• نعیم احمد بلوچ

    آج کے بچے کل کے بڑے ہوتے ہیں، اس لئے زندہ اور باشعور قومیں اپنے نونہالوں کی تربیت کا آغاز ان کے بچپن ہی سے کردیتی ہیں۔یہ ایک ناقابل انکار حقیقت ہے کہ بچوں کو فطری طور پر کہانیاں سننے اور کہانیاں پڑھنے کا بہت شوق ہوتا ہے۔اس لئے کہانیاں بچوں کی سیرت وکردار کی تعمیر میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔دیگر ممالک کی طرح پاکستان  میں بھی بچوں کے لئے لکھی گئی کتابوں کا سیلاب آیا ہوا ہے،لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ان میں سے بیشتر کتابیں چڑیلوں،جانوروں،جاسوسوں،چوروں اور ڈاکوؤں وغیرہ کی فرضی داستانوں سے بھر پور ہوتی ہے۔ان کو پر کشش بنانے کے لئے تصویروں اور عمدہ گیٹ اپ کا سہارا  لیا جاتا ہے۔یہ دلچسپ تو ہوتی ہیں لیکن بچوں کے ذہنوں پر کوئی اچھا اور مفید اثر نہیں ڈالتی ہیں،الٹا ان کے خیالات اور افکار کو گدلا کرنے کا سبب بنتی ہیں۔چنانچہ اس امر کی شدید ضرورت محسوس کی جارہی تھی کہ بچوں کے ایسی کتب لکھی جائیں جو مفید ہونے کے ساتھ ان کی تربیت کا بھی ذریعہ ہوں۔ زیر تبصرہ کتاب "جستجو کا سفر" محترم نعیم احمد بلوچ صاحب کی تصنیف ہے ،جس میں انہوں نے اسی کمی کو پورا کرتے ہوئے ایک منفرد اور کہانی کے انداز  میں ہمارے جد امجد سیدنا آدم   کی تخلیق کے قصےکو بیان کیاہے، اور یہ کتابچہ اس کا دوسرا حصہ ہے۔یہ کتاب پاکستان کے معروف  عالمی طباعتی ادارے  مکتبہ دارالسلام کی طرف سے شروع کئے گئے سلسلے واقعات انبیاء کی دوسری  کڑی ہے۔اس کتاب میں مولف موصوف نے سیدنا آدم    اور ان کی تخلیق کے قصے کو بیان کیا ہے، اور اس موقف کا سختی سے رد کیا ہے کہ انسان پہلے بندر وغیرہ تھا۔مکتبہ دار السلام نے بچوں کے لئے اس کے علاوہ بھی متعدد کتب تیار کی ہیں ،جن میں سے اکثر کتب ہماری اس سائٹ پر موجود ہیں۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف اور ناشر کی بچوں کی اصلاح وتربیت کی حوالے سے کی جانے والی ان کوششوں کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ہمارے بچوں کو صحیح معنوں میں مسلمان اور اہل ایمان بننے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین(راسخ)

  • نعیم احمد بلوچ

    سیدنا  یونس ﷤کا واقعہ جس کا کچھ حصہ تو خود قرآن میں مذکور ہے اور کچھ روایاتِ حدیث و تاریخ سے ثابت ہے، وہ یہ ہے کہ حضرت یونس ﷤کی قوم عراق میں موصل کے مشہور مقام نینوی ٰمیں بستے تھے، ان کی ہدایت کے لئے اللہ تعالیٰ نے  حضرت یونس﷤کو بھیجا، انھوں نے ایمان لانے سے انکار کیا،اللہ  تعالیٰ نے یونس ﷤کو حکم دیا کہ ان لوگوں کو آگاہ کردو کہ تین دن کے اندر اندر تم پر عذاب آنے والا ہے، حضرت یونس ﷤ نے قوم میں اس کا اعلان کردیا، قوم یونس نے آپس میں مشورہ کیا تو اس پر سب کا اتفاق ہوا کہ ہم نے کبھی یونس ﷤کو جھوٹ بولتے نہیں دیکھا اس لئے ان کی بات نظر انداز کرنے کے قابل نہیں، مشورہ میں یہ طے ہوا کہ یہ دیکھا جائے کہ یونس ﷤ رات کو ہمارے اندر اپنی جگہ مقیم رہتے ہیں تو سمجھ لو کہ کچھ نہیں ہوگا، اور اگر وہ یہاں سے کہیں چلے گئے تو یقین کر لو کہ صبح کو ہم پر عذاب آئے گا، حضرت یونس رات کو اس بستی سے نکل گئے، صبح ہوئی تو عذابِ الٰہی ایک سیاہ دھوئیں اور بادل کی شکل میں ان کے سروں پر منڈلانے لگا اور فضاء آسمانی سے نیچے ان کے قریب ہونے لگا تو ان کو یقین ہوگیا کہ اب ہم سب ہلاک ہونے والے ہیں، یہ دیکھ کر حضرت یونس ﷤ کو تلاش کیا کہ ان کے ہاتھ پر مشرف بایمان ہوجائیں اور پچھلے انکار سے توبہ کرلیں مگر یونس ﷤کو نہ پایا تو خود ہی اخلاصِ نیت کے ساتھ توبہ و استغفار میں لگ گئے، بستی سے ایک میدان میں نکل آئے، عورتیں بچے اور جانور سب اس میدان میں جمع کردئے گئے، ٹاٹ کے کپڑے پہن کر عجز و زاری کے ساتھ اس میدان میں توبہ کرنے اور عذاب سے پناہ مانگنے میں اس طرح مشغول ہوئے کہ پورا میدان آہ و بکا سے گونجنے  لگا، اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرمالی اور عذاب ان سے ہٹا دیا۔ سیدنا یونس  ﷤ کاقصہ کئی حوالوں سے منفرد ہے  ۔ ایک یہ کہ  حصرت یونس ﷤ کی قوم دنیا کی واحد قوم ہے  جسے عذاب کے وقت تو بہ نصیب ہوئی۔ اس قصے کی دوسری انفرادیت یونس ﷤ کی شخصیت ہے ۔ ان پر جب قوم کا ایک بھی فرد ایمان  نہ لایا توہ غیرتِ حق میں آکر وقت سےپہلے  اپنی بستی چھوڑ کرچلے گئے۔اس سےاس عظیم قصے کوایک نیا رخ ملا۔ زیرتبصرہ کتابچہ  سیدنا یونس ﷤ کے قصے پر مشتمل  ہے  اس کتاب میں اس  قصے کوایک کہانی کی صورت میں بیان کیا گیا ہے۔ اور عام طور پر  سیدنا یونس﷤ کی بھول کے حوالے سے  طرح طرح کی باتیں بنائی جاتی ہیں ۔ اس کتاب میں ان تمام غلط فہمیوں کودور کیاگیا ہے ۔اورسید نا یونس ﷤  سےایسی کسی بات کو منسوب نہیں کیا گیا جس کاقرآن وحدیث اوردوسری الہامی کتب میں حوالہ نہ ملتا ہو۔اشاعت  کتب کے عالمی ادارے ’’دار السلام ‘‘ نےانبیاء کے  واقعات  وقصص کو   بچوں کے لیے کہانیوں کی صورت میں شائع کیا ہے یہ  کتاب بھی اسی سلسلہ  کا حصہ ہے ۔ اللہ تعالیٰ  ناشرین کی اس عمدہ کاوش کوقبول فرمائے (آمین) (م۔ا)

  • اشتیاق احمد

    آج کے بچے کل کے بڑے ہوتے ہیں، اس لئے زندہ اور باشعور قومیں اپنے نونہالوں کی تربیت کا آغاز ان کے بچپن ہی سے کردیتی ہیں۔یہ ایک ناقابل انکار حقیقت ہے کہ بچوں کو فطری طور پر کہانیاں سننے اور کہانیاں پڑھنے کا بہت شوق ہوتا ہے۔اس لئے کہانیاں بچوں کی سیرت وکردار کی تعمیر میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔دیگر ممالک کی طرح پاکستان  میں بھی بچوں کے لئے لکھی گئی کتابوں کا سیلاب آیا ہوا ہے،لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ان میں سے بیشتر کتابیں چڑیلوں،جانوروں،جاسوسوں،چوروں اور ڈاکوؤں وغیرہ کی فرضی داستانوں سے بھر پور ہوتی ہے۔ان کو پر کشش بنانے کے لئے تصویروں اور عمدہ گیٹ اپ کا سہارا  لیا جاتا ہے۔یہ دلچسپ تو ہوتی ہیں لیکن بچوں کے ذہنوں پر کوئی اچھا اور مفید اثر نہیں ڈالتی ہیں،الٹا ان کے خیالات اور افکار کو گدلا کرنے کا سبب بنتی ہیں۔چنانچہ اس امر کی شدید ضرورت محسوس کی جارہی تھی کہ بچوں کے ایسی کتب لکھی جائیں جو مفید ہونے کے ساتھ ان کی تربیت کا بھی ذریعہ ہوں۔ زیر تبصرہ کتاب "ھولناک طوفان" محترم اشتیاق احمدصاحب کی تصنیف ہے ،جس میں انہوں نے ایک منفرد اور کہانی کے انداز میں سیدنا ابراہیم  کی سیرت وسوانح کو  جمع  کردیاہے۔یہ کتاب پاکستان کے معروف  عالمی طباعتی ادارے  مکتبہ دارالسلام کی طرف سے قصص الانبیاء کے حوالے سے شروع کئے گئے  سلسلے کی چھٹی کڑی ہے۔اس کتاب میں سیدنا ابراہیم  کی حنیفیت اور شرک کی جڑیں کاٹنے کے حوالے سے ان کی محنتوں کو بیان کیا گیاہے ، جس میں دلچسپی کا عنصر بھی ہے اور دل پہ  چھا جانے والا گہرا اثر بھی ہے۔مکتبہ دار السلام نے بچوں کے لئے اس کے علاوہ بھی متعدد کتب تیار کی ہیں ،جن میں سے اکثر کتب ہماری اس سائٹ پر موجود ہیں۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف اور ناشر کی بچوں کی اصلاح وتربیت کی حوالے سے کی جانے والی ان کوششوں کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ہمارے بچوں کو صحیح معنوں میں مسلمان اور اہل ایمان بننے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین(راسخ)

  • ڈاکٹر مصطفیٰ سعید الخن
    فقہا کی اختلافی آرا اور ان کے دلائل کاتنقیدی مطالعہ ایک دلچسپ موضوع ہے۔ تیسری اور چوتھی صدی کے فقہا نے اس موضوع کی طرف توجہ کی اور اختلاف فقہا پر مستقل کتابیں لکھیں۔ محمدبن نصر المروزی، محمد بن جریر طبری اور ابو جعفراحمد بن محمد الطحاوی نے اس موضوع پر بسیط کتب تحریر فرمائیں۔ برصغیر کے معروف فقیہ شاہ ولی اللہ نے اس موضوع پر دو رسالے تحریر فرمائے۔ ایک رسالہ تو اجتہاد و تقلید پر اصولی بحث ہے لیکن اس کتاب کا ایک باب اختلاف فقہا اور اس کے اسباب و علل پر ہے۔ شاہ صاحب کا دوسرا رسالہ ’رسالہ الانصاف فی بیان سبب الاختلاف‘ ہے۔ اس رسالہ میں ائمہ فقہا کے اسباب و علل پر بھی گفتگو کی ہے اور بعض اہم فقہی فقہی مسالک میں تطبیق کی سعی بھی کی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب میں بھی پروفیسر مصطفیٰ سعید الخن نے اس موضوع پر اسلاف کے ذخیرہ علم کو پیش نظر رکھ کر قواعد اصولیہ کا علمی جائزہ لیا ہے اور قواعد اصولیہ میں اختلاف کی وجہ سے جو اثرات اختلاف الفقہا پر مرتب ہوئے ہیں ان کو بالتفصیل بیان کیا ہے۔ اس کتاب کی علمی حیثیت اور موجودہ دور میں اس کی افادیت کے پیش نظر شریعہ اکیڈمی نے اس کا اردو ترجمہ کرایا ہے۔ شریعہ اکیڈمی کے فاضل نوجوان مولانا حبیب الرحمٰن نے اس کتا ب کو اردو میں ترجمہ کرنے کا کام سرانجام دیا ہے۔ اصول فقہ اور قواعد اصولیہ کے فنی مباحث کو بڑی محنت سے انھوں نے رواں اردو میں منتقل کیا ہے۔ (ع۔م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • پروفیسر علی محسن صدیقی
    علاء الدین عطا ملک جوینی کی کتاب ’تاریخ جہاں کشائی‘ کو منگولوں، خوارزم شاہوں اور اسماعیلیوں کی تاریخ کی حیثیت سے بڑی اہمیت حاصل رہی ہے۔ اصل کتاب تین جلدوں پر مشتمل ہے۔ پہلی جلد منگولوں کے حالات پر دوسری جلد خوارزم شاہوں کے احوال و آثار پر اور تیسری جلد اسماعیلوں کے حالات، ان کے قلعوں کی تفصیل، ان کے مذہبی عقائد کی توضیح و تشریح، ان کے قدیم عقائد نیز ہلاکو کے ہاتھوں ان کی مکمل خاتمے کے ذکر پر مبنی ہے۔ ’تاریخ جہاں کشائی‘ کا نسخہ 1937ء میں مشہور ایرانی فاضل علامہ محمد بن عبدالوہاب قزوینی کے علمی مقدمہ اور تحقیقی حاشیوں کے ساتھ ہالینڈ سے شائع ہواتھا۔ اسی کتاب کی جلد سوم کا اردو ترجمہ پہلی بار پروفیسر علی محسن صدیقی صاحب نےکیا ہے۔ جو اس قارئین کتاب و سنت ڈاٹ کام کے سامنے ہے۔(ع۔م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • احمد بن حجر قاضی دوحہ قطر
    کبیرہ اور صغیرہ گناہوں پر ہمارے اسلاف نے بہت سی کتابیں لکھیں جن کا سلسلہ تاحال جاری ہے۔ اس سلسلہ میں امام ذہبی اور محمد بن عبدالوہاب کی کتب نہایت اہمیت کی حامل ہیں۔ لیکن امام ابن حجر کی کتاب ’الکبائر‘ اس ضمن میں سب سے زیادہ جامع کتاب ہے اور اس میں دیگر کتب کے مقابلہ میں تفصیل زیادہ بیان ہوئی ہے۔ انہوں نے بعض کبیرہ گناہوں کے ضمن میں فقہا کے مباحث اور ان کے اختلافات کا بھی ذکر کیا ہے اور انہوں نے اپنی کتاب میں بعض ایسے گناہوں کو بھی کبیرہ گناہوں میں شامل کیاہے جن کی حیثیت کبیرہ گناہ کی نہیں ہے۔ مصنف نے انہیں کبیرہ گناہ محض بعض مسالک کے اصولوں اور کچھ مذاہب کے فقہا اور ان کی بحثوں کی وجہ سے قرار دیا ہے۔ بعض اضافوں اور اردو ترجمہ کی صورت میں ابن حجر کی یہی کتاب آپ کے سامنے ہے۔ مترجم نے بعض ان کبائر کو بھی کتاب کا حصہ بنا دیا ہے جن کا تذکرہ پہلے علما کی کتب میں نہیں ہے جیسے انبیا اور صحابہ کی فلمیں بنانا اور دشمنان خدا سے روابط رکھنا وغیرہ۔ کبیرہ گناہوں کی جن بحثوں کو سلف کی کتابوں میں اختصار کے ساتھ بیان کیا گیا ہے مترجم نے اس کو خاصا تفصیل کے ساتھ رقم کیا ہے۔ اور کتاب کا اختتام توبہ و استغفار پر کیا گیا ہے۔ اپنے موضوع کےحوالے سے یہ ایک بہترین اور ہر شخص کے لائق مطالعہ کتاب ہے۔(ع۔م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • پروفیسر امیر الدین مہر
    اسلام کی تہذیبی خدمات میں ایک بہت نمایاں خدمت انسانیت کی فلاح وبہبود کے کام کو مذہبی عبادت کا درجہ دینا اور خدمت خلق کی ذمہ داری کو روحانی بلندی کا ذریعہ قرار دینا بھی ہے۔خدمت خلق اور رفاہی کام اسلام کی نگاہ میں عظیم نیکی ہیں۔لیکن فی زمانہ اسلام کا یہ پہلو نظر انداز کر دیا گیا ہے مخالف تو مخالف اپنے بھی اسلام کو صرف سزاؤں اور چند تعزیری قوانین واقدامات کے مجموعہ کا نام سمجھتے ہیں ۔زیر نظر کتاب میں اس بھولے بسرے تصور کو پھر سے یاد دلایا گیا ہے ۔فاضل مصنف  نے رفاہی کاموں اور خدمت خلق سے متعلق اسلام کی تعلیمات وروایات کو بہت عالمانہ اور محققانہ انداز  سے یکجا کیا ہے۔غالباً اردو میں یہ پہلی کتاب ہے جس میں اسلام اور رفاہی کام کے موضوع پر بھرپور مواد ایک عملی انداز اور منطقی ترتیب کے ساتھ موجود ہے۔امید ہے یہ کتاب شائقین کے لیے دلچسپی اور معلومات میں اضافے کا موجب ہو گی۔(ع۔ر)

  • حبیب اللہ بن محمد شفیع
    شریعت اسلامیہ میں اصلاح عقائد کو بینادی حیثیت حاصل ہے ۔ کوئی بھی عمل جب تک صحیح عقیدہ پر مبنی نہ ہوگا ، اللہ رب العزت کے ہاں نہ تو بار پاسکے گا اور نہ ہی اجر و ثواب کا مستحق ہو سکے گا۔یہی وجہ ہے کہ حضرات انبیائے کرام    نے اپنے مخاطبین کے سامنے سب سے پہلے جو مسائل بیان کیے ، ان کا تعلق عقیدہ تو حید سے تھا۔زیر نظر تالیف میں  مؤلف نے عقیدہ کی اسی اہمیت کو اجا گر فرمایا ہے،جس میں الگ الگ ابواب کی صورت میں صرف اللہ تعالیٰ ہی کے عالم الغیب ، حاضر و ناظر اور مختار کل ہونے کو بڑی خوبی اور صراحت کے ساتھ بیان کیا ہے۔نیز رسول رحمت ، نبی آخر الزماں، خاتم النبین، رحمۃ للعالمین حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی شان بشریت و نبوت کو نہایت مختصر مگر جامع اور سلجھے ہوئے انداز میں واضح کیا ہے۔ کمال یہ ہے  کہ جو کچھ بھی لکھا ہے قرآن پاک کی تعلیمات و ہدایات کی روشنی میں لکھا ہے۔جس سے انکار و فرار ممکن ہی نہیں۔اللہ تعالیٰ موصوف کی اس کاوش کو سعادت درین کا ذریعہ بنائے۔ آمین۔(ع۔ح)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • عبد العزیز بن عبد اللہ بن باز
    نماز، روزہ، زکاۃ اور حج ارکان اسلام میں سے ہیں۔ یہ وہ احکامات ہیں جن کی فرضیت پر امت مسلمہ کا اجماع و اتفاق ہے۔ ان ارکان اسلام کی بہت زیادہ فضیلت و اہمیت ہے ان کا انکار کرنے والا شخص دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ ارکان خمسہ کی اسی اہمیت کے پیش نظر علمائے اسلام اپنے دروس اور کتب میں ان کو موضوع بحث بناتے رہتے ہیں۔ علامہ ابن بازؒ کا شمار ماضی قریب  کے نہایت متبحر علما میں ہوتا ہے۔ جن کے فتاویٰ پوری دنیا میں معتبر سمجھے جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو بصارت جیسی نعمت سے محروم کیا لیکن بصیرت کی دولت سے مالا مال کیا۔ یہی وجہ ہے مولانا نے اپنی زندگی میں دین اسلام کی خدمت میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی۔ اللہ تعالیٰ ان کی مساعی کو قبول فرمائے اور دین کے لیے ان کی خدمات کو ان کے لیے توشہ آخرت بنائے۔ کتاب ہذا علامہ موصوف کے بعض رسائل   و تقاریر کے مجموعے کا اردو ترجمہ ہے جو عربی زبان میں ’المجموع المفید‘ کے نام سے شائع ہو چکا ہے۔ کتاب کو اردو میں منتقل کرنے کا فریضہ اسداللہ عثمان صاحب نے ادا کیا ہے۔(ع۔م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • کل مشاہدات: 39752833

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں