• #2714
    قاری فتح محمد پانی پتی

    1 عنایات رحمانی جلد دوم

    قرآن مجید اللہ تعالی کی طرف سے نازل کی جانے والی آسمانی کتب میں سے سب سے  آخری  کتاب ہے ۔جسےاللہ تعالی نے امت کی آسانی کی غرض سے قرآن مجید کو سات حروف پر نازل فرمایا ہے۔ یہ تمام کے تمام ساتوں حروف عین قرآن اور منزل من اللہ ہیں۔ان تمام پرایمان لانا ضروری اور واجب ہے،اوران کا انکار کرنا کفر اور قرآن کا انکار ہے۔اس وقت دنیا بھر میں سبعہ احرف پر مبنی دس قراءات  اور بیس روایات پڑھی اور پڑھائی جارہی ہیں۔اور ان میں سے چار روایات (روایت قالون،روایت ورش،روایت دوری اور روایت حفص)ایسی ہیں جو دنیا کے کسی نہ کسی حصے میں باقاعدہ رائج اور متداول ہیں،عالم اسلام کے ایک بڑے حصے پر قراءت امام عاصم بروایت حفص رائج ہے، جبکہ مغرب ،الجزائر ،اندلس اور شمالی افریقہ میں قراءت امام نافع بروایت ورش  ، لیبیا ،تیونس اور متعدد افریقی ممالک میں روایت قالون عن نافع ،مصر، صومالیہ، سوڈان اور حضر موت  میں روایت دوری عن امام ابو عمرو بصری رائج اور متداول ہے۔ہمارے ہاں مجلس التحقیق الاسلامی میں ان چاروں متداول روایات(اور مزید روایت شعبہ) میں مجمع ملک فہد کے مطبوعہ قرآن مجید بھی موجود ہیں۔عہد تدوین علوم سے کر آج تک قراءات قرآنیہ کے موضوع پر بے شمار اہل علم اور قراء نے کتب تصنیف فرمائی ہیں اور ہنوز یہ سلسلہ جاری وساری ہے۔شاطبیہ امام شاطبی  کی قراءات سبعہ پر لکھی گئی  اہم ترین اساسی اور نصابی کتاب ہے ۔ اللہ تعالی نے اسے بے پناہ مقبولیت سے نوازا ہے۔بڑے بڑے مشائخ اور علماء نے اس قصیدہ کی تشریح کو اپنے لیے اعزاز سمجھا اور اس کی شروحات لکھیں۔ شاطبیہ کے شارحین کی ایک بڑی طویل فہرست ہے ۔زیر نظر کتاب ''عنایات رحمانی '' بھی شاطبیہ کی منجملہ شروحات میں سے ایک ہے۔جو پاکستان میں علم قراءات کے میدان کی معروف شخصیت استاذ القراء والمجودین قاری فتح محمد  پانی پتی  ﷫کی تصنیف ہے۔یہ ایک جامع ،مفصل اور تمام امور کا احاطہ کرنے والی بڑی شاندار  اور علمی تالیف ہے جو بڑے سائز کی تین جلدوں پر مشتمل ہےاور علم قراءات کے میدان میں ایک بلند پایہ کاوش ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس خدمت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

     نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

    مکمل کتاب ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • #2613
    ولی الدین الخطیب التبریزی

    2 مشکوۃ المصابیح جلد پنجم

    اللہ تعالی کی رسی یعنی  قرآن کریم  کے ساتھ انسان کا  تعلق اس وقت تک مکمل نہیں ہوسکتا جب  تک  قرآن کریم کی  تشریح وتفسیر رسول اللہ ﷺ کی سنت ،حدیث یعنی  آپ کے طریقہ سے نہ ہو  اور آپ ﷺ کےطریقہ کےساتھ وابستہ ہونا اس وقت تک ناممکن ہے  جب تک اس علم پر عمل  نہ کیا جائے ۔کتبِ حدیث کے مجموعات میں  سے   ایک مجموعۂ حدیث ’’مشکاۃ المصابیح‘‘  کے نام سے معروف    ہے ۔مشکاۃ المصابیح احادیث نبویہ ﷺ کا انمول ذخیرہ ہے جسے  امام بغوی  نے ’مصابیح السنۃ‘ کے نام سے حدیث کی مشہور کتابوں صحاح ستہ، مؤطا امام مالک، مسند امام احمد ، سنن بیہقی اور دیگر کتب احادیث سے منتخب کیا ہے۔ پھر علامہ  خطیب تبریزی ﷫نے ’مصابیح السنۃ‘ کی تکمیل کرتے ہوئے اس میں کچھ اضافہ کیا۔  اور راوی حدیث صحابی کا نام اور حدیث کی تخریج کی اور اس کو تین فصول میں تقسیم کیا ۔اس  کتاب کی افادیت کے پیش نظر اس  کے متعدداردو تراجم کیے گئے  اور  جید علماء کرام  نے اس پر تحقیق وتخریج کا کام بھی کیا  ہے ۔ یہ  مجموعہ جہاں دینی مدارس کے نصاب میں شامل ہے  تووہیں یہ عام پرھے لکھے افراد کےلیے  بھی  روشنی کامینارہ  ہے۔ اصولی طور پر اگر اس کی اہمیت کودیکھا جائے تواحادیث کا یہ  ایسا ذخیرہ ہے  کہ جوہر  ایک  مسلمان گھرانے کی ضرورت ہے  کیونکہ اس میں دین ِاسلام کےتقریبا ہر قسم کے مسائل درج ہیں کہ جن کو سمجھنا اور ان پر عمل کرنا ہر مسلمان کادینی فریضہ ہے ۔زیرتبصرہ   مشکوٰۃ المصابیح کا نسخہ   سیدمحمد  عبداللہ   غزنوی کے   فرزند جلیل   سید محمد عبدالاول غزنوی کا ترجمہ وفوائد   پانچ مجلدات پر مشتمل ہےاور اس میں احادیث کی تخریج  کےساتھ ساتھ شیخ ناصرالدین البانی کی  طرف سے حکم الحدیث کے عنوان  سے صحت وضعف کا حکم  لگا کر حدیث کی اہمیت کو واضح کیاگیاہے ۔محترم  حافظ عبد لخبیر اویسی اور  پروفیسر ابو انس محمدسرور گوہر نے  اس میں  تسہیل ترجمہ وحواشی کا  کام  انتہائی خوش اسلوبی سے کیا  ہے ۔جس  کی وجہ سے  قاری کےلیے     سید عبد الاول غزنویکے ترجمہ وفوائد سے  استفادہ کرنا آسان ہوگیا ہے ۔ اللہ  تعالیٰ اس کتاب کی تیاری میں شامل تمام احباب کی مساعی جمیلہ کو شرف ِقبولیت سے  نواز ے ۔جلد اول  کے  شروع میں  ائمہ  محدثین  کے  حالات واحوال پر  مشتمل  طویل  مقدمہ اور  جلد پنجم کے  آخر میں’’ الاکمال فی اسماء الرجال ‘‘کا ترجمہ بھی شامل  اشاعت  ہے  جو کہ طالبانِ حدیث کے لیے  انتہائی مفید ہے ۔(آمین) (م۔ا)

     نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

    مکمل جلدوں میں کتاب حاصل کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • #2242
    ظفر علی راجا

    3 پسند کی شادی اسلام اور قانون

    ولایت ِنکاح کا  مسئلہ یعنی جوان لڑکی  کے نکاح کے لیے ولی کی اجازت او ررضامندی ضروری ہے قرآن وحدیث کی نصوص سے واضح ہے  کہ کسی نوجوان لڑکی  کو یہ اجازت حاصل نہیں ہے کہ  وہ والدین کی اجازت  اور رضامندی کے بغیر گھر سے راہ ِفرار  اختیار کرکے  کسی عدالت میں یا کسی  اور جگہ  جاکر  از خود کسی  سے نکاح رچالے ۔ایسا نکاح باطل ہوگا نکاح کی  صحت کے لیے  ولی کی اجازت ،رضامندی اور موجودگی ضروری ہے  ۔ لیکن  موجودہ دور میں مسلمانوں کے  اسلام سے  عملی  انحراف نے جہاں شریعت  کے  بہت سے مسائل کوغیر اہم بنادیا ہے ،اس مسئلے  سے بھی  اغماض واعراض اختیار کیا جاتاہے  -علاوہ  ازیں ایک فقہی  مکتب فکر  کے  غیر واضح موقف کو بھی  اپنی بے راہ روی  کے جواز کےلیے  بنیاد  بنایا جاتاہے ۔زیر نظر کتاب ’’ پسند کی شادی  اسلام اور قانون‘‘ معروف قانون دان ظفر علی راجا ایڈووکیٹ کی تالیف ہے  جسے انہوں نے  پسندکی  شادی کے حوالے  ایک معروف کیس کے  تناظر میں تحریر کیا  ہے  جس میں  پسند کی شادی کی شرعی اور قانونی  حیثیت  پر بحث کی ہے ۔اور  مصنف نے  کتاب  کے مقدمہ  میں بیان کیا ہے  اس کتاب  کی حد تک ’’پسند  کی شادی‘‘ کا مطلب ایسی شادی ہے  کہ  جس میں فریقین اورخاص  کر لڑکی کے والدین اپنی ناپسندیدگی یا ناراضکی  کے سبب شریک نہ ہوئے ہوں۔کتاب ہذا کے  مصنف ظفر علی راجا صاحب نے  1985ء میں  دنیا بھر کی اعلیٰ عدالتوں میں  اسلامی قانون پر دئیے گئے  فیصلے جمع کرنےکا بیڑا  اٹھایا او رتن تنہا وہ کام کر دکھایا کہ جو بڑے بڑے ادارے بھی  نہیں کر پاتے ۔اب تک ان کایہ کام  بیس ضخیم جلدوں میں  ’’اسلامک جج منٹس‘‘ کے نام سے  شائع ہوکر  بین الاقوامی یونیورسٹی میں  پذیرائی  حاصل کرچکا ہے۔ اس عظیم  الشان کا م پر 1989ء میں انہیں پیرس  میں  بین الاقوامی ایوارڈسے  نواز ا گیا ہے۔یہ کتا ب محدث  لائبریری میں  بھی موجود ہے  موصوف کا  فی عرصہ سے  مجلس التحقیق الاسلامی سے بھی  وابستہ ہیں ۔(م۔ا)

     نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • #1803
    محمد اسحاق بھٹی

    4 اسلام کی بیٹیاں

    موجودہ دور میں بعض مسلمان مغرب سے متاثر ہو کر انہی افکار و نظریات اور تہذیب کو اپنانا چاہتے  ہیں جو مغرب نے متعارف کروائے ہیں ۔ وہ زندگی کے ہر شعبے کی اسی طرح تشکیل کرنا چاہتے ہیں جس سے بہتر طریقے سے اہل مغرب کی تقلید ہو جائے ۔ کسی بھی انسانی سماج کی ترقی کا انحصار بہت حد تک اس پر ہے کہ وہ سماج اپنے اندر عورت کو کیا مقام دے رہا ہے ۔ اس سلسلے میں انسان نے اکثر طور پر ٹھوکریں ہی کھائی ہیں ۔ تاہم اسلام نے اس باب میں بھی ایک معتدل رائے اپنائی ہے ۔ آج اسلام پر اعتراض اٹھائے جاتے ہیں ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اسلام عورت کے دائرءکار کو انتہائی محدود کر کے رکھ دیتا ہے ۔ جبکہ ایک غیر جانب دارانہ نظر سے اسلامی تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو یہ اعتراض بے بنیاد نظر آتا ہے ۔ کیونکہ تاریخ اسلام میں ہمیں ہرشعبہءزندگی میں خواتین کا نمایاں کردار نظر آتا ہے ۔ زیر نظر کتاب اسی پہلو کو اجاگر کرنے کی ایک کڑی ہے جس میں مختلف اسلامی ادوار کی نمایاں خواتین کی سیرت و سوانح کے مختلف پہلو بیان کیے گئے ہیں ۔ اس سلسلے میں ایک تاریخی ترتیب کو ملحوظ خاطر رکھا گیا ہے چناچہ سب سے پہلے امہات المؤمنین ، اس کے بعد بنات الرسول اور پھر جلیل القدر صحابیات کے حوالے سے ذکر کیا گیا ہے ۔ اسی طرح پھر سلسلہ وار اسلامی تاریخ کی ایک ترتیب کے ساتھ خواتین کا ذکر کیا گیا ہے ۔ یہ کتاب مؤرخ اسلام مولانا اسحاق بھٹی صاحب  کے اخبار امروز جو کسی وقت ایک نمایاں اخبار ہوا کرتا تھا اس میں چھپے گئے قالموں کا مجموعہ ہے ۔ اللہ مصنف کو جزائے خیر سے نوازے ۔ (ع۔ح)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • کل مشاہدات: 39798471

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں