• ڈاکٹر قیام الدین احمد

    قوموں کی زندگی میں تاریخ کی اہمیت وہی ہے جو کہ ایک فرد کی زندگی میں اس کی یادداشت کی ہوتی ہے۔ جس طرح ایک فرد واحد کی سوچ، شخصیت، کردار اور نظریات پر سب سے بڑا اثر اس کی یادداشت کا ہوتا ہے اسی طرح ایک قوم کے مجموعی طرزعمل پر سب سے زیادہ اثر انداز ہونے والی چیز اس کی تاریخ ہوتی ہے ۔ جس طرح ایک فرد اپنے زندگی کے اہداف و مقاصد اپنی یاداشت کی روشنی میں طے کرتا ہے اسی طرح قوموں کے بحیثیت مجموعی اہداف و مقاصد کے تعین میں سب سے بڑا عمل دخل اس کی تاریخ کا ہوتا ہے۔ دنیا کی ہر قوم کا اپنی تاریخ سے بڑا گہرا تعلق ہوتا ہے۔اور قوموں کی مجموعی نفسیات کے معاملے میں بھی تاریخ کا بڑا عمل دخل ہوتا ہے۔ قوم یہود کی ہی مثال لیجیے جو حضرت سلیمان اور حضرت داوؑد علیھماالسلام کے دور میں دنیا کی سپر پاور تھے اب اس دور کو گزرے ہوئے ہزاروں سال بیت چکے ہیں لیکن ابھی تک اس دور کی یاد ان کے دلوں میں زندہ ہے اور آج بھی دنیا بھر کے یہودی اپنی اس کھوئی ہوئی شان و شوکت کو دوبارہ حاصل کرنے کے لئے تگ و دو کررہے ہیں ۔زیر تبصرہ کتاب "البیرونی کا ہندوستان ،قدیم ہندوستان کی تہذیب وثقافت کی مستند تاریخ"قیام الدین احمد کی تالیف ہے ،جس کا اردو ترجمہ عبد الحی صاحب نے کیا ہے۔اس کتاب میں مولف نے  معروف مسلمان سائنس دان البیرونی کے زمانے  کی ہندوستانی تہذیب ، ثقافت اور یہاں کے رہنے والے لوگوں کے عقائد ونظریات پر مفصل گفتگو کی ہے۔البیرونی کا زمانہ دسویں صدی عیسوی کا زمانہ ہے،جب یہاں سامانی سلاطین کی حکومت تھی۔البیرونی 973 عیسوی میں خوارزم کے مضافات میں پیدا ہوئے۔بیرون شہر پیدا ہونے کے سبب البیرونی معروف ہو گئے۔یہ کتاب اپنے موضوع پر ایک شاندار اور مفید کتاب ہے ،اور تاریخ کے طالب علم کے لئے ایک نادر تحفہ ہے۔(راسخ)

     

  • عبد الرحمٰن بن عبد العزیز السدیس

    زیر تبصرہ کتابچہ " امام کعبہ کا پیغام ،پاکستان اور دنیا بھر کے مسلمانوں کے نام " امام کعبہ سماحۃ الشیخ الدکتور عبد الرحمن بن بعد العزیز السدیس ﷾کے آل پاکستان علماء کنونشن منعقدہ 31 مئی 2007ء بمقام الحمراء ہال مال روڈ لاہور زیر اہتمام مرکزی جمعیت اہلحدیث پاکستان میں کئے گئے فکر انگیز خطاب،اور اس میں بنائی گئی چند تصاویر پر مشتمل ہے۔خطاب عربی میں ہے ،جبکہ اسے اردو میں پیش کرنے کی سعادت مکتبہ دار السلام لاہور نے حاصل کی ہے۔امام کعبہ﷾ نے اپنے اس خطاب میں چند تمہیدی باتیں کرنے کے بعد علی الاعلان اس بات کا اظہار کیا ہے مسلک حق ،مسلک اہل حدیث ہی ہے اور یہی نجات پانے والی جماعت ہے۔آپ نے اتفاق اتحاد پر زور دیتے ہوئے تفرقہ بازی اور انتشار وافتراق سے بچنے کی تلقین کی ،کیونکہ اسی میں امت کی فلاح وبہبود اور نجات کا راستہ ہے۔آپ نے امت کو سیاست ،تجارت سمیت ہر میدان میں آگے بڑھنے اور اپنی خداد صلاحیتوں کو فضول مصروفیات میں ضائع کرنے کی بجائے دین کی خدمت اور فروغ اسلام میں خرچ کرنے پر زور دیا ۔(راسخ)

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • کل مشاہدات: 39752866

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں