• #3890
    مخدوم صابری

    1 عربی اردو بول چال

    عربی زبان ایک زندہ وپائندہ زبان ہے۔ اس میں ہرزمانے کے ساتھ چلنے کی صلاحیت موجود ہے۔ اس زبان کو سمجھنے اور بولنے والے دنیا کے ہر خطے میں موجودہیں ۔عربی زبان وادب کو سیکھنا اور سکھانا ایک دینی وانسانی ضرورت ہے کیوں کہ قرآن کریم جوانسانیت کے نام اللہ تعالیٰ کا آخری پیغام ہے اس کی زبان بھی عربی ہے۔ عربی زبان معاش ہی کی نہیں بلکہ معاد کی بھی زبان ہے۔ اس زبان کی نشر واشاعت ہمارا مذہبی فریضہ ہے۔ اس کی ترویج واشاعت میں مدارس عربیہ اور عصری جامعات کا اہم رول ہے ۔عرب ہند تعلقات بہت قدیم ہیں اور عربی زبان کی چھاپ یہاں کی زبانوں پر بہت زیادہ ہے۔ہندوستان کا عربی زبان وادب سے ہمیشہ تعلق رہا ہے۔ یہاں عربی میں بڑی اہم کتابیں لکھی گئیں اور مدارس اسلامیہ نے اس کی تعلیم وتعلم کا بطور خاص اہتمام کیا۔ زیر تبصرہ کتاب "عربی اردو بول چال"محترم مخدوم صابری صاحب کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے  انتہائی مختصر اور آسان انداز میں عربی زبان سکھانے کی کوشش کی ہے اور زیادہ سے زیادہ عملی مشقیں کروانے کی ٹریننگ دی ہےاور عربی الفاظ کے ساتھ ساتھ اس کا اردو ترجمہ بھی دے دیا ہے جس سے اس کتاب کی افادیت میں اور زیادہ اضافہ ہو گیا ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین (راسخ)

  • #3423
    شمس الدین الذہبی

    2 کبیرہ گناہ اور ان کا علاج

    اللہ اور اس کے رسول اکرم ﷺ کی نافرمانی کاہر کام گناہ کہلاتا ہے ۔ اہل علم نے کتاب وسنت کی روشنی میں گناہ کی دو قسمیں بیان کی ہیں ۔ صغیرہ گناہ یعنی چھوٹے گناہ اور کبیرہ گناہ یعنی بڑے گناہ۔ اہل علم نے کبیرہ گناہوں کی فہرست میں ان گناہوں کوشمار کیا ہے جن کےبارے میں قرآن وحدیث میں واضح طور پر جہنم کی سزا بتائی گئی ہے یا جن کے بارے میں رسول اکرمﷺ نے شدید غصہ کا اظہار فرمایا ہے ۔اور صغیرہ گناہ وہ ہیں جن سے اللہ اوراس کے رسول نےمنع توفرمایا ہے ، لیکن ان کی سزا بیان نہیں فرمائی یا ان کے بارے میں شدید الفاظ استعمال نہیں فرمائے یا اظہارِ ناراضگی نہیں فرمایا۔کبیرہ اور صغیرہ گناہوں کی وجہ سے آدمی پر سب سے بڑی ہلاکت اور مصیبت تو یقیناً آخرت میں ہی آئے گی جہاں اسے چاروناچار جہنم کاعذاب بھگتنا پڑے گا لیکن اس دینا میں بھی گناہ انسان کے لیے کسی راحت یاسکون کا باعث نہیں بنتے بلکہ انسان پر آنے والے تمام مصائب وآلام،بیماریاں اور پریشانیاں تکلیفیں اور مصیبتیں درحقیقت ہمارے گناہوں کی وجہ سے ہی آتی ہیں ۔کبیرہ گناہ کا موضوع ہمیشہ علماء امت کی توجہ کامرکز رہا ہے چنانچہ اس پر مستقل کتابیں بھی لکھی گئی ہیں اور شروح حدیث وکتبِ اخلاق میں یہ بحث ضمناً بھی آئی ہے ۔مستقل تصانیف میں امام ذہبی ، شیخ احمد بن ہیثمی ،ابن النحاس، محمد بن عبدالوہاب، اور شیخ احمد بن حجر آل بوطامی ﷭ کی کتابیں قابل ذکر ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ کبیرہ گناہ اور ان کاعلاج ‘‘امام ابو عبد اللہ محمد بن احمد الذ ہبی ﷫ کی تصنیف ’’ کتاب الکبائر ‘‘ کا اردو ترجمہ ہے جس میں انہو ں نے 70 کبیرہ گناہوں کو تفصیلاً ذکر کیا ہے۔اس کتاب کی مقبولیت اور افادیت کے باعث متعد د اداروں نے اس کا ترجمہ کروا کراسے شائع کیاہے۔ کتاب ہذا محترم حافظ ابوالقاسم محمود تبسم( مدرس الدعوۃ السلفیہ ستیانہ بنگلہ) کی ترجمہ شدہ ہے۔ انہوں نے بڑی سلاست وروانی سے اسے اردو قالب میں ڈھالا ہے تاکہ ہر خاص وعام اس سے فیض یاب ہوسکے ۔اللہ تعالیٰ مصنف ،مترجم، اور ناشر کوجزائے خیر عطا کرے اوراسے کو لوگوں کےلیے گناہوں سے بچنے کا ذریعہ بنائے (آمین) (م۔ا)

  • #3615
    محمد اسلم ربانی

    3 حقانیت رفع الیدین

    شریعتِ اسلامیہ میں  نماز بہت بڑا اور اہم رکن ہے اور اس پر مواظبت لازم قرار دی گئی ہے بلکہ کفر وایمان کے درمیان نماز ایک امتیاز ہے۔عقیدہ توحید کے بعد کسی بھی عمل کی قبولیت کےلیے دو چیزوں کاہونا ضروری ہے۔ نیت اور طریقۂ رسول ﷺ ۔لہٰذا نماز کے بارے میں آپ کاﷺ واضح فرمان ہے ’’ نماز اس طرح پڑھو جس طرح تم مجھے پڑھتے ہوئے دیکھتے ہو‘‘ (بخاری)  رکوع میں جاتے ہوئے اور رکوع سے کھڑا ہوتے وقت ہاتھوں کو کندھوں یا کانوں تک اٹھانا (یعنی رفع الیدین کرنا) نبی کریم ﷺ کی سنت مبارکہ  ہے۔آپ ﷺ نے اپنی زندگی کے آخری ایام تک اس سنت پر عمل کیا ہے۔نماز میں رفع الیدین رسول اللہ ﷺ سے متواتر ثابت ہے۔امام شافعی﷫ فرماتے ہیں کہ  رفع الیدین کی حدیث کو  صحابہ کرام    کی اس قدر   کثیر  تعداد  نے روایت  کیا ہے  کہ شاید  اور  کسی  حدیث  کواس  سے   زیادہ  صحابہ    نے  روایت  نہ کیا  ہو۔ او رامام بخاری ﷫ نے  جزء  رفع الیدین میں لکھا ہے  ہے کہ  رفع الیدین کی حدیث کوانیس  صحابہ   نے روایت کیا  ہے ۔  لیکن صد  افسوس  اس  مسئلہ  کو مختلف  فیہ  بنا کر  دیگر مسائل کی طرح تقلید اور مسلکی تعصب کی بھینٹ چڑھا دیا گیا ۔اثبا ت رفع الیدین  پر  امام  بخاری   کی جزء  رفع الیدین ،حافظ زبیر  علی  زئی   کی نور العینین فی مسئلۃ رفع الیدین وغیرہ کتب  قابل  ذکر  ہیں۔اثبات رفع الیدین پر   کتا ب ہذا کے  علاوہ تقریبا 10 کتابیں کتاب وسنت ویب سائٹ پر بھی  موجود ہیں۔زیر تبصرہ کتابچہ’’حقانیت رفع الیدین‘‘ بھی اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے ۔ یہ کتابچہ محمد اسلم ربانی (فاضل جامعہ لاہور الاسلامیہ،لاہور) کی  کاوش ہے  انہوں نےاس مختصر رسالہ میں اثبات رفع الیدین کے متعلق اکثر حوالہ جات  حنفیوں کی کتابوں سے  پیش کیے ہیں۔اللہ تعالیٰ موصوف کی  اس کاوش کوقبول فرمائے اوراسے  عوام الناس کےلیے نفع بخش بنائے (آمین)(م۔ا)

  • #3366
    بشیر احمد حسیم

    4 جرابوں پر مسح

    زمانہ جس قدر خیرالقرون سے دور ہوتا جارہا ہے، اتنا ہی فتنوں کی تعداد اور افزائش میں اضافہ ہوتا جارہا ہے ۔ہر روزایک نیا فتنہ سر اٹھاتا ہے اور عوام الناس کو اپنے نئے اعتقاد ،افکار اور اعمال کی طرف دعوت دیتاہے۔ اپنی خواہشات نفسانی کے پیش نظر قرآن وسنت کی وہ تشریح کرتا ہے جو ان کے خود ساختہ مذہب واعمال کے مطابق ہو۔عوام چونکہ ان کے مکروفریب سے ناواقف ہوتے ہیں ۔لہذا ان کے دام میں پھنس جاتے ہیں اور بعض اوقات اپنے ایمان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں ۔انہی فتنوں میں ایک تقلید کا فتنہ ہے،جس نے لوگوں کے اذہان کو جامد کر کے رکھ دیا ہے۔موزوں پر مسح کرنے کے بارے میں کسی کا کوئی اختلاف نہیں ہے جبکہ جرابوں پر مسح کرنے کے حوالے سے اہل علم کے ہاں دو مختلف رائے پائی جاتی ہیں۔اس اختلاف کاسبب فقہا میں یہ رہا ہے کہ بعض فقہا کے نزدیک وہ روایت جس میں جرابوں پر مسح کا ذکر ہوا ہے، اتنی قوی نہیں ہے یا ان تک وہ روایت نہیں پہنچی ہے۔ چنانچہ یہ استدلال کیا گیا ہے کہ صرف انہی جرابوں پر مسح کیا جا سکتا ہے جن میں نمی اندر نہ جا سکتی ہو۔ ہمارے نزدیک چمڑا ہو یا کپڑا مسح کی اجازت رخصت کے اصول پر مبنی ہے۔ جرابوں کی ساخت کی نوعیت اس رخصت کا سبب نہیں ہے۔ رخصت کاسبب رفعِ زحمت ہے۔ جس اصول پر اللہ تعالیٰ نے پانی کی عدم دستیابی یا بیماری کے باعث اس بات کی اجازت دی ہے کہ لوگ تیمم کر لیں، اسی اصول پر قیاس کرتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کی حالت میں جرابیں پہنی ہوں تو پاؤں پر مسح کرنے کی اجازت دی ہے۔ اصول اگر رخصت، یعنی رفعِ زحمت ہے تو اس شرط کی کوئی وجہ نہیں ہے کہ یہ جرابیں چمڑے کی بنی ہوئی ہوں۔ زیر تبصرہ کتاب" جرابوں پر مسح "محترم بشیر احمد حسیم صاحب کی  تصنیف ہے ،جس میں انہوں نے  متعدد دلائل سے یہ ثابت کیا ہے کہ جرابوں پر مسح کرنا بھی اسی طرح درست ہے جس طرح موزوں پر مسح کرنا ثابت ہے،اور جرابوں پر مسح کرنا نبی کریمﷺ اور صحابہ کرام سے صحیح ثابت ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اوران کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • #3321
    حکیم عبد الرحمن عثمانی

    5 فرض نماز کے بعد دعا کی اہمیت

    دعا عبادت کا مغز ہے یا عین عبادت ہے۔ دعا کسی بھی وقت کی جا سکتی ہے اور اللہ تعالی سے اس کی مدد مانگی جا سکتی ہے۔لیکن فرض نمازوں کے بعد دعا مانگنے کے حوالے سے اہل علم کے درمیان دو رائے چلی آ رہی ہیں اور دونوں ہی غلو،مبالغے اور تشدد پر مبنی ہیں۔کچھ لوگ فرض نماز کے بعد ہاتھ اٹھا کر دعا مانگنے کو بدعت قرار دیتے ہیں تو کچھ لوگ فرض نماز کے بعد دعا مانگنے کو ضروری اور فرض قرار دیتے ہیں۔یہ دونوں موقف ہی غلو اور تشدد پر مبنی ہیں۔دعا کرنا بھی اللہ تعالی کی عبادت کرنا ہے۔جس پر کوئی بھی کسی قسم کی پابندی لگانا جائز نہیں ہے۔جس وقت کوئی چاہے ،جب چاہے،جس طرح چاہے دعا کرے۔انفرادی دعا یا اجتماعی دعا اس پر کوئی مثبت یا منفی پابندی کا کوئی جواز نہیں ہے۔ زیر تبصرہ کتاب" فرض نماز کے بعد دعا کی اہمیت "محترم حکیم میاں عبد الرحمن عثمانی صاحب کی تصنیف ہے۔جس میں انہوں نے ہمارے معاشرے میں دعا کے حوالے سے پائے جانے والے اسی افراط وتفریط اور غلو سے ہٹ کر ایک تحقیقی و اجتہادی کاوش پیش کی ہے ،جسے جماعت اہل حدیث کے متعدد اہل علم نے بنظر تحسین دیکھا ہے اور اپنی اپنی تقاریظ قلمبند کی ہیں۔ بارگاہ الہی میں دعا ہے کہ وہ مولف کی اس جدوجہد کو قبول فرماتے ہوئے ان کے میزان حسنات میں اضافے کا باعث بنائے۔آمین(راسخ)

  • #2365
    قاری محمد سعید صدیقی

    6 شیطان کی اذان

    گانا بجانے کا  کام  سب سے پہلے شیطان نے ایجاد کیا یعنی  گانے بجانے کا  موجد اور بانی  شیطان ہے  اور یہ شیطان کی منادی  اور اذان  ہے  جس کے ذریعہ  وہ لوگوں کوبلاتا ہے  اور گمراہی  کے جال میں پھنساتا ہے  ۔قرآن  وحدیث    میں گانے بجانے کی  سخت ممانعت  اور وعید  بیان  ہوئی ہے  بلکہ  قیامت کی نشانیوں میں  سے  گانا بجانا بھی ایک  نشانی  ہے ۔گانا گانےاور بجانے کا پیشہ  اس  قدر عام  ہو گیا  ہے کہ اسے  مہذب شہریوں اور معزز خاندانوں نے  بھی اپنا لیا ہے ۔کمینے لوگوں کے نام بدل دئیے گئے ہیں  ۔آج ناچنے ،گانے والا کنجر نہیں گلوکار اور اداکار کہلاتا ہے  اور ڈھول بجانے والا نٹ اور میراثی نہیں بلکہ  موسیقار اور فنکار کے  لقب سے  نوازا جاتا ہے۔اور ان  لوگوں کوباقاعد ایوارڈ دئیے جاتے  ہیں  اور  برائی کی اس طرح حوصلہ  افزائی کی  کہ ان  کی عزت اور شہرت  کاچرچا دیکھ کر بقیہ لوگ بھی اس گمراہی   کے کام میں  مبتلا ہوں۔زیر نظر کتاب ’’ شیطان  کی اذان ‘‘   محترم  قاری محمد سعید  صدیقی  ﷾  کی تصنیف ہے ۔ جس میں  انہوں نے  قرآن وحدیث کے دلائل  کی  روشنی میں موسیقی  کی حرمت اور عوام کو اس مہلک بیماری کے مضر اثرات اور  نقصانات سے آگاہ کردیا ہے ۔اللہ تعالی اہل اسلام کو اس گناہ سےبچنے کی توفیق عطافرمائے (آمین) (م۔ا)

     نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • #2249
    ڈاکٹر محمد بہاؤ الدین

    7 تحریک ختم نبوت جلد36

    تمام مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ حضرت محمدﷺ اللہ کے آخری نبی ہیں۔ اور وہ یہ بھی اعتقاد رکھتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو صلیب پر موت نہیں آئی، وہ زندہ اٹھا لیے گئے تھے اور قرب قیامت وہ دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے۔ لیکن مرزا غلام احمد قادیانی نے دعویٰ کیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت واقع ہو چکی ہے اور جس عیسیٰ کے لوگوں کو آنے کا انتظار ہے وہ عیسیٰ یامثیل وہ خود ہیں۔ اس کے کچھ عرصہ بعد انھوں نے یہ دعویٰ بھی فرما دیا کہ وہ اللہ کے نبی ہیں۔ اس کے رد عمل کے طور پر ہندوستان کے طول و عرض میں تحریک ختم نبوت کا آغاز ہوا جس میں مرزا کے دعاوی کی تردید اور مسلمہ عقائد مسلمین کی تائید کا کام شروع ہوا۔ کتاب ہذا ان مضامین کا مجموعہ ہے جو 1995ء کے آخر سے تحریک ختم نبوت کے عنوان سے ’صراط مستقیم‘ برمنگھم میں سلسلہ وار شائع ہوتے رہے۔ ڈاکٹر محمد بہاؤ الدین مبارک باد کے مستحق ہیں کہ انھوں نے اس قدر قیمتی کام کو یکجا صورت میں پیش کرنے کی سعی کی۔ (ع۔م)

     

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
    مکمل جلدوں میں کتاب حاصل کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
  • #2099
    محمد بن صالح العثیمین

    8 اصلاح معاشرہ میں عورت کا کردار

    اسلام نے عورت کو وہ بلند مقام دیا ہے جو کسی بھی دوسرے مذہب نے نہیں دیا ہے۔دنیا کے مختلف مذاہب اورقوانین کی تعلیمات کا مقابلہ اگر اسلام کے اس نئے منفرد وممتازکردار(Role)سے کیا جائے، جو اسلام نے عورت کے وقار واعتبار کی بحالی، ا نسانی سماج میں اسے مناسب مقام دلانے، ظالم قوانین، غیر منصفانہ رسم و رواج اور مردوں کی خود پرستی، خود غرضی اور تکبر سے اسے نجات دلانے کے سلسلہ میں انجام دیا ہے، تو معترضین کی آنکھیں کھل جائیں گی، اور ایک پڑھے لکھےاورحقیقت پسند انسان کو اعتراف و احترام میں سر جھکا دینا پڑیگا۔اسلام میں مسلمان عورت کا بلند مقام،اور ہر مسلمان کی زندگی میں مؤثر کردار ہے۔صالح اور نیک معاشرے کی بنیاد رکھنے میں عورت ہی پہلا مدرسہ ہے۔عورت کے اسی نیک کردار کو سعودی عرب کے معروف عالم دین شیخ محمد بن صالح العثیمین نے اپنے (اصلاح معاشرہ میں عورت کا کردار)نامی اس کتابچے میں قلم بند کیا ہے۔تاکہ وہ معاشرے کی اصلاح کا بیڑا اٹھائے اور اپنی ان ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہوسکے۔یہ کتاب ہر مسلمان ماں اور بہن کو پڑھنی چایئے ،کیونکہ یہ خواتین کے حوالے سے بڑی مفید ترین کتاب ہے۔(راسخ)

     

    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • #1701
    ڈاکٹر محمد بہاؤ الدین

    9 تاریخ اہل حدیث جلد3(بہاؤالدین )

    ’اہل حدیث‘ ایک فکر اور تحریک کا نام ہے جو سنت کو مدار عمل ٹھہرانے میں انتہائی حریص اور رد بدعات میں نہایت بے باک ہے۔ اس کا مطمح نظر فقط عمل بالقرآن والحدیث ہے۔ معاشرے میں پھیلے رسوم و رواج کو یہ جماعت سنت رسول کی نگاہ سے دیکھتی ہے اگر ان میں سے کوئی چیز سنت کی میزان پر پوری اترتی ہے تو اسے فوراً قبول کر لیا جاتا ہے اور اگر کسی چیز کا کوئی بھی گوشہ سنت رسول سے متصادم ہے تو اس سے اعراض کر لیا جاتا ہے۔ اس تحریک کے خلاف جہاں بریلی شہر سے صدائیں بلند ہوئیں وہیں ابنائے دیوبند بھی اس کام میں پیچھے نہیں رہے اور اس تحریک پر طرح طرح کے الزامات لگا کر اس کا راستہ روکنے کی سعی لاحاصل کرتے رہے۔ برصغیر میں جماعت اہل حدیث مختلف مصائب اور آزمائشوں سے دوچار رہی لیکن اس ابتلا کے دور میں بھی اس فکر سے وابستہ لوگوں کی توانائیاں کم نہیں ہوئیں اور وہ پامردی کے ساتھ تمام مصائب کا مقابلہ کرتے رہے۔ ضرورت اس امر کی تھی کہ آزمائشوں کے تسلسل میں جماعت کی ثابت قدمی اور پامردی کی داستان رقم کی جائے۔ ڈاکٹر محمد بہاؤ الدین نے دیار غیر میں ہونے کے باوجود زیر نظر کتاب کی صورت میں تاریخ اہل حدیث بیان کر کے  اس قرض اور فرض کو ادا کرنے میں اپنا کردار ادا کیا ہے۔ ڈاکٹر صاحب کے کام پر ایک نظر ڈالنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس قدر وسیع اور ہمہ گیر کام شاید اس سے پہلے انجام نہیں پایا۔ انہوں نے اکابر اہل حدیث کی زبانی مسلک اہل حدیث کے خدو خال واضح کیے ہیں اور اس کے مابہ الامتیاز  مسائل کو اکابر کی تحریروں سے نقل کیا ہے جو اہل حدیث جماعت کے تاریخی ورثے کی حفاظت کی بہترین صورت ہے۔ مصنف نے تاریخ میں اہل حدیث مسلک کے تسلسل کو بیان کیا ہے اور برصغیر میں جن لوگوں نے عمل بالحدیث کی راہیں دشوار گزار بنانے کی کوشش کی ہے انہیں بے نقاب کیا ہے۔ اس کے علاوہ کتاب میں اور بھی بہت کچھ ہے جو یقیناً قارئیں کے لیے افادے کا باعث ہوگا۔ یہ تاریخی دستاویز اور داستان عزیمت، جماعت اہل حدیث کے اصول و مقاصد اور خصائص و امتیازات کے لیے ایک سنگ میل ثابت ہوگی۔ (ع۔م)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
    مکمل جلدوں میں کتاب ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

  • #1043
    عبد الرحمن بن حسن آل شیخ

    10 ہدایۃ المستفید (اردو ترجمہ) جلد2

    اخروی فلاح کا معیار توحید وعقیدہ توحید سے شدید وابستگی اور شرک سے براءت پر منتج ہے۔روز قیامت وہی شخص سرخرو ہوگا جس کا دامن توحید سے منور اور شرک کی ظلمتوں سے پاک ہوگا۔اس اعتبار سے ہر شخص پر لازم ہے کہ وہ عقیدہ توحید پر مضبوطی سے کاربند ہو اور شرک کی ظاہری وباطنی آلائشوں سے پاک ہو۔اللہ تبارک وتعالیٰ نے توحید کی تعلیمات سے آگاہ کرنے کے لیے انبیاء ورسل مبعوث فرمائے ۔پھر علمائے حق نے اس ذمہ داری کو بطریق احسن انجام دیا اور تعلیم وتدریس ،تالیف وتصنیف اور دروس وخطبات کے ذریعے شمع توحید کو فروزاں رکھا اور اس کی ضیاپاشیوں سے جہالت میں گری امت کو عقیدہ کی روشنی فراہم کی ۔توحید کے موضوع پر بہترین کتاب کتاب التوحید ہے جو اس اسلام کے عظیم سپوت اور قاطع شرک وبدعت شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کی شاہکار تصنیف ہے ۔کتاب ہذا شرک میں ملوث فرقوں کے خلاف شمشیر بےنیاز ہےاس کتاب کی تشریح کئی علماء نے کی جن میں سے مقبول عام کتاب فتح المجید ہے ۔جو فضیلت الشیخ عبدالرحمن بن حسن آل شیخ کی مرتب کردہ ہے۔اس کتاب کا اردو ترجمہ عطاء اللہ ثاقب نے ہدایۃ المستفید کے نام سے ترتیب دیا ہے۔توحید کی تعلیمات سے بہرہ ور ہونے اور شرک کی تباہ کاریوں سے آگاہی کے متعلق یہ کتاب ایک بہترین انسائیکلوپیڈیا ہے۔(ف۔ر)

    نوٹ:
    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • کل مشاہدات: 39798453

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں