غلام مصطفی ظہیر امن پوری

  • نام : غلام مصطفی ظہیر امن پوری

کل کتب 3

دکھائیں
کتب
  • 1 #6450

    مصنف : غلام مصطفی ظہیر امن پوری

    مشاہدات : 1858

    تحفۃ الاطفال

    (تحفۃ الاطفال) ناشر : دار الاسلاف لاہور
    #6450 Book صفحات: 132

    اللہ تعالیٰ کی بے شمار نعمتوں میں سے ایک بہت بڑی نعمت  اولاد ہے۔اولاد کی  تربیت صالح ہوتو ایک نعمت ہے وگرنہ یہ ایک فتنہ اور وبال بن جاتی ہے ۔ دین وشریعت میں اولاد کی تربیت ایک فریضہ کی حیثیت رکھتی ہے ۔ کیونکہ جس طرح  والدین کے اولاد پر حقوق ہیں اسی طرح اولاد کےوالدین پر حقوق ہیں اور جیسے اللہ تعالیٰ نے ہمیں والدین کےساتھ نیکی کرنے کا حکم دیا ہے  ایسے  ہی اس نے ہمیں اولاد کےساتھ احسان کرنے کا بھی حکم دیا ہے ۔ان کے ساتھ احسان اور ان کی بہترین تربیت کرنا دراصل امانت صحیح طریقے سے ادا کرنا ہے  اورانکو آزاد چھوڑنا اور ان کے حقوق میں کوتاہی کرنا دھوکہ اور خیانت ہے۔انسان کی اصل تربیت گاہ ماں کی گود ہے ۔ جو اپنے لال کو اللہ اور اس کے بندوں کے حقوق وفرائض سے آگاہی فراہم کرتی ہے ۔یہی وجہ ہے کہ مسلم گھرانوں میں بچہ زبان کھولتا ہے تو  گھر کی فضا لاالہ الا اللہ کی مشک بار لفظوں سے معطر  ہوجاتی ہے ۔اور حالات  کا مشاہدہےکہ جو لوگ اپنے بچوں کی دینی تربیت نہیں کرپاتے انہیں زندگی میں ندامت  وشرمندگی کا منہ دیکھنا پڑتا ہے ۔ و...

  • 2 #7003

    مصنف : غلام مصطفی ظہیر امن پوری

    مشاہدات : 905

    اللہ کہاں ہے ؟ ( امن پوری )

    (اللہ کہاں ہے ؟ ( امن پوری )) ناشر : نا معلوم
    #7003 Book صفحات: 342

    اللہ کہاں ہے؟ یہ ایک  محض ایک سوال ہی نہیں بلکہ اسلامی عقائد میں سے ایک اہم ترین عقیدہ ہے،جو براہ راست اللہ تبارک وتعالیٰ  کی ذات مبارک سے متعلق ہے قرآن مجید کی اس آیت کریمہ  الرَّحْمَنُ عَلَى الْعَرْشِ اسْتَوَى  سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ عرش پر مستوی ہیں  اور یہی  اہل سنت  والجماعت (سلف صالحین) کا عقیدہ ہے لیکن اﷲ تعالیٰ کے عرش پر مستو ی ہو نے کی کیفیت ہمیں معلوم نہیں ہے جس طرح اﷲتعالیٰ کی شان کے لا ئق ہے اسی طرح وہ عرش پر مستوی ہے ہماری عقلیں اْس کا ادراک نہیں کر سکتیں اور اﷲ تعالیٰ کے بارے میں یہ نہیں کہنا چاہیے کہ وہ ہرجگہ موجود ہے کیونکہ وہ مکان سے پاک اور مبرا ہے البتہ اْس کا علمِ اور اس کی قدرت ہر چیز کو محیط ہے، اْس کی معیت ہر کسی کو حا صل ہے جس کی وضاحت کتب عقائد میں  موجود ہے ۔محقق العصر علامہ غلام مصطفیٰ ظہیر امن پوری ﷾ نے زیر نظرکتاب ’’ اللہ کہاں ہے ؟‘‘...

  • 3 #8105

    مصنف : غلام مصطفی ظہیر امن پوری

    مشاہدات : 765

    مسنون نفلی نمازیں

    (مسنون نفلی نمازیں) ناشر : منہاج السنہ النبویہ لائبریری
    #8105 Book صفحات: 121

    وتر کےمعنیٰ طاق کےہیں۔ احادیث نبویہ کی روشنی میں امت مسلمہ اس بات پر متفق ہے کہ ہمیں نمازِ وتر کی خاص پابندی کرنی چاہیے؛ کیونکہ نبی اکرم ﷺ سفروحضر میں ہمیشہ نمازِ وتر کا اہتمام فرماتے تھے، نیز نبیِ اکرم ﷺ نے نماز ِوتر پڑھنے کی بہت زیادہ تاکید فرمائی ہے حتی کہ فرمایا کہ اگر کوئی شخص وقت پر وتر نہ پڑھ سکے تو وہ بعد میں اس کی قضا کرے۔ آپ  ﷺ نے امت مسلمہ کو وتر کی ادائیگی کاحکم متعدد مرتبہ دیا ہے۔ نمازِ وتر کا وقت عشاء کی نماز کے بعد سے صبح ہونے تک رہتا ہے۔رات کے آخری حصہ میں نمازِ تہجد پڑھ کر نماز ِوتر کی ادائیگی افضل ہے، نبی اکرم ﷺکا مستقل معمول بھی یہی تھا۔ البتہ وہ حضرات جورات کے آخری حصہ میں نمازِ تہجد اور نمازِ وتر کا اہتمام نہیں کرسکتے ہیں تو وہ سونے سے قبل ہی وتر ادا کرلیں ۔آپ کی قولی و فعلی احادیث سے ایک، تین، پانچ ،سات اور نو رکعات کےساتھ نماز وتر کی ادائیگی  ثابت ہے۔کتب احادیث وفقہ میں  نماز کے ضمن میں  صلاۃوتر کےاحکام ومسائل موجود ہیں ۔ نماز  کے موضوع پر الگ سے لکھی گئی  کتب میں بھی نماز وتر کے  احکام موجود ہیں۔ ز...

کل کتب 0

دکھائیں
کتب

کل کتب 5

دکھائیں
کتب
  • 0 #3415

    مصنف : غلام مصطفی ظہیر امن پوری

    مشاہدات : 2104

    دامنے حدیث چھوٹنے نہ پائے

    (جمعہ 31 جولائی 2015ء) ناشر : دار العلم، ممبئی
    #3415 Book صفحات: 192

    فتنہ انکار حدیث تاریخ اسلام میں سب سے پہلے دوسری صدی ہجری میں خوارج اور معتزلہ نے پیدا کیا۔ خوارج کو اس کی ضرورت اس لیے محسوس ہوئی کہ مسلم معاشرے میں جو انارکی وہ پھیلانا چاہتے تھے، اس کی راہ میں سنت رسول ﷺ حائل تھی۔ لہذا نہوں نے احادیث کی صحت میں شک اور سنت کے واجب الاتباع ہونے سے انکار کی دوگونہ پالیسی اختیار کی۔ معتزلہ کا مسئلہ یہ تھا کہ یونانی فلسفے نے اسلامی عقائد اور اصول و احکام کے بارے جو شکوک و شبہات عقل انسانی میں پیدا کر دیے تھے، وہ انہیں سمجھنے سے پہلے ہی حل کر دینا چاہتے تھے لہذا انہوں نے فلسفہ کے نام سے منقول ہر بات کو عقل کا لازمی تقاضا سمجھا اور اسلامی عقائد اور اصول و احکام کی ایسی تعبیر کرنا شروع کر دی جو ان نام نہاد عقلی تقاضوں کے مطابق ہو۔آج بھی بعض لوگ سرسری طور پر حدیث  کا مطالعہ کرتے ہیں اور جب انہیں کسی حدیث کے معنی سمجھ میں نہیں آتے تو وہ جھٹ سے اسے قرآن مجید کے کی خلاف یا دو صحیح احادیث کو متصادم قرار دے کر باطل ہونے کا فتوی دے دیتے ہیں،جو جہالت اور انکار حدیث کی سازش کا ہاتھ بٹانے کے مترادف ہے۔ زیر تبصرہ کتاب " دامن حدی...

  • 1 #4950

    مصنف : غلام مصطفی ظہیر امن پوری

    مشاہدات : 1813

    فضائل اہلحدیث ( جدید ایڈیشن )

    (جمعہ 09 دسمبر 2016ء) ناشر : مکتبہ ثنائیہ سرگودھا
    #4950 Book صفحات: 114

    مسلک اہل حدیث کوئی نئی جماعت یا فرقہ نہیں ہے۔ تمام اہل علم اس بات کو اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ اہل حدیث کا نصب العین کتاب و سنت ہے اور جب سے کتاب و سنت موجود ہے تب سے یہ جماعت موجود ہے۔اسی لیے ان کا انتساب کتاب و سنت کی طرف ہے کسی امام یا فقیہ کی طرف نہیں اور نہ ہی کسی گاؤں اور شہر کی طرف ہے۔یہ نام دو لفظوں سے مرکب ہے۔پہلا لفظ"اہل"ہے۔جس کے معنی ہیں والے صاحب دوسرا لفظ"حدیث" ہے۔حدیث نام ہے کلام اللہ اور کلام رسولﷺ کا۔قرآن کو بھی حدیث فرمایا گیا ہے۔اور آپﷺ کے اقوال اور افعال کے مجموعہ کا نام بھی حدیث ہے۔پس اہل حدیث کے معنی ہوئے۔”قرآن و حدیث والے” جماعت اہل حدیث نے جس طریق پر حدیث کو اپنا پروگرام بنایا ہے اور کسی نے نہیں بنایا۔اسی لیے اسی جماعت کا حق ہے۔کہ وہ اپنے آپ کو اہل حدیث کہے۔مسلک اہلحدیث کی بنیاد انہی دو چيزوں پر ہے اور یہی جماعت حق ہے۔ اہل حدیث مروّجہ مذہبوں کی طرح کوئی مذہب نہیں، نہ مختلف فرقوں کی طرح کوئی فرقہ ہے، بلکہ اہل حدیث ایک جماعت اور تحریک کا نام ہے۔ اور وہ تحریک ہے زندگی کے ہر شعبے میں قرآن وحدیث کے مطابق عمل...

  • 2 #5323

    مصنف : غلام مصطفی ظہیر امن پوری

    مشاہدات : 2393

    سیرۃ ابراہیم ؑ اور اسکے تقاضے

    (اتوار 07 مئی 2017ء) ناشر : مکتبہ ثنائیہ سرگودھا
    #5323 Book صفحات: 264

    سیدنا حضرت ابراہیم اللہ تعالی کے جلیل القدر پیغمبر تھے ۔قرآن مجید میں وضاحت سے حضرت ابراہیم کا تذکرہ موجود ہے ۔قرآن مجید کی 25 سورتوں میں 69 دفعہ حضرت ابراہیم کا اسم گرامی آیا ہے ۔اور ایک سورۃ کا نام بھی ابراہیم ہے ۔حضرت ابراہیم نے یک ایسے ماحول میں آنکھ کھولی جو شرک خرافات میں غرق اور جس گھر میں جنم لیا وہ بھی شرک وخرافات کا مرکز تھا بلکہ ان ساری خرافات کو حکومتِ وقت اورآپ کے والد کی معاونت اور سرپرستی حاصل تھی ۔جب حضرت ابراہیم پربتوں کا باطل ہونا اور اللہ کی واحدانیت آشکار ہوگی تو انہوں نے سب سے پہلے اپنے والد آزر کو اسلام کی تلقین کی اس کے بعد عوام کے سامنے اس دعوت کو عام کیا اور پھر بادشاہ وقت نمرود سےمناظرہ کیا اور وہ لاجواب ہوگیا ۔ اس کے باجود قوم قبولِ حق سے منحرف رہی حتیٰ کہ بادشاہ نے انہیں آگ میں جلانے کا حکم صادر کیا مگر اللہ نے آگ کوابراہیم کے لیے ٹھنڈی اور سلامتی والی بنا دیا اور دشمن اپنے ناپاک اردادوں کے ساتھ ذلیل ورسوار ہوئے اور اللہ نے حضرت ابراہیم کو کامیاب کیا۔اللہ تعالی نے قرآن مجید میں انبیائے کرام﷩کے واقعات بیان کرنے کامقصد خودان الفاظ...

  • 3 #5398

    مصنف : غلام مصطفی ظہیر امن پوری

    مشاہدات : 3755

    وفاۃ النبی ﷺ

    (بدھ 31 مئی 2017ء) ناشر : اسلامک بک کمپنی لاہور فیصل آباد
    #5398 Book صفحات: 335

    عام انسانوں کی طرح نبی کریم ﷺکی بھی وفات ہوئی ہے جیسا کہ صحیح بخاری میں ہے کہ :سیدناابوبکر صدیق نے فرمایا : لوگو ! دیکھو اگر کوئی محمد ﷺکو پوجتا تھا تو اسے معلوم ہونا چاہئے کہ حضرت محمد ﷺکی وفات ہو چکی ہے اور جو شخص اللہ کی پوجا کرتا تھا تو اللہ ہمیشہ زندہ ہے اسے موت کبھی نہیں آئے گی۔پھر ابوبکر نے سورہ الزمر کی یہ آیت پڑھی) : اے پیغمبر ! تو بھی مرنے والا ہے اور وہ بھی مریں گے۔اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ : محمد ﷺ صرف ایک رسول ہیں۔ اس سے پہلے بھی بہت سے رسول گزر چکے ہیں۔ پس کیا اگر وہ وفات پا جائیں یا انہیں شہید کر دیا جائے تو تم اسلام سے پھر جاؤ گے اور جو شخص اپنی ایڑیوں کے بل پھر جائے تو وہ اللہ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکے گا اور اللہ عنقریب شکر گزار بندوں کو بدلہ دینے والا ہے۔ (آل عمرٰن : 144)۔نبی کریم ﷺ کی زندگی کےآخری ایام ، مرض اور وفات کا تذکرہ اور کیفیت کا بیان کتب حدیث وسیرت میں موجود ہے ۔ زیر تبصرہ کتا ب’’ وفاۃ النبی ﷺ ‘‘امام ابو عبد الرحمٰن النسائی ﷫ کی کتاب کا اردو ترجمہ ہے ۔یہ کتاب وفاۃ النبی ﷺ کے متعلق احادیث کا خوبصور...

  • 4 #8056

    مصنف : غلام مصطفی ظہیر امن پوری

    مشاہدات : 582

    سیرۃ ابراہیم ؑ عمل کے آئینے میں

    (منگل 24 دسمبر 2019ء) ناشر : مکتبہ ثنائیہ سرگودھا
    #8056 Book صفحات: 98

    سیدنا  حضرت ابراہیم ﷤ اللہ تعالی کے جلیل القدر پیغمبر تھے ۔قرآن  مجید  میں وضاحت  سے  حضرت  ابراہیم ﷤ کا تذکرہ     موجود  ہے ۔قرآن  مجید  کی  25 سورتوں میں 69  دفعہ حضرت  ابراہیم ﷤ کا  اسم گرامی  آیا  ہے ۔اور ایک سورۃ کا  نام بھی ابراہیم ہے  ۔حضرت ابراہیم ﷤نے یک ایسے   ماحول میں   آنکھ کھولی جو شرک  خرافات  میں غرق اور جس گھر میں جنم لیا وہ بھی شرک وخرافات  کا مرکز تھا  بلکہ ان ساری خرافات کو  حکومتِ وقت اورآپ کے والد کی معاونت اور سرپرستی حاصل تھی ۔جب  حضرت ابراہیم ﷤ پربتوں کا باطل ہونا اور اللہ کی واحدانیت آشکار ہوگی  تو انہوں نے  سب سے پہلے  اپنے والد آزر کو اسلام کی  تلقین کی اس کے بعد  عوام کے سامنے اس  دعوت کو عام کیا اور پھر  بادشاہ  وقت نمرود سےمناظرہ کیا اور وہ لاجواب ہوگیا ۔ اس کے باجود  قوم  قبولِ  حق  سے منحرف رہی  حتیٰ کہ ...

ایڈ وانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین 1999
  • اس ہفتے کے قارئین 13202
  • اس ماہ کے قارئین 6286
  • کل قارئین51328394

موضوعاتی فہرست