دکھائیں کتب
  • 1 100 حرام کاروبار اور تجارتی معاملات (بدھ 05 نومبر 2014ء)

    مشاہدات:4351

    ہرمسلمان کے لیے اپنے دنیوی واخروی تمام معاملات میں شرعی احکام اور دینی تعلیمات کی پابندی از بس ضروری ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :َیا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا ادْخُلُوا فِي السِّلْمِ كَافَّةً وَلَا تَتَّبِعُوا خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُبِينٌ(سورۃ البقرۃ:208)’’اے اہل ایمان اسلام میں پورے پورے داخل ہوجاؤ اور شیطان کے قدموں کے پیچھے مت چلو ،یقیناً وہ تمہارا کھلا دشمن ہے ‘‘ کسی مسلمان کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ عبادات میں تو کتاب وسنت پر عمل پیرا ہو او رمعاملات او رمعاشرتی مسائل میں اپنی من مانی کرے او راپنے آپ کوشرعی پابندیوں سے آزاد تصور کرے۔ ہمارے دین کی وسعت وجامعیت   ہےکہ اس میں ہر طرح کے تعبدی امور اور کاروباری معاملات ومسائل کا مکمل بیان موجود ہے او ہر مسلمان بہ آسانی انہیں سمجھ کر ان پر عمل پیرا ہوسکتاہے ۔ زیر نظر کتاب ’’ 100 حرام کاروبار اورتجارتی معاملات‘‘ شیخ ابراہیم بن عبد المقتدر﷾ کی عربی کتاب ’’تحذیر الکرام من مائۃ باب من ابواب الحرام‘‘ کا سلیس اردو ترجمہ ہے ۔اس کتاب میں تجارتی معاملات اور خرید وفروخت کے متعلق جدید مسائل کوبڑے احسن پیرائے میں درج کیا گیا ہے ۔ اور اس کتاب کی امیتازی خوبی یہ ہے کہ   اس میں تمام شرعی مسائل اور دینی تعلیمات کو ایک ایک کہانی اور مکالمے کی شکل میں پیش کیا گیا ہے جس سے پڑہنے والا متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا اور کتاب کو شروع کرنے کےبعد ختم کیے بغیر چھوڑنے کودل نہیں چاہتا۔اللہ تعالیٰ اس کتاب کو مصنف،مترجم ،ناشر اور جملہ معاونین کے لیے ذخیرۂ آخرت اور بلندی...

  • 2 500 سوال و جواب برائے خریدو فروخت (جمعرات 06 نومبر 2014ء)

    مشاہدات:3481

    اسلامی معاشیات شرعی تجارت کی بنیاد پر قائم ہے جس میں اللہ تعالیٰ کےحلال کردہ کاموں میں ،معاملات کے شرعی قواعد وضوابط کے مطابق سرمایہ کاری اورتجارت کی جاتی ہے ۔ان قواعد کی بنیاد اس قانون پر قائم ہے کہ معاملات میں اباحت اور حلال ہونا اصل قانون ہے اور ہر قسم کی حرام کردہ اشیاء جیسے : سود وغیرہ سے اجتناب لازمی ہے۔ارشاد باری تعالیٰ ہے :وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا(سورۃ البقرۃ:257)’’ اللہ نے بیع کو حلا ل اور سودکوحرام کیا‘‘ لہذا ہرمسلمان کے لیے اپنے دنیوی واخروی تمام معاملات میں شرعی احکام اور دینی تعلیمات کی پابندی از بس ضروری ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :َا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا ادْخُلُوا فِي السِّلْمِ كَافَّةً وَلَا تَتَّبِعُوا خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُبِينٌ(سورۃ البقرۃ:208)’’اے اہل ایمان اسلام میں پورے پورے داخل ہوجاؤ اور شیطان کے قدموں کے پیچھے مت چلو ،یقیناً وہ تمہارا کھلا دشمن ہے ‘‘ کسی مسلمان کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ عبادات میں تو کتاب وسنت پر عمل پیرا ہو او رمعاملات او رمعاشرتی مسائل میں اپنی من مانی کرے او راپنے آپ کوشرعی پابندیوں سے آزاد تصور کرے۔ ہمارے دین کی وسعت وجامعیت   ہےکہ اس میں ہر طرح کے تعبدی امور اور کاروباری معاملات ومسائل کا مکمل بیان موجود ہے او ہر مسلمان بہ آسانی انہیں سمجھ کر ان پر عمل پیرا ہوسکتاہے۔ زیر نظر کتاب ’’500 سوال وجواب برائے خرید وفروخت ‘‘تجارتی معاملات اور خریدوفروخت کےمتعلق عالم اسلام کے کبار علمائے دین کے 500 فتاوی ج...

  • 3 الشرف الواضح شرح اردو النحو الواضح جلد 01 (پیر 16 اپریل 2018ء)

    مشاہدات:862

    علومِ نقلیہ کی جلالت وعظمت اپنی جگہ مسلمہ ہے مگر یہ بھی حقیقت کہ ان کے اسرار ورموز اور معانی ومفاہیم تک رسائی علم نحو کے بغیر ممکن نہیں۔ کیونکہ علومِ عربیہ میں علم نحو کو جو رفعت ومنزلت حاصل ہے اس کا اندازہ اس امر سے بہ خوبی ہو جاتاہے کہ جو بھی شخص اپنی تقریر وتحریر میں عربی دانی کو اپنانا چاہتا ہے وہ سب سے پہلے نحو کےاصول وقواعد کی معرفت کا محتاج ہوتا ہے کلام ِالٰہی ،دقیق تفسیر ی نکات،احادیث رسول ﷺ ،اصول وقواعد ،اصولی وفقہی احکام ومسائل کا فہم وادراک اس علم کے بغیر حاصل نہیں ہو سکتا یہی وہ عظیم فن ہےکہ جس کی بدولت انسان ائمہ کےمرتبے اور مجتہدین کی منزلت تک پہنچ جاتاہے ۔عربی مقولہ ہے : النحو فی الکلام کالملح فی الطعام یعنی کلام میں نحو کا وہی مقام ہے جو کھانے میں نمک کا ہے ۔ قرآن وسنت اور دیگر عربی علوم سمجھنےکے لیے’’ علم نحو‘‘کلیدی حیثیت رکھتاہے اس کے بغیر علوم ِاسلامیہ میں رسوخ وپختگی اور پیش قدمی کاکوئی امکان نہیں ۔ قرنِ اول سے لے کر اب تک نحو وصرف پرکئی کتب اور ان کی شروح لکھی کی جاچکی ہیں ہنوز یہ سلسلہ جاری ہے۔ زیرِ تبصرہ کتاب  بھی عربی زبان کی گرامر پر مشتمل ہے۔ اس میں نحو کے مضامین کو اسی ترتیب پر قدرے تفصیل کے ساتھ اسباق کے تحت بیان کیا گیا ہے۔ ہر سبق کا آسان اور دل نشین خلاصہ مثالوں کے ساتھ بیان کیا گیا ہے‘ اس کتاب میں آسانی سے مشکل کی طرف بتدریج بڑھنے کے طریقے کو اپنایا گیا ہے۔ہر سبق کا آغاز مختلف چارٹ اور مجموعات سے  کیا گیا ہے اور پھر ان کی روشنی میں سبق کی تشریح کی گئی ہے۔ ہر سبق کے آخر میں اہم ب...

  • 4 القرآنیون (بدھ 06 فروری 2013ء)

    مشاہدات:103196
    ’القرآنیون‘ عربی زبان میں محترم جناب خادم حسین صاحب کی ایک بہترین کاوش ہے۔ موصوف جامعہ ام القریٰ طائف میں بطور استاذ خدمات سرانجام دے رہےہیں۔ پاکستان کے ضلع مظفر گڑھ سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہ کتاب دراصل ان کا ایم۔ اے کا مقالہ ہے۔ کتاب کی ابتدا میں انھوں نے برصغیر پاک و ہند میں فرقہ اہل قرآن کےبانیوں کا تعارف کرایا ہے اور ساتھ ساتھ ان کے اساسی نظریات کو بیان کیا ہے، جیسے عبداللہ چکڑالوی، خواجہ احمد دین، سرسید احمد خان اور اسلم جیراجپوری اور اس کے ساتھ ساتھ ان لوگوں کا بھی تعارف کرایا ہے جو انکار حدیث کے نظریات کے قائل تھے یا کم ازکم متاثر ضرور تھے۔ اور آخر میں غلام احمد پرویز کا بطور خاص ذکر کیا گیا ہے۔ شیعہ، خوارج اور معتزلہ جوکہ قدیم منکرین حدیث میں شامل ہیں ان کا سنت کے متعلق نظریہ اور موقف کو بھی کتاب کا حصہ بنایا ہے۔ ماضی قریب سے لے کر موجودہ دور کے حکمرانوں کا کردار و نظریات بیان کیے ہیں جو جزوی طور پر یا کلی طور پر انکار حدیث کے افکار سے متاثر تھے۔ دوسرے باب میں منکرین حدیث کے استدلالات کے تارو پود بکھیر دئیے ہیں۔ اور ان کے دلائل کی کمزوریوں کو آشکارا کیا ہے۔ جزوی مسائل کے علاوہ کلی اصولوں پر بھی بحث کی گئی ہے۔ تیسرے باب میں اعتقادی مسائل کو ہدف بنایا گیا ہے اور منکرین حدیث کےموقف کا شافی رد کیا گیاہے۔ آخری باب میں منکرین حدیث کے نماز، زکوۃ، روزہ اور حدود شرعیہ سے متعلق نظریات کا جائزہ لیا گیا ہے اور ان کا شافی جواب دیا ہے۔ آخر میں وصیت وراثت کے مسائل کو بھی بالتفصیل بیان کیا گیا ہے۔ عربی زبان سے شد بد رکھنے والے صاحبان علم کے لیے ا...
  • 5 اللہ کی نشانیاں (ہفتہ 26 مارچ 2011ء)

    مشاہدات:10487

    الحاد، لادینیت اور انکار خدا اس دور کا سب سے بڑا فتنہ ہے جس کی بنیاد اہل سائنس نے مغرب میں رکھ دی ہے۔ ہارون یحی جمہوریہ ترکی کے ایک نامور قلم کار ہیں اور وہ اپنی تحریروں میں جدید مادہ پرستانہ افکار اور نظریات کا شدت سے رد کرتے ہیں۔ ہارون یحی کے خیال میں سائنس اور یہودیوں کی فری میسنز تحریکوں نے انکار خدا کے نکتہ نظر کو عام کرنے میں بہت اہم کردار ادا کیا ہے۔ ہارون یحی کے بقول مادہ پرستوں کے پاس اس کائنات کی تخلیق کی واحد بھونڈی دلیل ڈارون کا نظریہ ارتقاء ہے جس کے حق میں وہ بغیر سوچے سمجھے دلائل دیتے چلے جاتے ہیں اور اس نظریہ کے دفاع کے لیے کٹ مرنے پر بھی تیار ہو جاتے ہیں۔ سائنس کی دنیا میں دو نظریات کو بہت پذیرائی ملی ایک ڈارون کا نظریہ اور دوسرا بگ بینگ تھیوی۔ یہ دونوں نظریات اس دوسرے کے مخالف ہیں۔ ڈارون کی تھیوری کا خلاصہ یہ ہے کہ اس کائنات کا کوئی خالق نہیں ہے بلکہ مادہ ہمیشہ سے ہے اور اپنی شکلیں تبدیل کرتا رہا ہے یعنی مادہ نے ارتقاء کے مختلف مراحل طے کر کے اس کائنات کی شکل اختیار کر لی ہے۔ ا س تھیوری کے مطابق مادہ دائمی ہے، ازل سے ہے اور مستقل حیثیت کا حامل ہے۔ اس کے برعکس سائنس دنیا میں ایک جدید تھیوری بگ بینگ کے نام سے پیش کی گئی ہے کہ جس کا خلاصہ یہ ہے کہ یہ کائنات اور مادہ ازلی نہیں ہے بلکہ اس کی ایک ابتدا ہے اور ایک وقت میں یہ کائنات اور مخلوقات یک دم بغیر کسی ارتقاء سے گزرے ہوئے وجود میں آ ئے ہیں۔ بگ بینگ کی تھیوری کو ماننے کا لازمی نتیجہ ایک خالق کو ماننا نکلتا ہے۔ اپنی اس کتاب میں ہارون یحی نے بگ بینگ کی تھیوی کی وکالت کی ہے...

  • 6 اللہ کی نشانیاں عقل والوں کے لیے (منگل 30 ستمبر 2014ء)

    مشاہدات:2341

    اللہ تعالیٰ نے  قرآن  کریم  میں سورۂ بقرہ کی آیت 164 میں  فرمایا کہ  قرآن  کریم  کے نزول کا  ایک مقصد  یہ بھی ہے کہ لوگوں کوسوچنے اور سمجھنے کی دعوت دے۔اسی طرح کی سیکڑوں  آیات قرآن حکیم  میں جابجا بکھری ہوئی  ہیں اور  لوگوں کو مخلوقات پر غور  وفکر کی دعوت دیتی ہیں ۔زیر نظرکتاب’’  اللہ کی نشانیا ں عقل والوں کے لیے ‘‘ عالمی شہرت یافتہ   محترم ہارون یحییٰ  صاحب کی    کتاب کا اردو ترجمہ ہے ۔اس کتاب کامقصد بھی یہی کہ لوگوں کو اللہ کی بے شمار نشانیوں میں سے  چند کی طرف  متوجہ  کیا سکے ۔ہارون یحییٰ ترکی کے ایک معروف مصنف ہیں جنہوں نے مادیت اور فری میسزی یہودی تحریکوں کی تردید میں متعددکتابیں لکھی ہیں۔ ہارون یحییٰ اس وقت دنیا میں مادیت پرستی(Materialism) اور ڈاونزم(Darwanism) کا سب سے بڑے  ناقد ہیں۔ عموماًہارون یحییٰ کی تحریروں میں اللہ کی قدرتوں، نشانیوں اورتخلیق کے نمونوں کو موضوع بحث بنایا جاتا ہے۔مصنف کی یہ کتاب بھی اس کائنات میں بکھرے ہوئے عجائبات کے ذریعے اپنے خالق و رب کی معرفت حاصل کرنے کی ایک سعی وجہد ہے۔اللہ ان کی سربلندی کےلیے  تمام کاوشوں کو  قبول فرمائے(آمین) (م۔ا)

     

  • 7 اہل حدیث پر کچھ مزید کرم فرمائیاں (پیر 26 مئی 2014ء)

    مشاہدات:1580

    اہل علم کے ہاں اختلاف  رائے کا پایا جانا ایک معمول کی بات ہے،جو اگر باہمی احترام اور اخلاقیات کے دائرے میں رہ کر کیا جائے تو معاملات کے سلجھاو اور مسائل میں نکھار کا باعث بنتا ہے،لیکن اگر اس میں نامناسب لہجہ اور غیر شائستہ زبان استعمال کی جائے تو وہ اہل کی شان کے خلاف ہے۔اس طرز عمل سے انسان  احمقوں اور جاہلوں کے طبقہ میں شامل ہوجاتا ہے۔ایسا ہی کچھ طرز عمل نانوتوی،تھانوی اور گنگوہی چشمہ فیض سے سیراب ہونے والے  عبد الغنی طارق  نے اپنی مسموم کتاب  (شادی کی پہلی دس راتیں) میں اختیار کیا ہے اور اہل حدیثوں کے خلاف ایسی بازاری اور عریاں زبان استعمال کی ہے ،جسے پڑھ کر مولانا نانوتوی،تھانوی اور گنگوہی کی روحیں ضرور کانپ اٹھیں گی۔اس حیا باختہ کتاب کو دیکھ کر مکتبہ قدوسیہ کے مدیر معروف رائٹر عمر فاروق قدوسی﷾ نے اس کا انتہائی مہذب انداز میں جواب لکھا ہے ،جو پہلے  ماہنامہ الاخوہ میں شائع ہوا اور پھر احباب کے اصرار پر کتابی شکل میں بنام ( اہل حدیث پر کچھ مزید کرم فرمائیاں )چھاپ دیا گیا ہے۔اس کتاب میں موصوف عمر فاروق قدوسی نے بڑے احسن انداز میں ان کی جہالتوں کا جواب دیا ہے۔اللہ تعالی ان کی ان کاوشوں کو قبول ومنظور فرمائے۔آمین(راسخ)

     

    نوٹ:

    محدث فورم میں اس کتاب پر تبصرہ کرنے کے لیے 

  • 8 بارات اور جہیز کا تصور مفاسد اور حل (جمعہ 27 جون 2014ء)

    مشاہدات:2525

    عہد  رسالت اور عہد صحابہ وتابعین  ،یہ تینوں دور رسول اللہ  ﷺ کے فرمان کی رو سےخیر القرون (بہترین زمانے ) ہیں اسلام کے ان  بہترین  زمانوں میں  شادی بیاہ  کا  مسئلہ بالکل سادہ اور نہایت آسان تھا ۔رشتہ طے  ہونے کےبعد کے جب نکاح  کاپروگرام بنتا  تو تاریخ  تعین کرکے لڑکے والے گھر کے چند افراد کو ساتھ لے کر لڑکی  والوں  کے گھر جاتے اورنکاح پڑھ کر  لڑکی کو اپنے گھر لے آتے ۔ اس کے لیے  نہ برات کا کوئی سلسلہ تھا اور نہ جہیز ،بری اور  زیورات کا  اور نہ دیگر تکلفات ۔ اس سے نہ لڑکے والوں پر کوئی  بوجھ پڑتا اور نہ لڑکی والوں پر ۔دونو ہی سکھی رہتے۔ یہی اسلامی  تعلیمات اور اسوۂ رسول کا تقاضا  تھا جس پر خیر القرون  کےمسلمانوں نے عمل کر کے دنیا  کو اسلامی  تمدن ومعاشرت کا بہترین نمونہ دکھلایا اور اپنی عظمت کا سکہ منوایا۔آج اس کےبرعکس ہم اپنے  اسلام اوراس کی تعلیمات سے دور ہوگئے   تو  ہماری عظمت بھی ایک قصہ پارینہ بن گئی ہے  اور رسوم ورواج کی وہ بیڑیاں بھی ہم نے اپنے  گلوں  کا ہار بنا لی ہیں جن کو ہمارے پیارے  نبیﷺ نے  کاٹ کر پھینک دیا تھا ۔نتیجۃً ہماری شادیاں  بھی ایک عذاب بن  گئی ہیں  ۔زیر نظر ’’کتابچہ  ‘‘بارات اور جہیز کا تصور مفاسد اور حل‘‘ مفسر قرآن   مولانا  حافظ صلاح الدین یوسف ﷾ کی  مذکورہ موضوع پر نہایت عمدہ تحریر ہے جس میں انہوں نے     دور حاضر میں  شادی نکاح کے مواقع  پر پائے  جانے  والے  رسم ورواج  بالخصوص  بارات  اور جہیز کے نقصانات اور ان  کی شرعی حیثیت کو قرآن  وحدیث کی روشنی میں  واضح کیا ہے ۔ جوکہ تمام اہل اسلام کے لیے     انتہائی مفید ا...

  • 9 بدعتی کے پیچھے نماز کا حکم (اتوار 18 جنوری 2009ء)

    مشاہدات:18488
    دين اسلام میں اس بات کاتصور بھی نہیں کہ ایک شخص مسلمان ہونے کے باوجود نماز ادا نہ کرے- نماز کی اس اہمیت کے پیش نظر اس کے لوازمات کویقنینی بنانا انتہائی ضروری ہے- انہی لوازمات سے ایک امام كا بدعتی خرافات سے محفوظ ہوناہے- زيرنظر کتاب میں ملک کی نامور شخصیت حافظ زبیر علی زئی نے بدعتی امام کے پیچھے نماز پڑھنا کیسا ہے؟ پر سیر حاصل گفتگو کی ہے- مصنف نے قرآن وسنت،اقوال صحابہ اورتبع تابعین کی روشنی میں ثابت کیاہے کہ ایک مسلمان کے لیے کسی طرح بھی روانہیں کہ وہ ایک بدعتی امام کے پیچھے نماز ادا کرے- مصنف نے مختلف موضوعات پر بڑی اچھی گفتگو کی ہے مثال کے طور پر بدعت کی تعریف،اس کی اقسام اور بدعت کے بارے میں آئمہ اربعہ کےساتھ ساتھ دیگر آئمہ کے اقوال اور بدعت کا حکم بیان کیا ہے-اور اسی طرح مختلف گروہوں میں مختلف ناموں سے جو بدعتیں رائج ہیں ان کی نشاندہی کی ہے-

  • 10 پردے کی شرعی حیثیت (جدید ایڈیشن) (پیر 08 جولائی 2013ء)

    مشاہدات:5155
    آج پوری دنیا میں مغربی تہذیب اور کلچر کے اثرات ہیں مسلمان خواہ عورت ہو یا مرد وہ حقیقی معنوں میں اپنے اسلام پر عمل کرنا چھوڑ گئے ہیں ۔ اسلام کی جہاں گونا گوں اقدار کو پس پشت ڈالاگیا ہے وہاں ایک اسلامی معاشرے کی نمایاں ترین قدر ، پردہ بھی ہے ۔ سوسائٹی میں جابجا بےپردگی عام ہے ۔ آج عورت فیشن ایبل بن کر ، ننگے منہ ، ننگے سر عطر پرفیوم لگا کر بازاروں ، سٹوڈیوز، کلبوں اور کھیل کے میدانوں میں گھومتی ہے بلکہ بین الاقوامی کھیلوں کے میچ میں بن سنور کر شریک ہوتی ہے اور اس حالت میں بگڑے ہوے معاشرے کے اندر مردوں کو دعوت گناہ دیتی ہے ۔ جیسا کہ آپ ﷺ کا فرمان ہے ۔ (غلط) دیکھنا آنکھ کا زنا ہے (غلط ) بولنا زبان کا گناہ ہے ۔ اور نفس تمنا اور خواہش کرتا ہے ۔ اور شرمگاہ ان تمام امور کی تصدیق یا تکذیب کرتی ہے ۔ (بخاری6612) اسلام نے عورت کو عفت و عصمت اور پاکدامنی کو مدنظر رکھتے ہوئے اسے گھر میں رہنے کی تاکید کی  اور جب کبھی ضرورت  سے باہر جانا پڑے تو پردے کا حکم دیا ہے ۔ اس کتابچے میں مختصر انداز میں پردے کا شرعی حکم بیان کیا گیا ہے ۔ لمبی لمبی فقہی بحثوں کو نہیں چھیڑا گیا ۔ تاکہ مسلمان خواتین کے سامنے پردے کی اہمیت اجاگر ہوجائے اور  بےپردگی سے نفرت کا احساس بیدار ہو جائے ۔ (ع۔ح)

    نوٹ:
    اس کتاب کے پرانے ایڈیشن کو پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں
    محدث فورم میں...

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 1119
  • اس ہفتے کے قارئین: 27495
  • اس ماہ کے قارئین: 80444
  • کل مشاہدات: 40612830

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں