ڈاکٹرعلامہ محمداقبال

  • نام : ڈاکٹرعلامہ محمداقبال

کل کتب 5

  • 1 #593

    مصنف : ڈاکٹرعلامہ محمداقبال

    مشاہدات : 44201

    کلیات اقبال ۔اردو

    (جمعرات 28 اکتوبر 2010ء) ناشر : ناظم اقبال اکیڈمی ۔لاہور
    #593 Book صفحات: 756

    شاعری کسی فکرونظریہ کودوسروں تک پہنچانے کاموثرترین طریقہ ہے ۔شعرونظم سے عموماً عقل کی نسبت جذبات زیادہ متاثرہوتے ہیں،یہی وجہ ہے کہ وحی الہیٰ کے لیے شعرکواختیارنہیں کیاگیا۔تاہم اگرجذبات کی پروازدرست سمت میں ہوتوانہیں ابھارنا بجائے خودمقصودہے ۔ہمارے عظیم قومی شاعرعلامہ محمداقبال نے یہی کارنامہ سرانجام دیاہے ۔اقبال کی شاعری اسلام کی انقلابی ،روحانی اوراخلاقی قدروں کاپراثرپیغام ہے ۔اس کی شاعری میں نری جذباتیت نہیں بلکہ وہ حرکت وعمل کاایک مثبت درس ہے ۔اس سے  انسان میں خودی کے جذبے پروان چڑھتے ہیں اورملت کاتصورنکھرتاہے ۔بنابریں یہ کہاجاسکتاہے کہ اقبال نے اسلامی تعلیمات کونظم میں بیان کیاہے۔تاہم یہ بات بھی ملحوظ خاطررکھناضروری ہے کہ علامہ عالم دین نہ تھے ہمارے ملی شاعرتھے اوربس ۔فلہذاتعبیردین میں ان کوسندخیال کرناقطعاً غلط ہے ۔ہم قارئین کے لیے ’کلیات اقبال ‘پیش کررہے ہیں ،اس امیدکے ساتھ کہ اس سے احیائے ملت کاجذبہ بیدارہوگا۔ان شاء اللہ
     

  • 2 #5892

    مصنف : ڈاکٹرعلامہ محمداقبال

    مشاہدات : 34197

    شکوہ جواب شکوہ مع ترجمہ و تشریح

    (منگل 01 اکتوبر 2019ء) ناشر : لائن پبلشرز کراچی
    #5892 Book صفحات: 46

    ’’شکوہ“ کے جواب میں نظمیں دیکھ کراقبال کو خود بھی دوسری نظم ”جواب شکوہ“ لکھنی پڑی جو 1913ء کے ایک جلسہ عام میں پڑھ کر سنائی گئی۔ انجمن حمایت اسلام کے جلسے میں ”شکوہ “ پڑھی گئی تو وسیع پیمانے پر اس کی اشاعت ہوئی یہ بہت مقبول ہوئی لیکن کچھ حضرات اقبال سے بدظن ہو گئے اور ان کے نظریے سے اختلاف کیا۔ ان کا خیال تھا کہ ”شکوہ“ کا انداز گستاخانہ ہے۔ اس کی تلافی کے لیے اور یوں بھی شکوہ ایک طرح کا سوال تھا جس کا جواب اقبال ہی کے ذمے تھا۔ چنانچہ ڈیڑھ دو سال کے عرصے کے بعد انہوں نے ”جواب شکوہ“ لکھی۔ یہ 1913ء کے جلسے میں پڑھی گئی۔ جو نماز مغرب کے بعد بیرونی موچی دروازہ میں منعقد ہوا تھا۔ اقبال نے نظم اس طرح پڑھی کہ ہر طرف سے داد کی بوچھاڑ میں ایک ایک شعر نیلام کیا گیا اور اس سے گراں قدر رقم جمع کرکے بلقان فنڈ میں دی گئی۔ شکوہ کی طرح سے ”جواب شکوہ“ کے ترجمے بھی کئی زبانوں میں ملتے ہیں۔شکوہ میں اقبال نے انسان کی زبانی بارگاہ ربانی میں زبان شکایت کھولنے کی جرات...

  • 3 #6989

    مصنف : ڈاکٹرعلامہ محمداقبال

    مشاہدات : 2119

    ضربِ کلیم

    (پیر 01 مئی 2023ء) ناشر : نا معلوم
    #6989 Book صفحات: 237

    علامہ محمد اقبال بیسویں صدی کے ایک معروف شاعر،مصنف،قانون دان،سیاستدان،مسلم صوفی اور تحریک پاکستان کی اہم ترین شخصیات میں سے ایک تھے۔اردو اور فارسی میں شاعری کرتے تھے اور یہی ان کی بنیادی وجہ شہرت ہے۔ زیر نظر کتاب ’’ ضربِ کلیم‘‘علامہ اقبال کے کلام کا مجموعہ ہے یہ مجموعہ ان کی وفات سے دو سال قبل1936ء میں شائع ہوا۔علامہ اقبال نے انسانیت دشمن آزادی کو  بڑی تفصیل سے ضرب کلیم میں موضوع بنایا ہے اس کتاب کے پہلے حصے میں اسلام اور مسلمانوں کی زیر عنوان متفرق نظمیں ہیں۔ پھر تعلیم و تربیت،عورت ادبیات اور سیاسیات مشرق و مغرب کے عنوانات قائم کر کے ہر عنوان کی ذیل میں اس کے مختلف پہلوؤں پر متعدد نظمیں درج کی گئی ہیں آخری حصے میں ’’ محراب گل افغان کے افکار ‘‘کے زیر عنوان ایک فرضی کردار کے نام سے کچھ نظمیں تحریر کی گئی ہیں۔ (م۔ا)

  • 4 #6993

    مصنف : ڈاکٹرعلامہ محمداقبال

    مشاہدات : 2576

    بال جبریل

    (اتوار 07 مئی 2023ء) ناشر : نا معلوم
    #6993 Book صفحات: 153

    علامہ محمد اقبال بیسویں صدی کے ایک معروف شاعر، مصنف ، قانون دان ، سیاستدان ، مسلم صوفی اور تحریک پاکستان کی اہم ترین شخصیات میں سے ایک تھے ۔ اردو اور فارسی میں شاعری کرتے تھے اور یہی ان کی بنیادی وجہ شہرت ہے ۔ زیر نظر کتاب ’’ بال جبریل ‘‘علامہ اقبال کے کلام کا مجموعہ ہے ۔ یہ ان کا دوسرا مجموعہ کلام ہے جو بانگ درا کے بعد 1935ء میں منظر عام پرآئی ۔ اس مجموعے میں اقبال کی بہترین طویل نظمیں موجود ہیں ۔ جن میں مسجد قرطبہ ، ذوق و شوق اور ساقی نامہ شامل ہیں ۔ (م۔ا)

  • 5 #6994

    مصنف : ڈاکٹرعلامہ محمداقبال

    مشاہدات : 2820

    بانگ درا

    (پیر 08 مئی 2023ء) ناشر : نا معلوم
    #6994 Book صفحات: 321

    علامہ محمد اقبال بیسویں صدی کے ایک معروف شاعر، مصنف ، قانون دان ، سیاستدان ، مسلم صوفی اور تحریک پاکستان کی اہم ترین شخصیات میں سے ایک تھے۔ اردو اور فارسی میں شاعری کرتے تھے اور یہی ان کی بنیادی وجہ شہرت ہے ۔ زیر نظر کتاب ’’ بانگ درا ‘‘علامہ اقبال کی شاعری پر مشتمل پہلا مجموعہ کلام ہے جو 1924ء میں شائع ہوئی ۔ اس مجموعے کو تین حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ پہلے حصے میں بچوں کے لیے خوبصورت نظمیں اور حب الوطنی کے حوالے سے مشہور ’’ ترانۂ ہندی‘‘موجود ہے، جسے بھارت میں اہم حیثیت حاصل ہے اور اسے یوم ِآزادی پر گایا جاتا ہے۔ دوسرے حصے میں علامہ نے مغرب کی علمیت و عقلیت کو تو سراہا ہے لیکن مادہ پرستی اور روحانیت کی کمی پر کڑی تنقید کی ہے۔ جبکہ تیسرے حصے میں علامہ اقبال نے مسلمانوں کو اپنے عظیم ماضی کی یاد دلائی ہے اور تمام تر سرحدوں سے بالا تر ہو کر ان سے اخوت و بھائی چارے کا مطالبہ کیا ہے ۔ مشہور نظمیں شکوہ، جواب شکوہ، خضر راہ اور طلوع اسلام اسی حصے میں شامل ہیں اور انہیں تاریخ کی بہترین اسلامی شاعری تسلی...

کل کتب 0

کل کتب 0

ایڈ وانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین 11938
  • اس ہفتے کے قارئین 309600
  • اس ماہ کے قارئین 60747
  • کل قارئین95712591

موضوعاتی فہرست