اشاعت بتاریخ : جمعہ 31 مئی 2013ء
مشاہدات : 803

پروفیسر ثریا بتول علوی

  • نام : پروفیسر ثریا بتول علوی

کل کتب 6

دکھائیں
کتب
  • 1 #509

    مصنف : پروفیسر ثریا بتول علوی

    مشاہدات : 10726

    اسلام اور توہین رسالت

    (اسلام اور توہین رسالت) ناشر : تنظیم اساتذہ پاکستان -خواتین

    اہل مغرب کے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات پر شخصی حملوں نے عصر حاضر میں ہر مسلم و غیر مسلم کے دل میں توہین رسالت کی حقیقت اور سزا کے بارے علم حاصل کرنے کا ایک جذبہ پیدا ہو گیا ہے۔ امر واقعہ یہ ہے کہ مغرب نے اس بات کو جانچ لیا ہے کہ اسلام کی اصل بنیادیں کتاب اللہ اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہیں۔ لہٰذا کسی نہ کسی طرح ان کے بارے شکوک وشبہات پھیلا کے عام لوگوں کو ان سے متنفر کر دو تو عوام الناس کا بڑے پیمانے پر اسلام کی طرف میلان اور رجحان خود بخود تھم جائے گا۔
    اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کی حفاظت کے لیے بہت سے اہل علم نے قلم اٹھایا ہے جن میں سب سے پہلے شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے ’الصارم المسلول‘ کے نام سے ایک کتاب لکھی۔ محترمہ ثریا بتول علوی صاحبہ نے بھی بہت ہی آسان فہم اسلوب بیان میں توہین رسالت کی سزا کی تاریخ اور اس کے شرعی دلائل پرروشنی ڈالی ہے۔علاوہ ازیں مغرب ان سازشوں کو بھی محترمہ نے بے نقاب کرنے کی کوشش کی ہے کہ جن کی تکمیل کے لیے وہ توہین رسالت کا ارتکاب کرتے ہیں یا نت نئے ڈرامے رچاتے ہیں۔کتاب اپنے موضوع پر صحافتی انداز میں لکھی گئی ایک عمدہ کتاب ہے اگرچہ ایک جگہ محترمہ نے لکھا ہے کہ توہین رسالت کے مرتکب کے لیے نیت کا اعتبار نہیں ہو گا، ہمارے خیال میں محترمہ کا یہ قول محل نظر ہے۔ اسلام میں تو ہر عمل کی بنیاد نیت ہے ، یہاں تک کہ کلمہ کفر کہنے اور نہ کہنے میں بھی نیت کا اعتبار کیا گیا ہے۔
     

  • 2 #526

    مصنف : پروفیسر ثریا بتول علوی

    مشاہدات : 11439

    جدید تحریک نسواں اور اسلام

    (جدید تحریک نسواں اور اسلام) ناشر : منشورات، لاہور

    عورت چھپانے کی چیز ہے سو عورت پردہ اور گھر کی چار دیواری تک محصور ہو گی تو اس کی عزت و آبرو محفوظ ،معیار ووقار برقرار رہے گا اور دنیا میں معزز اور   آخرت میں محترم ٹھہرے گی۔کتاب وسنت کے بے شمار دلائل عورتوں کو گھروں میں ٹکے رہنے ،اجنبی مردوں سے عدم  اختلاط اور غیر محرموں سے پردہ و حجاب کی پر زور تاکید کرتے ہیں اور جاہلی بناؤ وسنگھار ،بے حجابی و بے پردگی اور مخلوط مجالس کی سخت ممانعت کرتے ہیں ۔نیز فحاشی و عریانی ،بے حیائی و بے پردگی،بدکاری و زنا کاری اور بے حیائی و بے غیرتی کے خفیہ و علانیہ جتنے بھی چور دروازے ہیں اسلام نے یہ تمام راستے مسدود کردیے ہیں ۔
    اللہ تبارک اسمہ وتعالی ٰ انسانوں کو با عزت و باوقار دیکھنا پسند کرتے ہیں۔اس لیے محرم و غیر محرم رشتہ داروں کی تقسیم ،اجنبی مردوں سے عدم اختلاط ،بامر مجبوری غیر محرم مردوں سے درشت لہجے میں گفتگو اور چار دیواری کا حصارعورت کی عصمت و ناموس کی حفاظت کے  مضبوط حفاظتی حصار  مقرر کیے ہیں ۔ان پر عمل پیرا ہو کر عورت پرسکون و پرکشش زندگی گزار سکتی ہے۔لیکن یہ عظیم سانحہ ہے کہ اسلامی معیار ی تعلیمات کو قدامت پسندی اور فرسودہ تہذیب کا نام دیکر اور آزادی نسواں  کے پرکشش اور رنگین نعرے کی آڑ میں عورتوں  کو گھروں سے نکالنے ،مخلوط تقاریب و مجالس میں لتاڑنے ،مساوات مردوزن کی آڑ میں پردہ نشینوں کو ملازمتوں  میں دھکیلنے اور آئیڈیل کی تلاش میں عورت کو بے توقیر و غیر معیاری کرنے کی مغربی مہم نے اہل  اسلام سے دینی روحانیت ،مذہبی غیرت اور ملی حمیت کا جنازہ نکال دیا ہے ۔پھر اس ننگی مغربی ثقافتی یلغار کے سامنے مضبوط بند ھ باندھنے کے بجائے  مسلم حکمران ،طبقہ اشرافیہ ،صحافی و دانشور اور الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا اس زہر ناک گندگی ، جنسی آوارگی  کو پروان چڑھانے اور شیطانی مقاصد کی تعمیل میں پیش پیش ہیں۔حق تو یہ تھا کہ اہل یورپ کے آزادی نسواں کے نام پر جنسی آوارگی اور عورت کی بے توقیری کے شرمناک وار کا کتاب وسنت کے دلائل سے پوری مردانگی سے توڑ کیا جاتا اور اسلام کے حقوق  مردو زن کے فطرت کے عین موافق ہونے کے سبب اسے منوانے کی سخت سر توڑ کوشش کی جاتی۔لیکن ’’حمیت نام تھا جس کا گئی تیمور کے گھر سے ‘‘کے مصداق یہاں تو آوے کا آوا ہی مغرب کی آوارگی کا معترف و شائق ہے ۔
    ایسے سنگین حالات میں معاشرتی استحکام ،مردوزن کی عصمت و ناموس کی حفاظت اور بے حیائی و جنسی آوارگی کی روک تھام کے لیے ضروری ہے کہ مسلم دانشور ،علماء کرام اور مذہبی تنظیموں کے سربراہان و کار پردا زان پورا سر درد لیکر فحاشی و عریانی کے اس طوفان  بدتمیزی کی روک تھام کریں اور شریعت اسلامیہ میں مردو زن کے حقوق و دائرہ کار کی حقانیت کا پرچار کریں ۔مغربی سفارتی یلغار اور فحاشی و عریانی کے منہ زور سیلاب کی روک تھام کے لیے زیر تبصرہ کتاب ایک اہم کاوش ہے ۔لیکن اسے بارش کا پہلا قطرہ خیال کیا جائے ابھی منزل تک پہنچنے کے لیے بڑی دشوار گزار اور پر پیچ مسافتیں ہیں ۔



     

  • 3 #1797

    مصنف : پروفیسر ثریا بتول علوی

    مشاہدات : 5072

    ہماری بدلتی قدریں

    (ہماری بدلتی قدریں) ناشر : تنظیم اساتذہ پاکستان -خواتین

    پاکستان دنیا کے ان ممالک میں سے ہے جن کی  اساس  ایک نظریہ اور تصور حیات ہے ۔ بلکہ اگر کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا  کہ  ساری دنیا  میں صرف یہی ایک  واحد ملک  ہے  جو اپنی ایک  اسلامی نظریاتی اساس  رکھتا ہے ۔ استعمار نے اولیں کوششوں میں تو اسے سنجیدہ نہیں لیا تھا  لیکن  انیس سو  پینسٹھ  کی جنگ میں اہل پاکستان کی باہمی یگاگنت ، اتحاد و اتفاق  اور اخوت وایثار کی بے مثال قربانیاں دیکھیں  تو  اسے اندازہ ہو گیا کہ مملکت خداد  کا  انہدام و زوال اتنا آسان نہیں اور لہذا  دشمن نے ضروری جاناکہ پہلے  ان کے دماغوں سے  اسلام کی  محبت و تصور  کھرچ دیا جائے تو اس کے بعد ان کی تسخیر ممکن ہے ۔ چناچہ انہوں نے  اس سلسلے میں  کوئی محاذ نہ چھوڑا اور  نظام تعلیم کو بالخصوص اپنا ہدف بنا ڈالا ۔ پاکستانیوں کو اپنی زبان  سے بیگانہ کیا  جانے لگا۔انہیں اپنے نظریاتی سانچے میں ڈھالا جانے لگا۔آج اس  کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ  پاکستانی لوگ وہی تہوار اور روایات منارہے ہیں جو  کہ غیر مسلم یا یہود و ہنود  منا رہے  ہیں ۔ مثلا عالمی یوم خواتین ، مزدوروں کا عالمی دن ، ماؤوں کا  عالمی دن ، آبادی  کا عالمی دن وغیرہ ، اس کتاب میں   یہ واضح  کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ   اسلامی شریعت سے  تصادم کس طرح ہے ۔ اسی طرح میرا تھن ریس ،اپریل فول اور ویلنٹائن ڈے بھی مغربی تہوار ہیں ۔اور بسنت تو خالص  تو خالص ہندوانہ تہوار ہے  جن کو پاکستان میں سرکاری سطح پر معروف کرنے کی سازش کی جارہی ہے ۔ زیرنظر  کتاب میں  ان موسمی  اور شرکیہ تہواروں پر روشنی ڈالنے کی کوشش کی گئی ہے۔(ع۔ح)
     

  • 4 #1813

    مصنف : پروفیسر ثریا بتول علوی

    مشاہدات : 6124

    استاد ملت کا محافظ

    (استاد ملت کا محافظ) ناشر : تنظیم اساتذہ پاکستان -خواتین

    پاکستان ایک ایسا ملک ہے جو اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا ہے ۔ یہاں کے رہنے والے عوام کو اس ملک کے ساتھ جذباتی حد تک وابستگی ہے ۔ لیکن اغیار کی سازشوں سے اس مملکت خداد کی قیادت وسیادت کی باگ دوڑ ان لوگوں کے ہاتھ میں آگئی کہ جو سیکولر ذہنیت کے مالک تھے ۔ وہ نام کی حدتک تو مسلمان ہیں لیکن ان کے طرز و اطوار غیرمسلموں جیسے ہیں ۔ وہ کسی صورت نہیں چاہتے کہ اس ملک کا نظام تعلیم یا کوئی دیگر شعبہ ہائے حیات اسلام کے مطابق ہو جائے ۔ چناچہ انہوں نے آغاز سے ہی اسے اس خاکے یا نقشے کے مطابق رکھا جو ایک سیکولر قوم نے تشکیل دیا تھا ۔ اور بعض جزوی ترامیم کر کے یہ باور کرانے کی کوشش کی گئی کہ یہ اسلامی بن گیا ہے ۔ تاہم ایک عرصے کے بعد یہ محسوس کیا گیا  تو اس وقت کے صدر جناب ضیاءالحق نے نظام تعلیم کو اسلامیت کے مطابق ڈھالنے میں بنیادی تبدیلی کی ۔ لیکن نام نہاد اسی لادین طبقے نے یہ مساعی بارآور نہ ہونے دیں ۔ اور پھر ایک ملحدانہ افکار کے حامل پرویز مشرف جیسے شخص نے اسے خالص  سیکولر بنیادیں فراہم کیں ۔ قوم کے وہ حساس حلقے جو اسلامیت کے درد اپنے اندر رکھتے ہیں وہ مسلسل چیخ وپکار کر رہے ہیں لیکن ان کے کانوں تک جوں تک نہیں رینگتی ۔ کیونکہ وہ تو اسے بنانا ہی غیراسلامی ملک چاہتے ہیں ۔ محترمہ ثریابتول صاحبہ ان درد رکھنے والے لوگوں میں سے ہیں جو پاکستان کو اسلامی ملک دیکھنا چاہتی ہیں ۔ اور یہ کتاب اسی حوالے سے ان کی کاوش ہے ۔ اللہ انہیں جزائے خیر دے۔(ع۔ح)
     

  • 5 #4099

    مصنف : پروفیسر ثریا بتول علوی

    مشاہدات : 2876

    اربعین للنساء من احادیث المصطفیٰ ﷺ

    (اربعین للنساء من احادیث المصطفیٰ ﷺ) ناشر : تنظیم اساتذہ پاکستان -خواتین

    کتاب اللہ اور سنت رسول ﷺدینِ اسلامی کے بنیادی مآخذ ہیں۔ احادیث رسول ﷺ کو محفوظ کرنے کے لیے کئی پہلوؤں اور اعتبارات سے اہل علم  نے خدمات  انجام دیں۔ تدوینِ  حدیث  کا آغاز  عہد نبوی ﷺ سے  ہوا صحابہ وتابعین  کے  دور میں  پروان چڑھا او ر ائمہ محدثین کےدور  میں  خوب پھلا پھولا ۔مختلف  ائمہ  محدثین نے  احادیث  کے کئی مجموعے مرتب کئے او رپھر بعدمیں اہل علم  نے ان  مجموعات کے اختصار اور شروح  ،تحقیق وتخریج او رحواشی کا کام کیا۔مجموعاتِ حدیث میں اربعین نویسی، علوم حدیث کی علمی دلچسپیوں کا ایک مستقل باب ہے ۔عبداللہ بن مبارک﷫ وہ پہلے محدث ہیں جنہوں نے اس فن پر پہلی اربعین مرتب کرنے کی سعادت حاصل کی ۔بعد ازاں علم حدیث ،حفاظت حدیث، حفظ حدیث اورعمل بالحدیث کی علمی او رعملی ترغیبات نے اربعین نویسی کو ایک مستقل شعبۂ حدیث بنادیا۔ اس ضمن میں کی جانے والی کوششوں کے نتیجے میں اربعین کے سینکڑوں مجموعے اصول دین، عبادات، آداب زندگی، زہد وتقویٰ او رخطبات و جہاد جیسے موضوعات پر مرتب ہوتے رہے ۔اس سلسلۂ سعادت میں سے ایک معتبر اور نمایاں نام ابو زکریا یحییٰ بن شرف النووی﷫ کا ہے جن کی اربعین اس سلسلے کی سب سے ممتاز تصنیف ہے۔امام نووی نے اپنی اربعین میں اس بات کا التزام کیا ہے کہ تمام تر منتخب احادیث روایت اور سند کے اعتبار سے درست ہوں۔اس کے علاوہ اس امر کی بھی کوشش کی ہے کہ بیشتر احادیث صحیح بخاری اور صحیح مسلم سے ماخوذ ہوں ۔اپنی حسن ترتیب اور مذکورہ امتیازات کے باعث یہ مجموعۂ اربعین عوام وخواص میں قبولیت کا حامل ہے انہی خصائص کی بناپر اہل علم نے اس کی متعدد شروحات، حواشی اور تراجم کیے ہیں ۔عربی زبان میں اربعین نووی کی شروحات کی ایک طویل فہرست ہے ۔ اردوزبان میں بھی  اس کے کئی تراجم وتشریحات پاک وہند میں شائع  ہوچکے  ہیں۔نیزبرصغیر میں بھی شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ﷫ سے  لےکر عصر حاضر کے متعدد علماء کرام نے بھی ’’اربعین‘‘ کے نام سے  کئی مجموعے مرتب کیے ہیں ۔ زیر تبصرہ کتاب’’اربعین للنساء‘‘ بھی اسی سلسلہ کی کڑی ہے ۔اس کتاب کو پروفیسر محترمہ ثریا بتول علوی صاحبہ  نے   خواتین کے لیے  مرتب کیا ہے ۔مصنفہ نےاس میں مجموعہ کو   پانچ ابواب اور چالیس ذیلی موضوعات میں تقسیم کیا ہے ۔ جن میں ایمانیات واخلاق ، ارکان واعمال ،معاملات اور ستروحجاب جیسے اہم موضوعات کا انتہائی پر مغز اور معنی خیر احاطہ کیا ہے ۔خواتین کی انفرادی زندگی سے لے کر عائلی ومعاشرتی سطح تک  اہم مسائل سے متعلقہ احادیث مبارکہ  کا انتہائی دقت تظری سے  انتخاب کیا گیا ہے ۔ اسی وجہ سے یہ مجموعہ مختصر ہونے کے باوجود جامع او رمحیط ہے  اور اپنی  جامعیت  وافادیت کے لحاظ سے اس قابل ہے کہ اسے  باقاعدہ سبقاً پڑھا یاجائے ۔اللہ تعالیٰ اس مجموعہ  حدیث کو  خواتین اسلام کے لیے نفع بخش بنائے  اور مصنفہ کی  اس کاوش کو شرف قبولیت سے نوازے (آمین)(م۔ا)

کل کتب 6

دکھائیں
کتب

کل کتب 0

دکھائیں
کتب

اس سائٹ پر کوئی ایسی کتاب موجود نہیں جس کی ترتیب و تخریج ان صاحب نے کی ہو۔

ایڈ وانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین 541
  • اس ہفتے کے قارئین 13191
  • اس ماہ کے قارئین 36731
  • کل قارئین49227680

موضوعاتی فہرست