کل کتب 1325

دکھائیں
کتب
  • 1101 #1025

    مصنف : مفتی محمد شفیع

    مشاہدات : 25819

    مقام صحابہ ؓ

    (منگل 29 مئی 2012ء) ناشر : ادارہ معارف کراچی
    #1025 Book صفحات: 145

    زیر نظر کتاب میں مقام صحابہ پر گفتگو کی گئی ہے۔یہ ایک ایسا موضوع ہے جو ہمارے زمانہ میں عرصہ سے معرکہ بحث و جدال بنا ہوا ہے۔ اہل تشیع اور اہل سنت کے علاوہ خود اہل سنت کے مختلف گروہوں نے اس میں افراط و تفریط اختیار کی ہوئی ہے اور مستشرقانہ تحقیق کی وباء عام سے اس میں اور شدت پیدا کی ہے۔ مولانا مفتی محمد شفیع صاحب نے اپنے مخصوص انداز میں اس موضوع پر محققانہ اور ناصحانہ گفتگو کی ہے اور مسئلہ کے بہت سے پہلوؤں پر منفرد انداز میں روشنی ڈالی ہے۔ اس کتاب میں آپ کو علم، عقل اور محبت کا وہ حسین امتزاج ملے گا جو اہل سنت کی نمایاں خصوصیت ہے۔(ع۔م)
     

  • 1102 #744

    مصنف : ارشاد الحق اثری

    مشاہدات : 25537

    مقام صحابہ ؓ (ارشاد الحق اثری)

    (ہفتہ 13 اگست 2011ء) ناشر : ادارہ علوم اثریہ، فیصل آباد
    #744 Book صفحات: 178

    صحابہ کرام ؓ وہ نفوس قدسیہ ہیں ،جنہیں جناب رسالتمآب ﷺ کی حالت ایمان میں زیارت نصیب ہوئی اور انہوں نے آپ ﷺ  کے ساتھ مل کر دعوت وجہاد کے میدانوں میں کارہائے نمایاں سر انجام دیتے امت تک قرآن وحدیث کی تعلیمات کو روایت وعمل کے ذریعہ بھی انہی نے پہنچایا۔اس اعتبار سے ان کا مقام ومرتبہ انتہائی بلند وبرتر ہے ۔اہل سنت والجماعت کا عقیدہ ہے کہ انبیائے کرام ؑ کے بعد سب سے افضل واعلیٰ مقام صحابہ کرام کا ہے ۔زیر نظر کتاب معروف عالم دین اور محدث زماں مولانا ارشادالحق اثری حفظہ اللہ کی تصنیف ہے ،جس میں بہت ہی علمی انداز سے صحابہ کرام کے مقام ومرتبہ کو اجاگر کیا گیا ہے ۔قر آن وحدیث سے مناقب صحابہ رضی اللہ  عنہم کے بیان کے علاوہ بعض اصولی نکات کی بھی علمی توضیح کی ہے ۔جس میں عدالت صحابہ ؓ کا مسئلہ بھی شامل ہے ۔بعض صحابہ کرام رضی  اللہ عنہم پر حرف گیری  کی حقیقت بھی واضح کی ہے اور اس سلسلہ میں پائی جانے والی غلط فہمیوں کا مکمل ازالہ کیا ہے ۔اس اعتبار سے اس کتاب کا مطالعہ انتہائی مفید ثابت ہو گا جس  سے دشمنان صحابہ کےمکروہ پراپیگنڈے کا موثر توڑ ہو گا او رصحابہ کرام...

  • 1103 #5290

    مصنف : محمد سليم ساقی

    مشاہدات : 2994

    مقام و احترام قائد اعظم

    (جمعرات 06 ستمبر 2018ء) ناشر : نذیر سنز پبلشرز لاہور
    #5290 Book صفحات: 484

    قائد اعظم محمد علی جناح 25 دسمبر 1876ء کو پید اہوئے۔ آپ ایک نامور وکیل، سیاست دان اور بانی پاکستان تھے۔۔ آپ 1913ء سے لے کر پاکستان کی آزادی 14 اگست 1947ء تک آل انڈیا مسلم لیگ کے سربراہ رہے۔ آل انڈیا کانگرس اور آل انڈیا مسلم لیگ متحدہ ہندوستان میں اختیارات کے توازن کے لئے کسی صیغے پر متفق نا ہوسکے نتیجتاً تمام جماعتیں اس امر پر متفق ہوگئیں کہ ہندوستان کے دو حصے کئے جائیں جن میں ایک مسلم اکثریتی علاقوں میں پاکستان جبکہ باقی ماندہ علاقوں میں بھارت کا قیام ہو اور آج اس امر کی ضرورت ہے کہ ہم اپنے لیڈروں اور رہنماؤں کی سیرت کو اپنے بچوں کی زندگی کا حصہ بنائیں اور خدائے برتر رحمن ورحیم نے ہمیں ایک خطۂ زمین جو حسین مناظر اور قدرت کی فیاضیوں سے مالا مال ہے جہاں بلند پہاڑ اور ان کی سفید برف سے ڈھکی ہوئی چوٹیاں تیز وتند دریا‘ زرخیز میدانی علاقے‘ معدنی دولت سے بھر پور ہیں اور کئی جگہوں میں خشک پتھریلے پہاڑ اور وسیع ریگستانی علاقے ہیں آسمانی ماحول چاند ستارے سیارے سب کے سب جگ مگ کرتے ہیں اور سورج کی روشنی فصلوں اور صحت کو فیضیاب کرتی ہے‘ قدیم تہذیبی&l...

  • 1104 #1821

    مصنف : ابو الوفا ثناء اللہ امرتسری

    مشاہدات : 12099

    مقدس رسول بجواب رنگیلا رسول

    (جمعہ 25 جولائی 2014ء) ناشر : مکتبہ الفہیم مؤناتھ بھنجن، یو پی
    #1821 Book صفحات: 119

    مفسر قرآن ، فاتح قادیان ،کثیرالتصانیف مولانا ثناء اللہ امرتسری ﷫ کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں ہے۔آپ 1868ء امرتسر میں پیدا ہوئے،اورمولانا سیّد نذیر حسین دہلوی ﷫ سے اکتساب علم کیا۔ ہفت روزہ ’’اخبار اہل حدیث‘‘ کے مدیر اور مؤسس تھے۔ادیانِ باطلہ پر گہری نظر تھی۔عیسائیت ، آریہ سماج ہندووں، قادیانیت اور تقلید کے ردمیں متعدد کتابیں لکھیں۔آپ نے سیرت مبارکہ صلی اللہ علیہ و سلم پر تین کتابیں تالیف کی تھیں،جن میں سے ایک زیر تبصرہ کتاب(مقدس رسولﷺ بجواب رنگیلا رسول) بھی ہے۔یہ کتاب اس زمانے میں لکھی گئی جب مسلمان انگریزی حکومت کے جبر واستبداد کا شکار تھے۔انگریزی استعمار کا فتنہ زوروں پر تھا ۔پورے ملک میں عیسائی مشنریاں سر گرم تھیں۔ہندووں میں ایک نیا فرقہ آریہ سماج وجود میں آچکا تھا۔جس کے بانی پنڈت دیانند شرما اور ان کے ہم نواوں کا قلم اسلام اور پیغمبر اسلام کے خلاف ایسا زہر اگل رہا تھا ،جس سے مسلمانوں میں ارتداد کا خطرہ پیدا ہوگیا تھا۔"سنیارتھ پرکاش" اور"رنگیلا رسول" جیسی دل آزار کتابیں اسی دور کی یاد گار ہیں۔"رنگیل...

  • 1105 #384

    مصنف : علامہ عبد الرحمن ابن خلدون

    مشاہدات : 50035

    مقدمہ ابن خلدون حصہ اول

    dsa (جمعرات 16 جنوری 2014ء) ناشر : نفیس اکیڈمی کراچی
    #384 Book صفحات: 339

    مؤرخین کی جانب سے تاریخ اسلام پر متعدد کتب سامنے آ چکی ہیں لیکن ایسی کتب معدودے چند ہی ہیں جن میں ایسے اصولوں کی وضاحت کی گئی ہو جن کی روشنی میں معلوم کیا جا سکے کہ بیان کردہ تاریخی واقعات کا تعلق واقعی حقیقت کے ساتھ ہے۔ علامہ ابن خلدون نے تاریخ اسلام پر ’کتاب العبر و دیوان المبتداء والجز فی ایام العرب والعجم والبریر‘ کے نام سے ایک شاندار کتاب لکھی اور اس کے ایک حصے میں وہ اصول اور آئین بتائے جن کے مطابق تاریخی حقائق کو پرکھا جا سکے۔ انہی اصول وقوانین کا اردو قالب ’مقدمہ ابن خلدون‘ کے نام سے آپ کے سامنے ہے۔ کتاب کے رواں دواں ترجمے کےلیے علامہ رحمانی کی خدمات حاصل کی گئی ہیں۔ مقدمے کی تقسیم چھ ابواب اور دو جلدوں میں کی گئی ہے۔ دونوں جلدیں تین، تین ابواب پر محیط ہیں۔ پہلے باب میں زمین اور اس کے شہروں کی آبادی، تمول و افلاس کی وجہ سے آبادی کے حالات میں اختلاف اور ان کے آثار سے بحث کی گئی ہے۔ دوسرے باب میں بدوی آبادی اوروحشی قبائل و اقوام پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ تیسرے باب میں دول عامہ، ملک، خلافت اور سلطانی مراتب کو قلمبند کرتے ہوئے کسی ب...

  • 1106 #4657

    مصنف : اکبر شاہ خاں نجیب آبادی

    مشاہدات : 5405

    مقدمہ تاریخ ہند موسوم بہ نظام سلطنت جلد۔2

    (اتوار 13 اگست 2017ء) ناشر : نا معلوم
    #4657 Book صفحات: 324

    کسی بھی قوم اور ملک کی تاریخ ہی اُن کی عزت وعظمت اور ان کی پہچان کا باعث ہوتی ہے۔ اگر کوئی ملک اپنی تاریخ نا رکھتاہو تو اسے عزت واحترام کی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا۔قوموں اور ملکوں کی سیاسی تاریخ کی طرح تحریکوں اور جماعتوں کی دینی اور ثقافتی تاریخ بھی ہمیشہ بحث وتحقیق کی محتاج ہوتی ہے۔محققین کی زبان کھلوا کر نتائج اخذ کرنے‘ غلطیوں کی اصلاح کرنے اور محض دعوؤں کی تکذیب وتردید کے لیے پیہم کوششیں کرنی پڑتی ہیں‘ پھر مؤرخین بھی دقتِ نظر‘ رسوخِ بصیرت‘ قوتِ استنتاج اور علمی دیانت کا لحاظ رکھنے میں ایک سے نہیں ہوتے‘ بلکہ بسا اوقات کئی تاریخ دان غلط کو درست کے ساتھ ملا دیتے ہیں‘ واقعات سے اس چیز کی دلیل لیتے ہیں جس پر وہ دلالت ہی نہیں کرتے‘لیکن بعض محققین افراط وتفریط سے بچ کر درست بنیادوں پر تاریخ کی تدوین‘ غلطیوں کی اصلاح ‘ حق کو کار گاہِ شیشہ گری میں محفوظ رکھنے اور قابلِ ذکر چیز کو ذکر کرنے کے لیے اہم قدم اُٹھاتے ہیں۔زیرِ تبصرہ کتاب میں بھی تاریخ ہند کو موضوع بحث بنایا گیا ہے۔ اس میں مذہب‘ تمدن‘ اخل...

  • ملت ابراہیم

    (ہفتہ 03 ستمبر 2011ء) ناشر : بیت الحمد،کراچی
    #691 Book صفحات: 58

    قرآن شریف میں جناب محمد رسول اللہ ﷺ کو حکم دیا گیا ہے کہ آپ صلی ا للہ علیہ وسلم ملت ابراہیم کی پیروی کریں۔ثم اوحينا إليك ان اتبع ملة ابراهيم حنيفا-پھر یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ جو شخص اس سے روگردانی کرے گا وہ علم وبصیرت سے تہی اور جاہل وبے وقوف ہے۔ومن يرغب عن ملة ابراهيم الا من سفه نفسه-بنا بریں یہ ضروری ہے کہ ملت ابراہیم کے مراد ومفہوم کو جانا جائے اور اس کی اتباع کی جائے۔زیر نظر کتاب میں اسی نکتے کو اجاگر کیا گیا ہے کہ ملت ابراہیم دراصل توحید کی پکار اور شرک واہل شرک سے بے زاری ولاتعلقی کا اعلان ہے۔سیدنا ابراہیم ؑ نے اہل شرک سے کھل کر اظہار براءت کیا اور انہیں اپنا دشمن قرار دیااور ہر لمحہ توحید کے علم کو بلند کیے رکھا۔اسی لیے انہیں اسؤہ حسنہ قرار دیا گیا ہے ۔نبی مکرم ﷺ نے بھی ملت ابراہیم کی پیروی کا حق ادا کر دیا اور پوری زندگی توحید کی اشاعت اور شرک کی تردید میں بسر کر دی۔آج بھی ملت ابراہیم کو ازسر نو زندہ کرنے اور ہر سطح پر شرک واہل شرک سے براءت کو عقیدہ توحید کے اعلان واظہار کی ضرورت ہے،جس کے فہم کے لیے اس کتاب کا مطالعہ انتہائی مفید رہے گا۔(ط۔ا)
     

  • 1108 #5304

    مصنف : ثروت صولت

    مشاہدات : 14739

    ملت اسلامیہ کی مختصر تاریخ جلد اول

    dsa (جمعہ 20 اپریل 2018ء) ناشر : اسلامک پبلیکیشنز، لاہور
    #5304 Book صفحات: 339

    اسلامی تاریخ مسلمانوں کی روشن اور تابندہ مثالوں سے بھری پڑی ہے۔لیکن افسوس کہ آج کا مسلمان اپنی اس تاریخ سے کٹ چکا ہے۔اپنی بد اعمالیوں اور شریعت سے دوری کے سبب مسلمان آج پوری دنیا میں ذلیل ورسوا ہو رہے ہیں۔اور ہر میدان میں انہیں شکست وہزیمت کا سامنا ہے ۔ تاہمصدر اسلام میں جب خلفائے راشدین تاریخ اسلام کے ابواب صفحہ ہستی پر منقوش کر رہے تھے تو عجمی دسیسہ کار تاریخ اسلام کے ان زریں اور تابناک ابواب کو مسخ کرنے کی کوششوں میں مصروف تھے۔ہمارا ایمان ہے کہ نبی کریم ﷺ کی ازواج مطہرات تمام صنف اناث میں ہی نہیں بلکہ انبیائے کرام کے بعد تمام انسانوں سے شرف مجد میں بلند ترین مقامات پر فائز تھیں۔مگر عجمیت کے شاطر،عیار، اورخبیث افراد نے بظاہر اسلام کا لبادہ اوڑھ کر بڑی چابکدستی سے اسلام کو نیست ونابود کرنے کے لئے ایک لائحہ عمل مرتب کیا اور امہات المومنین پر طرح طرح کے بہتانات لگائے۔
    زیر تبصرہ کتاب ’’ ملت اسلامیہ کی مختصر تاریخ‘‘ ثروت صولت کی کاوش ہے۔ جس میں ملت اسلامیہ کی پوری تاریخ کو اسلامی نقطۂ نظر سے پرکھ کر پیش کیا ہے اور اس میں امت مسل...

  • 1109 #5982

    مصنف : عبد الولی عبد القوی

    مشاہدات : 4790

    ملکہ عفاف ام المومنین عائشہ ؓ کی سیرت کا ایک مختصر تحقیقی جائزہ

    (منگل 31 دسمبر 2019ء) ناشر : انجمن اصلاح معاشرہ انڈیا
    #5982 Book صفحات: 65

    ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ ، سیدنا ابوبکر صدیق ﷜ کی صاحبزادی ہیں والدہ کا نام زینب تھا ان کا نام عائشہ لقب صدیقہ اور کنیت ام عبد اللہ تھی۔ حضور ﷺ نے سن 11 نبوی میں سیدہ  عائشہ ؓ سے نکاح کیا اور 1 ہجری میں ان کی رخصتی ہوئی۔ سیدہ عائشہ حضور ﷺ کی سب سے کم عمر زوجہ مطہرہ تھیں۔ انہوں نے حضور ﷺ کے ساتھ نو برس گذارے۔ام الموٴمنین سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ عنہاوہ خوش قسمت ترین عورت ہیں کہ جن کو حضور کی زوجہ محترمہ اور ”ام الموٴمنین“ ہونے کا شرف اور ازواج مطہرات میں ممتاز حیثیت حاصل ہے۔قرآن و حدیث اور تاریخ کے اوراق آپ کے فضائل و مناقب سے بھرے پڑے ہیں۔ام الموٴمنین حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ عنہاسے شادی سے قبل حضور نے خواب میں دیکھا کہ ایک فرشتہ ریشم کے کپڑے میں کوئی چیز لپیٹ کر آپ کے سامنے پیش کر رہا ہے… پوچھا کیا ہے؟ جواب دیا کہ آپ کی بیوی ہے، آپ نے کھول کہ دیکھا تو حضرت عائشہ ہیں۔صحیح بخاری میں حضرت ابو موسی اشعری سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا " مردوں میں سے تو بہت تکمیل کے درجے کو پہنچے مگر عورتوں میں صرف مریم دختر عمران...

  • 1110 #1612

    مصنف : محمد رمضان یوسف سلفی

    مشاہدات : 3839

    منشی رام عبد الواحد کیسے بنا؟

    (ہفتہ 17 مئی 2014ء) ناشر : مکتبہ قدوسیہ،لاہور
    #1612 Book صفحات: 72

    اسلام کو مکمل صورت اختیار کرنا جتنا مشکل ہے اس سے کہیں دشوار اپنے آبائی مذہب کو ترک کر کے اسلام کی آغوش میں آنا ہے ۔اسلامی تاریخ ایسے لوگوں کےحالات وواقعات سےبھری پڑی ہے کہ جنہیں اسلام کی سچی دولت پانے کے لیے بے پناہ مصائب وآلام اور اذیتوں سے دو چار ہونا پڑا۔ او ر اسلام قبول کرنے کے باعث انہیں زدوکوب کیا گیا۔زیرِنظر کتاب نو مسلم ڈاکٹر عبدالواحد﷫ کے تذکرہ پر مشتمل ہے ڈاکٹر صاحب 1920ءمیں ضلع شیخوپورہ کے ایک ہندو گھرانے میں پیدا ہوئے۔1940 میں مشرف بہ اسلام ہوکر چینیاں والی مسجد میں آگئے اورمولانا سید داؤد غزنوی ﷫ اوردیگر غزنوی علماء کےزیر نگرانی تعلیم وتربیت کی منزلیں طے کیں ۔انہوں نے نہایت مشکل حالات میں اپنے اسلام وایمان کی حفاظت کی اور صبر استقامت سے ثابت قدم رہے ۔ اسلام کے لیے اپنا گھر،بھائی بہن او روالدہ کوچھوڑ کر سچے دل سے اسلام قبول کیا او رپھر ساری زندگی اسلام کی تبلیغ اور خدمت میں گزاردی۔ اور جنوری2004ء میں اپنے خالق حقیقی سے جاملے ۔ان کے اسلام میں داخل ہونے کے ایمان افروز واقعات پڑ ھنے کے لائق ہیں ۔ اللہ تعالی ان کے درجات بلند فرمائے (آمین) (م۔ا)

  • 1111 #6403

    مصنف : ڈاکٹر صباح الدین اعظمی

    مشاہدات : 1713

    منور وادیوں کا پھول

    (جمعہ 25 جون 2021ء) ناشر : نا معلوم
    #6403 Book صفحات: 37

    ڈاکٹر محمد ضیاء الرحمن اعظمی رحمہ اللہ  (1943ء-2020ء) ہندوستانی نژاد سعودی عالم، متعدد کتابوں کے مصنف مشہور عالم دین اورعصر حاضر  کے نامور محدث تھے۔ڈاکٹر ضیاء الرحمٰن اعظمی 1943ء میں اعظم گڑھ کے ایک ہندو گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ان کا نام بانکے رام رکھا گیا تھا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے جس شخص کو اپنی ہدایت کے لیے منتخب کرلیا تھا، اس کی تربیت کا اہتمام بھی اسی شان سے کیا۔ڈاکٹر ضیاء الرحمن اعظمی نے اپنے کئی انٹرویوز میں بتایا کہ کس طرح وہ ایک ہندو گھرانے میں پیدا ہونے کے باوجود دین اسلام کی طرف راغب ہوئے۔دینی  تعلیم کے حصول کےلیے دارالسلام عمرآباد میں داخل ہوئے  وہاں سے فارغ ہونے کے بعد مزید تعلیم کے لیے جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ میں بآسانی مل گیا۔ چارسال  جامعہ اسلامیہ میں تعلیم حاصل کرنے کے بعدجامعۃ الملک عبدالعزیز، مکہ مکرمہ میں ایم اے میں داخلہ لیا۔ ایم اے میں ’’ابوہریرۃ فی ضوء مرویاتہ وفی جمال شواہدہ وانفرادہ‘‘  کے عنوان...

  • 1112 #552

    مصنف : عطاء اللہ ڈیروی

    مشاہدات : 93858

    منکرین حدیث اور بی بی عائشہ ؓکے نکاح کی عمر

    (جمعرات 28 فروری 2013ء) ناشر : نا معلوم
    #552 Book صفحات: 77

    بی بی عائشہ ؓ کے نکاح کے وقت ان کی عمر چھ سال ہونے پر قدیم زمانے سے تمام امت اسلامیہ کا اجماع رہا ہے اور صرف اس مغرب زدہ دور میں کچھ لوگ ایسے پیدا ہوئے ہیں جو ناموس رسالت اور ناموس صحابہ کی دہائی دےکر اس کو تسلیم کرنے سے انکار کرنا اور کروانا چاہتے ہیں تاکہ کسی طرح صحیح احادیث کے انکار کا دروازہ کھل جائے اور اگر ایک بار یہ دروازہ کھل گیا تو پھر خواہش پرست لوگ جس حدیث کو چاہیں گے قبول کریں گے اور جس کو چاہیں گے رد کر دیں  گے اس طرح وہ دین کو موم کی ناک بنا کر جس طرح چاہیں موڑ سکیں گے۔ بی بی عائشہ ؓ کی عمر سے متعلق وارد تمام احادیث صحت کے اعلیٰ درجہ پر اور متواتر ہیں اس کے باوجود کچھ لوگ اس سلسلہ میں شکوک و شبہات پیدا کرنے کی اپنی سی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ زیر نظر کتاب میں عطاء اللہ ڈیروی نے اس مسئلہ کو وضاحت کے ساتھ بیان کیا ہے۔(ع۔م)
     

  • 1113 #319

    مصنف : ڈاکٹر اسرار احمد

    مشاہدات : 40787

    منہج انقلاب نبوی ﷺ

    (اتوار 18 جولائی 2010ء) ناشر : مکتبہ مرکزی انجمن خدام القرآن لاہور
    #319 Book صفحات: 376

    محترم ڈاکٹر اسرار احمد مرحوم ایک عظیم داعی قرآن تھے جن کی شبانہ روز  محنت سے نہ صرف وطن عزیز بلکہ بے شمار دیگر ممالک میں بھی قرآن کریم کی دعوت پھیلی اور لوگ مطالعہ قرآن کی جانب راغب ہوئے محترم ڈاکٹر صاحب قرآن حکیم کی تجدید ایمان کا وسیلہ قرار دیتے تھے اور ایمان وعمل کی تجدید سے قیام خلافت کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے کےلیے سرگرم عمل تھے اس سلسلہ میں انہوں نے انقلاب بپا کرنے کا ایک مفصل پروگرام بھی تشکیل دے رکھا تھا جو ان کے بقول قرآن مجید اور سیرت نبوی ﷺ سے ماخوذ تھازیر نظر کتاب ''منہج انقلاب نبوی ﷺ''بھی اسی موضوع پرہے ا س میں محترم ڈاکٹر صاحب ؒ نے سیرت النبی  ﷺ کی روشنی میں اولاً مراحل انقلاب کی تعیین فرمائی او راو ربعدازاں رسول معظم ﷺ کی سیرت کو مراحل انقلاب کی توضیح وتفصیل کے پہلو سے بیان  کیا ہے کتاب مذکور میں مندرجہ جزئی تفصیلات سے تو بلاشبہ کسی اختلاف کی گنجائش نہیں کہ ان کا ثبوت کتب سیرت میں موجود ہے تاہم محترم ڈاکٹر صاحب مرحوم کے استدلال اوراستنباط و استنتاج پربحث ونظر کی گنجائش موجود ہے خصوصاً یہ نکتہ تجزیہ ومناقشہ...

  • 1114 #6466

    مصنف : ڈاکٹر شوکت علی شوکانی

    مشاہدات : 3705

    منہج دعوت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم شخصی کردار کی اہمیت و تاثیر

    (اتوار 29 اگست 2021ء) ناشر : المکتبۃ الاسلامیہ ظفروال ضلع نارووال
    #6466 Book صفحات: 378

    دعوت وتبلیغ کی اہمیت کے لیے یہی بات کافی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس مقصد کے لیے بے شمار انبیاء ورسل کو مبعوث فرمایا ہے۔چونکہ یہ سلسلہ حضرت محمد ﷺ پر مکمل ہو چکا ہے اس لیے اب یہ ذمہ داری امت مسلمہ پر ہے۔ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ کہ وہ دعوت وتبلیع او راشاعتِ دین کا کام اسی طرح انتہائی محنت اور جان فشانی سے کرے جس طرح خود خاتم النبین ﷺ اور آپ کے خلفائے راشدین اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کرتے رہے ہیں ۔ تبلیغ کے موثر او رنتیجہ خیز ہونے کے لیے ضروری ہے کہ اس سلسلہ میں آنحضرت ﷺ اور انبیا ﷩ کا اسوہ اور دیگر شرعی اصول مبلغ کے پیش نظر رہیں ۔ کیونکہ انبیاء کرام ﷩ کی زندگیاں ہی اپنے اپنے دور اورعلاقے کے لوگوں کے لیے مشعل راہ تھیں جبکہ عالمگیر اور دائمی نمونۂ عمل صرف سید الاولین وسید الآخرین ،رحمۃ للعالمین کی حیات طیبہ ہے ۔ یہ بات واضح رہے کہ دعوت وتبلیغ سے پہلے عمل کی ضرورت ہوتی اور عمل سے پہلے علم کی ۔ زیرنظر کتاب’’ منہج دعوت ِ نبویﷺ‘‘مولانا شوکت علی شوکانی صاحب (پی ایچ ڈی سکالر) مزید مطالعہ۔۔۔

  • 1115 #2361

    مصنف : شیخ محمد اکرم

    مشاہدات : 11990

    موج کوثر

    (اتوار 22 فروری 2015ء) ناشر : ادارہ ثقافت اسلامیہ، لاہور
    #2361 Book صفحات: 368

    شیخ محمد اکرام (1908۔1971ء)چک جھمرہ (ضلع لائل پور ) میں پیدا ہوئے۔ گورنمٹ کالج لاہور اور آکسفورڈ میں تعلیم پائی ۔ 1933ء میں انڈین سول سروس میں شامل ہوئے اور سوات ، شولا پور، بڑوچ اور پونا میں اعلٰی انتظامی عہدوں پر فائز رہے۔ آپ پونا کے پہلے ہندوستانی کلکٹر اور دسٹرکٹ مجسٹریٹ تھے۔ قیام پاکستان کے بعد اطلاعات اور نشریات کے ڈپٹی سیکرٹری مقرر ہوئے۔ پھر وزارت اطلاعات و نشریات کے جائنٹ سیکرٹری اور بعد میں کچھ مدت کے لیے سیکرٹری کے عہدے پر فائز ہوئے۔ 1955ء سے 1957ء تک مشرقی پاکستان میں متعین رہے ، پہلے کمشنر ڈھاکہ اور پھر ممبر بورڈ آف ریونیو کی حیثیت سے ۔1958ء تک محکمہ اوقاف کے ناظم اعلیٰ پاکستان مقرر ہوئے۔دفتری کاموں کے ساتھ ساتھ ادبی سرگرمیاں بھی جاری رہیں۔ ہندی مسلمانوں کی ثقافتی اور مذہبی تاریخ لکھی جو تین جلدوں میں شائع ہوئی۔ آب کوثر ، رود کوثر ، موج کوثر ، غالب اور شبلی کے سوانح بھی مرتب کیے۔ برصغیر پاک و ہند کی فارسی شاعری کا ایک مجموعہ ارمغان پاک مرتب کیا۔ جو1950 ء میں شائع ہوا۔  علمی خدمات کی بنا پر حکومت ایران نے آپ کو نشان سپاس اور حکومت پاکستان ن...

  • 1116 #1609

    مصنف : محمد رمضان یوسف سلفی

    مشاہدات : 6395

    مورخ اہل حدیث مولانا محمد اسحاق بھٹی حیات و خدمات

    (جمعہ 16 مئی 2014ء) ناشر : مکتبہ رحمانیہ ناصر روڈ سیالکوٹ
    #1609 Book صفحات: 242

    مولانا محمد اسحاق بھٹی ﷾ کی شخصیت تعارف کی محتاج نہیں آپ برصغیر پا ک وہند کے اہل علم طبقہ میں او رخصوصا جماعت اہل میں ایک معروف شخصیت ہیں آپ صحافی ،مقرر، دانش ور وادیب اور وسیع المطالعہ شخصیت ہیں ۔ ان کا شمارعصر حاضر کے ان گنتی کےچند مصنفین میں کیا جاتا ہے جن کے قلم کی روانی کاتذکرہ زبان زدِعام وخاص رہتا ہے تاریخ وسیر و سوانح ان کا پسندیدہ موضوع ہے او ر ان کا یہ بڑا کارنامہ ہے کے انہوں نے برصغیر کے جلیل القدر علمائے اہل حدیث کے حالاتِ زندگی او ر ان کےعلمی وادبی کارناموں کو کتابوں میں محفوظ کردیا ہے مولانا محمداسحاق بھٹی ﷾ تاریخ وسیر کے ساتھ ساتھ مسائل فقہ میں بھی نظر رکھتے ہیں مولانا صاحب نے تقریبا 30 سے زائدکتب تصنیف کیں ہیں جن میں سے 26 کتابیں سیر واسوانح سے تعلق رکھتی ہیں مولانا تصنیف وتالیف کےساتھ ساتھ 15 سال ہفت روزہ الاعصتام کے ایڈیٹر بھی رہے الاعتصام میں ان کےاداریے،شذرات،مضامین ومقالات ان کے انداز ِفکر او روسیع معلومات کے آئینہ دار ہیں الاعتصام نے علمی وادبی دنیا میں جو مقام حاصل کیا ہے اس کی ایک وجہ محترم مولانا محمد اسحاق بھٹی ﷾ کی انتھک مساعی او...

  • 1117 #5289

    مصنف : حکیم محمود احمد ظفر

    مشاہدات : 4059

    موسی بن نصیر

    (ہفتہ 03 اپریل 2021ء) ناشر : تخلیقات، لاہور
    #5289 Book صفحات: 211

    سر کار دو عالمﷺ کی نظر کیمیا اثر نے صرف بڑے بڑے محدث‘ فقہاء‘ فلسفی اور سائنس دان ہی پیدا نہیں کیے بلکہ دنیا کے بڑے بڑے جرنیل بھی پیدا کیے جن کی فن سپہ گری کا لوہا پوری دنیا نے مانا ہے۔ وہ ایسے جرنیل تھآ کہ جس طرف بھی رخ کرتے کامیابی وکامرانی ان کی ہم رکاب ہوتی‘ اس وقت دنیا ان کے حیرت انگیز کارناموں کو دیکھ کر انگشت بدندان ہو جاتی‘ اور آج بھی ان کے کارنامے مشعل راہ ہیں۔ ان لوگوں نے صرف انسانوں کے خون سے زمین کو رنگین نہیں کیا بلکہ اللہ کے باغیوں کی سرکوبی کر کے انسانیت کو امن وسکون اور رشد وہدایت کی راہ دکھلائی‘ اور پوری دنیا امن وسلامتی کا گہوارہ بن گئی۔ان عظیم جرنیلوں میں سے ایک موسی بن نصیر بھی ہیں۔زیرِ تبصرہ کتاب خاص موسی بن نصیر کے حالات زندگی‘ کارناموں اور ان کی خدمات کی عکاسی کرتی ہے۔ موسی بن نصیر اپنے زمانہ کے ایک بہت بڑے کمانڈر اور جرنیل تھے انہوں نے اپنی پوری زندگی جس طرف کا رخ کیا کامرانی حاصل کی اور ایک تاریخ رقم کی۔ اور موسی کو پہنچنے والی مختلف اذیتوں اور صعوبتوں کو کتاب میں بیان کیا گیا ہے اور اس کتاب کا ب...

  • 1118 #4513

    مصنف : ڈاکٹر ابو سلمان شاہجہان پوری

    مشاہدات : 6021

    مولانا ابو الکلام آزاد ایک مطالعہ

    (پیر 27 مارچ 2017ء) ناشر : مکتبہ اسلوب، کراچی
    #4513 Book صفحات: 248

    مولانا ابو الکلام 11 نومبر 1888ء کو پیدا ہوئے اور 22 فروری 1958ء کو وفات پائی۔ مولانا ابوالکلام آزاد کا اصل نام محی الدین احمد تھا۔آپ کے والد بزرگوارمحمد خیر الدین انہیں فیروزبخت (تاریخی نام) کہہ کر پکارتے تھے۔ آپ مکہ معظمہ میں پیدا ہوئے۔ والدہ کا تعلق مدینہ سے تھا۔ سلسلہ نسب شیخ جمال الدین سے ملتا ہے جو اکبر اعظم کے عہد میں ہندوستان آئے اور یہیں مستقل سکونت اختیار کرلی۔ 1857ء کی جنگ آزادی میں آزاد کے والد کو ہندوستان سے ہجرت کرنا پڑی کئی سال عرب میں رہے۔ مولانا کا بچپن مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ میں گزرا ۔ابتدائی تعلیم والد سے حاصل کی۔ پھر جامعہ ازہرمصر چلے گئے۔ چودہ سال کی عمر میں علوم مشرقی کا تمام نصاب مکمل کر لیا تھا۔مولانا کی ذہنی صلاحتیوں کا اندازہ اس سے ہوتا ہے کہ انہوں نے پندرہ سال کی عمر میں ماہوار جریدہ لسان الصدق جاری کیا۔ جس کی مولانا الطاف حسین حالی نے بھی بڑی تعریف کی۔ 1914ء میں الہلال نکالا۔ یہ اپنی طرز کا پہلا پرچہ تھا۔ مولانا ایک نادر روزگار شخصیت تھے۔ اور اللہ تعالیٰ نے ان کی ذات میں ایسے اوصاف ومحاسن جمع کردیے تھےکہ انہوں نے زندگی کے ہر...

  • 1119 #4512

    مصنف : سعید احمد اکبر آبادی

    مشاہدات : 5805

    مولانا ابو الکلام آزاد مرحوم، سیرت و شخصیت اور علمی اور عملی کارنامے

    (اتوار 26 مارچ 2017ء) ناشر : ادارہ تصنیف و تحقیق، کراچی
    #4512 Book صفحات: 128

    مولانا ابو الکلام 11 نومبر 1888ء کو پیدا ہوئے اور 22 فروری 1958ء کو وفات پائی۔ مولانا ابوالکلام آزاد کا اصل نام محی الدین احمد تھا۔آپ کے والد بزرگوارمحمد خیر الدین انہیں فیروزبخت (تاریخی نام) کہہ کر پکارتے تھے۔ آپ مکہ معظمہ میں پیدا ہوئے۔ والدہ کا تعلق مدینہ سے تھا۔ سلسلہ نسب شیخ جمال الدین سے ملتا ہے جو اکبر اعظم کے عہد میں ہندوستان آئے اور یہیں مستقل سکونت اختیار کرلی۔ 1857ء کی جنگ آزادی میں آزاد کے والد کو ہندوستان سے ہجرت کرنا پڑی کئی سال عرب میں رہے۔ مولانا کا بچپن مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ میں گزرا ۔ابتدائی تعلیم والد سے حاصل کی۔ پھر جامعہ ازہرمصر چلے گئے۔ چودہ سال کی عمر میں علوم مشرقی کا تمام نصاب مکمل کر لیا تھا۔مولانا کی ذہنی صلاحتیوں کا اندازہ اس سے ہوتا ہے کہ انہوں نے پندرہ سال کی عمر میں ماہوار جریدہ لسان الصدق جاری کیا۔ جس کی مولانا الطاف حسین حالی نے بھی بڑی تعریف کی۔ 1914ء میں الہلال نکالا۔ یہ اپنی طرز کا پہلا پرچہ تھا۔ مولانا ایک نادر روزگار شخصیت تھے۔ اور اللہ تعالیٰ نے ان کی ذات میں ایسے اوصاف ومحاسن جمع کردیے تھےکہ انہوں نے زندگی کے ہر...

  • 1120 #3446

    مصنف : احمد حسین کمال

    مشاہدات : 6172

    مولانا ابو الکلام آزاد نے پاکستان کے بارے میں کیا کہا؟

    (منگل 09 فروری 2016ء) ناشر : مکتبہ جمال، لاہور
    #3446 Book صفحات: 140

    برصغیر پاک و ہند میں کچھ ایسی شخصیات نے جنم لیا جو علم و ادب اور صحافت کے افق پر ایک قطبی ستارے کی طرح نمودار ہوئے اور دیر تک چھائے رہے۔ ان شخصیات میں سے مولانا ابو الکلام آزادؒ سرِ فہرست ہیں، مولانا کو اللہ تعالیٰ نے بے پناہ صلاحیتوں سے نوازہ تھا۔ مولانا آزادؒ عربی، اردو، فارسی اور انگریزی کے عظیم سکالر تھے، آپ نہایت ہی زیرک اور بے باک انسان تھے۔ جب فرنگی حکومت نے ایک منصوبہ کے تحت تقسیم برصغیر کا پروگرام بنایا اور ان کا ارادہ تھا کہ مسلمان پسماندہ ہیں اس لیے ان کو چند ایک رعایتوں کے ساتھ اپنا آلہ کار بنا لیا جائے گا۔ مولانا آزادؒ نے جب برطانوی حکومت کی چالوں میں شدّت محسوس کی تو برصغیر کے مسلمانوں کو اس خطرناک چال سے بچانے کے لیے مولانا نے باقاعدہ کوششیں کیں۔ مولانا یہ چاہتے تھے کہ ہندوستان میں مسلمانوں کی نو(9) کروڑ سے زیادہ ہے اور وہ اپنی اس زبردست تعداد کے ساتھ ایسی مذہبی و معاشرتی صفات کے حامل ہیں کہ ہندوستان کی قومی و وطنی زندگی میں فیصلہ کن اثرات ڈال سکتے ہیں۔ مولانا کا یہ نظریہ تھا کہ اگر آج ہندوستان کے مسلمان ایک الگ ملک حاصل کر لیں گئے تو وہ فرن...

  • 1121 #3446

    مصنف : احمد حسین کمال

    مشاہدات : 6172

    مولانا ابو الکلام آزاد نے پاکستان کے بارے میں کیا کہا؟

    (منگل 09 فروری 2016ء) ناشر : مکتبہ جمال، لاہور
    #3446 Book صفحات: 140

    برصغیر پاک و ہند میں کچھ ایسی شخصیات نے جنم لیا جو علم و ادب اور صحافت کے افق پر ایک قطبی ستارے کی طرح نمودار ہوئے اور دیر تک چھائے رہے۔ ان شخصیات میں سے مولانا ابو الکلام آزادؒ سرِ فہرست ہیں، مولانا کو اللہ تعالیٰ نے بے پناہ صلاحیتوں سے نوازہ تھا۔ مولانا آزادؒ عربی، اردو، فارسی اور انگریزی کے عظیم سکالر تھے، آپ نہایت ہی زیرک اور بے باک انسان تھے۔ جب فرنگی حکومت نے ایک منصوبہ کے تحت تقسیم برصغیر کا پروگرام بنایا اور ان کا ارادہ تھا کہ مسلمان پسماندہ ہیں اس لیے ان کو چند ایک رعایتوں کے ساتھ اپنا آلہ کار بنا لیا جائے گا۔ مولانا آزادؒ نے جب برطانوی حکومت کی چالوں میں شدّت محسوس کی تو برصغیر کے مسلمانوں کو اس خطرناک چال سے بچانے کے لیے مولانا نے باقاعدہ کوششیں کیں۔ مولانا یہ چاہتے تھے کہ ہندوستان میں مسلمانوں کی نو(9) کروڑ سے زیادہ ہے اور وہ اپنی اس زبردست تعداد کے ساتھ ایسی مذہبی و معاشرتی صفات کے حامل ہیں کہ ہندوستان کی قومی و وطنی زندگی میں فیصلہ کن اثرات ڈال سکتے ہیں۔ مولانا کا یہ نظریہ تھا کہ اگر آج ہندوستان کے مسلمان ایک الگ ملک حاصل کر لیں گئے تو وہ فرن...

  • 1122 #4511

    مصنف : ڈاکٹر ابو سلمان شاہجہان پوری

    مشاہدات : 4842

    مولانا ابو الکلام آزاد کی صحافت

    (ہفتہ 25 مارچ 2017ء) ناشر : ادارہ تصنیف و تحقیق، کراچی
    #4511 Book صفحات: 223

    مولانا ابو الکلام11نومبر1888ء کو پیدا ہوئے اور 22 فروری1958ءکو وفات پائی۔مولانا ابوالکلام آزاد کا اصل نام محی الدین احمد تھا۔آپ کے والد بزرگوارمحمد خیر الدین انہیں فیروزبخت (تاریخی نام) کہہ کر پکارتے تھے۔ آپ مکہ معظمہ میں پیدا ہوئے۔ والدہ کا تعلق مدینہ سے تھا۔ سلسلہ نسب شیخ جمال الدین سے ملتا ہے جو اکبر اعظم کے عہد میں ہندوستان آئے اور یہیں مستقل سکونت اختیار کرلی۔ 1857ء کی جنگ آزادی میں آزاد کے والد کو ہندوستان سے ہجرت کرنا پڑی کئی سال عرب میں رہے۔ مولانا کا بچپن مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ میں گزرا۔ ابتدائی تعلیم والد سے حاصل کی۔ پھر جامعہ ازہرمصر چلے گئے۔ چودہ سال کی عمر میں علوم مشرقی کا تمام نصاب مکمل کر لیا تھا۔ مولانا کی ذہنی صلاحتیوں کا اندازہ اس سے ہوتا ہے کہ انہوں نے پندرہ سال کی عمر میں ماہوار جریدہ لسان الصدق جاری کیا۔ جس کی مولانا الطاف حسین حالی نے بھی بڑی تعریف کی۔ 1914ء میں الہلال نکالا۔ یہ اپنی طرز کا پہلا پرچہ تھا۔ مولانا ایک نادر روزگار شخصیت تھے۔ اور اللہ تعالیٰ نے ان کی ذات میں ایسے اوصاف ومحاسن جمع کردیے تھےکہ انہوں نے زندگی کے ہر دائرہ...

  • 1123 #4479

    مصنف : افضل حق قریشی

    مشاہدات : 6974

    مولانا ابو الکلام آزاد کی قرآنی خدمات ( جدید ایڈیشن )

    (بدھ 24 مئی 2017ء) ناشر : مکتبہ جمال، لاہور
    #4479 Book صفحات: 225

    مولانا ابو الکلام11نومبر1888ء کو پیدا ہوئے اور 22 فروری1958ءکو وفات پائی۔مولانا ابوالکلام آزاد کا اصل نام محی الدین احمد تھا۔آپ کے والد بزرگوارمحمد خیر الدین انہیں فیروزبخت (تاریخی نام) کہہ کر پکارتے تھے۔ آپ مکہ معظمہ میں پیدا ہوئے۔ والدہ کا تعلق مدینہ سے تھا ۔سلسلہ نسب شیخ جمال الدین سے ملتا ہے جو اکبر اعظم کے عہد میں ہندوستان آئے اور یہیں مستقل سکونت اختیار کرلی۔1857ء کی جنگ آزادی میں آزاد کے والد کو ہندوستان سے ہجرت کرنا پڑی کئی سال عرب میں رہے۔ مولانا کا بچپن مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ میں گزرا ۔ابتدائی تعلیم والد سے حاصل کی۔ پھر جامعہ ازہرمصر چلے گئے۔ چودہ سال کی عمر میں علوم مشرقی کا تمام نصاب مکمل کر لیا تھا۔مولانا کی ذہنی صلاحتیوں کا اندازہ اس سے ہوتا ہے کہ انہوں نے پندرہ سال کی عمر میں ماہوار جریدہ لسان الصدق جاری کیا۔ جس کی مولانا الطاف حسین حالی نے بھی بڑی تعریف کی۔ 1914ء میں الہلال نکالا۔ یہ اپنی طرز کا پہلا پرچہ تھا۔ ۔ مولانا ایک نادر روزگار شخصیت تھے ۔ اور اللہ تعالیٰ نے ان کی ذات میں ایسے اوصاف ومحاسن جمع کردیے تھےکہ انہوں نے زندگی کے ہر دائر...

  • 1124 #3715

    مصنف : مجاہد الحسینی

    مشاہدات : 5916

    مولانا ابو الکلام آزاد کی مرزا قادیانی کے جنازے میں شرکت ؟ بہتان کا حقیقت افروز تجزیہ

    (ہفتہ 04 جون 2016ء) ناشر : ادارہ اسلامیات انار کلی ،لاہور
    #3715 Book صفحات: 100

    مولانا ابو الکلام11نومبر1888ء کو پیدا ہوئے اور 22 فروری1958ءکو وفات پائی۔مولانا ابوالکلام آزاد کا اصل نام محی الدین احمد تھا۔آپ کے والد بزرگوارمحمد خیر الدین انہیں فیروزبخت (تاریخی نام) کہہ کر پکارتے تھے۔ آپ میں مکہ معظمہ میں پیدا ہوئے۔ والدہ کا تعلق مدینہ سے تھا ۔سلسلہ نسب شیخ جمال الدین سے ملتا ہے جو اکبر اعظم کے عہد میں ہندوستان آئے اور یہیں مستقل سکونت اختیار کرلی۔1857ء کی جنگ آزادی میں آزاد کے والد کو ہندوستان سے ہجرت کرنا پڑی کئی سال عرب میں رہے۔ مولانا کا بچپن مکہ معظمہ اور مدینہ میں گزرا ۔ابتدائی تعلیم والد سے حاصل کی۔ پھر جامعہ ازہرمصر چلے گئے۔ چودہ سال کی عمر میں علوم مشرقی کا تمام نصاب مکمل کر لیا تھا۔مولانا کی ذہنی صلاحتیوں کا اندازہ اس سے ہوتا ہے کہ انہوں نے پندرہ سال کی عمر میں ماہوار جریدہ لسان الصدق جاری کیا۔ جس کی مولانا الطاف حسین حالی نے بھی بڑی تعریف کی۔ 1914ء میں الہلال نکالا۔ یہ اپنی طرز کا پہلا پرچہ تھا۔ ترقی پسند سیاسی تخیلات اور عقل پر پوری اترنے والی مذہبی ہدایت کا گہوارہ اور بلند پایہ سنجیدہ ادب کا نمونہ تھا۔آپ ایک سنی المسلک انس...

  • 1125 #4379

    مصنف : عبد الرشید عراقی

    مشاہدات : 6316

    مولانا ابو الکلام آزاد  بحیثیت صحافی و مفسر

    (پیر 03 اپریل 2017ء) ناشر : نعمانی کتب خانہ، لاہور
    #4379 Book صفحات: 141

    مولانا ابو الکلام11نومبر1888ء کو پیدا ہوئے اور 22 فروری1958ءکو وفات پائی۔مولانا ابوالکلام آزاد کا اصل نام محی الدین احمد تھا۔آپ کے والد بزرگوارمحمد خیر الدین انہیں فیروزبخت (تاریخی نام) کہہ کر پکارتے تھے۔ آپ مکہ معظمہ میں پیدا ہوئے۔ والدہ کا تعلق مدینہ سے تھا ۔سلسلہ نسب شیخ جمال الدین سے ملتا ہے جو اکبر اعظم کے عہد میں ہندوستان آئے اور یہیں مستقل سکونت اختیار کرلی۔1857ء کی جنگ آزادی میں آزاد کے والد کو ہندوستان سے ہجرت کرنا پڑی کئی سال عرب میں رہے۔ مولانا کا بچپن مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ میں گزرا ۔ابتدائی تعلیم والد سے حاصل کی۔ پھر جامعہ ازہرمصر چلے گئے۔ چودہ سال کی عمر میں علوم مشرقی کا تمام نصاب مکمل کر لیا تھا۔مولانا کی ذہنی صلاحتیوں کا اندازہ اس سے ہوتا ہے کہ انہوں نے پندرہ سال کی عمر میں ماہوار جریدہ لسان الصدق جاری کیا۔ جس کی مولانا الطاف حسین حالی نے بھی بڑی تعریف کی۔ 1914ء میں الہلال نکالا۔ یہ اپنی طرز کا پہلا پرچہ تھا۔ ۔ مولانا ایک نادر روزگار شخصیت تھے ۔ اور اللہ تعالیٰ نے ان کی ذات میں ایسے اوصاف ومحاسن جمع کردیے تھےکہ انہوں نے زندگی کے ہر دائر...

< 1 2 ... 42 43 44 45 46 47 48 ... 52 53 >

ایڈ وانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین 36400
  • اس ہفتے کے قارئین 153962
  • اس ماہ کے قارئین 640154
  • کل قارئین97705458

موضوعاتی فہرست