین اور واقعہ کربلا ایک ہی سلسلے کی مختلف کڑیاں ہیں اور یہ اسی فتنے کا تسلسل ہے جو سیدنا عمر ﷜کی شہادت سے شروع ہوا اور سیدنا عثمان ﷜کے عہد خلافت میں پروان چڑھا۔زیر تبصرہ کتاب " سیرت حسین ﷜مع سانحہ کربلا "مسلم پبلیکیشنز کے مدیر محترم نعمان فاروقی  کے والد گرامی ماہنامہ ضیائے حدیث کے بانی وسابق چیف ایڈیٹر مولانا حکیم محمد ادریس فاروقیکی تصنیف ہے ۔جس میں انہوں نے افراط وتفریط سے بچتے ہوئے  نہایت اعتدال اور توازن کے ساتھ سیدنا حسین کی سیرت اور واقعہ کربلا کو  بیان فرمایا ہے۔اللہ تعالی مولف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔(آمین) موصوف  کے  فرزند ارجمند  محترم  مولانا محمدنعمان فاروقی( فاضل مرکز  الدعوہ السلفیہ،  ستیانہ بنگلہ) ایک جید عالم دین  اور اچھے  مضمون  نگار ہیں طویل عرصہ سے  دارالسلام ،لاہور میں سینئر ریسرچ سکالر کے فرائض انجام دینے کے علاوہ    اپنے  والدگرامی کے جاری کردہ  ماہنامہ ضیائےکے   بطور ایڈیٹر اور مسلم  پبلی کیشنز کے بطور  مدیر بھی  خدمات انجام دے رہے  ہیں ۔کتاب ہذا انہوں نے  بطور ہدیہ  لائبریری کے لیے  عنائیت کی  ہےیہ کتاب  اپنے موضوع پرمنفرد اہمیت کی حامل ہے   حالیہ  ایام  میں ہر ایک کےلیے  اس کا مطالعہ کرنا  از حد ضروری ہے ۔لہذا  افادہ عام کےلیےاسے   فوری پبلش کیا گیا ہے۔ ( راسخ)

    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • رحمت اللہ خلیل الرحمن کیرانوی ہندی

    اسلامی تعلیمات کے مطابق اللہ تعالی ایک ہے ۔اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔وہ ہر چیز پر قادر ہے۔نہ اس کی بیوی ہے اورنہ ہی اس کا کوئی بیٹا ہے ۔لیکن  اس کے برعکس عیسائی عقیدہ تثلیث کے قائل ہیں ،جس کے مطابق اللہ تعالی، سیدنا عیسیٰ﷤اورسیدہ  مریم  علیھا السلام تینوں  خدا  ہیں اور یہ تینوں خدا مل کر بھی ایک ہی خدا بنتے ہیں۔ یعنی وہ توحید کو تثلیث میں اور تثلیث کو توحید میں یوں گڈ مڈ کرتے ہیں کہ انسان سر پیٹ کے رہ جائے اور پھر بھی اسے کچھ اطمینان حاصل نہ ہو۔اسی طرح  کتب سماویہ میں سے صرف قرآن مجید ہی ایک ایسی کتاب ہے جو ساڑھے چودہ سو سال گزر جانے کے باوجود ہر طرح کی تحریف وتصحیف سے محفوظ ہے۔کیونکہ اس کی حفاظت کی ذمہ داری خود ذات باری تعالی نے اٹھائی ہوئی ہے۔اس کے علاوہ دیگر تمام کتب تحریف وتصحیف کا شکار ہو چکی ہیں،اور  ان کے حاملین نے اپنی خواہشات نفس کو بھی ان کتب کا حصہ بنا دیا ہے۔ اس کے برعکس صورتحال یہ ہے کہ عیسائی پادری  جہاں قرآن مجید کو تو غیر محفوظ جبکہ اپنی کتب کو محفوظ قرار دیتے نظر آتے ہیں،وہیں عقیدہ تثلیث کے رد پر مسلمانوں کی تردید کرتے نظر آتے ہیں۔زیر تبصرہ کتاب " بائیبل سے قرآن تک"ہندوستان کے معروف مبلغ ،داعی ،محقق مسیحیت اور عیسائیت کی جڑیں کاٹنے والے اور انگریزی استعمار کی آنکھوں میں کانٹے کی طرح کھٹکنے والے  مولانا رحمت اللہ کیرانوی﷫ کی  عربی کتاب "اظہار الحق " کا اردو ترجمہ ہے۔ترجمہ کرنے کی سعادت مولانا اکبر علی صاحب استاذ حدیث دار العلوم کراچی نے حاصل کی ہے۔مولف ﷫نے عیسائیت کے رد  میں عظیم الشان خدمات انجام دی ہیں اور کتابیں لکھی ہیں۔ اس کتاب میں موصوف نے عقیدہ تثلیث،تحریف بائبل ،بشارات محمدی اور عیسائیوں کے متعدداعتراضات کا عقلی ونقلی ،الزامی وتحقیقی، مدلل اور مسکت جواب دیا ہے۔رد عیسائیت پر اتنی علمی وتحقیقی کتاب آپ کو اس کے علاوہ اور کوئی نہیں ملے گی۔عیسائیت کے خلاف کام کرنے والے اہل علم کے لئے یہ ایک گرانقدر تحفہ ہے۔اللہ تعالی دفاع توحید کے سلسلے میں انجام دی جانے والی ان کی ان خدمات کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے۔آمین(راسخ)

    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

    مکمل جلدوں میں کتاب حاصل کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • ابو القاسم سلیمان بن احمد بن ایوب طبرانی

    امام طبرانی ابو القاسم بن احمد بن ایوب(260۔360ھ) علم وفضل کے جامع او رفن حدیث میں نہایت ممتاز تھے امام طبرانی نے ایک ہزار سے زائد محدثین سے علم حاصل کیا ۔حافظ ذہبی کا بیان ہے کہ حدیث کی کثرت اور علوِ اسناد میں ان کی ذات نہایت ممتاز تھی او ر حدیث میں ان کی بالغ نظری کا پوری دنیائے اسلام میں چرچا تھا ،شاہ عبد العزیز لکھتے ہیں کہ حدیث میں وسعت اور کثرتِ روایت میں وہ یکتا او رمفرد تھے ۔اما م طبرانی نے معجم کے نام سے تین کتابیں لکھیں (معجم کبیر،معجم اوسط،معجم صغیر) یہ ان کی مشہور ومعروف تصانیف ہیں جو علم حدیث کی بلند پایہ کتابیں سمجھی جاتی ہیں ،شاہ ولی اللہ دہلوی نے ان کو حدیث کے تیسرے طبقہ کتابوں میں شامل کیا ہے ۔محدثین کی اصطلاح میں معجم ان کتابوں کو کہا جاتا ہے جن میں شیوخ کی ترتیب پر حدیثیں درج کی گئی ہوں۔زیر تبصرہ کتاب''معجم صغیر '' مختصر ہونے کی وجہ سے زیادہ مقبول اور متداول ہے اس کی ترتیب شیوخ کے ناموں پر ہے اس میں انہوں نے حروف تہجی کے مطابق ایک ہزار سےزیادہ شیوخ کی ایک ایک حدیث درج کی ہے آخر میں بعض خواتین محدثات کی بھی حدیثیں ہیں ۔اس میں کل احادیث کی تعداد 1197 ہے ۔ کتاب کی اہمیت کے پیش نظر مولانا عبد الصمد ریالوی ﷾ نے اس کا اردو کاترجمہ کیا او ر فوائد کا کام مولانا محمد فاروق رفیع(مدرس جامعہ لاہور الاسلامیہ)اور حافظ فہد اکرم حفظہما اللہ نے بڑے احسن طریقے انجام دیا ۔ اللہ اس کتا ب کو اشاعت کے لیے تیارکرنے والے تمام احباب کی علمی کاوشوں کو قبول فرمائے اور اس کا نفع عام کردے(آمین)(م۔ا)

     

    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

     

  • شاہ ولی اللہ محدث دہلوی

    شاہ ولی اﷲمحدث دہلوی (1703-1762) برصغیر پاک و ہند کے ان عظیم ترین علماء ربانیین میں سے ہیں جو غیر متنازع شخصیت کے مالک ہیں۔ وہ ہر مسلک کے مسلمانوں کے ہاں قدر کی نگاہوں سے دیکھے جاتے ہیں ان کی شہرت صرف ہندوستان گیر ہی نہیں بلکہ عالم گیر ہے ۔وہ بلاشبہ اٹھارہویں صدی کے مجدد تھے اور تاریخ کے ایک ایسے دورا ہے پر پیدا ہوئے جب زمانہ ایک نئی کروٹ لے رہا تھا، مسلم اقتدار کی سیاسی بساط لپیٹی جا رہی تھی، عقلیت پرستی اور استدلالیت کا غلبہ ہو رہا تھا۔آپ نے حجۃ اﷲ البالغہ جیسی شہرہ آفاق کتاب اور موطا امام مالک کی شرح لکھی اورقرآن مجید کا فارسی زبان میں ترجمہ کیا۔ دوران ترجمہ شاہ صاحب کے سامنے بہت سے علوم و معارف اور مسائل و مشکلات واشگاف ہوئے ۔ شاہ صاحب نے ان کو حل کرنے کی کوشش کی اور اس کے لیے متعدد کتابیں اور رسالے لکھے ۔ترجمہ کی مشکلات کو حل کرنے کیلئے "مقدمہ در قوانین ترجمہ" کی تصنیف فرمائی۔ لیکن شاہ ولی اﷲ کا ایک بے مثال کارنامہ ''الفوز الکبیر فی اصول التفسیر ''ہے ۔شاہ صاحب کی علوم القرآن پر اتنی گرفت ہے کہ ان کی تصنیف لطیف ''الفوز الکبیر'' سند کا درجہ رکھتی ہےچونکہ اپنے موضوع پر ایک منفرد کتاب تھی اسی لئے اناً فاناً سارے عالمِ اسلام میں اس کی شہرت پھیل گئی۔منیر الدین دمشقی اور مولانا سلمان ندوی نے اس کا عربی میں ترجمہ کیا ہے ۔ مفتی محمد سعید پالن پوری نے بھی اس کا عربی میں ترجمہ کیا، اور اردو و عربی میں شرح بھی لکھی۔اس کے علاوہ بھی کئی اہل علم نے اس کتاب کا اردو میں ترجمہ کیا ۔ زیر نظر کتاب ''عون الخبیر شرح الفوز الکبیر'' مولانا صوفی عبد الحمید خان سواتی کی تصنیف ہے جو کہ فوز الکبیر کو تدریس کے دروان ان کے کیسٹوںمیں ریکارڈ شدہ دروس کو سن کر تیار کی گی ہے ۔فوز الکبیر کی یہ شرح طالبانِ علوم نبوت اور مدارس کےاساتذہ وطلباء کے لیے ایک گراں قدر تحفہ ہے کیونکہ یہ کتاب اکثر مدارس اسلامیہ میں شامل نصاب ہے ۔(م۔ا)

     

    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ  کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

     

  • حافظ صلاح الدین یوسف

    قرآن کے بغیر دین اسلام کے علم کاتصور محال ہے ۔ اسی طرح شارح قرآن کے بغیر قرآن کا علم حاصل نہیں ہوسکتا۔اسی لیے صحابۂ کرام ﷢ نے قرآن وحدیث میں کوئی فرق روا نہیں رکھا ۔ ان نفوس قدسیہ کے نزدیک نہ صرف دونوں واجب الاطاعت تھے بلکہ انہوں نے عملاً یہ ثابت کردیا کہ ان کے نزدیک احادیث ِاحکام قرآن ہی کا تسلسل تھیں۔رسول اللہ ﷺ نے اپنے ان فیصلوں کو جو قرآن کریم میں منصوص نہیں کتاب اللہ کے فیصلے قرار دیا ۔زیر نظر کتاب ''عظمت حدیث ''مفسر قرآن حافظ صلاح الدین یوسف ﷾ کی تصنیف ہے جوکہ حدیث کے حوالے حافظ صاحب کے 6 مضامین کا مجموعہ ہے ۔ منکرین حدیث اس کتاب کے اولین مخاطب ہیں۔مزید اس کتاب میں حافظ صاحب نے حدیث کی تشریعی حیثیت کے منکرین کے علاوہ حدیث کےبارے میں اہل تقلید کے طرزِ عمل کے نقصانات کا جائزہ لیا ہے او رشاہ والی محدث دہلوی کی مسند کے ''جانشین حضرات'' کو شاہ صاحب ہی کی زبان میں تفہیم کی شاندار کاوش کی ہے مصنف کےنزدیک بعض اہل حدیث حضرات کا طرز عمل بھی غیر محدثانہ روش کا آئینہ دار ہے ۔ اس طرز عمل کا جائزہ لینے کے بعد امن وسلامتی کی راہ اپنانےکے رہنما خطوط پیش کرتے ہوئے حدیث کی عظمت اور اس کے تقاضوں کو واضح کیا ہے ۔اللہ تعالیٰ ہم سب کوحدیث کی عظمت اور اس کے تقاضوں کو سمجھنے اور اس کے مطابق عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے (آمین)(م۔ا)

     

    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

     

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • کل مشاہدات: 39752870

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں