ایفا پبلیکیشنز نئی دہلی

  • 1 انسانی حقوق اور اسلامی نقطہ نظر (جمعرات 25 جولائی 2013ء)

    مشاہدات:5335
    اسلام کی تعلیمات کا خلاصہ دو باتیں ہیں ۔اللہ تعالی کی بندگی و اطاعت اور اللہ کے بندوں کے ساتھ حسن سلوک اسی لیے جیسے شریعت میں ہمیں اللہ تعالی کے حقوق ملتے ہیں اسی طرح ایک انسان کے دوسرے انسان پر بھی حقوق رکھے گئے ہیں ۔ اسلام میں انسانی حقوق کو خاص اہمیت حاصل ہے ۔ اسی لیے اسلام نے ان حقوق کو بہت واضح طور پر پیش کیا ہے ۔ کہا جاتا ہے کہ انسان ایک سماجی حیوان ہے ، انسان ایک سانپ کی طرح تنہا کسی بل میں اور ایک شیر کی طرح تنہا کسی غار میں زندگی نہیں گزار سکتا ، وہ سماج اور خاندان کا محتاج ہے اور بہت سے رشتے داروں کے حصار میں زندگی بسر کرتا ہے ۔ چناچہ اس نسبت سے بھی انسان  کے اوپر بہت سے حقوق عائد ہوتے ہیں ۔ والدین اور اولاد کا حق ، بیوی ، بھائیوں اور بہنوں کا حق اور پڑوسیوں کے حقوق وغیرہ یہ تمام حقوق اصل اسلامی حقوق کے دائرے میں آتے ہیں ۔ اس لئے شریعت میں انسانی حقوق کا دائرہ بہت وسیع ہے اور انہیں بنیادی اہمیت حاصل ہے ۔ زیر مطالعہ کتاب در اصل انڈیا میں منعقد سمینار میں دیے گئے لیکچرز کا مجموعہ ہے ۔ جس میں اس موضوع کے حوالے سے تقریبا تمام پہلو آچکے ہیں ۔ یہ کتاب اپنے موضوع پر ایک جامع اور فکر انگیز کتاب ہے ۔ اللہ ان تمام لوگوں کی محنت کو ان کے لیے ذریعہ نجات بنائے جنہوں نے اس کے لیے کاوش فرمائی ہے۔(ع۔ح)

  • 2 اقلیتوں کےحقوق اور اسلاموفوبیا (جمعہ 30 اگست 2013ء)

    مشاہدات:5965
    چندصدیاں پہلے مختلف مذہبی اور نسلی اکائیاں الگ الگ بود و باش اختیار کرتی تھیں اور ان کے درمیان اختلاط و اشتراک بہت کم پایا جاتا تھا ۔ اس لئے اقلیتوں کا وجود کم ہوتا تھا ۔ سترویں صدی کے انقلاب اور جمہوری نظام حکومت کے ارتقاء کے باعث صورتحال میں تبدیلی آئی ۔ اور کثیر مذہبی ، کثیر لسانی ، کثیر تہذیبی اور کثیر نسلی سماج کو ارتقاء حاصل ہوا ۔ چناچہ آج بحثیت مجموع دنیا میں اقلیتیں زیادہ ہیں ۔ خود مسلمانوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ دنیا میں مسلمان اقلیتوں کا تناسب  پچاس فی صد ہے ۔ ان حالات نے  عالمی سطح پر اقلیتوں  کے حقوق کے مسلہ کو اہم بنا دیا ہے ۔ بین الاقوامی قوانین میں بھی اس کو ملحوظ خاطر رکھا گیا ہے ۔ انسانی حقوق کے چارٹ میں اس کو شامل کیا گیا ہے ۔ اور اسی طرح دنیا کے تمام ممالک کے ملکی قوانین میں بھی اس کی رعایت کی گئی ہے ۔ کیونکہ اکثریت کا استبداد بعض اوقات اقلیت کے لئے  معاشرہ کو ظلم و جور کی بھٹی بنا دیتا ہے ۔ اسی لئے اسلام میں اقلیتوں کے حقوق کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے اور تاریخ شاہد ہے کہ  مسلمانوں نے اپنے اقتدار اور غلبہ کے دور میں بڑی حد تک اس کو ملحوظ رکھا ہے ۔ درج ذیل کتاب  اسی حوالے  سے انڈیا میں منعقد کرائے گئے ایک سیمینار میں کئے گئے مختلف خطابات کا مجموعہ ہے ۔ جس میں متعلقہ موضوع کے تمام پہلووں کا احاطہ کرنے کی کوشش کی گئ ہے ۔ (ع۔ح)

  • 3 مکہ فقہ اکیڈمی کے فقہی فیصلے (جمعہ 11 اکتوبر 2013ء)

    مشاہدات:2488
    اسلام ایک ایسا دین ہے جو زندگی  کے تمام شعبوں کے متعلق رہنمائی فراہم کرتا ہے۔اب یہ ایک لازمی بات ہے کہ شرعی نصوص محدود جبکہ انسانی مسائل لامحدود ہیں۔انہیں حل کرنے کے لئے  اجتہاد و تفقہ کا راستہ اپنانا ضروری ہے۔یہ ایک حقیقت ہے کہ قرآن اور حدیث نبوی میں زندگی کے بعض مسائل کے بارے میں جزوی تفصیلات بھی موجود ہیں اور بعض مسائل خاص کر معاملات کے بارے میں زیادہ تر اصول و قواعد کی رہنمائی پر اکتفاء کیا گیا ہے تاکہ ہر عہد کی ضرورتوں اور تقاضوں کے مطابق ان کی تطبیق میں سہولت ہو، اسی لئے ہر دور میں ایسے واقعات بھی پیش آتے رہے ہیں جن کے بارے میں صریح حکم قرآن و حدیث میں نہیں ملتا۔دوسری طرف یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ موجودہ دور تیز رفتار سیاسی تبدیلیوں، معاشی انقلابات اور وسائل و ذرائع کی ایجات کا ہے، اس لئے اس عہد میں مسائل بھی زیادہ پیش آتے ہیں، چنانچہ ماضی قریب میں مختلف اسلامی ممالک میں اس مقصد کے لئے فقہ اکیڈمیوں کا قیام عمل میں آیا، نئے مسائل کو حل کرنے  میں ان کی خدمات بہت ہی عظیم الشان اور قابل تحسین ہیں، اس سلسلہ کی ایک کڑی اسلامک فقہ اکیڈمی ( انڈیا) بھی ہے۔زیرنظر کتاب  اکیڈمی کے تحت منعقدہ  مختلف سمینارز  میں کئے گئے  جدید فقہی فیصلے  ہیں۔(ع۔ح)

  • اسلام ایک ایسا عادلانہ آسمانی دین ہے جو انسانی زندگی کی ہمہ جہت ترقی کاضامن ہے۔خالق کائنات انسان کی جملہ ضرورتوں ، حاجتوں سے پوری طرح باخبر ہے۔ اس لیے شریعت اسلامی میں ان تمام پہلوؤں کانہایت حسن و کمال کے ساتھ احاطہ کیا گیا ہےجن کے ذریعہ انسان کی رہنمائی ہوتی ہے اور اس کی ضرورتیں پوری ہوتی ہیں۔اور راست جہت میں سنورتا  اور ترقی کرتا ہے۔دوسری بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے امت مسلمہ کو منصب قیادت پر سرفراز فرمایاہے۔یہ منصب   بہت ساری صلاحیتوں    اور خوبیوں کا متقاضی ہے۔ ان میں سے سب سے اہم ترین یہ ہے کہ  پیش آمدہ مسائل کا  حل پیش کیا جائے۔اس سلسلے میں علمائے اصول جس علم سے استمداد لیتے ہیں اسے اصول فقہ کہتے ہیں۔  جس کا ایک گوشہ تسہیل وتیسیر، رفع حرج، تخفیف وترخیص، اعتدال و توازن ، تسامح  او راباحت کے اصولوں کا ہے۔اسلام نے بندوں کے مفادات و مصالح اور ضروریات کی مکمل رعایت رکھی ہے اس لیے مقاصد شریعت میں رفع حرج، دفع ضرر او رمصالح کو نمایاں مقام حاصل ہے۔فقہاء نے ان اصولوں کی روشنی میں امت کی ضرورتوں کا دائرہ متعین کرتے ہوئے ان کا حق پیش کرنے او ردین ،نفس، عقل، مال اور نسل کی حفاظت و رعایت رکھنے کے لیے ہر پہلو پر غور و خوض کیا  اور اپنے قیمتی اجتہادات پیش کئے ہیں۔زیر نظر کتاب اصلا ضرورت و حاجت کے اصولوں پر مبنی  منتخب مقالات کا مجموعہ ہے۔جو اسلامی فقہ   اکیڈمی (انڈیا) کے زیرنگرانی منعقدہ سالانہ پروگرام میں اہل علم نے پڑھے تھے۔بعد میں انہیں کتابی شکل میں پیش کر دیا گیا ہے۔(اصول فقہ)(ع۔ح)

  • 5 عصر حاضر کے فقہی مسائل (پیر 09 دسمبر 2013ء)

    مشاہدات:5762
    اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات اور دستور زندگی ہے،اس کی تعلیمات انسانی فطرت کے مطابق اور اس سے ہم آہنگ ہیں،اور اپنے اندر بے پناہ جامعیت ،ہمہ گیری اور عالمگیریت رکھنے کے سبب ہر دم رواں ،پیہم دواں زندگی کے مسائل حل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔زندگی کے عملی احکام عبادات ،معاملات ،معاشرتی اور مالیاتی قوانین،اجتماعی اور تعزیری احکام،وہ امور ہیں ،جن میں حالات وزمانہ کی تبدیلی ،اور عرف وعادت کے تغیر کی وجہ سےبہت کچھ تبدیلی بھی روا رکھی جاتی ہے۔اور اجتہاد کے ذریعے  پیش آمدہ مسائل کو حل کیا جاتا ہے۔ کتاب کے مؤلف مولانا بدر الحسن القاسمی دار العلوم دیو بند کے فاضل ،ایک ذہین،بالغ نظر اور باخبر عالم ہیں۔آپ کو فقہ اسلامی اور جدید علم کلام سے خصوصی دلچسپی ہے۔آپ نے اس کتاب میں جدید فقہی مسائل کو دلائل کے ساتھ بڑے خوبصورت انداز میں بیان کیا ہے ،اوراجتہادی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے ہر مسئلہ میں راجح موقف کو بیان کرنے کی زبر دست کوشش کی ہے،آپ سے اختلاف رائے تو ہو سکتا ہے ،مگر آپ نے تحقیق کا جو معیار قائم کیا ہے وہ ایک مثالی اور منفرد ہے۔(راسخ)

  • 6 انٹرنیشنل فقہ اکیڈمی جدہ کے شرعی فیصلے (منگل 27 مئی 2014ء)

    مشاہدات:2839

    یہ ایک حقیقت ہےکہ موجودہ دور تیز رفتار سیاسی تبدیلیوں،معاشی انقلابات اور وسائل و ذرائع کی ایجادات کا ہے۔اس لئے اس عہد میں مسائل بھی زیادہ پیش آتےہیں،چنانچہ ماضی قریب میں مختلف اسلامی ممالک میں اس مقصد کے لئے فقہ اکیڈمیوں کاقیام عمل میں آیا، جدید مسائل کو حل کرنے میں ان کی خدمات بہت ہی عظیم الشان اورقابل تحسین ہیں، اس سلسلہ کی ایک کڑی انٹرنیشنل اسلامک فقہ اکیڈمی ( جدہ) بھی ہےجوکہ اسلامی کانفرنس کی تنظیم OIC کے تحت 1983ء میں جدہ میں قائم ہوئی۔اس اکیڈمی کے تحت اب تک مختلف ممالک میں تقریباً 19 سیمینار ہوچکے ہیں ۔ان سیمیناروں میں مجموعی اعتبار سے 133 معاشی ،معاشرتی، طبی اور اجتماعی مسائل پر بحث ہوچکی ہے اور اس کے فیصلے پوری دنیا میں قدر و وقعت کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں ۔زیر تبصرہ کتاب بھی انٹرنیشنل اسلامک فقہ اکیڈمی (جدہ) کے تحت ہونے والا سیمینار زمیں عصر حاضر کے جدید معاشی،طبی،معاشرتی وسیاسی اور سائنسی مسائل کے بارے میں علمائے عالم اسلام کے شرعی فیصلے اور سفارشات پر مشتمل ہے ۔ جسے اسلامک فقہ اکیڈمی (انڈیا) نے مولانا مفتی محمد فہیم اخترندوی (انچارج علمی امور اسلامک فقہ اکیڈمی ،انڈیا)سے ترجمہ کروا کر شائع کیا۔ اللہ تعالی اسلامک فقہ اکیڈمی ،انڈیا کی جہود کو شرف قبولیت بخشے ۔ (آمین (م۔ا)

     

  • 7 عرف و عادت (جمعرات 01 مئی 2014ء)

    مشاہدات:2893

    فقہ اسلامی کا ایک اہم ماخذ او رسرچشمہ عرف و عادت ہے ۔عرف سے مراد وہ قول یا فعل ہے جو کسی ایک معاشرہ کےیا تمام معاشروں کے تمام لوگوں میں روا ج پاجائے ۔اور وہ اس کے مطابق چل رہے ہوں۔فقہاء کے نزدیک عرف وعادت دونوں کے ایک ہی معنی ہیں ۔عرف شریعت اسلامیہ میں معتبر ہے او ر اس پر احکام کی بنیاد رکھنا درست ہے ۔کتب فقہ میں اس کی حجیت اور اقسام وغیرہ کے حوالے سے تفصیلی مباحث موجود ہیں ۔زیر نظر کتاب ''عرف وعادت '' اسلامک فقہ اکیڈمی کے زیر اہتمام آٹھویں فقہی سیمنیار منعقدہ اکتوبر 1995ء علی گڑھ میں پیش کئے گئے علمی،فقہی اور تحقیقی مقالات کا مجموعہ ہے جس میں عرف وعادت کی حقیقت،عرف اور اس کی اقسام کااعتبار،عرف وعادت کے معتبر ہونے کی شرطیں، عرف وعادت سے متعلق فقہی قواعد،عرف او ر اقوال فقہاء میں تعارض کے حوالے سے تفصیلی مباحث پیش کی گئی ہیں۔(م۔ا)

     

  • 8 کاروبار میں اولاد کی شرکت (اتوار 20 اپریل 2014ء)

    مشاہدات:1762

    شریعتظ کا مزاج یہ ہے کہ جو بھی معاملہ کیا جائے ،خواہ وہ قریب ترین رشتہ داروں کے درمیان ہو لیکن اسے واضح ہونا چاہیے،اس میں ایسا ابہام نہیں ہونا چاہیے جو آئندہ نزاع کا باعث بن سکتا ہو۔فقہ میں تجارت کے بہت سے احکام اسی اصول پر مبنی ہیں کہ جو معاملات کسی پہلو میں ابہام کی وجہ سے آئندہ نزاع کا سبب بن سکتے ہیں وہ درست نہیں ہوں گے ۔کاروباری اور تجارت کے مسائل میں ایک اہم مسئلہ کاروبار میں میں اولاد کی شرکت کا ہے کہ کاروبار میں والد کے ساتھ اولاد کی شرکت کس حیثیت سے ہے ؟ کیا وہ اس میں پارٹنر ہیں ؟ یا ان کی حیثت ملازم کی ہے ؟یا وہ محض اپنے والد کے معاون و مددگار ہیں ۔ زیر نظرکتاب'' کاروبار میں اولاد کی شرکت'' معاشرے میں پائے جانے والے مذکورہ کاروباری معاملات ومسائل کے حوالے ایک اہم کتاب ہے ۔جوکہ اسلامک فقہ اکیڈمی کے زیر اہتمام انیسویں فقہی سیمنیار منعقدہ فروری 2010ءمیں پیش کئے گئے علمی،فقہی اورتحقیقی مقالات ومقاقشات کا مجموعہ ہے جس میں تقرییا 31 ممتاز اہل علم او رارباب افتاء نے اس موضوع پراپنے مقالات پیش کئے ۔ سیمینار میں ان مقالات پر کیے جانے والے مناقشات او رتجاویز وغیر ہ اور ان مقالات کاجامع خلاصہ بھی اس کتاب میں شامل اشاعت ہے۔ اسلامک فقہ اکیڈمی ( انڈیا) مولانا قاضی مجاہد الاسلام قاسمی کی کوششوں سے 1989ء میں قائم ہوئی ۔مختلف موضوعات پر اب تک بیسیوں کتب شائع کرچکی ہے بالخصوص جدیدفقہی مسائل (کلوننگ،انشورنش، اعضاء کی پیوندکاری ،انٹرنیٹ،مشینی ذبیحہ وغیرہ ) پر کتب کی اشاعت اورموسوعہ فقہیہ کویتیہ کااردو ترجمہ لائق تحسین ہے۔ موسوعہ کی بارہ جلدیں کت...

  • 9 حالت نشہ کی طلاق موجودہ حالات کے پس منظر میں (پیر 28 اپریل 2014ء)

    مشاہدات:2773

    نکاح دراصل میاں بیوی کے درمیان وفاداری او رمحبت کے ساتھ زندگی گزرانے کا ایک عہدو پیمان ہوتا ہے ۔ نیز نسل نو کی تربیت کی ذمہ داری بھی نکاح کے ذریعہ میاں بیوی دونوں پر عائد ہوتی ہے لیکن اگر نکاح کے بعد میاں بیوی دونوں میں سے کوئی ایک یا دونوں ہی یہ محسوس کریں کہ ان کی ازدواجی زندگی سکون وا طمینان کے ساتھ بسر نہیں ہوسکتی او رایک دوسرے سے جدائی کے بغیر کوئی چارہ نہیں تو اسلام انہیں ایسی بے سکونی وبے ا طمینانی او رنفرت کی زندگی گزارنے پر مجبور نہیں کرتا بلکہ مرد کو طلاق او ر عورت کو خلع کاحق دے کرایک دوسرے سے جدائی اختیار کر لینے کی اجازت دیتا ہے ۔لیکن اس کے لیے بھی اسلام کی حدود قیود اور واضح تعلیمات موجود ہیں۔ طلاق کے مسائل میں سے ایک مسئلہ حالت نشہ کی طلاق ہے ۔طلاق چونکہ ایک نہایت اہم اور نازک معاملہ ہے اس لیے ضروری ہے کہ پوری طرح غور وفکر کے بعد اس کا فیصلہ کیا جائے ،اور غوروفکر کے لیے ضروری ہے کہ انسان کی شعور ی کیفیت بحال ہو اسی لیے جب انسان عقل وشعور کو استعمال کرنے کی صلاحیت سے محروم ہو تو اس حالت کی طلاق واقع نہیں ۔اسی بنا پر فقہاء کا اتفاق ہے کہ مجنون ،بے ہوش ،محوخواب ،نابالغ اور نشہ میں مبتلا ہونے والے شخص کی دی ہوئی طلاق واقع نہیں ہوتی ۔زیر نظر کتاب ''حالت نشہ کی طلاق موجود حالات کے پس منظر میں ''اسلامک فقہ اکیڈمی کے زیر اہتمام بارہویں فقہی سیمنیار منعقدہ فروری 2000ء میں پیش کئے گئے علمی،فقہی اور تحقیقی مقالات ومقاقشات کا مجموعہ ہے جس میں حالت نشہ میں طلاق کے حوالے سے تقریبا 68 علماء نے مقالات پیش کئے ان میں سے بعض اہل علم حالتِ...

  • 10 اختلافات ائمہ کی شرعی حیثیت (ہفتہ 09 اگست 2014ء)

    مشاہدات:2935

    شریعت اسلامی انسانیت کے لئے اللہ تعالی کا ہدایت نامہ ہے ،جس میں زندگی کے تمام مسائل کے بارے میں تفصیلی یا اجمالی راہنمائی موجود ہے۔شریعت کے بعض احکام ایسے ہیں ،جو یقینی ذرائع سے ثابت ہیں،اور الفاظ وتعبیرات کے اعتبار سے اس قدر واضح ہیں کہ ان میں کسی دوسرے معنی ومفہوم کا کوئی احتمال نہیں ہے۔ان کو قطعی الثبوت اور قطعی الدلالہ کہا جاتا ہے،اور شریعت کے بیشتر احکام اسی نوعیت کے ہیں۔جبکہ بعض احکام ہمیں ایسی دلیلوں سے ملتے ہیں،جن کے سندا صحیح ہونے کا یقین نہیں کیا جا سکتا ہے،یا ان میں متعدد معانی کا احتمال ہوتا ہے۔اسی طرح بعض مسائل قیاس پر مبنی ہوتے ہیں اور ان میں قیاس کی بعض جہتیں پائی جاتی ہیں۔تو ایسے مسائل میں اہل علم اپنے اپنے اجتہاد کے مطابق فتوی دیتے ہیں،جو ایک دوسرے سے مختلف بھی ہو سکتا ہے۔اب سوال پیدا یہ ہوتا ہے کہ اہل علم اور ائمہ کرام کے ان اختلافات اور اجتہادی آراء کا شرعی حکم کیا ہے۔زیر تبصرہ کتاب " اختلافات ائمہ کی شرعی حیثیت "ایفا پبلیکیشنز دہلی انڈیا کی مطبوعہ ہے،جس میں اسی اہم ترین موضوع پر منعقد سیمینار میں پیش کئے گئے مقالات کو جمع کر دیا گیا ہے ،اور تمام مقالہ نگار اہل نے اپنی اپنی رائے کا اظہار کیا ہے۔ان قیمتی مقالات کو جمع کرنے کی سعادت مولانا صفدر زبیر ندوی صاحب نے حاصل کی ہے۔ادارہ کتاب وسنت ڈاٹ کام کا مقالہ نگار حضرات سے کلی اتفاق ضروری نہیں ہے،لیکن چونکہ یہ ایک خالص علمی اور تحقیقی مجموعہ ہے ،چنانچہ افادہ کی غرض سے قارئین کی خدمت میں پیش کیا جارہا ہے۔اللہ تعالی تمام مقالہ نگار اور مرتب وتمام معاونین کی اس خدمت کو اپنی با...

  • 11 رویت ہلال فقہ اسلامی کی روشنی میں (منگل 16 ستمبر 2014ء)

    مشاہدات:2530

    اسلام ایک ایسا دین ہے جو زندگی  کے تمام شعبوں کے متعلق رہنمائی فراہم کرتا ہے۔روزہ شروع کرنےاور عید منانے  کے مسئلے میں شریعت  مطہرہ نے جو معیار مقرر کیا  ہے وہ  یہ  ہے  کہ چاند دیکھ کرعید منائی جائے او رچاند دیکھ کر ہی روزہ کی ابتداء کی جائے ۔اور اگر گرد وغبار اور ابر باراں کی وجہ  سے چاند دکھائی نہ دے تو رواں مہینے کےتیس دن مکمل  کر لیے جائیں بالخصوص شعبان اوررمضان المبارک کے ۔ مذکورہ  قاعدہ کلیہ تمام مسلمانوں کیلئے ہے خو اہ وہ عربی ہو یا عجمی  ۔دور حاضر ہو یا دور ماضی ۔ایک وقت تک مسلمان اس اصول وقاعدہ  کے پابند رہےمگر پھر آہستہ آہستہ فقہائے دین و ائمہ مجتہدین اور ان  کے مقلدین کی دینی  خدمات کے نتیجے میں امت مسلمہ مختلف آراء میں بٹ گئی ۔اس سلسلے میں دو رائے پائی جاتی ہیں ۔ایک نقطۂ نظر کےمطابق مطالع کا اختلاف معتبر نہیں ہے اور ایک جگہ کی رؤیت پوری دنیا کے لیے  ہے۔اور دوسرے نقطۂ نظر کے حاملین کے نزدیک اختلاف مطالع معتبر ہے  لہٰذا ہر علاقہ کی رؤیت اس علاقہ کے لیے معتبر ہوگی ۔ قرآن وحدیث کے دلائل وبراہین کے مطابق اختلافِ مطالع معتبر ہونے کی رائے راجح ہے۔  یہ ایک حقیقت ہے کہ موجودہ دور تیز رفتار سیاسی تبدیلیوں،معاشی انقلابات اور وسائل و ذرائع کی ایجادات کا ہے،اس لئے اس عہد میں مسائل بھی زیادہ پیش آتے ہیں، چنانچہ ماضی قریب میں مختلف اسلامی ممالک میں اس مقصد کے لئے فقہ اکیڈمیوں کا قیام عمل میں آیا، جدید مسائل کو حل کرنے  میں ان کی خدمات بہت ہی عظیم الشان اور قابل تحسین ہیں، اس سلسلہ کی ایک کڑی اسلامک فقہ اکیڈمی ( انڈیا) بھی ہے۔یہ اکیڈمی  مول...

  • 12 اموال زکاۃ کی سرمایہ کاری (اتوار 16 نومبر 2014ء)

    مشاہدات:1894

    اسلام کے نظام معیشت کی بنیادی خصوصیت انفرادی ملکیت کو تسلیم کرنے کے ساتھ ساتھ دولت کی زیادہ سے زیادہ تقسیم اور اس کو ارتکاز سے بچانا ہے،اس کی ایک عملی مثال زکوۃ کا  نظام ہے۔زکوۃ کو واجب قرار دیا جانا ایک طرف اس بات کی دلیل ہے کہ سرمایہ دار خود اپنی دولت کا مالک ہےاور وہ جائز راستوں میں اسے خرچ کر سکتا ہے۔دوسری طرف اس سے یہ بات  بھی واضح ہوتی ہے کہ انسان کی دولت میں سماج کے غریب لوگوں کا بھی حق ہے ۔یہ حق متعین طور پر اڑھائی فیصد سے لیکر بیس فیصد تک ہے،جو مختلف اموال میں زکوۃ کی مقررہ شرح ہے،اور بطور نفل اپنی ضروریات کے بعد غرباء پر جتنا کرچ کیا جائے اتنا ہی بہتر ہے۔لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ آج کل مسلمان اس عظیم الشان فریضے کی ادائیگی سے سے بالکل  لا پرواہ ہو چکے ہیں۔اور زکوۃ نکالنے کا اہتمام مفقود نظر آتا ہے۔اس پس منظر میں ایک رجحان یہ بھی ہے کہ اموال زکوۃ کی سرمایہ کاری کی جائے  تاکہ زیادہ عرصہ تک اور زیادہ سے زیادہ فقراء کو اس سے استفادہ کرنے کا موقع مل سکے۔موضوع کی اہمیت کے پیش نظر   انڈیا کی اسلامک فقہ اکیڈمی نے دیگر موضوعات کی طرح  اس پر بھی ایک سیمینار کا انعقاد کیا اور اس میں مختلف اہل علم نے مقالات پیش کئے اور اپنے موقف کا اظہار کیا۔یہ کتاب " اموال زکوۃ کی سرمایہ کاری " اس سیمینار میں پیش کئے گئے مقالات کے مجموعے پر مشتمل ہے،جسے ایفا پبلیکیشنز نئی دہلی نے طبع کیا ہے۔یہ  اہل علم اور طلباء کے لئے ایک گرانقدر علمی وتحقیقی تحفہ ہے۔تمام طالبان علم کو چاہئے کہ وہ اس خاص موضوع پر مطالعہ کے لئے اس  کتاب کو ضرور پڑھیں۔(راسخ)

    محدث کتب لائبریری  اہل حدیث  تمام کتب 

  • 13 سود اور اسلامی نقطہ نظر (اتوار 02 اگست 2015ء)

    مشاہدات:1324

    دین اسلام نے سود کو حرام قرار دیا ہے اور تمام مسلمانوں کا اس کی حرمت پر اتفاق ہے۔سود کو عربی زبان میں ”ربو“کہتے ہیں ،جس کا لغوی معنی زیادہ ہونا ، پروان چڑھنا ، او ر بلندی کی طرف جانا ہے ۔ اور شرعی اصطلاح میں ربا (سود) کی تعریف یہ ہے کہ : ” کسی کو اس شرط کے ساتھ رقم ادھار دینا کہ واپسی کے وقت وہ کچھ رقم زیادہ لے گا “۔سودخواہ کسی غریب ونادار سے لیاجائے یا کسی امیر اور سرمایہ دار سے ، یہ ایک ایسی لعنت ہے جس سے نہ صرف معاشی استحصال، مفت خوری ، حرص وطمع، خود غرضی ، شقاوت وسنگدلی، مفاد پرستی ، زر پرستی اور بخل جیسی اخلاقی قباحتیں جنم لیتی ہیں بلکہ معاشی اور اقتصادی تباہ کاریوں کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے، اس لیے دین اسلام اسے کسی صورت برداشت نہیں کرتا۔ شریعت اسلامیہ نے نہ صرف اسے قطعی حرام قرار دیاہے بلکہ اسے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ جنگ قرار دیاہے ۔اللہ تعالی فرماتے ہیں۔" جولوگ سود کھاتے ہیں وہ یوں کھڑے ہوں گے جیسے شیطان نے کسی شخص کو چھو کر مخبوط الحواس بنا دیا ہو ۔اس کی وجہ ان کا یہ قول ہے کہ تجارت بھی تو آخر سود کی طرح ہے، حالانکہ اللہ نے تجارت کو حلال قرار دیا ہے اور سود کو حرام۔ اب جس شخص کو اس کے رب کی طرف سے یہ نصیحت پہنچ گئی اور وہ سود سے رک جائے تو پہلے جو سود کھا چکا اس کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے مگر جو پھر بھی سود کھائے تو یہی لوگ دوزخی ہیں ، جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے، اللہ تعالیٰ سود کو مٹاتا ہے اور صدقات کی پرورش کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کسی ناشکرے بندے کو پسند نہیں کرتا ۔ زیر تبصرہ کتاب'' سود اور اسلامی نقطہ نظر "انڈیا کے معروف ع...

  • 14 جدید تجارتی شکلیں شرعی نقطۂ نظر (جمعرات 01 اکتوبر 2015ء)

    مشاہدات:2014

    ہرمسلمان کے لیے اپنے دنیوی واخروی تمام معاملات میں شرعی احکام اور دینی تعلیمات کی پابندی از بس ضروری ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :َیا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا ادْخُلُوا فِي السِّلْمِ كَافَّةً وَلَا تَتَّبِعُوا خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُبِينٌ(سورۃ البقرۃ:208)’’اے اہل ایمان اسلام میں پورے پورے داخل ہوجاؤ اور شیطان کے قدموں کے پیچھے مت چلو ،یقیناً وہ تمہارا کھلا دشمن ہے ‘‘۔کسی مسلمان کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ عبادات میں تو کتاب وسنت پر عمل پیرا ہو او رمعاملات او رمعاشرتی مسائل میں اپنی من مانی کرے او راپنے آپ کوشرعی پابندیوں سے آزاد تصور کرے۔ ہمارے دین کی وسعت وجامعیت ہےکہ اس میں ہر طرح کے تعبدی امور اور کاروباری معاملات ومسائل کا مکمل بیان موجود ہے۔ ان میں معاشی زندگی کے مسائل او ران کے حل کو خصوصی اہمیت کے ساتھ بیان کیاگیا ہے ہر مسلمان بہ آسانی انہیں سمجھ کر ان پر عمل پیرا ہوسکتاہے۔ تجارت، لین ،دین اورباہمی معاہدہ کی مختلف دور میں مختلف صورتیں رائج رہی ہیں ، بہت سے عقود اورمعاملات بنیادی طور پر قدیم زمانہ میں بھی رائج تھے او رعہد جدید میں ان کی ترقی یافتہ صورتیں رائج ہوگئیں ہیں۔ تجارتی مسائل میں ایک اہم مسئلہ یہ ہےکہ کیا خریدی ہوئی چیز پر قبضہ کرنے سے پہلے اس کو فروخت کیا جاسکتاہے یا نہیں اوراس کا منافع حاصل کرنا جائز ہوگا یا نہیں؟ آج قبضہ کےعنوان سے بہت سارے مسائل پیدا ہورہے ہیں لہذا ان مسائل کے پیش نظر  ’’مجمع الفقہ الاسلامی الہند ‘‘ نے ’’بیع قبل القبض ‘‘کےعنوان پر 14 ؍اکتوبر 1996ء جے پور(...

  • 15 تعلیم کے لیے قرض کا حصول۔ اسلامی نقطۂ نظر (ہفتہ 02 جولائی 2016ء)

    مشاہدات:1091

    انسانی زندگی میں تعلیم کی ضرورت و اہمیت ایک مسلمہ حقیقت ہے۔ اس کی تکمیل کے لیے ہر دور میں اہتمام کیا جاتا رہا ہے ،لیکن اسلام نے تعلیم کی اہمیت پر جو خاص زور دیا ہے اور تعلیم کو جو فضیلت دی ہے دنیا کے کسی مذہب اور کسی نظام نے وہ اہمیت اور فضیلت نہیں دی ہے۔ اسلام سے قبل جہاں دنیا میں بہت سی اجارہ داریاں قائم تھیں وہاں تعلیم پر بھی بڑی افسوس ناک اجارہ داری قائم تھی۔اسلام کی آمد سے یہ اجارہ داری ختم ہوئی۔ دنیا کے تمام انسانوں کو چاہے وہ کالے ہوں یا گورے، عورت ہو یامرد،بچے ہوں یا بڑے، سب کو کتاب و حکمت کی تعلیم دینے کی ہدایت دی۔اسلام نے نہ صرف یہ کہ علم حاصل کرنے کی دعوت دی،بلکہ ہر شخص کا فرض قرار دیا ہے۔آسمان وزمین، نظام فلکیات، نظام شب وروز،بادوباراں ،بحرودریا ،صحرا و کوہستان،جان دار بے جان ،پرندو چرند، غرض یہ کہ وہ کون سی چیز ہے جس کا مطالعہ کرنے اور اس کی پوشیدہ حکمتوں کا پتہ چلانے کی اسلام میں ترغیب نہیں دی گئی۔ مسلمانوں میں دینی تعلیم کے اہتمام کا سلسلہ عہد نبوی ہی میں شروع ہوچکا تھا۔ دارارقم ،درس گاہ مسجد قبا ، مسجد نبوی اور اصحاب صفہ کے چبوترہ میں تعلیم وتربیت کی مصروفیات اس کے واضح ثبوت ہیں۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر کوئی طالب علم اتنے وسائل نہ رکھتا ہو کہ اس سے وہ اپنی تعلیم حاصل کر لے تو کیا وہ اپنی تعلیم مکمل کرنے کے لئے سودی یا غیر سودی قرض لے سکتا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب "تعلیم کے لئے قرض کا حصول اسلامی نقطہ نظر " ایفا پبلیکیشنز، نئی دہلی کی شائع کردہ ہے، جس میں علم نافع کی اہمیت اور تعلیم جیسی ضرورت کے لئے غیر سودی اور سودی قرض ک...

  • 16 مقاصد شریعت عصری تناظر میں (اتوار 31 جولائی 2016ء)

    مشاہدات:1535

    اسلام ساری انسانیت کے لیے آیاہے، ہرزمانے کے لیے ہے، اور ہر خطے میں اس کی تعلیمات کے مطابق ایک پرسکون معاشرے کی تشکیل عمل میں آسکتی ہے ۔اسلام انسان کی  بنیادی ضرورتوں کا رکھوالا ہے ۔ بلکہ یوں کہہ لیجئے کہ اسلام انسانیت کی نجات کا ضامن ہے ، اسلام دین کی حفاظت کرتا ہے، جان کی حفاظت کرتا ہے،عقل کی حفاظت کرتا ہے،عزت کی حفاظت کرتا ہے،اور مال کی حفاظت کرتا ہے ۔ اصولِ فقہ کے ذیلی مباحث میں ایک عنوان " مقاصد شریعت "  بھی آتا ہے۔اس موضوع پر  متعدد قدیم وجدید علماء نے کتب لکھی ہیں۔ جن  میں مقاصد شریعت پر گفتگو کی گئی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب" مقاصد شریعت، عصری تناظر میں "ڈاکٹر جمال الدین عطیہ صاحب کی  تصنیف ہے ، جسے ایفا پبلیکیشنز انڈیا نے شائع کیا ہے۔اس کتاب میں مولف موصوف نے  مقاصد شریعت سے متعلقہ مسائل،مقاصد کا جدید تصور اور  مقاصد کی حیویت اور فعالیت،  وغیرہ جیسی مباحث بیان فرمائی ہیں۔اپنے موضوع پر یہ ایک تحقیقی اور علمی تصنیف ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس عظیم خدمت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔ (آمین)(راسخ)

  • جب کوئی معاشرہ مذہب کو اپنے قانون کا ماخذ بنا لیتا ہے تو اس کے نتیجے میں علم فقہ وجود پذیر ہوتا ہے۔ علم فقہ، دین کے بنیادی ماخذوں سے حاصل شدہ قوانین کے ذخیرے کا نام ہے۔ چونکہ دین اسلام میں قانون کا ماخذ قرآن مجید اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی سنت ہے اس وجہ سے تمام قوانین انہی سے اخذ کیے جاتے ہیں۔ جب قرآن و سنت کی بنیاد پر قانون سازی کا عمل شروع کیا جائے تو اس کے نتیجے میں متعدد سوالات پیدا ہو جاتے ہیں۔قرآن مجید کو کیسے سمجھا جائے؟قرآن مجید کو سمجھنے کے لئے کس کس چیز کی ضرورت ہے؟ سنت کو سمجھنے کے لئے کس کس چیز کی ضرورت ہے؟ سنت کہاں سے اخذ کی جائے گی وغیرہ وغیرہ۔ ان سوالوں کا جواب دینے کے لئے جو فن وجود پذیر ہوتا ہے، اسے اصول فقہ کہا جاتا ہے۔اور تمام قدیم مسالک (احناف،شوافع،حنابلہ اور مالکیہ)نے قرآن وسنت سے احکام شرعیہ مستنبط کرنے کے لئے  اپنے اپنے اصول وضع کئے  ہیں۔بعض اصول تو تمام مکاتب فکر میں متفق علیہ ہیں جبکہ بعض میں اختلاف بھی پایا جاتا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب " مباحث فقہیہ، اصول فقہ اور فقہ کے چند اہم مسائل پر اہم معاصر تحقیقی بحثیں " محترم قاضی مجاہد الاسلام قاسمی صاحب  کی تصنیف ہے، جسےایفا پبلیکیشنز، نئی دہلی نے شائع کیا ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ و ہ مولف موصوف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 18 غیر مسلم ممالک میں عدالتوں کی طلاق (جمعرات 04 اگست 2016ء)

    مشاہدات:1045

    اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات اور دستور زندگی ہے۔اسلام نے ہمیں زندگی کے تمام شعبوں کے بارے میں راہنمائی فراہم کی ہے۔عبادات ہوں یا معاملات،تجارت ہو یا سیاست،عدالت ہو یا قیادت ،اسلام نے ان تمام امور کے بارے میں مکمل تعلیمات فراہم کی ہیں۔اسلام کی یہی عالمگیریت اور روشن تعلیمات ہیں کہ جن کے سبب اسلام دنیا میں اس تیزی سے پھیلا کہ دنیا کی دوسرا کوئی بھی مذہب اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا ہے۔اسلامی تعلیمات نہ صرف آخرت کی میں چین وسکون کی راہیں کھولتی ہیں ،بلکہ اس دنیوی زندگی میں اطمینان ،سکون اور ترقی کی ضامن ہیں۔اسلام کی اس بے پناہ مقبولیت کا ایک سبب مساوات ہے ،جس سے صدیوں سے درماندہ لوگوں کو نئی زندگی ملی اور وہ مظلوم طبقہ جو ظالموں کے رحم وکرم پر تھا اسے اسلام کے دامن محبت میں پناہ ملی۔اسلام معاشرتی زندگی کے حوالے سے پاکیزہ تعلیمات اور روشن احکامات دیتا ہے۔اللہ تعالی نے جہاں نکاح  کرکےبندھن میں بندھنےکے احکام بیان کئے ہیں ، وہیں اگر یہ بندھن قائم رکھنا مشکل ہو جائے تو اسے طلاق کے ذریعے ختم کرنے کے احکام بھی تفصیل سے بیان کئے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب " غیر مسلم ممالک میں عدالتوں  کی طلاق " ایفا پبلیکیشنز، نئی دہلی کی شائع کردہ ہے، جس میں اس موضوع پر متعدد اہل علم کے مقالات جمع کر دئیے گئے ہیں۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ایفا پبلیکیشنز والوں کی اس خدمت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات اور دستور زندگی ہے۔اسلام نے ہمیں زندگی کے تمام شعبوں کے بارے میں راہنمائی فراہم کی ہے۔عبادات ہوں یا معاملات،تجارت ہو یا سیاست،عدالت ہو یا قیادت ،اسلام نے ان تمام امور کے بارے میں مکمل تعلیمات فراہم کی ہیں۔اسلام کی یہی عالمگیریت اور روشن تعلیمات ہیں کہ جن کے سبب اسلام دنیا میں اس تیزی سے پھیلا کہ دنیا کی دوسرا کوئی بھی مذہب اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا ہے۔اسلامی تعلیمات نہ صرف آخرت کی میں چین وسکون کی راہیں کھولتی ہیں ،بلکہ اس دنیوی زندگی میں اطمینان ،سکون اور ترقی کی ضامن ہیں۔اسلام کی اس بے پناہ مقبولیت کا ایک سبب مساوات ہے ،جس سے صدیوں سے درماندہ لوگوں کو نئی زندگی ملی اور وہ مظلوم طبقہ جو ظالموں کے رحم وکرم پر تھا اسے اسلام کے دامن محبت میں پناہ ملی۔اسلام معاشرتی زندگی کے حوالے سے پاکیزہ تعلیمات اور روشن احکامات دیتا ہے، اور نکاح پر مبنی پاکیزہ زندگی گزارنے کی ترغیب دیتا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب " نکاح میں شرط اور مشروط مہر،فقہ اسلامی کی روشنی میں " ایفا پبلیکیشنز، نئی دہلی کی شائع کردہ ہے، جس میں اسلامک فقہ اکیڈمی کے آٹھویں فقہی سیمینار مؤرخہ 22 تا 24 اکتوبر 1995ء  منعقدہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی  انڈیا میں پیش کئے گئے علمی، فقہی اور تحقیقی مقالات ومناقشات کے مجموعے کو جمع کر دیا گیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ایفا پبلیکیشنز والوں کی اس خدمت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 20 قیدیوں کے حقوق اسلامی تعلیمات کی روشنی میں (ہفتہ 06 اگست 2016ء)

    مشاہدات:1197

    اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات اور دستور زندگی ہے۔اسلام نے ہمیں زندگی کے تمام شعبوں کے بارے میں راہنمائی فراہم کی ہے۔عبادات ہوں یا معاملات،تجارت ہو یا سیاست،عدالت ہو یا قیادت ،اسلام نے ان تمام امور کے بارے میں مکمل تعلیمات فراہم کی ہیں۔اسلام کی یہی عالمگیریت اور روشن تعلیمات ہیں کہ جن کے سبب اسلام دنیا میں اس تیزی سے پھیلا کہ دنیا کی دوسرا کوئی بھی مذہب اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا ہے۔اسلامی تعلیمات نہ صرف آخرت کی میں چین وسکون کی راہیں کھولتی ہیں ،بلکہ اس دنیوی زندگی میں اطمینان ،سکون اور ترقی کی ضامن ہیں۔اسلام کی اس بے پناہ مقبولیت کا ایک سبب مساوات ہے ،جس سے صدیوں سے درماندہ لوگوں کو نئی زندگی ملی اور وہ مظلوم طبقہ جو ظالموں کے رحم وکرم پر تھا اسے اسلام کے دامن محبت میں پناہ ملی۔اسلام نے جہاں  اعلی اخلاقیات کا حکم دیا ہے وہیں مجرموں اور قیدیوں کے حقوق بھی بیان کر دئیے ہیں تاکہ کسی کے ساتھ کوئی ظلم نہ ہو سکے۔ زیر تبصرہ کتاب" قیدیوں کے حقوق،اسلامی تعلیمات کی روشنی میں "ایفا پبلیکیشنز، نئی دہلی کی شائع کردہ ہے، جس میں اسلامک فقہ اکیڈمی کے اٹھارہویں فقہی سیمینار منعقدہ 28 فروری تا 2 مارچ 2009ء میں پیش کئے گئے علمی، فقہی اور تحقیقی مقالات ومناقشات کے مجموعے کو جمع کر دیا گیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ایفا پبلیکیشنز والوں کی اس خدمت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 21 برصغیر ہند میں علوم فقہ اسلامی کا ارتقاء (جمعہ 14 اکتوبر 2016ء)

    مشاہدات:1339

    اسلامی علوم میں فقہ اسلامی کوخصوصی اہمیت حاصل ہے کیونکہ فقہ کاتعلق ایک طرف کتاب اللہ اورسنت رسول اللہ ﷺ سے جو جو تمام احکام شرعیہ کاماخذ ہیں۔ جس نے زندہ مسائل کے استدلال، استنباط اور اجتہاد میں قرآن وسنت کواپنایا اور شرعی احکام کی تشریح وتعبیر میں ان دونوں کو ہی ہر حال میں ترجیح دی۔ یہ تعلیمات اللہ تعالیٰ کا ایسا عطیہ ہیں جو اپنے لطف وکرم سے کسی بھی بندے کو خیر کثیر کے طور پر عطا کردیتا ہے۔ اور فقہ اسلامی اس علم کا نام ہے جو کتاب وسنت سے سچی وابستگی کے بعد تقرب الٰہی کی صورت میں حاصل ہوتا ہے ۔ یہ علم دھول وغبار کواڑا کر ماحول کوصاف وشفاف بناتا ہے اور بعض ایسے مبہم خیالات کا صفایا کرتا ہے جہاں بظاہر کچھ ہوتا ہے اور اندرون خانہ کچھ ۔ فقہ اسلامی مختلف شبہ ہائے زندگی کے مباحث پر مشتمل ہے اس کے فہم کے بعض نابغۂ روزگار متخصصین ایسےبھی ہیں جن کے علم وفضل اوراجتہادات سےایک دنیا مستفید ہوئی اور ہورہی ہے ۔ہندوستان میں جب اسلامی علوم کی کرنیں طلوع ہونے لگیں تو شروع میں علم حدیث پرزیادہ توجہ دی گئی خاص کر سندھ اور گجرات کے علاقہ میں لیکن اس کے بعد اہل فقہ اہل علم کی توجہ کا مرکز بن گیا اور فتاوی تاتارخانیہ، فتاوی ہندیہ ، قضا کے موضوع پر صنوان القضاءاوراصول فقہ میں مسلم الثبوت اور اس کی شرح فواتح الرحموت، نورالانوار جیسی اہم تالیفات منظر عام آئیں جس میں بعض کو فقہ اسلامی کا انسائیکلوپیڈیا کہا جاسکتا ہے ۔بر صغیر کے علماء میں فقہ سے تعلق رکھنے والی شخصیتوں کی کثرت کاجناب محمد اسحاق بھٹی ﷫ کی کتاب ’فقہاء ہند‘ کی کئی جلدوں سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ زیر...

  • 22 اسلام کا نظام معیشت شیئرز اور کمپنی (بدھ 26 اکتوبر 2016ء)

    مشاہدات:1282

    اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات اور دستور زندگی ہے،جس میں معاشرت ومعیشت سمیت زندگی کے تمام شعبوں کے حوالے سے مکمل راہنمائی موجود ہے۔ اسلام کا نظریہ معیشت فطرت سے ہم آہنگ اور تمام معاشی مشکلات کا واحد حل ہے، اس لئے کہ یہ نظام نہ تجربات کا مرہون منت ہے اور نہ اقتصادی ماہرین کی ذہنی کاوش کا نتیجہ،بلکہ یہ معاشی نظام پروردگار نے تجویز کیا اور پیغمبر اسلام نے پیش کیا، اس لئے یہ نظام ہی وہ واحد نظام معیشت ہے جو اگر تمام عالم پر چھا جائے تو دنیا میں صرف معاشی سکون ہی سکون ہو، اس لئے کہ یہ مالک حقیقی نے بنایا ہے وہ ہم سب کا رب ہے، لہٰذا اس کی ربوبیت کا سایہ بھی سب پر یکساں ہے، اس میں اجتماعی مفاد ہی ملحوظ ہے، شخصی یا گروہی مفاد کا شائبہ تک نہیں۔ اسلامی نقطہ نظر سے حقیقی مالک صرف اللہ ہے، ہر چھوٹی سے چھوٹی چیز اور بڑی سے بڑی چیز اس کی ملکیت میں داخل ہے، چنانچہ اُس نے مال کی نسبت اپنی ذات کی طرف دیتے ہوئے فرمایا:”خدا کے مال میں سے جو اُس نے تمہیں دیا ہے، اُن کو بھی دو“۔ زیر تبصرہ کتاب" اسلام کا نظام معیشت، شیئرز اور کمپنی "محترم مولانا قاضی مجاہد الاسلام قاسمی صاحب کی مرتب کردہ ہے، جسےایفا پبلیکیشنز، نئی دہلی نے شائع کیا ہے۔اس کتاب میں اسلامک فقہ اکیڈمی کے نویں فقہی سیمینار منعقدہ11 تا 14 اکتوبر1996ء  میں پیش کئے گئے علمی، فقہی اور تحقیقی مقالات ومناقشات کے مجموعے کو جمع کر دیا گیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ایفا پبلیکیشنز والوں کی اس محنت کو قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 23 جبری شادی کا حکم (بدھ 26 اکتوبر 2016ء)

    مشاہدات:1073

    اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں سے ایک نعمت نیک اولاد کا ہونا ہے ۔جسے اللہ تعالیٰ نے آنکھوں کی ٹھنڈک کہا ہے اس لئے اولاد کا ہونا خوش بختی تصور کیا جاتا ہے۔جنہیں یہ نعمت میسر آتی ہے ۔وہ بہت خوش و خرم رہتے ہیں ،اور جن کے ہاں اولاد نہیں ہوتی ،وہ ہمیشہ اولاد کی محرومیت کے صدمے میں پڑے رہتے ہیں ۔مگر جب انہیں اولاد مل جاتی ہے تو گویا وہ سمجھتے ہیں کہ دنیا کی ہر نعمت مل گئی  ۔اولاد کا فطری حق ہے کہ اس کی حفاظت کی جائے کیونکہ بچے کی پیدائش کا اللہ تعالیٰ نے انسان کو ایک ذریعہ بنا رکھا ہے اس لیے اس پر یہ فریضہ عائد کیا ہے کہ اپنی اولاد کی حفاظت کرے۔ اسلام سے پہلے اولاد کو جینے کا حق حاصل نہ تھا بلکہ اولاد کی زندگی کو مختلف صورتوں سے ختم کر دیا جاتا تھا ۔اسی طرح اولاد کا یہ بھی حق ہے کہ جب وہ بالغ ہو جائے تو والدین اس کے لئے مناسب رشتے کا بندوبست کریں، اور رشتے کے انتخاب میں ان پر جبر کرنے کی بجائے  ان کی رضامندی کا خیال رکھیں۔ زیر تبصرہ کتاب" جبری شادی کا شرعی حکم" اسلامک فقہ اکیڈمی کے تیرہویں سیمینار منعقدہ 13 تا 16 اپریل 2001ء جامعہ سید احمد شہید کٹولی   میں پیش کئے جانے والے مقالات پر مشتمل ہے۔جن میں  عورتوں کی شادی میں ان کی رضا اور پسند کے موضوع پر تفصیلی گفتگو کی گئی ہے۔۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ایفا پبلیکیشنز والوں کی اس خدمت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 24 تغیر پذیر حالات میں تفقہ کے تقاضے اور ہم (جمعہ 11 نومبر 2016ء)

    مشاہدات:1005

    احکام شریعت کے فہم صحیح کو تفقہ کہتے ہیں۔نبی کریم ﷺ نے فرمایا:اللہ تعالی جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتے ہیں اسے دین کی فہم صحیح عطا فرماتے ہیں۔دین کے فہم صحیح کے لئے ضروری ہے کہ فقیہ کا ایک طرف خالق کائنات سے  اس کا رشتہ استوار ہو، دوسری طرف وہ خلق اللہ کی ضرورتوں اور مصلحتوں سے آگاہ ہو۔وہ کتاب وسنت کا غواص بھی ہو اور اپنے عہد کے تقاضوں سے باخبر اور سماج کا نباض بھی ہو۔ دنیا میں ہمیشہ تغیرات اور تبدیلیاں آتی رہتی ہیں۔کبھی کوئی ایسا دور نہیں گزرا کہ اس عالم میں جمود طاری ہو گیا ہو۔انسان کی ساری تاریخ انقلاب اور تغیرات سے بھری پڑی ہے۔لیکن موجودہ صدی میں تغیرات اور تبدیلیوں کی رفتار بہت تیز ہوگئی ہے۔ان تغیرات وتبدیلیوں نے امت مسلمہ کو ایک چیلنج سے دوچار  کر دیا ہے۔ایسا چیلنج جس کا تعلق براہ راست فقہ اسلامی کے احیاء اور تدوین نو سے ہے۔اس چیلنج سے عہدہ برا ہونے کے لئے جہاں اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ جدید تمدنی مسائل کا حل کتاب وسنت کی روشنی میں اجتہاد کے ذریعے تلاش کیا جائے وہیں جدید اسلوب کے مطابق فقہی کتب کی تدوین واشاعت کی ضرورت بھی بڑھ گئی ہے۔اس ضرورت کو پورا کرنے کے لئے متعدد ادارے اپنی اپنی استطاعت کے مطابق کام کر رہے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب" تغیر پذیر حالات میں تفقہ کے تقاضے اور ہم "عالم عرب کے معروف عالم دین محترم  داکٹر یوسف القرضاوی کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے  تغیر پذیر حالات میں تفقہ کے تقاضوں کو بیان فرما یا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف  کی اس خدمت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات...

  • 25 قربانی کے ایام و اوقات (ہفتہ 12 نومبر 2016ء)

    مشاہدات:1178

    ماہِ ذوالحج سال بھرکے بعدجب آتاہے توجذبۂ تسلیم ورضاء اورجذبۂ ایثاروقربانی بھی ہمراہ لاتا ہے۔قمری سال کے اس آخری مہینے کامقدس چاند جونہی طلوع ہوتاہے،تسلیم ورضاکی لازوال داستان کی یادبھی ساتھ لاتا ہے۔ اس ماہ کی دس،گیارہ اوربارہ تاریخ کودنیابھرکے کروڑوں صاحب نصاب مسلمان اسوۂ ابراہیمی کی یادتازہ کرنے کیلئے قربانی کرتے ہیں۔عیدقربان!مسلمانوں کاعظیم مذہبی تہوارہے جوہرسال 12-11-10 ذوالحجہ کوانتہائی عقیدت ومحبت، خوشی ومسرت،ذوق وشوق،جوش وخروش اورجذبۂ ایثارو قربانی کے منایاجاتاہے۔اس دن اﷲ تعالیٰ کی راہ میں اپناتن،من ،دہن قربان کرنے کے عہدکی تجدیدہوتی ہے اوریہی مسلمانوں کی عید ہوتی ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام اوران کے عظیم فرزندحضرت اسماعیل علیہ السلام کا مقدس ذکر قیامت تک فضاؤں اور ہواؤں میں گونجتا رہے گا ۔ زیر تبصرہ کتاب " قربانی کے ایام واوقات " ایفا پبلیکیشنز، نئی دہلی کی شائع کردہ ہے، جس میں قربانی کے ایام واوقات کے موضوع پر منعقد ہونے والے 19 ویں فقہی سیمینار میں پیش کئے گئے  متعدد اہل علم کے مقالات جمع کر دئیے گئے ہیں۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ایفا پبلیکیشنز والوں کی اس خدمت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 26 موجودہ حالات میں سونا اور چاندی کا نصاب (بدھ 04 جنوری 2017ء)

    مشاہدات:1207

    اسلام کے نظام معیشت کی بنیادی خصوصیت انفرادی ملکیت کو تسلیم کرنے کے ساتھ ساتھ دولت کی زیادہ سے زیادہ تقسیم اور اس کو ارتکاز سے بچانا ہے،اس کی ایک عملی مثال زکوۃ کا  نظام ہے۔زکوۃ کو واجب قرار دیا جانا ایک طرف اس بات کی دلیل ہے کہ سرمایہ دار خود اپنی دولت کا مالک ہےاور وہ جائز راستوں میں اسے خرچ کر سکتا ہے۔دوسری طرف اس سے یہ بات  بھی واضح ہوتی ہے کہ انسان کی دولت میں سماج کے غریب لوگوں کا بھی حق ہے ۔یہ حق متعین طور پر اڑھائی فیصد سے لیکر بیس فیصد تک ہے،جو مختلف اموال میں زکوۃ کی مقررہ شرح ہے،اور بطور نفل اپنی ضروریات کے بعد غرباء پر جتنا کرچ کیا جائے اتنا ہی بہتر ہے۔نبی کریم ﷺ کے زمانے میں سونا اور چاندی بطور کرنسی کے استعمال ہوتے تھے اور ان کی قیمت میں کوئی زیادہ فرق نہیں تھا۔لیکن وقت کے ساتھ ساتھ سونے اور چاندی کی قیمت میں بہت زیادہ فرق آ گیا۔آج جب کاغذی

  • 27 فقہ شافعی، تاریخ و تعارف (اتوار 25 دسمبر 2016ء)

    مشاہدات:1339

    امام شافعی﷫ کے فقہی مسلک کو مذہب شافعی کہتے ہیں۔ آپ کا نام محمد بن ادریس الشافعی ہے۔ امام ابوحنیفہ ﷫ کا سال وفات اور امام شافعی﷫کا سال ولادت ایک ہی ہے آپ 150ھ میں فلسطین کے ایک گاؤں غزہ میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی زمانہ بڑی تنگدستی میں گزرا، آپ کو علم حاصل کرنے کا بڑا شوق تھا۔ 7 سال کی عمر میں قرآن مجید حفظ کر لیا تھا، 15 برس کی عمر میں فتویٰ دینے کی اجازت مل گئی تھی۔ آپ امام مالک کی شاگردی میں رہے اور ان کی وفات تک ان سے علم حاصل کیا۔ آپ نے اصولِ فقہ پر سب سے پہلی کتاب ’’الرسالہ‘‘ لکھی ’’الام‘‘ آپ کی دوسری اہم کتاب ہے۔ آپ نے مختلف مکاتیب کے افکار و مسائل کو اچھی طرح سمجھا اور پرکھا پھر ان میں سے جو چیز قرآن و سنت کے مطابق پائی اسے قبول کر لیا۔ جس مسئلے میں اختلاف ہوتا تھا اس پر قرآن و سنت کی روشنی میں مدلل بحث کرتے۔ آپ صحیح احادیث کے مل جانے سے قیاس و اجتہاد کو چھوڑ دیتے تھے۔ فقہ شافعی کے ماننے والوں کی تعداد فقہ حنفی کے بعد سب سے زیادہ ہے اور آج کل ان کی اکثریت ملائشیا، انڈونیشیا، حجاز، مصر و شام اور مشرقی افریقہ میں ہے۔ فقہ حنفی کی طرح فقہ شافعی بھی کافی وسیع ہے۔ فقہ شافعی کی ایک بڑی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں بڑے بڑے محدثین پید ا ہوئے انہوں نے اپنی تحریر سے اس دبستان فقہ کی خوب خوب خدمت کی اور فقہی تالیفات کے ڈھیر لگا دیئے۔امام شافعی نے 204ھ میں مصر میں وفات پائی۔ زیر تبصرہ کتاب ’’فقہ شافعی تاریخ وتعارف‘‘ فقہ اکیڈمی انڈیا کی طرف سے 2013ء میں امام شافعی اور فقہ شافعی کے تعارف کے سلسل...

  • 28 آبی وسائل شرعی احکام ضوابط (بدھ 18 جنوری 2017ء)

    مشاہدات:1026

    پانی اور ہوا انسانی زندگی ہی نہیں بلکہ کائنات کے وجود و بقا کے لئے خالقِ کائنات کی پیدا کردہ نعمتوں میں سے عظیم نعمت ہے۔ انسان کی تخلیق سے لے کر کائنات کی تخلیق تک سبھی چیزوں میں پانی اور ہوا کی جلوہ گری نظر آتی ہے۔ قرآن کریم میں ہے۔ وجعلنا من الماءِ کل شیءٍ حی افلا یو منون۔ ترجمہ: اور ہم نے ہر جاندار چیز پانی سے بنائی تو کیا وہ ایمان نہ لائیں گے (سورۃ انبیاء، آیت ۳۰) سی کرہِ ارض (زمین) پر جتنے بھی جاندار ہیں خواہ انسان ہوں یا دوسری مخلوق ان سب کی زندگی کی بقا پانی پر ہی منحصر (Depend) ہے۔ زمین جب مردہ ہو جاتی ہے تو آسمان سے آبِ حیات بن کر بارش ہوتی ہے اور اس طرح تمام مخلوق کے لئے زندگی کا سامان مہیا کرتی ہے۔ اللہ نے انسانوں کے لئے پانی کا انتظام مختلف طریقوں سے کر رکھا ہے۔ پانی کی اہمیت و ضرورت کے پیش نظر اس کی بوند بوند کی حفاظت کرنا ہرانسان کاحق ہے۔ نبی کریمﷺ نے احادیث مبارکہ میں پانی کو استعمال کرنے کے متعلق احکامات صادر فرمائے ہیں۔ کتب حدیث وفقہ میں کتاب المیاہ کےنام محدثین و فقہاء نے ابواب قائم کیے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’آبی وسائل شرعی احکام وضوابط‘‘ اسلامک فقہ اکیڈمی ،انڈیا کی جانب سے مارچ 2011ء میں ’’آبی وسائل اور ان کے متعلق احکام‘‘ کے عنوان سےمنعقد کیے گئے بیسویں سیمینار میں پیش کئے گئے علمی وتحقیقی مقالات کا مجموعہ ہے ۔اس موضوع کے متعلق نہ صرف ہندوستان بلکہ عالمی سطح پر بھی تقریباً یہ پہلا سیمینار تھا۔ جس میں ارباب فقہ و افتاء کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی اور اس مسئلہ کی مختلف جہتوں پر سہل او...

  • 29 اسلام کا تصور آزادی (جمعہ 20 جنوری 2017ء)

    مشاہدات:891

    انسان کی زندگی دکھ سکھ، غمی و خوشی، بیماری و صحت، نفع و نقصان اور آزادی و پابندی سے مرکب ہے۔ اس لیے شریعت نے صبر اور شکر دونوں کو لازمی قرار دیا ہے تاکہ بندہ ہر حال میں اپنے خالق کی طرف رجوع کرے۔ دکھ ، غمی، بیماری، نقصان اور محکومیت پر صبر کا حکم ہے اور ساتھ ساتھ ان کو دور کرنے کے اسباب اختیار کرنے کا بھی حکم ہے جبکہ سکھ ، خوشی، صحت، نفع اور آزادی پر شکر کرنے کا حکم ہے اور ساتھ ساتھ ان کی قدردانی کا بھی حکم دیا گیا ہے۔ اگر دونوں طرح کے حالات کو شریعت کے مزاج اور منشاء کے مطابق گزارا جائے تو باعث اجر وثواب ورنہ وبال جان۔لیکن ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم دونوں حالتوں میں خدائی احکام کو پس پشت ڈالتے ہیں۔ مشکل حالات پر صبر کے بجائے ہائے ہائے، مایوسی و ناامیدی اور واویلا کرتے ہیں جبکہ خوشی کے لمحات میں حدود شریعت کو یکسر پامال کردیتے ہیں۔ اس کی بے شمار مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔ آپ نے اکثر دیکھا ہو گا کہ جب کسی گھر میں کوئی فوتگی ہو جاتی ہے تو لوگوں کی زبانیں تقدیر خداوندی پر چل پڑتی ہیں اور مرنے والے کو کہہ رہے ہوتے ہیں کہ "ابھی تو تیرا وقت بھی نہیں آیا تھا" وغیرہ وغیرہ۔ آزادی کے مد مقابل یوں تو غلامی کا لفظ آتا ہے اور غلامی کا مفہوم عام طور پر یہی سمجھا جاتا ہے کہ کوئی انسان یا گروہ، قوم یا نسل کسی دوسرے انسان، گروہ، قوم یا نسل کے ہاتھوں غلام بنا دی جائے۔دنیا بھر میں مختلف ممالک سال میں اپنے وطن کے لیے ایک دن ایسا مقرر کرتے ہیں کہ جس میں ان کے عوام اور حکومت وطن کی کی آزادی کا دن مناتے ہوئے ملک کی تعظیم کرتے ہیں۔ اس دن کو ''وطن کا دن '&#...

  • سورۃ الحشر مدنی سورت ہے۔اس میں اللہ اور اس کے رسول کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے والے مدینہ منورہ کے یہودی قبیلہ بنی نضیر کے رسوا کن انجام سے عبرت دلائی گئی ہے اور اہل ایمان کو ان مسائل میں جو بنی نضیر سے جنگ کے تعلق سے پیش آئے تھے ہدایت دی گئی ہے۔ زیرتبصرہ کتاب ’’اصلاح اور آزادی کا طریقہ کارسورۃ الحشر کی روشنی میں‘‘ مصر کے ڈاکٹر صلاح الدین سلطان کی عربی تصنیف کا اردو ترجمہ ہے انہوں نے اس کتاب میں سورۃ الحشر کی روشنی میں ارض فلسطین کی موجود صورت حال کو سامنے رکھتے ہوئے مسلمانوں کو اس طرف متوجہ کیا ہے کہ اب وقت آگیا ہے کہ ہم سورۃ الحشرکی آیات پر یقین رکھتے اللہ تعالیٰ کے دشمنوں سے نبرد آزمائی کےلیے تیار ہوجائے۔ اللہ   کے نادار، کمزرو اور مظلوم بندوں کی مدد کے لیے اٹھ کھڑے ہوں۔جس طرح اللہ تعالیٰ نےنبی کریمﷺ اور صحابہ کرام﷢ کی یہود مدینہ کے خلاف مدد کی تھی اسی طرح آج ان شاء اللہ ارض فلسطین کو آزاد کرانےمیں اللہ تعالیٰ مسلمانوں کی ضرور مدد کرے گا۔ (م۔ا)

  • عصر حاضر کی تہذیب نے انسان اور اس کے گردوپیش کے عروج و ارتقاء کی لمبی مسافت طے کر لی ہے اور اس کی آسائش اور آسودگی کے لئے بہت سے مادی وسائل مہیا کر دئیے ہیں، لیکن نئی ایجادات وانکشافات کے سبب انسان پریشانی میں مبتلاء ہو گیا ہے اور مشرق کا مغلوب اور شکست خوردہ انسان مغرب کے غالب انسان کی تقلید میں اور نقالی کا دلدادہ اور عاشق ہو گیا ہے، اور باشندگان مشرق ومغرب دونوں کی انسانیت و شرافت ضعف و اضمحلال کا شکار ہو چکی ہے۔ اس لئے کہ جسم کی آسودگی کا انتظام کیا گیا ہے اور روح کے تقاضوں کو یکسر نظر انداز کر دیا گیا ہے۔ انسان اپنے ارد گرد کی چیزوں کا تو مالک بن گیا ہے لیکن اس کے ہاتھ خود اپنے نفس کا لگام چھوٹ گیا ہے اوروہ خود اپنا دشمن بن گیا ہے۔انسان کی روح اور اخلاق کی آسودگی کاکام اللہ تعالی کی عبادات میں مخفی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب" انسان کی روح اور اخلاق پر عبادات کے تربیتی اثرات "محترم داکٹر صلاح الدین سلطان کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے انسان کی روح اور اخلاق پر عبادات کے تربیتی اثر جیسے اہم موضوع کو بیان فرمایا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس خدمت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔ آمین(راسخ)

  • 32 تفریح و سیاحت، اس کے جائز وسائل و شرعی ضوابط (جمعرات 26 جنوری 2017ء)

    مشاہدات:1041

    تفریح فارغ وقت میں دل چسپ سرگرمی اختیار کرنے کو کہتے ہیں۔ یہ لفظ اردو عربی اور فارسی تینوں زبانوں میں مستعمل ہے۔ دور جدید میں تفریح انسانی زندگی کے   معمولات کا لازمی حصہ بن چکی ہے۔ تیز مشینی دو راور مقابلے کی فضا میں کام کرنے سے انسان تھک کر چور ہو جاتا ہے اس کا حل اس نے تفریح میں ڈھونڈا ہے۔ مگر بہت سی تفریحی سرگرمیاں انسان کو دوبارہ کام کے قابل بنانے کے ساتھ ساتھ اس سے دین بھی چھین لیتی ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’تفریح وسیاحت کا اس کے جائز وسائل و شرعی ضوابط ‘‘ اسلامک فقہ اکیڈمی، انڈیا کے زیر اہتمام مارچ 2011ء میں منعقد کیے گئے بیسویں فقہی سیمنار میں مختلف اصحاب علم و دانش و مفتیان کرام کی کرطرف سے پیش گئے علمی، فقہی اور تحقیقی مقالات ومناقشات کامجموعہ ہے جس میں مزاح، لطیف گوئی، مزاحیہ کہانیاں اور ڈرامے، سیر و سیاحت پر زرِ کثیر خرچ کرنا، مختلف کھیل اس کے اصول، کھلاڑیوں کے لباس و پوشاک کھیلوں پر سٹہ لگانا، تاریخی اور تعلیمی مقاصد کے لیے فلمیں اور کارٹون بنانا وغیرہ جیسی ابحاث شامل ہیں۔ (م۔ا )

  • انسانی تخلیق میں اللہ تعالی کی جو حکمت، قدرت، تدبیر اور مناسبت کار فرما ہے سائنس کی ترقی  کے ساتھ ساتھ اس کی نئی نئی جہتیں سامنے آ رہی ہیں۔ایسے ہی مظاہر قدرت میں جنیٹک سائنس سے حاصل ہونے والی معلومات بھی ہیں۔انسان کے جسم کا بے شمار خلیات سے مرکب ہونا، ہر خلیہ پر جین کی ایک بہت بڑی تعداد کا قیام پذیر ہونا اور ان جینوں کا انسان کی مختلف صلاحیتوں اور قوتوں پر اثر انداز ہونا کارخانہ قدرت کا ایسا اعجاز ہے کہ جس کا رمز آشنا ایک مسلمان ڈاکٹر کے بہ قول دو ہی صورتوں میں ایمان سے محروم رہ سکتا ہے، یا  تو اس کے دماغ میں خلل ہو یا وہ توفیق خداوندی سے محروم ہو۔جنیٹک سائنس جہاں خدا کی بے پناہ قدرت اور اس کی حکمت و تدبیر سے پردہ اٹھاتی ہےاور  علاج کے باب میں ایک چراغ امید بن کر آئی ہے، وہاں بہت سارے شرعی مسائل بھی ان تحقیقات کے پس منظر میں پیدا ہو گئے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب" ڈی این اے ٹسٹ اور جنیٹک سائنس  سے متعلق شرعی مسائل"  ایفا پبلیکیشنز، نئی دہلی کی شائع کردہ ہے، جس میں  انہوں نے پندرہویں فقہی سیمینار منعقدہ میسور مؤرخہ  11 تا 13 مارچ 2006ء میں ڈی این اے ٹسٹ اور جنیٹک سائنس  سے متعلق شرعی مسائل  کے موضوع پر  اہل علم کی طرف سے پیش کئے گئے تحقیقی مقالات جمع کر دئیے گئے ہیں۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ایفا پبلیکیشنز والوں کی اس خدمت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)آمین(راسخ)

  • 34 اسلام کا سیاسی نظام (بدھ 01 فروری 2017ء)

    مشاہدات:2270

    دین اسلام مذہب اور سیاست کے درمیان علیحدگی کو تسلیم نہیں کرتا ہے۔اسلام اللہ تعالی کی جانب سے انسانوں کے تمام مادی اورروحانی معاملات میں رہنمائی کے لئے آیا ‏ہے۔ نبی کریم ﷺنے یہی کام اپنی مبارک زندگی میں عملی طور پر کر کے دکھایا ہے۔ اسلام میں یہ عقیدہ اور تصور باہر سے آیا ہے کہ دین کی روحانی اور معنوی تعلیمات پر ‏ایک علیحدہ طبقہ عمل کرے گا اور سیاست، نظامِ حکومت اور معاشرے کے معاملات دوسرا طبقہ سنبھالے گا۔ اسی لیے تو آپﷺاور ان کے بعد خلفائے راشدین ‏مسلمانوں کی حکومت اور نظام کے رہنما بھی تھے اور ان کے دینی رہنماء اور امام مسجد بھی۔‏ تاریخِ اسلام میں جب بھی معاشرے کو سیاسی اعتبار سے مسجد اور محراب سے قیادت اور رہنمائی ملی ہے،مسلمان قوت، سر بلندی اور فتوحات حاصل کرتے رہے۔ اس کے ‏برعکس جب بھی مسلمانوں کی سیاسی قیادت قوم پرستوں نے کی تو مسلمان ذلت اور آپسی جنگوں کا شکار ہو کر حکومت اور نظام گنوا بیٹھے۔ مذہب اور سیاست کے درمیان علیحدگی ‏کے نظریہ کومغربی اصطلاح میں سیکولرازم بھی کہا جاتا ہے، جو کلیسا کے منحرف دین کے خلاف یورپ کی الحادی بغاوت کا نتیجہ ہے۔اس نظریے نے ایک جانب اگر یورپیوں کو ‏کلیسا کے استبداد کے مقابلے کے لیے کھڑا کیا تو دوسری جانب یورپی استعماروں نے اسلامی دنیا میں اپنے نظریے کی اشاعت اور پھیلاؤ کے لیے مسلمانوں کو بھی اسلامی نظام کی ‏حاکمیت سے محروم کر دیا۔اردو زبان میں تقریبا تمام اسلامی علوم پر کتب لکھی جا چکی ہیں لیکن سیاسیات پر کما حقہ توجہ نہیں دی گئی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب" اسلام کا سیاسی نظام" مفت...

  • 35 ذبیحہ کے شرعی احکام (ہفتہ 28 جنوری 2017ء)

    مشاہدات:1114

    اسلام ایک کامل اور اکمل دین ہے جواپنے ماننے والوں کوصرف مخصوص عقائد ونظریات کو اپنانے ہی کی دعوت نہیں دیتا بلکہ زندگی کے ہر موڑ پر یہ دین مسلمانوں کی رہنمائی کرتا ہے۔ اسلام کی یہ روشن اور واضح تعلیمات اللہ تعالیٰ کی عظیم کتاب قرآن مجید او رنبی کریم ﷺ کی صحیح احادیث کی شکل میں مسلمانوں کے پاس محفوظ ہیں۔ انہی دوچشموں سے قیامت تک مسلمان سیراب ہوتے رہے ہیں گے اور اپنے علم کی پیاس بجھاتے رہیں گے۔ انسان کے روزہ مرہ کے معمولات میں سے ایک اہم امر   جانور کو ذبج کرنا ہے۔ اس کے بارے میں نبی کریمﷺ کے واضح ارشادات موجود ہیں۔ فقہاء نےبھی ذبائح کا مستقل عنوان قائم کر کے اس موضوع پر تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔ احادیث مبارکہ کے مطالعہ سےمعلوم ہوتا ہے کہ جس جانور کو ذبح کرنا مقصود ہو‘ تو وہ اس آلے کو نہ دیکھ رہا ہو جس سے اسے ذبح کرنا ہے‘ نیز ذبیحہ کو دوسرے جانوروں سے چھپا کر رکھنا چاہئے کیونکہ مسند امام احمد میں حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے حکم دیا کہ چھری کو تیز کر لیا جائے اور اسے جانوروں سے چھپایا جائے اور معجم طبرانی کبیرو اوسط میں حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے روایت ہے۔ کہ رسول اللہﷺ کا گزر ایک ایسے شخص کے پاس سے ہوا جس نے بکری کی گردن پر پاؤں رکھا ہوا تھا‘ وہ چھری تیز کر رہا تھا اور بکری اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ رہی تھی‘ آپ نے فرمایا: ’’یہ کام اس سے پہلے کیوں نہ کر لیا‘ کیا تو اسے دو دفعہ مارنا چاہتا ہے‘‘۔ جانور کو ذبح کرتے وقت قبلہ رخ کر لیا جائے۔ اونٹ نحر کے وقت کھڑا کر لیا جائے اور...

  • 36 ھبہ سے متعلق بعض مسائل (اتوار 05 فروری 2017ء)

    مشاہدات:1054

    دور جدید کا انسان جن  سیاسی ،معاشرتی اور معاشی مسائل سے دوچار ہے اس پر زمانے کا ہر نقش فریادی ہے۔آج انسان اس رہنمائی کا شدید حاجت مند ہے کہ اسے بتلایا جائے ۔اسلام زندگی کے ان مسائل کا کیا حل پیش کرتا ہے۔ زندگی کے مختلف شعبوں میں اس کا وہ  نقطہ اعتدال کیا ہے؟جس کی بناء پر وہ سیاسی ،معاشی اور معاشرتی دائرے میں استحکام اور سکون واطمینان سے انسان کو بہرہ ور کرتا ہے ۔اس وقت دنیا میں دو معاشی نظام اپنی مصنوعی اور غیر فطری بیساکھیوں کے سہارے چل رہے ہیں۔ایک مغرب کا سرمایہ داری نظام ہے ،جس پر آج کل انحطاط واضطراب کا رعشہ طاری ہے۔دوسرا مشرق کا اشتراکی نظام ہے، جو تمام کی مشترکہ ملکیت کا علمبردار ہے۔ان دونوں کے بر عکس اسلام کا معاشی نظام ایک زبر دست نظام ہے۔جس میں انسان کو ملکیت بھی دی گئی ہےاور اس کے ساتھ ساتھ دوسروں پر خرچ کرنے کی بھی ترغیب دی گئی ہے۔اسلام کے مالی نظام میں ایک اہم باب 'ہبہ' کا ہے،  ہبہ اسلام میں انفرادی ملکیت اور اپنی املاک میں تصرف کے بنیادی حق کا مظہر ہے۔حاکم ہو یا محکوم، آجر ہو یا مزدور، عالم ہو یا جاہل، مرد ہو یا عورت، شریعت نے ہر ایک کو اپنی ملکیت میں تصرف کا آزانہ حق دیا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب" ھبہ سے متعلق بعض مسائل "ایفا پبلیکیشنز، نئی دہلی کی شائع کردہ ہے، جس میں اسلامک فقہ اکیڈمی کے 23 ویں فقہی سیمینار منعقدہ جمبوسر (گجرات) بتاریخ  28،29  ربیع الثانی ویکم جمادی الاولی 1435ھ بمطابق 1تا 3 مارچ 2014ء میں ھبہ کے موضوع پر پیش کئے گئے علمی، فقہی اور تحقیقی مقالات ومناقشات کے مجموعے کو جمع کر دیا گی...

  • 37 میڈیکل انشورنس فقہ اسلامی کی روشنی میں (پیر 06 فروری 2017ء)

    مشاہدات:917

    صحت اللہ تعالی کی ایک بہت بڑی نعمت ہے اور حتی المقدور اس کی حفاظت انسان کا فریضہ اور اس کی ذمہ داری بھی ہے، یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ موجودہ دور میں صنعتی انقلاب، ماحولیاتی عدم توازن اور غذائی اجناس میں اضافہ کے لئے نئے نئے تجربات کی وجہ سے بیماریوں بڑھ رہی ہیں اور امراض پیچیدہ  تر ہوتے جارہے ہیں۔اس کے ساتھ امراض کی تشخیص اور علاج کے نت نئے زود اثر طریقے بھی دریافت ہو رہے ہیں۔لیکن جدید طریقہ علاج اتنا مہنگا اور گراں ہو چکا ہے کہ متوسط معاشی صلاھیت کے حامل لوگوں کے لئے اس کے اخراجات ناقابل برداشت ہو جاتے ہیں اور ستم بالائے ستم یہ ہےکہ  طب وعلاج جو خدمت خلق کا ایک ذریعہ  اور باعزت پیشہ تھا اب اس نے تجارت کی صورت اختیار کر لی ہے۔اس صورت حال نے میڈیکل انشورنس کو وجود بخشا ، جس کی متعدد صورتیں ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب" میڈیکل انشورنس فقہ اسلامی کی روشنی میں" ایفا پبلیکیشنز، نئی دہلی کی شائع کردہ ہے، جس میں  انہوں نے پندرہویں فقہی سیمینار منعقدہ میسور مؤرخہ  11 تا 13 مارچ 2006ء میں میڈیکل انشورنس فقہ اسلامی کی روشنی میں کے موضوع پر  اہل علم کی طرف سے پیش کئے گئے تحقیقی مقالات جمع کر دئیے گئے ہیں۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ایفا پبلیکیشنز والوں کی اس خدمت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)آمین(راسخ)

  • 38 میراث و وصیت سے متعلق بعض مسائل (پیر 06 فروری 2017ء)

    مشاہدات:1286

    دور جدید کا انسان جن  سیاسی ،معاشرتی اور معاشی مسائل سے دوچار ہے اس پر زمانے کا ہر نقش فریادی ہے۔آج انسان اس رہنمائی کا شدید حاجت مند ہے کہ اسے بتلایا جائے ۔اسلام زندگی کے ان مسائل کا کیا حل پیش کرتا ہے۔ زندگی کے مختلف شعبوں میں اس کا وہ  نقطہ اعتدال کیا ہے؟جس کی بناء پر وہ سیاسی ،معاشی اور معاشرتی دائرے میں استحکام اور سکون واطمینان سے انسان کو بہرہ ور کرتا ہے ۔اس وقت دنیا میں دو معاشی نظام اپنی مصنوعی اور غیر فطری بیساکھیوں کے سہارے چل رہے ہیں۔ایک مغرب کا سرمایہ داری نظام ہے ،جس پر آج کل انحطاط واضطراب کا رعشہ طاری ہے۔دوسرا مشرق کا اشتراکی نظام ہے، جو تمام کی مشترکہ ملکیت کا علمبردار ہے۔ان دونوں کے بر عکس اسلام کا معاشی نظام ایک زبر دست نظام ہے۔جس میں انسان کو ملکیت بھی دی گئی ہےاور اس کے ساتھ ساتھ دوسروں پر خرچ کرنے کی بھی ترغیب دی گئی ہے۔اسلام کے مالی نظام میں ایک اہم باب وصیت ووراثت  کا ہے ، جس کے مطابق وارث اپنے موروث  کی موت کے بعد اس کے ترکے کا وارث بن جاتا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب" میراث ووصیت سے متعلق بعض مسائل "ایفا پبلیکیشنز، نئی دہلی کی شائع کردہ ہے، جس میں اسلامک فقہ اکیڈمی کے 23 ویں فقہی سیمینار منعقدہ جمبوسر (گجرات) بتاریخ  28،29  ربیع الثانی ویکم جمادی الاولی 1435ھ بمطابق 1تا 3 مارچ 2014ء میں وراثت اور ہبہ کے موضوع پر پیش کئے گئے علمی، فقہی اور تحقیقی مقالات ومناقشات کے مجموعے کو جمع کر دیا گیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ایفا پبلیکیشنز والوں کی اس خدمت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے م...

  • 39 پلاسٹک سرجری فقہ اسلامی کی روشنی میں (منگل 07 فروری 2017ء)

    مشاہدات:1051

    اللہ تعالی نے انسان کو بہترین قالب اور شکل وصورت میں پیدا فرمایا ہے۔ اور پھر اس کے حسن کو دوبالا کرنے کے لئے اس میں جذبہ آرائش بھی ودیعت فرمایا ہے۔نیز اپنے آپ کو آراستہ کرنے کا ایک سے ایک سلیقہ بھی دیا ہے۔چنانچہ انسان شروع ہی سے زینت وآرائش کے مختلف طریقے استعمال کرتا رہا ہے۔جب سیدنا آدم اوراماں حوا کو جنت سے نکالا گیا اور وہ جنتی لباس  سے محروم ہو گئے تو انہوں نے بے ساختہ اپنے جسموں پر درختوں کے پتے لپیٹنا شروع کر دئے۔یہ واقعہ جہاں اس بات کو واضح کرتا ہے کہ شرم وحیا انسان کی فطرت کا بنیادی عنصر ہے، وہاں یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ انسان کی کی فطرت میں لباس وپوشاک کی خواہش رکھی گئی ہے۔اور لباس صرف جسم کو چھپاتا ہی نہیں بلکہ انسان کے لئے باعث زینت بھی ہے۔عصر حاضر میں خوبصورتی  میں اضافے کے لئے بے شمار مصنوعات سامنے آ چکی ہیں۔ان میں سے ایک "پلاسٹک سرجری" ہے، جس میں جسم کے ایک حصے سے چمڑہ، گوشت یا ہڈی لے کر جسم کے دوسرے حصے میں پیوست کر دیا جاتا ہے۔اس کا مقصد کبھی اپنی شناخت کو چھپانا، کبھی کسی عیب کو دور کرنا، کبھی جسمانی تکلیف کا ازالہ کرنا اور کبھی خوبصورتی میں اضافہ کرنا ہوتا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب"" ایفا پبلیکیشنز، نئی دہلی کی شائع کردہ ہے، جس میں اسلامک فقہ اکیڈمی کے اٹھارہویں فقہی سیمینار منعقدہ 28 فروری تا 2 مارچ 2009ء میں پلاسٹک سرجری کے موضوع پر پیش کئے گئے علمی، فقہی اور تحقیقی مقالات ومناقشات کے مجموعے کو جمع کر دیا گیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ایفا پبلیکیشنز والوں کی اس خدمت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ا...

  • 40 شہریت اور اس سے متعلق مسائل (بدھ 08 فروری 2017ء)

    مشاہدات:817

    اللہ تعالی نے کائنات کی یہ وسیع وعریض بستی اپنے تمام بندوں کے لئے بسائی ہے۔انسان کے علاوہ اللہ تعالی کی دوسری مخلوقات نے عملی طور پر اس آفاقیت کو باقی رکھا ہے۔ایسا نہیں ہے کہ ایک ملک کے شیر کو کو دوسرے ملک میں جانے کی اجازت نہ ہو، یا ایک خطے کے جانوروں اور پرندوں کو دوسرے ملک میں جانے کے لئے ویزہ لگوانا پڑے۔لیکن انسان کی فطرت میں کچھ ایسی تنگ نظری واقع ہوئی ہے کہ اسے اپنے ہی ہم جنسوں کا وجود گوارہ نہیں ہے۔اسی لئے تو اس نے دنیا کو براعظموں، ملکوں اور صوبوں میں تقسیم کر رکھا ہے۔اور اسی نام نہاد تقسیم سے شہریت کا مسئلہ پیدا ہو ا ہے۔ہر ملک کے لوگوں نے اپنی سرحدوں کو باہر کے لوگوں کے لئے بند کر رکھا ہے۔سرحد سے باہر کے لوگ چاہے ایک ہی زبان بولنے والے ہوں، ایک ہی نسل سے تعلق رکھتے ہوں اور ایک ہی مذہب کو ماننے والے ہوں،انہیں سرحد پار کرنے کی اجازت نہیں ہےاور نہ ہی انہیں سرحد کے اس پار رہنے والوں کے مماثل حقوق واختیارات حاصل ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب" شہریت اور اس سے  متعلق مسائل " ایفا پبلیکیشنز، نئی دہلی کی شائع کردہ ہے، جس میں اسلامک فقہ اکیڈمی کے 23 ویں فقہی سیمینار منعقدہ جمبوسر (گجرات) بتاریخ  28،29  ربیع الثانی ویکم جمادی الاولی 1435ھ بمطابق 1تا 3 مارچ 2014ء میں شہریت کے مسائل کے موضوع پر پیش کئے گئے علمی، فقہی اور تحقیقی مقالات ومناقشات کے مجموعے کو جمع کر دیا گیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ایفا پبلیکیشنز والوں کی اس خدمت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 41 عقد استصناع سے متعلق بعض مسائل (ہفتہ 11 فروری 2017ء)

    مشاہدات:1047

    عقد استصناع سے مراد یہ ہے کہ کسی سے آرڈر پر سامان تیار کروانا۔منجملہ مالی معاملات میں سے ایک اہم ترین صورت عقد استصناع کی ہے۔اس کے بارے میں اگرچہ نصوص میں بھی اشارات ملتے ہیں، لیکن فقہاء کے بیان کے مطابق اس کی اصل بنیاد عرف وعادت اور تعامل ہے۔یوں تو استصناع بھی عقد معاوضہ ہی کی ایک شکل ہے، لیکن اس عقد کا امتیازی پہلو یہ ہے کہ سلم کی طرح یہ بھی بیع معدوم کی ممانعت سے مستثنی ہےاور مزید ایک اہم بات یہ ہے کہ اس میں عوضین کو ادھار رکھا جا سکتا ہے۔اس لئے معاملات میں اس عقد کو خصوصی اہمیت حاصل ہے، موجودہ دور میں اسلامی مالیاتی ادارے اس کو تمویل و استثمار کی ایک شکل کے طور پر بھی استعمال کرتے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب " عقد استصناع سے متعلق بعض مسائل " ایفا پبلیکیشنز، نئی دہلی کی شائع کردہ ہے، جس میں اسلامک فقہ اکیڈمی کےتیئسویں فقہی سیمینار مؤرخہ1 تا 3 مارچ  2014ء بمطابق 28 ربیع الثانی تا یکم جمادی الاول  منعقدہ جامعہ علوم القرآن جمبوسر گجرات انڈیا میں عقداستصناع کے  بارے میں پیش کئے گئے علمی، فقہی اور تحقیقی مقالات ومناقشات کے مجموعے کو جمع کر دیا گیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ایفا پبلیکیشنز والوں کی اس خدمت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات اور دستور زندگی ہے۔اسلام نے ہمیں زندگی کے تمام شعبوں کے بارے میں راہنمائی فراہم کی ہے۔عبادات ہوں یا معاملات،تجارت ہو یا سیاست،عدالت ہو یا قیادت ،اسلام نے ان تمام امور کے بارے میں مکمل تعلیمات فراہم کی ہیں۔اسلام کی یہی عالمگیریت اور روشن تعلیمات ہیں کہ جن کے سبب اسلام دنیا میں اس تیزی سے پھیلا کہ دنیا کی دوسرا کوئی بھی مذہب اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا ہے۔اسلامی تعلیمات میں طبی مسائل اور احکامات کے حوالے سے تفصیلی راہنمائی موجود ہے۔ زیر تبصرہ کتاب " طبی اخلاقیات، دائرے اور ضابطے فقہ اسلامی کی روشنی میں "محترم قاضی مجاہد الاسلام قاسمی کی مرتب کردہ ہے، جو ایفا پبلیکیشنز، نئی دہلی نے شائع کی ہے، جس میں اسلامک فقہ اکیڈمی کےآٹھویں فقہی سیمینار مؤرخہ22 تا 24 اکتوبر1995ء  منعقدہ مسلم یونیورسٹی علی گڑھ انڈیا میں طبیب سے متعلق شرعی ہدایات، متعدی امراض اور خصوصا ایڈز کی بناء پر مرتب ہونے والے احکام پر پیش کئے گئے علمی، فقہی اور تحقیقی مقالات ومناقشات کے مجموعے کو جمع کر دیا گیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ایفا پبلیکیشنز والوں کی اس خدمت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 43 اسلام اور امن عالم (بدھ 01 مارچ 2017ء)

    مشاہدات:1223

    اسلام ایک امن وسلامتی والا مذہب ہے ،جو نہ صرف انسانوں بلکہ حیوانوں کے ساتھ بھی نرمی کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ اس عظیم دین کا حسن دیکھئے کہ اسلام ’’سلامتی‘‘ اور ایمان ’’امن‘‘ سے عبارت ہے اور اس کا نام ہی ہمیں امن و سلامتی اور احترام انسانیت کا درس دینے کیلئے واضح اشارہ ہے۔نبی کریمﷺ کی حیاتِ طیبہ ، صبر و برداشت، عفو و درگزر اور رواداری سے عبارت ہے۔اسلام امن وآشتی اور صلح وسلامتی کا مذہب ہے، اس نے انسانی زندگی کی حرمت کو اتنی اہمیت دی ہے کہ ایک شخص کے قتل کو پوری انسانیت کے قتل کے مترادف قرار دیا ہے، اور اگر کسی مسلمان ملک میں غیر مسلم اقلیت آباد ہو تو اس کی جان ومال اور عزت وآبرو کے تحفظ کا پورا لحاظ رکھا گیا ہے اور انہیں اپنی نجی زندگی میں اپنے مذہب پر چلنے کی آزادی دی گئی ہے۔اسلام نے ظلم وتعدی سے منع کیا ہے، بلکہ ظلم کے جواب میں بھی دوسرے فریق کے بارے میں حد انساف سے متجاوز ہونے کو ناپسند کیا ہے اور انتقام کے لئے بھی مہذب اور عادلانہ اصول وقواعد مقرر کئے ہیں۔لیکن افسوس کہ دشمنان اسلام نے اسلام اور دہشت گردی کو ایک ساتھ جوڑ دیا ہے۔چنانچہ ضروری تھا کہ اعدائے دین کی ان سازشوں کو طشت ازبام کیا جاتا اور ان کی پھیلائی ہوئی غلط فہمیوں کا ازالہ کیا جاتا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب"اسلام اور امن عالم" ایفا پبلیکیشنز، نئی دہلی کی شائع کردہ ہے، جس میں اسلام اور امن عالم کے  موضوع پر  متعدد اہل علم کے مقالات جمع کر دئیے گئے ہیں۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ایفا پبلیکیشنز والوں کی اس خدمت کو اپنی بارگاہ میں...

  • 44 مچھلی کی خرید و فروخت فقہ اسلامی کی نظر میں (جمعہ 03 فروری 2017ء)

    مشاہدات:639

    اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات اور دستور زندگی ہے۔ اسلام نے ہمیں زندگی کے تمام شعبوں کے بارے میں راہنمائی فراہم کی ہے۔عبادات ہوں یا معاملات، تجارت ہو یا سیاست،عدالت ہو یا قیادت، اسلام نے ان تمام امور کے بارے میں مکمل تعلیمات فراہم کی ہیں۔اسلام کی یہی عالمگیریت اور روشن تعلیمات ہیں کہ جن کے سبب اسلام دنیا میں اس تیزی سے پھیلا کہ دنیا کی دوسرا کوئی بھی مذہب اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا ہے۔ اسلامی تعلیمات نہ صرف آخرت کی میں چین وسکون کی راہیں کھولتی ہیں، بلکہ اس دنیوی زندگی میں اطمینان ،سکون اور ترقی کی ضامن ہیں۔اسلام کی اس بے پناہ مقبولیت کا ایک سبب مساوات ہے ،جس سے صدیوں سے درماندہ لوگوں کو نئی زندگی ملی اور وہ مظلوم طبقہ جو ظالموں کے رحم وکرم پر تھا اسے اسلام کے دامن محبت میں پناہ ملی۔اسلام معاشی زندگی کے حوالے سے راہنما اصول مہیا کرتا ہے۔ اسلام نے ہر اس تجارت سے منع کر دیا ہے جس میں بائع یا مشتری میں سے کسی ایک کو بھی دھوکہ ہونے کا اندیشہ ہو۔ زیر تبصرہ کتاب "مچھلی کی خرید وفروخت، فقہ اسلامی کی روشنی میں" ایفا پبلیکیشنز، نئی دہلی کی شائع کردہ ہے، جس میں اسلامک فقہ اکیڈمی کے نویں فقہی سیمینار مؤرخہ11 تا 14 اکتوبر 1996ء منعقدہ جامعۃ الہدایہ جے پور انڈیا میں مچھلی کی خرید وفروخت کے بارے میں پیش کئے گئے علمی، فقہی اور تحقیقی مقالات ومناقشات کے مجموعے کو جمع کر دیا گیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ایفا پبلیکیشنز والوں کی اس خدمت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔ آمین(راسخ)

  • 45 مسجد اقصٰی ہمارے دلوں میں (جمعہ 17 مارچ 2017ء)

    مشاہدات:843

    مسجد اقصیٰ مسلمانوں کا قبلۂ اول ہے ہجرت کےبعد 16 سے 17 ماہ تک مسلمان مسجد اقصٰی کی جانب رخ کرکے ہی نماز ادا کرتے تھے پھر تحویل قبلہ کا حکم آنے کے بعد مسلمانوں کا قبلہ خانہ کعبہ ہوگیا۔ مسجد اقصٰی خانہ کعبہ اور مسجد نبوی کے بعد تیسرا مقدس ترین مقام ہے۔مقامی مسلمان اسے المسجد الاقصیٰ یا حرم قدسی شریف کہتے ہیں۔ یہ مشرقی یروشلم میں واقع ہے جس پر اسرائیل کا قبضہ ہے۔ یہ یروشلم کی سب سے بڑی مسجد ہے جس میں 5 ہزار نمازیوں کی گنجائش ہے جبکہ مسجد کے صحن میں بھی ہزاروں افراد نماز ادا کرسکتے ہیں۔نبی کریم ﷺسفر معراج کے دوران مسجد حرام سے یہاں پہنچے تھے اور مسجد اقصیٰ میں تمام انبیاء کی نماز کی امامت کرنے کے بعد براق کے ذریعے سات آسمانوں کے سفر پر روانہ ہوئے۔قرآن مجید کی سورہ الاسراء میں اللہ تعالیٰ نے اس مسجد کا ذکر ان الفاظ میں کیا ہے: ’’پاک ہے وہ ذات جو اپنے بندے کورات ہی رات میں مسجد حرام سے مسجد اقصی لے گئی جس کے آس پاس ہم نے برکت دے رکھی ہے اس لئے کہ ہم اسے اپنی قدرت کے بعض نمونے دکھائيں یقینا اللہ تعالیٰ ہی خوب سننے والا اوردیکھنے والا ہے‘‘ (سورہ الاسراء )۔ احادیث کے مطابق دنیا میں صرف تین مسجدوں کی جانب سفر کرنا باعث برکت ہے جن میں مسجد حرام، مسجد اقصٰی اور مسجد نبوی شامل ہیں۔سیدنا عمر فاروق کے دور میں مسلمانوں نے بیت المقدس کو فتح کیا تو سیدنا عمر نے شہر سے روانگی کے وقت صخرہ اور براق باندھنے کی جگہ کے قریب مسجد تعمیر کرنے کا حکم دیا جہاں انہوں نے اپنے ہمراہیوں سمیت نماز ادا کی تھی۔ یہی مسجد بعد میں مسجد اقصٰی کہلائی کیونکہ قرآن مج...

  • بیت المقدس مسلمانوں کا قبلۂ اول ہے ہجرت کےبعد 16 سے 17 ماہ تک مسلمان بیت المقدس (مسجد اقصٰی) کی جانب رخ کرکے ہی نماز ادا کرتے تھے پھر تحویل قبلہ کا حکم آنے کے بعد مسلمانوں کا قبلہ خانہ کعبہ ہوگیا۔ مسجد اقصٰی خانہ کعبہ اور مسجد نبوی کے بعد تیسرا مقدس ترین مقام ہے۔مقامی مسلمان اسے المسجد الاقصیٰ یا حرم قدسی شریف کہتے ہیں۔ یہ مشرقی یروشلم میں واقع ہے جس پر اسرائیل کا قبضہ ہے۔ یہ یروشلم کی سب سے بڑی مسجد ہے جس میں 5 ہزار نمازیوں کی گنجائش ہے جبکہ مسجد کے صحن میں بھی ہزاروں افراد نماز ادا کرسکتے ہیں۔نبی کریم ﷺسفر معراج کے دوران مسجد حرام سے یہاں پہنچے تھے اور بیت المقدس میں تمام انبیاء کی نماز کی امامت کرنے کے بعد براق کے ذریعے سات آسمانوں کے سفر پر روانہ ہوئے۔قرآن مجید کی سورہ الاسراء میں اللہ تعالیٰ نے اس مسجد کا ذکر ان الفاظ میں کیا ہے: ’’پاک ہے وہ ذات جو اپنے بندے کورات ہی رات میں مسجد حرام سے مسجد اقصی لے گئی جس کے آس پاس ہم نے برکت دے رکھی ہے اس لئے کہ ہم اسے اپنی قدرت کے بعض نمونے دکھائيں یقینا اللہ تعالیٰ ہی خوب سننے والا اوردیکھنے والا ہے‘‘ (سورہ الاسراء )۔ احادیث کے مطابق دنیا میں صرف تین مسجدوں کی جانب سفر کرنا باعث برکت ہے جن میں مسجد حرام، مسجد اقصٰی اور مسجد نبوی شامل ہیں۔سیدنا عمر فاروق کے دور میں مسلمانوں نے بیت المقدس کو فتح کیا تو سیدنا عمر نے شہر سے روانگی کے وقت صخرہ اور براق باندھنے کی جگہ کے قریب مسجد تعمیر کرنے کا حکم دیا جہاں انہوں نے اپنے ہمراہیوں سمیت نماز ادا کی تھی۔ یہی مسجد بعد میں مسجد اقصٰی کہلائی ک...

  • 47 اسلامی شریعت کا عمومی نظریہ (پیر 12 جون 2017ء)

    مشاہدات:732

    جو انسان کسی چیز کو بناتا ہے وہی اس کے استعمال اور فوائد ونقصانات سے بھی اچھی طرح واقف ہوتا ہے۔انسان بھی اپنے آپ پیدا نہیں ہوا ہے، نہ اس کی پیدائش میں اس کی مرضی کا کوئی دخل ہے اور نہ ہی وفات میں۔ انسان کو پید اکرنے والی ذات اللہ تعالی کی ذات ہے اس لئے ہمارے نفع ونقصان سے کے حوالے سے اللہ سے بڑھ کر کوئی ذات واقف نہیں ہو سکتی ہے۔ اور یقینا اس کی ہدایات پر عمل کر کے ہم کامیابی سے ہمکنار ہو سکتے ہیں۔اللہ تعالی نے انسان کو جو ہدایت نامہ عطا فرمایا ہے اسی کو شریعت کہتے ہیں۔ اللہ تعالی اپنا آخری پیغام قرآن مجید کی شکل میں نازل فرمایا ہے جو تاقیامت محفوظ رہے گا۔ زیر تبصرہ کتاب "اسلامی شریعت کا عمومی نظریہ" فاضل مفکر ڈاکٹر جمال الدین عطیہ کی عربی تصنیف "النظریۃ العامۃ للشریعۃ الاسلامیۃ"کا اردو ترجمہ ہے۔ اردو ترجمہ محترم مولانا عتیق احمد قاسمی نے کیا ہے۔ مولف موصوف نے اس کتاب میں شریعت کے عمومی نظریات کو جمع فرما دیا ہے، جسے ایفا پبلیکیشنز انڈیا نے شائع کیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔ آمین (راسخ)

  • 48 بدلتے حالات کے تقاضے اور فقہ اسلامی (ہفتہ 17 جون 2017ء)

    مشاہدات:635

    دنیا میں ہمیشہ تغیرات اور تبدیلیاں آتی رہتی ہیں۔ کبھی کوئی ایسا دور نہیں گزرا کہ اس عالم میں جمود طاری ہو گیا ہو۔انسان کی ساری تاریخ انقلاب اور تغیرات سے بھری پڑی ہے۔لیکن موجودہ صدی میں تغیرات اور تبدیلیوں کی رفتار بہت تیز ہوگئی ہے۔ان تغیرات وتبدیلیوں نے امت مسلمہ کو ایک چیلنج سے دوچار کر دیا ہے۔ایسا چیلنج جس کا تعلق براہ راست فقہ اسلامی کے احیاء اور تدوین نو سے ہے۔ اس چیلنج سے عہدہ برا ہونے کے لئے جہاں اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ جدید تمدنی مسائل کا حل کتاب وسنت کی روشنی میں اجتہاد کے ذریعے تلاش کیا جائے وہیں جدید اسلوب کے مطابق فقہی کتب کی تدوین واشاعت کی ضرورت بھی بڑھ گئی ہے۔ اس ضرورت کو پورا کرنے کے لئے متعدد ادارے اپنی اپنی استطاعت کے مطابق کام کر رہے ہیں۔شریعہ اکیڈمی، بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد نے اپنے آغاز سے ہی اس طرف توجہ مرکوز کر رکھی ہے۔ چنانچہ فقہ اسلامی کے اہم موضوعات پر تحقیقی کام کے علاوہ اساسی کتب کے تراجم اور جدید اسلوب میں شریعہ مونو گرافکس کی ترتیب واشاعت کاکام بھی جاری وسار ی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب "بدلتے حالات کے تقاضے اور فقہ اسلامی" محترم ڈاکٹرمحمدعبد الغفار الشریف صاحب، جنرل سیکرٹری اوقاف پبلک فاؤنڈیشن کویت کی عربی تصنیف ہے جس میں انہوں نے بدلتے حالات میں اسلامی فقہ کی اہمیت پر زور دیا ہے۔ اس کتاب کا اردو ترجمہ محترم ہشام الحق ندوی صاحب نے کیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف موصوف کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔ آمین(راسخ)

  • 49 ترقی کا اسلامی تصور مقاصد شریعت کی روشنی میں (اتوار 17 دسمبر 2017ء)

    مشاہدات:522

    سلام کا راستہ اعتدال اور میانہ روی کا راستہ ہے۔ وہ انسان کا مادی و عقلی ارتقاء بھی چاہتا ہے۔ اخلاقی بلندی بھی چاہتا ہے اور روحانی پاکیزگی بھی۔ موجودہ زمانے کے نظریات نے انسان کو سمجھنے میں ایک بنیادی غلطی کی ہے۔ وہ انسان کو صرف ایک مادی اور عقلی وجود سمجھتا ہے۔ بندر کے بچے سے اور کیا توقع کی جاسکتی ہے۔ بندر کا صرف مادی وجود ہوگا۔ ڈارون کا بندر صرف مادی وجود ہی تو رکھ سکتا ہے۔ اس کم خیالی، کم نگاہی اور مشاہدے کی کمی کو کیا کہیے گا۔کیا آپ سکونِ قلب نہیں چاہتے؟ کیا آپ اپنے آس پاس امن کی پاسداری اور قانون کی بالا دستی نہیں چاہتے؟ کیا آپ اپنے ماں باپ سے محبت نہیں کرتے؟ کیا اپنی بہنوں کا احترام نہیں کرتے؟ کیا اپنے چھوٹوں کی بھلائی نہیں چاہتے؟ کیا آپ کا دل انسانوں کی مجبوریوں، اور مریضوں کی کراہوں پر نہیں تڑپتا؟ کیا اچھے اور نیک خیالات آنے پر آپ خوش نہیں ہوتے؟جی ہاں آپ ایک اخلاقی وجود ہیں، اور آپ کی روح نیکیوں سے خوش اور بالیدہ ہوتی ہے۔ اسلام نے جتنا زور انسان کے مادی اور عقلی وجود پر دیا ہے اتنا ہی زور یا اس سے زیادہ اخلاقی و روحانی وجود پر دیا ہے۔ اسی لئے اسلام ایک ہمہ جہت، ہمہ پہلو Development کا تصور رکھتا ہے۔ زیر تبصر ہ کتاب "ترقی کا اسلامی تصور، مقاصد شریعت کی روشنی میں" محترم محمد عمر چھاپرہ اسلامی ریسرچ اینڈ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ، جدہ، سعودی عرب کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے مقاصد شریعت کی روشنی میں ترقی کے اسلامی تصور کا جائزہ لیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول و منطور فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں...

  • 50 خاندانی نظام اور خواتین کے حقوق (پیر 18 دسمبر 2017ء)

    مشاہدات:477

    خاندانی اصول و قوانین کی پابندی، میاں بیوی، والدین اور اولاد کا ایک دوسرے کا احترام،  باہمی مشورہ کے ذریعہ تمام امور کی انجام دہی، خاندان میں بیوی کے لئے ایک اہم  اورمستقل شخصیت کا قائل ہونا، خواتین کی ضروریات اور جذبات کا احترام، دورِ جاہلیت کے ظالمانہ آداب و رسوم کے مقابلہ میں عورت کی حمایت ،مذکورہ بالا امور عورت کے بارے میں اسلام کے ناقابل ِ تردید اصول ہیں۔ نبی کریمﷺ خواتین کے حقوق کی رعایت  کی ہمیشہ تاکید فرمایا کرتے تھے اور جہاں کہیں ضرورت پڑتی آپ اس معاملہ میں بلا واسطہ مداخلت فرمایا کرتے تھے۔ سورۂ مجادلہ کی پہلی آیت اس خاتون کی آہ وفریاد کو بیان کر رہی ہے جسے اس کے شوہر نے دورانِ جاہلیت  کی رسم کے مطابق "طلاقِ ظہار" دے دی تھی، یعنی اس نے اپنی بیوی سے کہا تو میرے لئے میری ماں کے مانند ہے۔ یہ عورت اپنی شکایت لے کر نبی کریمﷺکی خدمت میں پہنچی اور یوں گویا ہوئی: میں نے اس مرد کی خدمت میں اپنی جوانی کو گنوایا ہے، اس کے بچّوں کو پال پوس کر بڑا کیا ہے، پوری زندگی اس کی یارو یاور رہی ہوں، اس شخص نے ادھیڑ اور محتاجی کی عمر میں میرا ساتھ چھوڑ دیا ہے اور مجھے اپنے اوپر حرام کردیا ہے۔ نبی کریمﷺ وحی کا انتظار فرمانے لگے یہاں تک کہ سورۂ مجادلہ کی ابتدائی آیات نازل ہوئیں۔ زیر تبصرہ کتاب "خاندانی نظام اور خواتین کے حقوق" ایفا پبلیکیشنز، نئی دہلی کی شائع کردہ ہے۔ موضوع کی اہمیت کے پیش نظر اکیڈمی نے اس پر دو مستقل سیمینارز منعقد کئے ہیں، جن میں پیش کئے گئے علمی، فقہی اور تحقیقی مقالات ومناقشات کے مجموعے کو اس کتاب میں...

  • 51 شیطان کے مکر و فریب (منگل 19 دسمبر 2017ء)

    مشاہدات:434

    شیطان انسان کا کھلا اور واضح دشمن ہے، جس نے نہ صرف انسان کو جنت سے نکالا بلکہ اب اسے دوبارہ جنت میں جانے سے روکنے کے لئے بھی ہر وقت لگا رہتا ہے۔ یہ ایسا حاسد اور برتری پسند ہے کہ جو اپنے بےجا تکبر کی وجہ سے درگاہ الہی سے نکالا گيا اور اس نے قسم کھائی کہ وہ ہمیشہ انسان کو گمراہی کی طرف لے کر جائے گا۔ بلاشبہ ہم میں سے ہر ایک نے شیطان کے وسوسوں اور فریب کا واضح طور پر تجربہ کیا ہے اور بعض اوقات اس کے جال میں بھی پھنسے ہیں۔ شیطان کا مقابلہ کرنے کے لیے خدا سے انس، آگاہی اور  تقوی ایسے اہم ترین عوامل ہیں کہ جو ہمیں نہ صرف اندرونی شیطان کے فریب بلکہ بیرونی شیطان کے نقصان سے بھی بچا سکتے ہیں۔ خداوند متعال نے بہت سی آيات میں شیطان کے نفوذ کی راہوں کے بارے میں انسان کو خبردار کیا ہے۔ سورہ فاطر کی آيات پانچ اور چھ میں ارشاد ہوتا ہے: اے لوگو اللہ کا وعدہ سچا ہے لہذا زندگانی دنیا تم کو دھوکے میں نہ ڈال دے اور دھوکہ دینے والا تمہیں دھوکہ نہ دے دے۔ بےشک شیطان تمہارا دشمن ہےتو اسے دشمن سمجھو وہ اپنے گروہ کو صرف اس بات کی طرف دعوت دیتا ہے کہ سب جہنمیوں میں شامل ہو جائیں۔ زیر تبصرہ کتاب "شیطان کے مکر و فریب" محترم ڈاکٹر صلاح الدین سلطان صاحب کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے شیطان کے مکر وفریبوں کو بیان کرتے ہوئے اس سے بچنے کے طریقے بتلائے۔اللہ ہم سب کو شیطان کے مکر وفریب سے محفوظ فرمائے۔ آمین(راسخ)

  • 52 علم معاشیات اور اسلامی معاشیات (جمعرات 22 جون 2017ء)

    مشاہدات:1469

    دور جدید کا انسان جن سیاسی ،معاشرتی اور معاشی مسائل سے دوچار ہے اس پر زمانے کا ہر نقش فریادی ہے۔آج انسان اس رہنمائی کا شدید حاجت مند ہے کہ اسے بتلایا جائے۔ اسلام زندگی کے ان مسائل کا کیا حل پیش کرتا ہے۔ زندگی کے مختلف شعبوں میں اس کا وہ نقطہ اعتدال کیا ہے؟جس کی بناء پر وہ سیاسی ،معاشی اور معاشرتی دائرے میں استحکام اور سکون واطمینان سے انسان کو بہرہ ور کرتا ہے ۔اس وقت دنیا میں دو معاشی نظام اپنی مصنوعی اور غیر فطری بیساکھیوں کے سہارے چل رہے ہیں۔ایک مغرب کا سرمایہ داری نظام ہے ،جس پر آج کل انحطاط واضطراب کا رعشہ طاری ہے۔دوسرا مشرق کا اشتراکی نظام ہے، جو تمام کی مشترکہ ملکیت کا علمبردار ہے۔ایک مادہ پرستی میں جنون کی حد تک تمام انسانی اور اخلاقی قدروں کو پھلانگ چکا ہے تو دوسرا معاشرہ پرستی اور اجتماعی ملکیت کا دلدادہ ہے۔لیکن رحم دلی،انسان دوستی اور انسانی ہمدردی کی روح ان دونوں میں ہی مفقود ہے۔دونوں کا ہدف دنیوی مفاد اور مادی ترقی کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔اس کے برعکس اسلام ایک متوسط اور منصفانہ معاشی نظریہ پیش کرتا ہے،وہ سب سے پہلے دلوں میں خدا پرستی،انسان دوستی اور رحم دلی کے جذبات پیدا کرتا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب "علم معاشیات اور اسلامی معاشیات" محترم ڈاکٹر اوصاف احمد صاحب کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے اسلامی معاشیات کی خوبیوں کو بیان کیا ہے۔ یہ اپنے موضوع ایک انتہائی مفید اور شاندار کتاب ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس کاوش کو قبول فرمائے۔ آمین(راسخ)

  • 53 اسلام کا نظریہ اعتدال اور اس کے اہم عناصر (پیر 10 جولائی 2017ء)

    مشاہدات:1012

    اسلام جہاں غلو اور مبالغے سے منع کرتا ہے وہیں ہر معاملے میں راہ اعتدال اپنانے کی  ترغیب دیتا ہے۔اسلام کی شان اور عظمت ہی تو ہے کہ اس نے اپنے ماننے والوں کوہر طرح کی مصیبت اور پریشانی سے نجات دیکر دنیا والوں کے سامنے یہ باور کرایا ہے کہ وہی صرف ایک واحددین ہے جوتمام ادیان میں رفعت وبلندی کا مرکز وماویٰ ہے جہاں اس نے عبادت وریاضت کی طر ف ہماری توجہ مرکوزکی ہے وہیں ہمارے معاشرے کی اصلاح کی خاطر ہم کو کچھ احکام سے نوازا ہے تاکہ ان احکام کو اپنا کر اللہ کا قرب حاصل کر سکیں ۔دین اسلام کی ایک بڑی خوبی یہ ہے کہ اس نے اعتدال،توسط اور میانہ روی کی تلقین کی ہے اور ہمیں امتِ وسط اور میانہ روی اختیار کرنے والی امت بنایا اوراس کو خوب موکد کیا۔اعتدال کواپنانے والوں کو کبھی بھی رسوائی اور پچھتاوے کا منہ نہیں دیکھنا پڑتاہے اسکے برعکس وہ لوگ جو اعتدال اور توسط کی راہ کوچھوڑ کر دوسری راہ کو اپنی حیات کا جزء لاینفک سمجھ بیٹھتے ہیں ایسے لوگ یا تو افراط کاشکار ہو جاتے ہیں یا پھر تفریط کی کھائی میں جا گرتے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب" اسلام کا نظریہ اعتدال اور اس کے اہم عناصر "عالم عرب کے معروف عالم دین محترم ڈاکٹر یوسف القرضاوی صاحب کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے اسلام نے نظریہ اعتدال اور اس کے اہم عناصر کے حوالے سے گفتگو کی ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ  مولف موصوف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • اسلام جہاں غلو اور مبالغے سے منع کرتا ہے وہیں ہر معاملے میں راہ اعتدال اپنانے کی  ترغیب دیتا ہے۔اسلام کی شان اور عظمت ہی تو ہے کہ اس نے اپنے ماننے والوں کوہر طرح کی مصیبت اور پریشانی سے نجات دیکر دنیا والوں کے سامنے یہ باور کرایا ہے کہ وہی صرف ایک واحددین ہے جوتمام ادیان میں رفعت وبلندی کا مرکز وماویٰ ہے جہاں اس نے عبادت وریاضت کی طر ف ہماری توجہ مرکوزکی ہے وہیں ہمارے معاشرے کی اصلاح کی خاطر ہم کو کچھ احکام سے نوازا ہے تاکہ ان احکام کو اپنا کر اللہ کا قرب حاصل کر سکیں ۔دین اسلام کی ایک بڑی خوبی یہ ہے کہ اس نے اعتدال،توسط اور میانہ روی کی تلقین کی ہے اور ہمیں امتِ وسط اور میانہ روی اختیار کرنے والی امت بنایا اوراس کو خوب موکد کیا۔اعتدال کواپنانے والوں کو کبھی بھی رسوائی اور پچھتاوے کا منہ نہیں دیکھنا پڑتاہے اسکے برعکس وہ لوگ جو اعتدال اور توسط کی راہ کوچھوڑ کر دوسری راہ کو اپنی حیات کا جزء لاینفک سمجھ بیٹھتے ہیں ایسے لوگ یا تو افراط کاشکار ہو جاتے ہیں یا پھر تفریط کی کھائی میں جا گرتے ہیں۔ شریعت اسلامیہ جہاں عبادات ومعاملات میں اعتدال کا حکم دیتی ہے وہیں وطنیت کے  تصور میں راہ اعتدال کی جانب راہنمائی کرتی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب" قومی تصورات کی تشکیل میں شریعت اسلامی کا منہج اعتدال " کویت کے معروف عالم دین ڈاکٹر عجیل جاسم نشمی صاحب کی تصنیف ہے ، جس کا اردو ترجمہ محترم الیاس نعمانی صاحب نے کیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ  مولف اور مترجم دونوں کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(...

  • 55 تفسیر نصوص کے اصول و مناہج (جمعہ 14 جولائی 2017ء)

    مشاہدات:697

    قرآن حکیم ایک ایسی کتاب ہے جو انسانی اجتماعیت کے لئے قیامت تک سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔نبی کریم ﷺ نے قرآنی تعلیمات پر نہ صرف ایک جماعت قائم کی بلکہ ایک زندہ وتابندہ سو سائٹی بھی قائم کر کے دکھائی، جس نے انسانی ترقی کا ایک ایسا منصفانہ نظام زندگی فراہم کیا جس سے آج کا  انسان بے نیاز نہیں رہ سکتا ہے۔قرآن مجید پوری انسانیت کے لیے کتاب ِہدایت ہے، او ر اسے یہ اعزاز حاصل ہےکہ دنیا بھرمیں سب سے زیاد ہ پڑھی جانے والی کتاب ہے ۔ اسے پڑھنے  اور پڑھانے والوں کو امامِ کائنات نے اپنی زبانِ صادقہ سے معاشرے کے بہتر ین لوگ قراردیا ہے اور اس کی تلاوت کرنے پر اللہ تعالیٰ ایک ایک حرف پرثواب عنایت کرتے ہیں۔ دور ِصحابہ سے لے کر دورِ حاضر تک بے شمار اہل علم نے اس کی تفہیم وتشریح اور ترجمہ وتفسیرکرنے کی خدمات سر انجام دی ہیں ۔ اصحاب رسول رضوان اللہ علیہم، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فیض تربیت، قرآن مجید کی زبان اور زمانۂ نزول کے حالات سے واقفیت کی بنا پر، قرآن مجید کی تشریح، انتہائی فطری اصولوں پر کرتے تھے۔ زیر تبصرہ کتاب"تفسیر نصوص کے اصول ومناہج " شام کے معروف عالم دین محترم ڈاکٹر شیخ محمد ادیب صالح کی عربی تصنیف کا اردو ترجمہ ہے، جس میں انہوں نے نصوص کی تشریح وتفسیر کے اصول ومناہج کو بیان فرمایا ہے۔ اردو ترجمہ محترم مولانا محمد ارشد معروفی، استاذ دار العلوم دیو بند نے کیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ان کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

  • 56 تحقیق مناط کی تطبیق میں کوتاہی کے نتائج (جمعرات 13 جولائی 2017ء)

    مشاہدات:529

    جب کوئی معاشرہ مذہب کو اپنے قانون کا ماخذ بنا لیتا ہے تو اس کے نتیجے میں علم فقہ وجود پذیر ہوتا ہے۔ علم فقہ، دین کے بنیادی ماخذوں سے حاصل شدہ قوانین کے ذخیرے کا نام ہے۔ چونکہ دین اسلام میں قانون کا ماخذ قرآن مجید اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی سنت ہے اس وجہ سے تمام قوانین انہی سے اخذ کیے جاتے ہیں۔ جب قرآن و سنت کی بنیاد پر قانون سازی کا عمل شروع کیا جائے تو اس کے نتیجے میں متعدد سوالات پیدا ہو جاتے ہیں۔قرآن مجید کو کیسے سمجھا جائے؟قرآن مجید کو سمجھنے کے لئے کس کس چیز کی ضرورت ہے؟ سنت کو سمجھنے کے لئے کس کس چیز کی ضرورت ہے؟ سنت کہاں سے اخذ کی جائے گی وغیرہ وغیرہ۔ ان سوالوں کا جواب دینے کے لئے جو فن وجود پذیر ہوتا ہے، اسے اصول فقہ کہا جاتا ہے۔اور تمام قدیم مسالک نے قرآن وسنت سے احکام شرعیہ مستنبط کرنے کے لئے  اپنے اپنے اصول وضع کئے  ہیں۔بعض اصول تو تمام مکاتب فکر میں متفق علیہ ہیں جبکہ بعض میں اختلاف بھی پایا جاتا ہے۔منجملہ اصول فقہ میں سے ایک مناط(علت) کی تحقیق اور تطبیق بھی ہے۔اگر مناط کی تطبیق میں کوتاہی واقع ہو جائے تو نتائج کہیں کے کہیں کا پہنچتے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب " حقیقۃ الفقہ" محترم ڈاکٹر ہانی احمد عبد الشکور کی عربی تصنیف ہے،جس کا اردو ترجمہ محترم شعبہ حسنین ندوی صاحب نے کیا ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ  وہ مولف اور مترجم  کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین  (راسخ)

  • 57 خواتین کی ملازمت اور اسلامی تعلیمات (ہفتہ 10 فروری 2018ء)

    مشاہدات:723

    شریعت کی تعلیمات کے مطابق مردوعورت کو اس طرح زندگی گزارنی چاہئے کہ گھر کے باہر کی دوڑ دھوپ مرد کے ذمہ رہے، اسی لئے بیوی اور بچوں کے تمام جائز اخراجات مرد کے اوپر فرض کئے گئے ہیں، شریعت اسلامیہ نے صنف نازک پر کوئی خرچہ لازم نہیں قرار دیا، شادی سے قبل اس کے تمام اخراجات باپ کے ذمہ اور شادی کے بعد رہائش، کپڑے، کھانے اور ضروریات وغیرہ کے تمام مصارف شوہر کے ذمہ رکھے ہیں۔ عورتوں سے کہا گیا کہ وہ گھر کی ملکہ ہیں۔ (صحیح بخاری ) لہٰذا ان کو اپنی سرگرمیوں کا مرکز گھر کو بنانا چاہئے جیسا اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: وَقَرْنَ فِی بُيوْتِکُنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهلية الْاُوْلٰی (سورۃ الاحزاب ۳۳)۔ مرد وعورت کی ذمہ داری کی یہ تقسیم نہ صرف اسلام کا مزاج ہے بلکہ یہ ایک فطری اور متوازن نظام ہے جو مردو عورت دونوں کے لئے سکون وراحت کا باعث ہے۔ لیکن اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ عورت کا ملازمت یا کاروبار کرنا حرام ہے، بلکہ قرآن وحدیث چند شرائط کے ساتھ اس کی اجازت بھی دیتا ہے۔ جو کام مردوں کے لئے جائز ہیں، اگر قرآن وحدیث میں عورتوں کو ان سے منع نہیں کیا گیا ہے تو عورتوں کے لئے شرعی حدود وقیود کے ساتھ انہیں انجام دینا جائز ہے۔ بعض اوقات خواتین کی ملازمت کرنا معاشرہ کی اجتماعی ضرورت بھی ہوتی ہے مثلاً امراض نساء وولادت کی ڈاکٹر، معلمات جو لڑکیوں کے لئے بہترین تعلیم کا نظم کرسکیں۔ غرضیکہ عورت شرعی حدود وقیود کے ساتھ ملازمت یا کاروبار کرسکتی ہے۔ ان شرعی حدود کے لئے چار امور اہم ہیں: ۱) پردہ کے احکام کی رعایت ہو۔ ۲) اجنبی مردوں کے اختلاط سے دور رہا جائے۔ ۳) گھر سے...

  • 58 طویل مدتی قرض اور موجودہ کرنسی (اتوار 12 اگست 2018ء)

    مشاہدات:308

    معاشی نظام کے بقا واستحکام میں  زر یعنی کرنسی کو بڑا دخل ہے  ایک  زمانہ میں کرنسی سونے اور چاندی کو بنایا جاتا تھا جس کی   خود ایک قیمت اور اہمیت تھی اور آدمی کےبس کی بات نہیں تھی  کہ  جتنے سکے  چاہے ڈھال لے  کیونکہ ان  سکوں کی ڈھلائی کےلیے  قیمتی دھالت مطلوب ہوتی تھی ۔کرنسی یا سکّہ یا زر سے مراد ایسی چیز ہوتی ہے جس کے بدلے دوسری چیزیں خریدی یا بیچی جا سکیں۔ اور اگر یہ چیز کاغذ کی بنی ہو تو یہ کاغذی کرنسی، کاغذی سکّہ یا زر کاغذ کہلاتی ہے۔ ماضی میں کرنسی مختلف دھاتوں کی بنی ہوتی تھی اور اب بھی چھوٹی مالیت کے سِکّے دھاتوں سے ہی بنائے جاتے ہیں۔کہا جاتا ہے کہ کاغذی کرنسی موجودہ دنیا کا سب سے بڑا دھوکہ ہے۔کہا جاتاہے کہ اہلِ چین نے 650ء سے 800ء کے درمیان کاغذ کے ڈرافٹ بنانے شروع کیے تھے ، انہی ڈرافٹ نے آگے چل کرکرنسی

  • 59 شریعت کے دائرہ میں انشورنس ( تکافل ) کی صورت (منگل 02 اکتوبر 2018ء)

    مشاہدات:493

    اسلام نے بڑے صاف اور واضح انداز  میں حلال  اور حرام  کے مشکل ترین مسائل کو کھول  کھول  کر بیان کردیا  ہے اس کےلیے  کچھ قواعد و ضوابط  بھی مقرر فرمائے ہیں جو راہنما اصول کی حیثیت  رکھتے  ہیں ایک مومن مسلما ن کے لیے  ضروری ہے کہ تاحیات پیش  آمدہ حوائج  وضروریات کو اسی اصول  پر پر کھے  تاکہ اس کا معیارِ  زندگی اللہ  اور اس کے رسول کریم  ﷺ کی منشا کے مطابق  بن کر دائمی  بشارتوں  سے بہر ہ ور ہو سکے۔سیدنا ابو ہریرہ﷜سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺنے فرمایا:لوگوں پر ایک زمانہ ایسا بھی  آئے گا کہ آدمی اس بات کی پروا نہیں کرے گا کہ جو مال اس کے ہاتھ آیا ہے وہ حلا ل ہے یا حرام(صحیح بخاری:2059) دور حاضر میں حرام مال کمانے کی بہت سی ناجائز شکلیں عام ہو چکی ہیں اور لوگ ان کے حرام یا حلال ہونے کے متعلق جانے بغیر انہیں جائز سمجھ کر اختیار کرتے جا رہے ہیں۔جن میں انعامی سکیمیں ،لاٹری،انشورنس،اور مکان گروی رکھنے کی مروجہ صورت وغیرہ ہیں۔علمائے اسلام اس بات کے لیے کوشاں ہیں کہ بینک اور انشورنش کمپنی جیسے اداروں کا اسلامی متبادل پیش کیا جائے تاکہ  مسلمان حرام سے بچ سکیں اور حلال طریقہ پر اپنی ضرورت پوری کرسکیں۔ انشورنش کے لیے  ایسے اسلامی متبادل کو علماء نے ’’ تکافل‘‘ سے تعبیر کیا ہے کیونکہ انشورنش  یعنی تیقن دینا مخلوق کے ہاتھ  میں  نہیں  ہے ۔ زیر تبصرہ کتاب ’’شریعت کے دائرہ میں  ا...

  • 60 قبلہ کا کردار امت کی تشکیل میں (ہفتہ 03 نومبر 2018ء)

    مشاہدات:301

    عرفِ عام میں قبلہ سے مراد خانہ کعبہ ہے جو مسجد الحرام، مکہ مکرمہ ، سعودی عرب میں واقع ہے اور مسلمان اس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے ہیں۔امت کی اجتماعیت اور وحدت کو برقرار ررکھنے کے لیے کچھ ایسے شعائر اور علامات  ہیں۔جس میں  کوئی اختلاف اور امت کے مختلف طبقات  کے درمیان کوئی فرق نہ  ہو ۔جو ان کو ایک قدر مشترک پر متحد رکھے   اور جو ان کی شناخت بن جائے ۔ان علامات اور شعائر میں سے  ایک قبلہ ہے جو امت مسلمہ  کو  متحد رکھنے کا باعث ہے ۔اسی لیے  رسول اللہ ﷺ نےمسلمان ہونے کی علامت یہ قراردی کہ کوئی شخص مسلمانوں کی طرف نماز پڑھے مسلمانوں کے قبلہ کی طرف رخ کرے  اور مسلمانوں کے ذبیحہ کو حلال سمجھ کر کھائے ۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ قبلہ کا کردار امت کی تشکیل میں ‘‘  ڈاکٹر صلاح الدین  عبد الحلیم  سلطان کی  تصنیف ہے ۔ انہوں نے اس کتاب میں تعیین قبلہ کی حکمت ومصلحت ، وحدت امت کے باب  میں  اس کا کردار اور اسلامی مقدسات کے بارے میں امت کی ذمہ داریوں پر روشنی ڈالنے ذکے ساتھ ساتھ قبلہ اول  سے متعلق فراموش کر...

  • ایڈوانس سرچ

    اعدادو شمار

    • آج کے قارئین: 372
    • اس ہفتے کے قارئین: 3833
    • اس ماہ کے قارئین: 10050
    • کل مشاہدات: 41272433

    موضوعاتی فہرست

    ای میل سبسکرپشن

    محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

    رجسٹرڈ اراکین

    ایڈریس

            99--جے ماڈل ٹاؤن،
            نزد کلمہ چوک،
            لاہور، 54700 پاکستان

           0092-42-35866396، 35866476، 35839404

           0092-423-5836016، 5837311

           library@mohaddis.com

           بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں