مکتبہ جمال، لاہور

مکتبہ جمال، لاہور
24 کل کتب
دکھائیں

  • 11 توہین رسالت کی سزا ( پروفیسر حبیب اللہ ) (پیر 08 فروری 2016ء)

    مشاہدات:1630

    سید الانبیاء حضرت محمد مصطفی ﷺ سے محبت وعقیدت مسلمان کے ایمان کا بنیادی جزو ہے اور کسی بھی شخص کاایمان اس وقت تک مکمل قرار نہیں دیا جاسکتا جب تک رسول اللہ ﷺ کو تمام رشتوں سے بڑھ کر محبوب ومقرب نہ جانا جائے۔فرمانِ نبویﷺ ہے تم میں سے کوئی شخص مومن نہیں ہوسکتا جب تک اسے رسول اللہﷺ کے ساتھ ماں،باپ ،اولاد اور باقی سب اشخاص سے بڑھ کر محبت نہ ہو۔یہی وجہ ہے کہ امت مسلمہ کاشروع دن سے ہی یہ عقیدہ ہےکہ نبی کریم ﷺ کی ذاتِ گرامی سے محبت وتعلق کےبغیر ایمان کا دعویٰ باطل اور غلط ہے۔ہر دو ر میں اہل ایمان نے آپ ﷺ کی شخصیت کے ساتھ تعلق ومحبت کی لازوال داستانیں رقم کیں۔اور اگر تاریخ کے کسی موڑ پرکسی بد بخت نے آپﷺ کی شان میں کسی بھی قسم کی گستاخی کرنے کی کوشش کی تو مسلمانوں کے اجتماعی ضمیر نے شتم رسولﷺ کے مرتکبین کو کیفر کردار تک پہنچایا۔ چند سال قبل ڈنمارک ناروے وغیرہ کے بعض آرٹسٹوں نے جوآپ ﷺ کی ذات گرامی کے بارے میں خاکے بنا کر آپﷺ کامذاق اڑایا۔جس سے پورا عالم اسلام مضطرب اور دل گرفتہ ہواتونبی کریم ﷺ سے عقیدت ومحبت کے تقاضا کو سامنے رکھتے ہواہل ایما ن سراپا احتجاج بن گئے اور سعودی عرب نے جن ملکوں میں یہ نازیبا حرکت ہوئی ان کی مصنوعات کا بائیکاٹ کیا ۔ پاکستان میں ’’تحریک حرمت رسولﷺ ‘‘ معرض وجود میں آئی جس میں ملک بھر کی 22 دینی وسیاسی جماعتیں شامل ہوئیں۔اور اسی دوران گستاخ رسول کی سزا وانجام کےحوالے سے متعددنئی کتب چھپ منظر عام پر آئی ہیں کتاب ہذا بھی اسی سلسلہ کی کڑی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب’’توہین رسالت کی سزا‘‘ جنا ب...

  • 12 نگارستان (منگل 09 فروری 2016ء)

    مشاہدات:2203

    ہماری قومی زبان اردو اگرچہ ابھی تک ہمارے لسانی و گروہی تعصبات اور ارباب بست و کشاد کی کوتاہ نظری کے باعث صحیح معنوں میں سرکاری زبان کے درجے پر فائز نہیں ہو سکی لیکن یہ بات محققانہ طور پر ثابت ہے کہ اس وقت دنیا کی دوسری بڑی بولی جانے والی زبان ہے۔ ہر بڑی زبان کی طرح اس زبان میں بے شمار کتب حوالہ تیار ہو چکی ہیں اور اس کے علمی، تخلیقی اور تنقیدی و تحقیقی سرمائے کا بڑا حصہ بڑے اعتماد کے ساتھ عالمی ادب کے دوش بدوش رکھا جا سکتا ہے۔ ایسی زبان اس امر کی متقاضی ہے کہ اسے صحیح طور پر لکھا بولا جا سکے۔  کیونکہ کسی بھی زبان کی بنیادی اکائی اس کے اصول وقواعد ہیں ۔ زبان پہلے وضع ہوتی ہے اور قواعد بعد میں لیکن  زبان سے پوری واقفیت حاصل کرنے کےلیے قواعد زبان سے آگاہی  ضروری ہے۔اہل زبان نے قواعد کی ضرورت کبھی محسوس نہیں کیا اس لیے انہوں نے قواعد مرتب نہیں کیے ۔اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں ہے کہ اردو بولنے یا لکھنے والے پاکستانیوں کی بہت بڑی تعداد اپنی قومی زبان کی صحت کی طرف سے سخت غفلت برت رہی ہے۔سکولوں اورکالجوں کےلیے گرائمر کی متعدد کتابیں شائع ہوئیں ہیں  جو کاروباری مقاصد کو سامنے رکھ کر تیار کی گئیں۔جن میں گرائمر برائے نام اور انشاپردازی کےلیے اِدھر اُدھر سے مواد اکٹھا کر کے  ضخیم بنادیاگیا ہے۔جن میں کسی ترتیب کاخیال نہیں رکھا گیا۔ صرف اور نحو کوباہم گڈمڈ کردیاگیا ہے۔روزہ مرہ ،محاورہ، ضرب المثل اور مقولہ میں تمیز کےبغیر انہیں شامل کتاب کردیا گیا ہے ۔ان کتابوں میں صرف امتحانی ضروریات کا خیال رکھاگیا ہے لیکن ان سے  لسانی تقاضے  ...

  • 13 رسول اکرمﷺ اور خلفائے راشدین کے آخری لمحات (جمعہ 05 فروری 2016ء)

    مشاہدات:2546

    رسول اکرم ﷺ اور خلفائے راشدین کے آخری لمحات قرآن مجید کی صداقت کے لیے موت بھی ایک مستند دلیل ہے"کل من علیھا فان" ہر ذی روح چیز فانی ہے بقاء و دوام صرف اور صرف رب ذوالجلال کے لائق ہے۔ دنیا ایک سرائے کی مانند ہے، یہاں کی مجلس دائمی نہیں اسی لیے ہر نفس حیات و ممات کے سلسلہ سے وابستہ ہے۔ مگر کچھ ایسے نفوس مقدسہ بھی ہوتے ہیں جو فنا ہونے کے باوجود غیر فانی حیثیت اختیار کر جاتے ہیں اور اپنے اخلاق و کردار، علم و معرفت اور کارہائے نمایاں کی ایسی قندیلیں روشن کرجاتے ہیں جو باد مخالف کے باوجود نہیں بجھتیں۔ آپ ﷺ اللہ کے آخری نبی اور رسول بن کر آئے۔ آپ ﷺ ذاتِ گرامی سے کون واقف نہیں، آپ ﷺ کی تعلیمات روزِ قیامت تک امت کے لیے منارہ نور اور مشعل راہ ہیں اور آپ ﷺ نے جانثار صحابہ کرام بالخصوص خلفائے راشدین ان کی سیرت بھی امت مسلمہ کے لیے ایک کسوٹی کی حیثیت رکھتی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب"رسول اکرم ﷺ اور خلفائے راشدین کے آخری لمحات" مولانا ابو الکلام آزادؒ کی ایک شاہکار تصنیف ہے جس میں مولانا آزادؒ نے رسول اکرم ﷺ اور خلفائے راشدین کی اس جہانِ فانی سے رخصتی کے وقت ان کی وصایا اور ان کے آخری لمحات کو قلمبند کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مولانا آزادؒ کو بے پناہ صلاحیتوں سے نوازہ تھا۔ اللہ تعالیٰ ان پر اپنی رحمتوں کی برکھا برسائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔ آمین(عمیر)

  • برصغیر پاک و ہند میں کچھ ایسی شخصیات نے جنم لیا جو علم و ادب اور صحافت کے افق پر ایک قطبی ستارے کی طرح نمودار ہوئے اور دیر تک چھائے رہے۔ ان شخصیات میں سے مولانا ابو الکلام آزادؒ سرِ فہرست ہیں، مولانا کو اللہ تعالیٰ نے بے پناہ صلاحیتوں سے نوازہ تھا۔ مولانا آزادؒ عربی، اردو، فارسی اور انگریزی کے عظیم سکالر تھے، آپ نہایت ہی زیرک اور بے باک انسان تھے۔ مولانا آزادؒ مکہ معظمہ میں پیدا ہوئے اور بعد میں دہلی میں ہی قیام پذیر رہے آپ کا گھرانہ خالص دینی ماحول سے ہمکنار تھا۔ تقسیم ہندوستان کے وقت آپ نے مسلمانوں کو فرنگیوں کی چالوں سے آگاہ ہی نہیں کیا بلکہ تحریری و تقریری میدان میں بھی ہر لحاظ سے مصروف عمل رہے، آپ فن خطابت کے شہسوار شمارکئے جاتے تھے سامعین فرط حیرت میں مبہوت ہو کر رہ جاتے۔ زیر نظر کتاب"ذکر آزاد" مولانا عبد الرزاق ملیح آبادی کی مولانا آزادؒ کے ساتھ اڑتیس (38) سال کی رفاقت کو قلمی شکل میں ڈھالا گیا ہے جس میں مولانا آزادؒ کے اخلاق و عادات کی جھلکیاں، بے تکلف صحبتوں کو قلمبند کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ان کی محنتوں کو قبول و منظور فرمائے۔ آمین(عمیر)

  • 15 صدائے حق (امر بالمعروف و نہی عن المنکر) (اتوار 07 فروری 2016ء)

    مشاہدات:2420

    اللہ رب العزت نے اپنے بندوں کی رہنمائی کے لیے انبیاء کرام اور رسولوں کو مبعوث فرمایا جو شرک و بدعت میں ڈوبی ہوئی انسانیت کو صراط مستقیم سے ہمکنار کرتے، اللہ تعالیٰ کے احکامات کو بندوں تک پہنچاتے۔ اس سلسلہ نبوت کی آخری کڑی ختم الانبیاء حضرت محمد ﷺ ہیں۔ آپﷺ ایک داعئ انقلاب، معلم، محسن و مربی بن کر آئے۔ جس طرح آپﷺ کے فضائل و مناقب سب سے اعلیٰ اور اولیٰ ہیں اسی طرح آپ ﷺ کی امت کو بھی اللہ رب العزت نے اپنی کلام پاک میں"امت وسط" کے لقب سے نوازہ ہے۔ اسلام نے اپنی دعوت و تبلیغ اور امت کے قیام و بقاء کے لیے اساس اولین ایک اصول کو قرار دیا ہے جو "امر بالمعروف و نہی عن المنکر" کے نام سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ دعوت الی الخیر، برائی سے روکنا اس امت کا خاصہ اور دینی فریضہ ہے۔ جب ہر فرد اپنے حقیقی مشن"امر با لمعروف و نہی عن المنکر" کو پہچانتے ہوئے عملی جامہ پہنائے گا تو ایک پر امن، باہمی اخوت اور مودّدت کا مثالی معاشرہ تشکیل ہو گا۔ زیر تبصرہ کتاب"صدائے حق امر بالمعروف و نہی عن المنکر" مولانا ابو الکلام آزادؒ کی نادر تصنیف ہے جو کہ در اصل ان مضامین پر مشتمل ہے جو آپ نے "امر با لمعروف و نہی عن المنکر" کے عنوان کے تحت اپنے ہفت روزہ رسالے"الہلال" میں قسط وار شائع کئے تھے۔ مولانا آزادؒ ایک تحریکی اور بے پناہ صلاحیتوں کے مرقع تھے آپ کا قلم ایک سونتی ہوئی تلوار کی مانند تھا حق گوئی، بے باکی ان کا طرہ امتیاز تھا۔ مولانا آزادؒ نے اپنی تصنیف میں مسلمانوں کو ان کے حقیقی مشن کی طرف راغب کرنے کی کوشش کی ہے۔ اللہ تعالیٰ م...

  • برصغیر پاک و ہند میں کچھ ایسی شخصیات نے جنم لیا جو علم و ادب اور صحافت کے افق پر ایک قطبی ستارے کی طرح نمودار ہوئے اور دیر تک چھائے رہے۔ ان شخصیات میں سے مولانا ابو الکلام آزادؒ سرِ فہرست ہیں، مولانا کو اللہ تعالیٰ نے بے پناہ صلاحیتوں سے نوازہ تھا۔ مولانا آزادؒ عربی، اردو، فارسی اور انگریزی کے عظیم سکالر تھے، آپ نہایت ہی زیرک اور بے باک انسان تھے۔ جب فرنگی حکومت نے ایک منصوبہ کے تحت تقسیم برصغیر کا پروگرام بنایا اور ان کا ارادہ تھا کہ مسلمان پسماندہ ہیں اس لیے ان کو چند ایک رعایتوں کے ساتھ اپنا آلہ کار بنا لیا جائے گا۔ مولانا آزادؒ نے جب برطانوی حکومت کی چالوں میں شدّت محسوس کی تو برصغیر کے مسلمانوں کو اس خطرناک چال سے بچانے کے لیے مولانا نے باقاعدہ کوششیں کیں۔ مولانا یہ چاہتے تھے کہ ہندوستان میں مسلمانوں کی نو(9) کروڑ سے زیادہ ہے اور وہ اپنی اس زبردست تعداد کے ساتھ ایسی مذہبی و معاشرتی صفات کے حامل ہیں کہ ہندوستان کی قومی و وطنی زندگی میں فیصلہ کن اثرات ڈال سکتے ہیں۔ مولانا کا یہ نظریہ تھا کہ اگر آج ہندوستان کے مسلمان ایک الگ ملک حاصل کر لیں گئے تو وہ فرنگیوں کے آلہ کار ہو کر رہ جائیں گئے اور انڈیا کے مسلمان اپنی اجتماعی طاقت سے ہمیشہ کے لیے محروم ہو کر احساس کمتری کا شکار رہیں گئے۔ زیر تبصرہ کتاب"مولانا ابو الکلام آزاد نے پاکستان کے بارے میں کیا کہا" جس کواحمد حسین کمال نے مرتب کیا ہے۔ یہ کتاب مولانا کے وہ خطابات و بیانات کا مجموعہ ہے جو مولانا آزادؒ نے تقسیم ہندوستان کی جدوجہد میں کہے تھے۔ اللہ تعالیٰ ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے...

  • 17 حقیقت الصلوۃ (جمعرات 07 اپریل 2016ء)

    مشاہدات:1681

    مسلمانوں کا امتیازی وصف دن اور رات میں پانچ دفعہ اپنے پرور دگار کے سامنے با وضوء ہو کر کھڑے ہونا اور اپنے گناہوں کی معافی مانگنا اور اپنے رب سے اس کی رحمت طلب کرنا ہے۔ نماز انتہائی اہم ترین فریضہ اور اسلام کا دوسرا رکن ِ عظیم ہے جوکہ بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ کلمۂ توحید کے اقرار کے بعد سب سے پہلے جو فریضہ انسان پر عائد ہوتا ہے وہ نماز ہی ہے۔ اسی سے ایک مومن اور کافر میں تمیز ہوتی ہے۔ بے نماز کافر اور دائرۂ اسلام سے خارج ہے۔ قیامت کے دن اعمال میں سب سے پہلے نماز ہی سے متعلق سوال ہوگا۔ نماز بے حیائی اور برائی کے کاموں سے روکتی ہے۔ بچوں کی صحیح تربیت اسی وقت ممکن ہے جب ان کوبچپن ہی سےنماز کا پابند بنایا جائے۔ نماز کی ادائیگی اور اس کی اہمیت اور فضلیت اس قدر اہم ہے کہ سفر وحضر، میدان ِجنگ اور بیماری میں بھی نماز ادا کرنا ضروری ہے۔ اس لیے ہرمسلمان مرد اور عورت پر پابندی کے ساتھ وقت پر نماز ادا کرنا لازمی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ حقیقت الصلاۃ ‘‘ امام الہند مولانا ابو الکلام آزاد کی تصنیف ہے۔ مولانا آزاد اسلام ایک کاحرکی اور انقلابی تصور رکھتے تھے جس میں قرآن اور نماز کو بنیادی حقیقت حاصل ہے۔ دین سے وابستگی کی ہر سطح ان کے نزدیک انہی دوبنیادوں پراستوار ہے۔ قرآن معبودیت کا اظہار ہے اور نماز عبودیت، گویا یہ دو قوسین ہیں جن سے مل کر دین کا دائرہ مکمل ہوتاہے۔ یا یوں کہہ لیجیے کہ قرآن جس کمال بندگی کا متقاضی ہے وہ نماز میں حاصل ہوتا ہے۔ بندگی کی کوئی بھی صورت ہو یہ ممکن نہیں کہ اس کی تکمیل نماز سے باہر کہیں اور ہوتی ہو ۔عقیدہ وعمل کی تما...

  • 18 مسلمان عورت (ابو الکلام آزاد) (ہفتہ 05 مارچ 2016ء)

    مشاہدات:2418

    قدرت نے مخلوقات کو مختلف جنسوں او رمختلف گروہوں میں تقسیم کر دیا ہے اورہر گروہ کے خاص فرائض اور خاص وظائف مقرر کر دیئے ہیں۔ ان تمام فرائض کی انجام دہی کے لیے چونکہ ایک ہی قسم کی جسمانی حالت اور دماغی قابلیت کافی نہ تھی۔ اس لیے جس گروہ کو جو ذمہ داری عطا فرمائی گئی اس کے موافق اس کو جسمانی اوردماغی قابلیت عطا کی گئی۔ بیشک انسان فطرتاً آزاد ہے، اور یہ آزادی اس کے ہر ارادی و غیر ارادی فعل سے ظاہرہوتی ہے لیکن آزادی کو تسلیم کرتے ہوئے اس امر کو فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ انسان کا اپنے حقیقی فرائض کو ادا کرنا نظام تمدن کا اصلی عنصر ہے۔ اسلام ایک عزت و عصمت او رپاکیزگی قلب و نگاہ کا دین ہے۔ اسلام نے عورت کی عزت و آبرو کے لیے جامع قوانین متعین کیے، وراثت میں حقدار ٹھہرایا، اس کے عائلی نظام کو مستحکم بنایا۔ اسلام سے قبل عورت کو دنیا میں جس نگاہ سے دیکھا جاتا ہے وہ ہر ممالک میں مختلف رہی ہے، مشرق میں عورت مرد کے دامن تقدس کا داغ ہے، اہل یونان اس کو شیطان کہتے ہیں، تورات اس کو لعنت ابدی کا مستحق قرار دیتی ہے، کلیسا اس کو باغ انسانیت کا کانٹا تصور کرتا ہے لیکن اسلام کا نقطہ نظر ان سب سے جدا گانہ ہے۔ اسلام میں عورت نسیم اخلاق کی نکہت اور چہرہ انسانیت کا غازہ سمجھی جاتی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب"مسلمان عورت" مولانا ابو الکلام آزادؒ کی بے مثال تصانیف میں سے ہے۔ موصوف نے کتاب ہذا میں حقوق نسواں، مسلمان عورت کے حقوق و فرائض، یورپ کی معاشرانہ زندگی اور پردہ جیسے اہم مسائل کو قلمبند کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ مولانا آزادؒ کو غریق رحمت کرے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ ف...

  • 19 قرآن حکیم کی تین سورتیں ( التین ، القدر ، العصر ) (اتوار 03 اپریل 2016ء)

    مشاہدات:1859

    اللہ رب العزت نے اپنے بندوں کی رشد و ہدایت کے لیے اپنے برگزیدہ رسولوں اور پیغمبروں کو مبعوث فرمایا جو گمراہی اور جہالت میں ڈوبی ہوئی بنی نوع کو صراط مستقیم سے ہمکنار کرتے۔ سید الانبیاء ختمی المرتبت حضرت محمد ﷺ اللہ کے آخری نبی اور رسول ہیں۔ اللہ رب العزت نے آپ ﷺ کو قرآن جیسا عظیم معجزہ اور جوامع الکلم سے نوازہ۔ قرآن مجید امت مسلمہ کے پاس اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا ایک عظیم تحفہ ہے۔ اس سچی اور لاریب کتاب میں گزشتہ اقوام کے واقعات اور مستقبل کی پشین گوئیاں بھی بیان کی گئی ہیں۔ یہ کتاب مقدس حق اور باطل کے درمیاں فیصلہ کرنے والی ہے۔ قرآن کریم سراپا نصیحت، حکمت و دانائی کی باتوں سے اور لبریز سیدھے راستے کی طرف راہنمائی کرنے والی کتاب ہے۔ نزول قرآن سے لے کر لمحہ موجودہ تک مختلف زاویوں سے اس کی توضیحات و تفسیرات سامنے آرہی ہیں لیکن اس کے مصارف ہیں کہ ختم نہیں ہوتے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے توحید، رسالت، آخرت اور دیگر مضامین کو سمجھانے کے لیے مثالیں بیان کی ہیں تا کہ ان مثالوں کی روشنی میں بات کو اچھی طرح ذہن نشین کر لیا جائے۔ زیر نظر کتاب"قرآن حکیم کی تین سورتین ترجمہ و تفسیر" مولانا ابو الکلام آزادؒ کی نایاب تفسیری تصنیف ہے۔ جس میں مولانا آزادؒ نے قرآن حکیم منتخب تین سورتوں(التین، القدر، العصر) کا ترجمہ و تفسیر کی ہے۔ مولانا کو اللہ تعالیٰ نے بے پناہ صلاحیتوں سے نوازہ تھا۔ مولانا آزادؒ عربی، اردو، فارسی اور انگریزی کے عظیم سکالر تھے، آپ نہایت ہی زیرک اور بے باک انسان تھے۔ اللہ تعالیٰ مولانا آزادؒ کو غریق رحمت فرمائے اور ان کے درجات میں بلندی ک...

  • 20 مقام دعوت (اتوار 15 مئی 2016ء)

    مشاہدات:1953

    رسول اللہ ﷺ دین  حنیف کے داعی اور مبلغ بن کر مبعوث ہوئے۔ آپ ﷺ نے شرک و بدعات کا خاتمہ کرتے ہوئے ایک اللہ رب العزت کی عبادت اور اسلامی تعلیمات کا درس دیا۔ جب آپؐ نے دعوت کا آغاز کیا تو آپ کو بے شمار تکالیف کا سامنا کرنا پڑا، دیوانہ، پاگل، مجنون جیسے الفاظ کسے گئے، پتھرمارے گئے، گالیاں دی گئیں، اہل و عیال کو تنگ کیا گیا غرض یہ کہ ہر طرح سے آپ کی دعوت الیٰ اللہ کو روکنے کے لیے ہر طرح کا راستہ اختیار کیا گیا۔ رسول اللہ ﷺ نے اسلام کو احسن انداز میں مکمل طور پر پوری دنیا کے سامنے پیش کیا۔ آپؐ نبوت و رسالت سے سرفراز ہونے کے دن سے لے کر اپنے رب کی جوار رحمت میں منتقل ہونے تک اس دین کی دعوت دیتے رہے۔ اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے آپ کی رسالت کا اعلان کیا۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: "یا ایھا النبی انا ارسلناک شاھدا و مبشرا و نذیرا"(القران)۔ رسول اللہ ﷺ نے اسلام کی دعوت دیتے ہوئے کچھ وسائل، اسالیب اور طریقے اختیار کیے جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو وحی کیے تھے اور جو قرآن و سنت سے ثابت ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب"مقام دعوت" جو کہ مولانا ابو الکلام آزادؒ کی نایاب تصنیف ہے۔ جس میں مولانا آزادؒ نے دعوت و تبلیغ کو ایک تجارت سے تشبیہ دے کر یہ بات واضح کی ہے کہ یہ بھی آخرت کی ایک تجارت ہے جس سے انسان کو کبھی نقصان اور خسارہ نہیں ہو گا۔ ایک داعی اگر اپنی نیت کو خالص کرتے ہوئے دعوت دین کرتا ہے کہ تو یہ ایک قسم کی تجارت ہے اور قرآن میں بھی یہی تاجرانہ اسلوب مدنظر رکھا گیا ہے ارشاد باری تعالیٰ ہے"ان اللہ اشترٰی من المؤمنین انفسھم و اموالھم بان لھم الجنۃ"(الق...


ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 1764
  • اس ہفتے کے قارئین: 16492
  • اس ماہ کے قارئین: 35785
  • کل قارئین : 47822414

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں