دکھائیں کتب
  • 1 آئینہ ایام تاریخ (جمعرات 16 جنوری 2014ء)

    مشاہدات:12086

    ’آئینہ ایام تاریخ‘ ایک ایسی کتاب ہے جس میں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے لے کر واقعہ کربلا تک کے تمام چیدہ چیدہ واقعات کو غیر جانبداری اور صحت و سند کے ساتھ بیان کر کے ان تمام لوگوں کا مسکت جواب پیش کیا گیا ہے جو حب اہل بیت کے جام شیریں میں نفرت صحابہ کرام کازہر گھولنے میں مصروف ہیں۔ کتاب کو چار فصلوں میں تقسیم کیا گیا ہے پہلی فصل مطالعہ تاریخ کی کیفیت، امام طبری کے منہج اور اسلامی تاریخ میں سند کی اہمیت پر مشتمل ہے۔ دوسری فصل میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سانحہ ارتحال 11 ھ سے لے کر 61 ھ تک رونما ہونے والے تمام واقعات پر بے لاگ تحقیق کی گئی ہے اور من گھڑت اور باطل روایات کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ تیسری فصل میں عدالت صحابہ پر بحث کرتے ہوئے پھیلائے جانے والے تمام شبہات کا پردہ چاک کیا گیا ہے۔ چوتھی اور آخری فصل میں قضیہ خلافت کو موضوع بحث بنایا گیا ہے اور امامت علی رضی اللہ علیہ  پر شیعی دلائل کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ہے۔ یقیناً یہ کتاب اپنے موضوع کےاعتبار سے ایک جامع، منفرد اور علمی تصنیف ہے۔

     

     

  • 2 آئینہ معلومات خلفائے راشدین ؓ (اتوار 07 جنوری 2018ء)

    مشاہدات:892

    دنیائے انسانیت نے کئی انقلابات دیکھے۔ کئی حکمرانوں‘ بادشاہوں اور فرماں رواؤں کی حشر سامانیوں کا مشاہدہ کیا۔ لیکن دنیا کے عالم پر خالق کائنات نےجس نئی رحمت کو مبعوث فرما کر ایک عالمی انقلاب کی داغ بیل ڈال دی وہ حضرت محمدﷺ کی ذات اقدس تھی جس کی امامت اور سیادت میں غلامی کی انبیائے کرام حسرت کرتے رہے۔ تکوین عالم کا یہ وہ دور تھا جب انسانی ظلم وبربریت چہار وانگ عالم میں کئی روپ لے کر اپنے سائے مکمل طور پر پھیلا چکا تھا۔ نبی رحمت اپنا پیغام اور سیرت جب اپنے صحابہ کرامؓ کے دلوں میں راسخ کر چکے تو اپنے ملاء اعلی سے جا ملے اور انسانیت کو ایک جذبے اور ایمان کی حلاوت کے ساتھ نئے امتحان میں ڈال دیا۔ ایسے عالم میں نبی آخر الزماں کے جن صحابہ کرامؓ نے چیلنج قبول کیا یہ کتاب انہی کا تذکرہ ہے۔ زیرِ تبصرہ کتاب  میں  ان مبارک ہستیوں کی سیرت وکردار‘  کارنامے اور واقعات  کو  بیان کیا گیا ہے۔ یہ کتاب انتہائی مختصر اور ابتدائی کوشش ہے جس میں کوئز کے  ذریعے سے علم کو پھیلانے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس کتاب میں خلفائے راشدین کا تذکرہ کیا گیا ہے اور ان کا مکمل تعارف اور حالات واقعات کو تحقیق کے ساتھ پیش کیا گیا ہے ۔ یہ کتاب’’ آئینہ معلومات خلفائے راشدینؓ ‘‘ نصرت علی ایثر کی مرتب کردہ ہے۔آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی اور کتب بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلفہ وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فر...

  • 3 افضلیت شیخین (جمعہ 10 جولائی 2015ء)

    مشاہدات:1516

    صحابہ کرام﷢ اس امت کے سب سے افضل واعلی لوگ تھے ،انہوں نے نبی کریم ﷺ کو اپنی آنکھوں سے دیکھا،ان کے ساتھ مل کر کفار سے لڑائیاں کیں ، اسلام کی سر بلندی اور اللہ اور اس کے رسول کی خوشنودی کے لئے اپنا تن من دھن سب کچھ قربان کر دیا۔پوری امت کا اس بات پر اتفاق ہے کہ صحابہ کرام ﷢تمام کے تمام عدول ہیں یعنی دیانتدار،عدل اور انصاف کرنے والے ،حق پر ڈٹ جانے والے اور خواہشات کی طرف مائل نہ ہونے والے ہیں۔صحابہ کرام ﷢کے بارے میں اللہ تعالی کا یہ اعلان ہے کہ اللہ ان سے راضی ہے اور وہ اللہ سے راضی ہیں۔لیکن بعض لوگوں نے ضعیف روایات کا سہارا لے کر بعض کبار صحابہ کرام ﷢پر اعتراضات وارد کئے ہیں ،جن کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ زیر تبصرہ کتاب "افضلیت شیخین "ہندوستان کے معروف عالم دین مولانا شاہ عبد العزیز دہلوی﷫کی فارسی تصنیف "وسیلۃ النجات"کا اردو ترجمہ ہے۔ اردوترجمے کی سعادت مولانا محمد سلیمان صاحب انصاری کی حاصل کی ہے۔مولف ﷫نے اس کتاب میں شیخین سیدنا ابو بکر صدیق اور سیدنا عمر فاروق﷢ پر کئے گئے غیر حقیقی اور بے جا اعتراضات کی حقیقت کو واضح کیا ہے اور ان پر وارد طعن کو دور کیا ہے اور ان کی فضیلت کو بیان کیا ہے۔ یہ کتاب انہوں نے اپنے ایک دوست،جو شیعہ مذہب میں کافی دسترس رکھتے تھے،ان کے مطالبے پر انہیں لکھ کر دی۔اللہ تعالی مولف کی اس مخلصانہ کوشش کو قبول فرمائے اور تمام مسلمانوں کو صحابہ کرام ﷢سے محبت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 4 الفاروق (اتوار 09 فروری 2014ء)

    مشاہدات:22728

    حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ کے سوانح اور حالات تفصیل کےساتھ اور اس صحت کے ساتھ لکھے جاچکے جو تاریخی تصنیف کی صحت کی اخیری حد ہے دنیا میں اور جس قدر بڑے بڑے  نامور گزرےہیں ان کی مفصل سوانح عمریاں پہلےسے موجود ہیں ۔اب آپ خود اس بات کا اندازہ لگالیں کہ تمام دنیا میں حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ کا کوئی ہم پایہ گزرا ہے یا نہیں ۔؟
    ’الفاروق ‘ جس میں حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ کی ولادت سے وفات تک واقعات اور فتوحات ملکی کےحالات درج ہیں ،اس کے ساتھ ساتھ ملکی اور مذہبی انتظامات  اور علمی کمالات اور ذاتی اخلاق اور عادات کی تفصیل  بھی بیان کی گئی ہے ۔
    اس کتاب کی صحت میں کوئی کم کوشش نہیں کی گئی بحرحال کتاب کے آخر میں ایک غلط نامہ لگادیا گیا ہے جو کفارہ جرم کا کام دے سکتا ہے ۔

     

  • 5 المرتضیٰ (ہفتہ 05 جنوری 2013ء)

    مشاہدات:78692

    زیر تبصرہ کتاب چوتھے خلیفۃ الاسلام حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی سیرت پر لکھی گئی ہے۔ جس کے متعلق مصنف کا کہنا ہے کہ ان شخصیات میں جن کے حقوق نہ صرف یہ کہ ادا نہیں ہوئے بلکہ ان کے حق میں شدید بے انصافی روا رکھی گئی، حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی بلند و محبوب شخصیت بھی ہے، مخصوص حالات، خاص قسم کے عقائد اور چند نفسیاتی اسباب کی بنا پر ان کی سیرت پر بہت گہرے اور دبیز پردے پڑ گئے ہیں، ارباب بحث و تحقیق تو الگ رہے، خود وہ لوگ جو ان کی عظمت کے گن گاتے ہیں، اور ان کے نام پر اپنے عقائد کی عمارت تعمیر کیے ہوئے ہیں، انھوں نے بھی اکثر اوقات ان کی سیرت کا مطالعہ معروضی و تحقیقی انداز میں نہیں کیا اور پورے ماحول اور ان کے عہد کے تقاضوں اور دشواریوں کو سامنے رکھ کر امانت و غیر جانبداری کے ساتھ پیش نہیں کیا۔ کتاب کے مصنف مولانا سید ابو الحسن علی ندوی نے کتاب مرتب کرتے ہوئے مکمل غیر جانبداری کا اظہار کیا ہے۔ انھوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی پیدائش سے لے کر وفات تک کے تمام تر حالات و واقعات اور مختلف ادوار میں ان کا کردار کسی لگی لپٹی کے بغیر بیان کر دیا ہے۔ اپنے موضوع پر یہ کتاب نہایت مفید اور لائق مطالعہ ہے۔ جس کے عربی، اردو اور انگریزی زبان میں متعدد ایڈیشن شائع ہو چکے ہیں۔(ع۔م)
     

  • 6 امیر المؤمنین سیدنا حضرت علی (پیر 30 اپریل 2018ء)

    مشاہدات:785

    سیدناعلی آنحضرت ﷺ کے چچا ابو طالب کے بیٹے تھے اور بچپن سے ہی حضورﷺ کے زیر سایہ تربیت پائی تھی بعثت کے بعد جب حضور ﷺ نے اپنے قبیلہ بنی ہاشم کے سامنے اسلام پیش کیا تو سیدناعلی نے سب سے پہلے لبیک کہی اور ایمان لے آئے۔اس وقت آپ کی عمر آٹھ برس کی تھی ہجرت کی رات نبی کریم ﷺ آپ کو ہی اپنے بستر پر لٹا کر مدینہ روانہ ہوئے تھے۔ ماسوائے تبوک کے تمام غزوات حضور ﷺ کے ساتھ تھے۔لڑائی میں بے نظیر شجاعت اور کمال جو انمردی کا ثبوت دیا۔آحضرت ﷺ کی چہیتی بیٹی سیدہ فاطمۃ الزہرا کی شادی آپ ہی کے ساتھ ہوئی تھی۔حضور ﷺ کی طرف سے خطوط اور عہد نامے بھی بالعموم آپ ہی لکھا کرتے تھے۔پہلے تین خلفاء کے زمانے میں آپ کو مشیر خاص کا درجہ حاصل رہا اور ہر اہم کام آپ کی رائے سے انجام پاتا تھا۔سیدنا علی بڑے بہادر انسان تھے۔ سخت سے سخت معر کوں میں بھی آپ ثابت قدم رہے ۔بڑے بڑے جنگو آپ کے سامنے آنے کی جر ات نہ کرتے تھے۔آپ کی تلوار کی کاٹ ضرب المثل ہوچکی ہے۔شجاعت کے علاوہ علم وفضل میں بھی کمال حاصل تھا۔ایک فقیہ کی حیثیت سے آپ کا مرتبہ بہت بلند ہے۔آپ کے خطبات سے کمال کی خوش بیانی اور فصاحت ٹپکتی ہے۔خلیفۂ ثالث سید عثمان بن عفان کی شہادت کے بعد ذی الحجہ535میں آپ نے مسند خلافت کو سنبھالا۔آپ کا عہد خلافت سارے کاسارا خانہ جنگیوں میں گزرا۔اس لیے آپ کو نظام ِحکومت کی اصلاح کے لیے بہت کم وقت ملا۔تاہم آپ سے جہاں تک ممکن ہوا اسے بہتر بنانے کی پوری کوشش کی۔ فوجی چھاؤنیوں کی تعداد میں اضافہ کیا۔صیغہ مال میں بہت سی اصلاحات کیں ۔جس سے بیت المال کی آمدنی بڑھ گئی۔عمال کے اخلاق کی نگرانی خود کرتے اور احتساب...

  • 7 ایام خلافت راشدہ (بدھ 12 فروری 2014ء)

    مشاہدات:18314

    خلافت راشدہ کا زمانہ مسلمانوں کے لیے نہایت عروج کا زمانہ رہا۔ جس میں مسلمانوں نے ہر میدان میں خوب ترقی کی۔ لوگوں کو معاشی خوشحالی نصیب تھی امن و امان اور عدل و انصاف کا خصوصی اہتمام تھا۔ لیکن فی زمانہ ہم دیکھتے ہیں نہ صرف پاکستان بلکہ دیگر ممالک بھی معاشی عدم استحکام، عدل و انصاف اور امن و امان کی دگرگوں صورتحال کا شکار ہیں۔ اسی کے سبب ہنگاموں، فسادات  اور احتجاج کی لہر بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ زیر مطالعہ کتاب میں مولانا عبدالرؤف رحمانی نے ایام خلافت راشدہ کا اسی تناظر میں جائزہ لیا ہے۔ جس سے یہ حقیقت کھل کر سامنے آگئی ہے کہ وہ زمانہ معاشی و سماجی عد و انصاف اور امن و امان کا بہترین دور تھا۔ (ع۔م)

  • 8 تاریخ الخلفاء (اتوار 17 جولائی 2016ء)

    مشاہدات:2556

    قوموں کی زندگی میں تاریخ کی اہمیت وہی ہے جو کہ ایک فرد کی زندگی میں اس کی یادداشت کی ہوتی ہے۔ جس طرح ایک فرد واحد کی سوچ، شخصیت، کردار اور نظریات پر سب سے بڑا اثر اس کی یادداشت کا ہوتا ہے اسی طرح ایک قوم کے مجموعی طرزعمل پر سب سے زیادہ اثر انداز ہونے والی چیز اس کی تاریخ ہوتی ہے ۔ کوئی بھی قوم اس وقت تک اپنی اصلاح نہیں کر سکتی جب تک وہ اپنے اسلاف  کی تاریخ اور ان کی خدمات کو محفوظ نہ رکھے۔اسلامی تاریخ مسلمانوں کی روشن اور تابندہ مثالوں سے بھری پڑی ہے۔لیکن افسوس کہ آج کا مسلمان اپنی اس تاریخ سے کٹ چکا ہے۔اپنی بد اعمالیوں اور شریعت سے دوری کے سبب مسلمان آج پوری دنیا میں ذلیل ورسوا ہو رہے ہیں۔اور ہر میدان میں انہیں شکست وہزیمت کا سامنا ہے ۔آج 57 آزاد ممالک کی شکل میں قوت ،عددی اکثریت اور قدرتی وسائل سے مالا مال ہونے کے  باوجود ذلت ،عاجزی اور درماندگی میں اسی مقام پر کھڑی ہے جہاں سوسال پہلے کھڑی تھی۔اس کا سب سے برا سبب مسلمانوں کا  دین سے دور ہونا اور غیروں کے قریب ہونا ہے۔کافر ہمیں اس لئے مارتے ہیں کہ یہ مسلمان ہیں اور ہم اس لئے  مار کھا رہے ہیں  کہ ہم صحیح معنوں میں مسلمان نہیں ہیں۔تمام مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ  قرآن و سنت کی تعلیمات، اسلام کے انسانیت نواز پیغام اور اپنی روشن تہذیبی اَقدار کو پوری قوت اور خود اعتماد ی کے ساتھ دنیا پر آشکارا کریں،اور خود بھی اسی کے مطابق اپنی زندگی گزاریں۔ زیر تبصرہ کتاب " تاریخ الخلفاء "علامہ جلال الدین سیوطی کی تصنیف ہے، جس کا اردو ترجمہ محترم مولانا محمد عبد الاحد قادری صاحب ن...

  • 9 حضرت عمر کا قائدانہ کردار (ہفتہ 02 اگست 2014ء)

    مشاہدات:1668

    سیدنا فاروق اعظم ﷜کی مبارک زندگی اسلامی تاریخ  کاوہ روشن باب ہے جس  نےہر تاریخ کو پیچھے چھوڑ  دیا ہے ۔ آپ  نے حکومت کے انتظام  وانصرام  بے مثال عدل  وانصاف ،عمال حکومت کی سخت نگرانی ،رعایا کے حقوق کی پاسداری ،اخلاص نیت وعمل ،جہاد فی سبیل اللہ  ،زہد وعبادت ،تقویٰ او رخوف وخشیت الٰہی  او ردعوت کے میدانوں میں ایسے ایسے کارہائےنمایاں انجام دیے  کہ انسانی تاریخ ان کی مثال پیش کرنے  سے  قاصر ہے۔ انسانی  رویوں کی گہری پہچان ،رعایا کے ہر فرد کے احوال سے بر وقت آگاہی او رحق  وانصاف کی راہ میں کوئی رکاوٹ برداشت نہ کر نےکے اوصاف میں کوئی حکمران فاروق اعظم  ﷜ کا  ثانی نہیں۔ آپ اپنے بے  پناہ رعب وجلال اور دبدبہ کے باوصف نہایت درجہ  سادگی فروتنی  اورتواضع کا پیکر تھے ۔ آپ کا قول ہے کہ ہماری عزت اسلام کے باعث ہے  دنیا کی چکا چوند کے باعث نہیں۔ سید ناعمر فاروق کے بعد آنے والے حکمرانوں میں سے  جس  نے بھی کامیاب حکمران بننے کی خواہش کی ،اسے فاروق اعظمؓ کے قائم کردہ ان زریں اصول کو مشعل راہ  بنانا پڑا جنہوں نے اس عہد کے مسلمانوں کی تقدیر بدل کر رکھ دی تھی۔ سید نا عمر  فاروق ﷜  کے اسلام لانے اور  بعد کے  حالات احوال اور ان کی  عدل انصاف  پر مبنی حکمرانی  سے اگاہی کے لیے  مختلف اہل  علم  اور مؤرخین نے  کتب تصنیف کی ہیں۔اردو زبان میں شبلی نعمانی ، ڈاکٹر صلابی ، محمد حسین ہیکل ،مولانا عبد المالک مجاہد(ڈا...

  • 10 خلفائے راشدین اور اہل بیت کرام کے باہمی تعلقات (منگل 14 جولائی 2015ء)

    مشاہدات:1752

    صحابہ کرام ﷢ وہ نفوس قدسیہ ہیں جنہوں نے نبی کریمﷺ کا دیدار کیا اور دین اسلام کے لیے کسی بھی قربانی سے دریغ نہ کیا۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان تمام ہسیتوں کو جنت کا تحفہ عنایت کیا ہے۔ دس صحابہ تو ایسے ہیں جن کو دنیا ہی میں زبان نبوتﷺ سے جنت کی ضمانت مل گئی۔تمام صحابہ کرام ﷢ خواہ وہ اہل بیت سے ہوں یا غیر اہل بیت سے ہوں ان سے والہانہ وابستگی دین وایمان کا تقاضا ہے۔کیونکہ وہ آسمان ہدایت کے درخشندہ ستارے اور دین وایمان کی منزل تک پہنچنے کے لئے راہنما ہیں۔صحابہ کرام ﷢ کے باہمی طور پر آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ انتہائی شاندار اور مضبوط تعلقات قائم تھے۔ زیر تبصرہ کتاب " خلفاء راشدین﷢ اور اہل بیت کرام﷢کے باہمی تعلقات "پانچویں صدی ہجری کے معروف عالم دین علامہ جار اللہ زمخشری ﷫کی عربی تصنیف "الموافقۃ بین اھل البیت والصحابۃ"کا اردو ترجمہ ہے۔ اور ترجمہ کرنے کی سعادت مبلغ اسلام مولانا احتشام الحسن صاحب کاندھلوی نے حاصل کی ہے۔مولف موصوف ﷫نے اس کتاب میں صحابہ کرام ﷢کے ایک دوسرے کے بارے کہے گئے نیک جذبات اور اچھے خیالات کو جمع فرما کر مشاجرات صحابہ کی رٹ لگانے والے روافض کا منہ بند کر دیا ہے۔ اللہ تعالی مولف اور مترجم کی ان محنتوں اور کوششوں کو قبول فرمائے اور تما م مسلمانوں کو صحابہ کرام سے محبت کرنے کی بھی توفیق دے۔آمین(راسخ)

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 840
  • اس ہفتے کے قارئین: 5045
  • اس ماہ کے قارئین: 25655
  • کل مشاہدات: 41917153

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں