جامعہ کراچی دار التحقیق برائے علم و دانش

  • نام : جامعہ کراچی دار التحقیق برائے علم و دانش

کل کتب 2

دکھائیں
کتب
  • 1 #5559

    مصنف : مبشر نذیر

    مشاہدات : 1879

    الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات

    (منگل 13 جون 2017ء) ناشر : جامعہ کراچی دار التحقیق برائے علم و دانش
    #5559 Book صفحات: 37

    الحاد کا لفظ عموما لادینیت اور خدا پر عدم اعتماد کے معنوں میں بولا جاتا ہے۔ نام نہاد فکری سور ماؤں نے انسانی زندگی کو مسائل اور پیچیدگیوں سے پاک اور امن وسکون کا گہوارہ بنانے کی جتنی کوششیں کی ہیں۔ان میں انہیں شکست فاش کا ہی سامنا کرنا پڑا ہے۔انہوں نے مسائل کو سلجھانے کی جتنی تدبیریں کیں، ان تدبیروں نے مسائل کو نہ صرف مزید الجھا دیا بلکہ ان میں کئی گنا اضافہ بھی کر دیاہے۔اس ناکامی کا بدیہی سبب یہ ہے کہ یہ حضرات بالعموم اپنی کوششوں کی بنیاد اسی الحاد اور مادہ پرستی پر رکھتے ہیں جو سارے بگار کی اصل جڑ ہے۔حقیقت یہ ہے کہ انسانیت کو موجودہ فکری بحران، سماجی انتشار اور اخلاقی پستی سے نجات دلانا مقصود ہے تو پھر سب سے پہلے اس کفر والحاد پر کاری ضرب لگانی ہو گی جس کی بنیاد پر موجودہ تہذیب کی عمارت کھڑی کی گئی ہے۔اسلام ہی وہ حقیقی بنیاد ہے جس پر عمل کرنے انسانیت اپنے مسائل حل کر سکتی ہے، اور دنیا وآخرت دونوں جہانوں میں کامیابی سے ہمکنار ہو سکتی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب" الحاد جدید کے مغربی اور مسلم معاشروں پر اثرات " محترم مبشر نذیر صاحب کی عربی تصنیف ہے، جس میں...

  • 2 #7036

    مصنف : سید خالد جامعی

    مشاہدات : 1096

    غامدیت ، جدیدیت اور لبرل مسلم فکر کا ناقدانہ جائزہ جلد اول

    (ہفتہ 24 اگست 2019ء) ناشر : جامعہ کراچی دار التحقیق برائے علم و دانش
    #7036 Book صفحات: 242

    دورِ حاضر کے فتنوں میں ایک بڑا فتنہ منکرین حدیث کا ہے۔ مغرب کی چکا چوند سے متاثر ، وضع قطع میں اسلامی شعائر سے عاری، نام نہاد روشن خیالی کے سپورٹر، دینی اصولوں میں جدت و ارتقاء کے نام پر تحریف کے قائل و فاعل ، دینی احکام کی عملی تعبیر کو انتہا پسندی اور دقیانوسیت قرار دینے والے، قرآن مجید کی آڑ میں احادیث رسول ﷺ کی تاویل و تحریف کے ساتھ استہزاء کرنے والے اس گروہ کے دور حاضر کے لیڈر جناب جاوید احمد غامدی صاحب ہیں۔ جو میڈیا کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہوئے اپنے باطل افکار و نظریات کو خوب پھیلا رہے ہیں۔ جن میں معتزلہ کی طرح عقل انسانی کے بجائے فطرت انسانی کو کلی اختیارات عطا کرنا، دین اسلام کی تفہیم و تشریح میں انسانی فطرت و عربی محاورات یا دور جاہلیت کے اشعار کو بنیادی حیثیت دینا اور احادیث کو روایات کہہ کر ثانوی یا ثالثی حیثیت دے کر اوربسا اوقات قرآن سے متصادم کا لیبل چسپاں کر کے اسے پس پشت ڈال دینا، مسئلہ تحلیل و تحریم کو شریعت سے خارج کرنا، علاقائی رسومات کو تواتر عملی کا جامہ پہنا کر اسے دین بنا ڈالنا، قرآن کے نام پر مغرب کے تم...

ایڈ وانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین 1845
  • اس ہفتے کے قارئین 17424
  • اس ماہ کے قارئین 15331
  • کل قارئین53267632

موضوعاتی فہرست