دکھائیں کتب
  • 1 اسرائیل میں یہودی بنیاد پرستی (پیر 24 فروری 2014ء)

    مشاہدات:5366
    پوری غیراسلامی دنیا عرب دہشت پسندی کے مترادف سمجھی جانے والی اسلامی بنیاد پرستی سے نفرت کرتی ہے ۔ امریکہ کی کلچر اور دانشور اشرافیہ عیسائی بنیاد پرستی کو جہالت ، اوہام پرستی ، عدم رواداری اور نسل پرستی کے مترادف سمجھتے ہوئے اس سے نفرت کرتی ہے ۔ عیسائی بنیاد پرستی کے پیروکاروں کی تعداد میں حال ہی میں ہونے والا اچھا خاصہ اضافہ اور اس کے بڑھتے ہوئے سیاسی اثرات امریکہ میں جمہوریت کے لیے ایک حقیقی خطرہ ہیں ۔ اگرچہ یہودی بنیاد پرستی اسلامی اور عیسائی بنیاد پرستی کے تقریبا تمام عمرانی سائنسی خواص کی حامل ہے ، تاہم اسرائیل اور چند ایک دوسرے ملکوں کے خاص حلقوں کے علاوہ عملی طور پر کوئی اس سے واقف نہیں ہے ۔ جب یہودی بنیاد پرستی کا وجود تسلیم کر لیا جاتا ہے تو اس کی عم زاد اسلامی اور عیسائی بنیاد پرستی خلقی برائیوں کا شد و مد سے ذکر کرنے والے غیر یہودی اشرافیہ کے اکثر مبصر اس کی اہمیت کو غیر واضح مذہبی سرگرمی تک محدود کر دیتے ہیں یا اسے انوکھا وسطی یورپی لبادہ اوڑھا دیتے ہیں ۔ زیرنظر کتاب اسی تناظر میں لکھی گئی ہے کہ دنیا کے سامنے یہود بنیاد پرستی کو واضح کیا جائے ۔ اس کے علاوہ اس کتاب میں بنیاد پرستی کے سرچشموں ، آئیڈیالوجی ، سرگرمیوں  اور معاشرے پر اس کے مجموعی اثر کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے ۔ اس میں واضح کیا گیا ہے کہ موجودہ عالمی انسانی اقدار مثلا آزادی اظہار رائے کی اسرائیلی  یہود مخالفت کرتے ہیں ۔(ع۔ح)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے
  • 2 التقدمة الشريفية في شرح المقدمة الجزرية (جمعرات 26 فروری 2015ء)

    مشاہدات:1957

    اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کو بندوں کی رشد و ہدایت کے لیے نازل فرمایاہے۔،یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کیا جانے والا ایسا کلام ہے جس کے ایک ایک حرف کی تلاوت پر دس دس نیکیاں ملتی ہیں۔اور قرآن مجید کی درست تلاوت اسی وقت ہی  ممکن ہو سکتی ہے، جب اسے علم تجویدکے قواعد وضوابط اوراصول وآداب کے ساتھ پڑھا جائے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کو ترتیل کے ساتھ پڑھنے کا حکم دیا ہے ۔لہٰذا قرآن کریم کو اسی طرح پڑھا جائے جس طرح اسے پڑھنے کا حق ہے۔اور ہرمسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ علمِ تجوید کے بنیادی قواعد سے آگاہی حاصل کرے۔فن تجوید پر عربی زبان میں بے شمار کتب موجود ہیں۔جن میں سے مقدمہ جزریہ ایک معروف اور مصدر کی حیثیت رکھنے والی عظیم الشان منظوم کتاب ہے،جو علم تجوید وقراءات کے امام علامہ جزری ﷫کی تصنیف ہے۔اس کتاب  کی اہمیت وفضیلت کے پیش نظر  متعدد اہل علم نے اس کی شاندار شروحات لکھی ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب " التقدمۃ الشریفیۃ فی شرح المقدمۃ الجزریۃ "بھی  مقدمہ جزریہ کی ایک مفصل شرح ہے جواستاذ القراء والمجودین قاری محمد شریف صاحب﷫ بانی مدرسہ دار القراء لاہور پاکستان کی کاوش ہے۔جو ان کی سالہا سال کی محنت وکوشش اور عرصہ دراز کی تحقیق وجستجو کا نتیجہ ہے۔اور شائقین علم تجوید کے لئے ایک نادر تحفہ ہے۔ تجوید وقراءات کے ہر طالب علم کو اس کا ضرور مطالعہ کرنا چاہئے۔اللہ تعالی مولف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 3 تذکرۃ الفقہاء حصہ اول (ہفتہ 10 فروری 2018ء)

    مشاہدات:381

    ہر مسلمان پرواجب اورضروری ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کی محبت کے بعد مسلمانوں کے علماء، مجتہدین اور اولیاء صالحین کی محبت اختیار کرے، خاص کر وہ ائمہ اور علماء جو پیغمبروں کےوارث ہیں، آسمان کے ستاروں کی طرح خشکی و تری کی تاریکیوں میں راستہ دیکھاتے ہیں، مخلوق کے سامنے ہدایت کے راستے کھولتے ہیں۔ خاتم الرسل ﷺ کی بعثت سے پہلے جو امتیں تھیں ان کے علماء بد ترین لوگ تھے، مگر ملت اسلامیہ کے علماء بہترین لوگ ہیں۔ جب کبھی رسول اللہ ﷺ کی سنت مطہرہ مردہ ہونے لگتی ہے تو اس کو یہ علماء ہی زندہ کرتے ہیں، اوراسلام کے جسم میں ایک تازہ روح پھونکتے ہیں۔ اسی طرح چاروں ائمہ مجتہدین اور دوسرے علماء حدیث جن کی مقبولیت کے آگے امت سرنگوں رہتی ہے، ان میں سے کوئی ایسا نہ تھا کہ رسول اللہ ﷺ کی کسی حدیث اور سنت کی مخالفت کا اعتقاد دل میں رکھتا ہو۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ تذکرۃ الفقہاء (حصہ اول)‘‘ محمد عمیر الصدیق دریا بادی ندوی﷫ کی تالیف ہے۔اس کتاب میں امام بویطی شافعی سے امام ابو اسحاق اسفرائینی تک یعنی تیسری صدی ہجری سے پانچویں صدی ہجری کے آغاز تک کے چھبیس نامور فقہائے شافعیہ کے حالات اور ان کے علمی و فقہی اوصاف و محاسن کا ذکر کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان فقہاء دین کی سعی کو قبول و منظور فرمائے اور فاضل مصنف کو اجر عظیم سے نوازے اور کہ صاحب تصنیف کی کاوشوں کو قبول فرمائے اور آخرت میں ان کی نجات کا ذریعہ بنائے ۔ (آمین)  (رفیق الرحمن)

  • 4 شرکت و مضاربت کے شرعی اصول (منگل 30 جون 2015ء)

    مشاہدات:2041

    شرکت اور مضاربت کاروباری معاہدوں کی وہ شکلیں ہیں جو نبی کریم ﷺ کی بعثت کےوقت رائج تھیں۔شرکت ومضاربت کے طریقے نبیﷺ کے زمانے میں رائج رہے اور رسول اللہ ﷺ کی نظروں کے سامنے آپ کے تربیت یافتہ صحابہ نے یہ طریقےاختیار بھی کیے ۔آپ نے ان طریقوں سے روکا نہیں بلکہ ان پر اظہار پسندیدگی فرمایا اور ان میں بعض طریقے آپ ﷺ نے خود بھی اختیار کیے تھے ۔شرکت سے مراد یہ ہے کہ دویا دو سے زائد افراد کسی کاروبار میں متعین سرمایوں کے ساتھ اس معاہدے کے تحت شریک ہوں کہ سب مل کر کاروبار کریں گے ۔مضاربت یہ ہے کہ ایک فریق سرمایہ فراہم کرے اور دوسرا اس سرمایے سے کاروبار کرے ۔ اس معاہدے کےتحت کے اسے کاروبار کے نفع میں ایک متعین نسبت سے حصہ ملے گا۔ زیر تبصرہ کتاب ’’شرکت ومضاربت کے شرعی اصول ‘‘ مسلم یونیورسٹی علی گڑھ شعبۂ معاشیات کے پروفیسر جنا ب ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی کی تصنیف ہے جس میں انہوں نے شرکت اور مضاربت کے شرعی احکام بیان کیے ہیں ۔ا س کتاب میں شرکت اور مضاربت کے تمام فقہی احکام کا احاطہ نہیں کیاگیا ہے بلکہ ان امور پر بحث کی گئی ہے ۔جن کابنکوں کی تنظیم نو سےگہرا تعلق ہے ۔ دور ِ جدید میں شرکت یا مضاربت کے اصول پر قائم ہونے والے کاروباری اداروں سے متعلق تفصیلی قوانین وضوابط بھی نہیں تجویز کیے گئے ۔ بلکہ صرف اصول واضح کیے گئے ہیں ۔مصنف نے شرکت اور مضاربت کےشرعی اصولوں کی وضاحت میں اسلامی فقہ کے چاروں مشہور مکاتب فکر حنفی ،مالکی ، شافعی اور حنبلی کی مستند کتابوں کو سامنے رکھا ہے ۔(م۔ا)

  • 5 کتاب وسنت کی روشنی میں حیا کا مقام (جمعرات 01 اگست 2013ء)

    مشاہدات:4573
    حیاء وہ عمدہ اخلاق ہے جو انسان کو ہر برائی سے باز رکھتا ہے ارتکاب معاصی میں حائل ہو کر آدمی کو گناہ سے بچاتا ہے حق دار کا حق تلف کرنے سے منع کرتا ہے ۔ رسول اکرم ﷺ کا ارشاد بھی اس معنی پر روشنی ڈالتا ہے کہ لوگوں نے سابقہ انبیاء کی تعلیمات میں سے جو حصہ حاصل کیا ہے وہ یہ ہے کہ جب حیاء ختم ہو جائے تو پھر جو چاہو کرو ۔ اسلام کا عملا دارو مدار حیاء پر ہے کیونکہ وہی ایک ایسا قانون شرعی ہے جو تمام افعال شرعیہ کو منظم اور مرتب کرتا ہے یہی وجہ ہے کہ تمام انبیاء کرام نے حیاء دار پر زور دیا ہے ۔ اور تمام عقول سلیمہ اور فطرت مستقیمہ نے بھی اس کا اقرار کیا ہے اور یہ وہ امر ہے جس میں جن وانس کے تمام شیاطین مل کر بھی تحریف و تغیر نہیں کرسکے ۔ اور جس میں حیاء ہوتا ہے اس میں نیکی کے تمام اسباب موجود ہوتے ہیں اور جس شخص میں حیاء ہی نہ رہے اس کے نیکی کرنے کے تمام اسباب معدوم ہو کر رہ جاتے ہیں ۔ کیونکہ حیاء انسان اور گناہ کے درمیان حائل ہونے والی چیز ہے ۔ اگر حیاء قوی ہے تو گناہ کی قوت ماند پڑ جائے گی ۔ اور اگر حیاء کمزور پڑ جائے تو گناہ کی قوت غالب آجاتی ہے ۔ کتنی ہی برائیاں ہیں ان میں صرف حیا ہی حائل ہو سکتا ہے ۔ کیونکہ یہی اس کی دواہے اگر حیاء ہی ختم ہو جائے تو پھر اس کی کوئی دوا نہیں ہے ۔ (ع۔ح)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے
  • 6 کیا ووٹ مقدس امانت ہے؟ (بدھ 31 جولائی 2013ء)

    مشاہدات:5304
    مغربی تہذیب اور افکار و نظریات کی مشرق میں آمد کے بعد مسلمانوں کے اندر بالخصوص  بنیادی طور پر تین طرح کے طبقات آئے ہیں ۔ پہلا وہ جو مغربی فکر و تہذیب کی مکمل تردید کرتا ہے اور دوسرا وہ جو مکمل تائید کرتا ہے اور تیسرا اور  آخری گروہ ان لوگوں کا ہے جو پیوند کاری  کرتا ہے ۔ مغرب کے ان گوناگو افکار و نظریات اور تہذیب و تمدن کی دنیا میں ایک جمہوریت بھی ہے چناچہ اس کے بارے میں فطری طور پر مذکورہ بالا تین طرح کی ہی آراء سامنے آئی ہیں ۔ بعض لوگ جمہوریت کی بالکلیہ تردید ، بعض تائید اور بعض بین بین رائے اپناتے ہوئے نظر آتے ہیں ۔ اس سلسلے میں زیر نظر کتاب اول الذکر گروہ کی نمائندگی کرتی ہوئی دکھائی دیتی ہے ۔ فاضل مصنف نے زیر بحث کتاب میں جہاں جمہوری نظام کے مفاسد کا ذکر کیا ہے وہاں ساتھ ساتھ بالخصوص ان لوگوں کی آراء اور دلائل کو چھانٹے کی کوشش کی ہے جو مسلمانوں میں سے جمہوریت کی حمایت کرتے ہوئے نظر آتے ہیں ۔ اگر غیرجانبدارنہ طور پر دیکھا جائے تو کتاب اپنے اندر کئی ایک حقائق کو بھی سموئے ہوئے ۔ اللہ ہماری صحیح رہنمائی فرمائے ۔ آمین۔(ع۔ح)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 1186
  • اس ہفتے کے قارئین: 27562
  • اس ماہ کے قارئین: 80511
  • کل مشاہدات: 40613050

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں