تخلیقات، لاہور

  • نام : تخلیقات، لاہور
  • ملک : لاہور

کل کتب 13

دکھائیں
کتب
  • 1 #6724

    مصنف : وی اے سمتھ

    مشاہدات : 7606

    قدیم تاریخ ہند

    (اتوار 05 اگست 2018ء) ناشر : تخلیقات، لاہور
    #6724 Book صفحات: 591

    ہندوستان دنیا کا ایسا خطہ ہے جہاں آٹھویں صدی سے لے کر بیسویں صدی تک دو غیرملکی حکمران، عرب مسلمان اور انگریز(برطانوی) قابض رہے۔ 712 ء میں مسلمان حکمران محمد بن قاسم نے ہندوستان میں قدم رکھا اور 1857 کے غدر کے بعد باقاعدہ مسلمانوں کے اقتدار کا خاتمہ ہوا ۔ برطانوی سامراج جس کی ابتداء 1757 ء کو ہوئی تھی کا خاتمہ 1947 ء کو ہوا۔ محمد بن قاسم نے دمشق میں موجود مسلمان خلیفہ الولید اور بغداد کے گورنر حجاج بن یوسف کی آشیر باد سے، 712 ء میں ہندوستان پر حکمرانی کا آغاز کیا ۔ 1590ء تک مسلمان حکمران شہنشاہ اکبر تقریباً پورے ہندوستان پر قابض ہو چکا تھا۔ اورنگ زیب کے دور (1657-1707) میں اس سلطنت میں کچھ اضافہ ہوا۔ زیرتبصرہ کتاب ’’ قدیم تاریخ ہند‘‘ دی ۔اے۔ سمتھ کی انگریزی کتاب کا اردو ترجمہ ہے ۔یہ کتا ب اکیسویں صدی میں متعدد حوالوں سے اہم ہے ۔یہ کتا ب درج ذیل  خوبیوں کی حامل ہے ۔ اول: یہ بنیادی تاریخی حوالوں کو ایک عہد بہ عہد سلسلے میں پیش کرتی  ہے ۔ دو م: اس میں عیسوی دور  کے پہلے ایک ہزارسال کے ہندوستان کے بارے  میں کافی مواد موجود ہے۔سوم: مصنف کی استعم...

  • 2 #4260

    مصنف : پیٹر ایف ڈرکر

    مشاہدات : 2730

    اکیسویں صدی کے مینجمنٹ چیلنجز

    (جمعرات 25 فروری 2016ء) ناشر : تخلیقات، لاہور
    #4260 Book صفحات: 239

    مینجمنٹ (Management)انگریزی زبان کے فعل(Manage) کا اسم ہے۔اردو زبان میں اس کا ترجمہ عام طور پر انتظامیہ،عملہ بندوبست،مدبرین کا گروہ،آراستگی،تہذیب وترتیب،حکمت عملی،انتظام وانصرام،نجی،سرکاری،تجارتی اور جماعتی کاموں کی تنظیم،اداروں کی دیکھ بھال اور نظم وضبط کے ذمہ دار افراد وغیرہ پر کیا جاتا ہے۔ مینجمنٹ کی تمام جہتوں کے لئے کوئی ایک لفظ دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے ترجمہ کی بجائے لفظ مینجمنٹ ہی استعمال میں لایا گیا ہے اور جہاں کہیں نظم وضبط حیات لکھا ہے وہاں بھی مراد مینجمنٹ ہی ہے۔ مینجمنٹ کی اہمیت ہمیشہ مسلم رہی ہے لیکن اکیسویں صدی میں آکر اب اس کی اہمیت اور زیادہ ہوگئی ہے، کیونکہ اب بڑی بڑی ملٹی نیشنل کمپنیاں اور بین الاقوامی ادارے معرض وجود میں آ چکے ہیں، جنہیں مناسب مینجمنٹ کے بغیر چلانا ناممکن کام ہے۔ اب تو مینجمنٹ پر باقاعدہ کورسز کروائے جارہے ہیں اور اس کی باقاعدہ ڈگریاں جاری کی جارہی ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب" اکیسویں صدی کے مینجمنٹ چیلنجز "محترم پیٹر ایف ڈرکر کی انگریزی تصنیف ہے جس کا اردو محترم محمد عامر عسکری ایم بی ای نے کیا ہے۔ مولف موصوف نے اپنی...

  • 3 #4547

    مصنف : مولوی محمد حسین

    مشاہدات : 5268

    سفر نامہ ابن بطوطہ

    (ہفتہ 09 اپریل 2016ء) ناشر : تخلیقات، لاہور
    #4547 Book صفحات: 520

    حضرت انسان اپنے دل و دماغ میں بے شمارقسم کی خواہشات اور امیدوں کو جنم دیتا ہے اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے اپنی خواہشات کی تکمیل کے لیے ہر ممکن کوشش کرتا ہے، دن و رات کی تفریق کیے بغیر ہر قسم کی قربانی دینے کو تیار ہو جاتا ہے۔ ہر انسان اپنے ذہن کے مطابق مختلف قسم کی خواہشات رکھتا ہے بعض افراد تعلیم کے شوقین ہوتے ہیں، تو بعض افراد معیشت کی لگن، کچھ افراد کوئی جدید ٹیکنالوجی کے دلدادہ ہوتے ہیں، تو کچھ افراد تاریخی اسفار کی جستجو میں مصروف عمل نظر آتے ہیں۔ ان خواہشات میں جو لوگ تاریخی اسفار کے شوقین ہوتے ہیں وہ اپنے سفر ناموں میں دوران سفر پیش آنے والے حالات، اقوام کی تہذیب و تمدن، ان کے رسم و رواج اور ان اقوام کے طرز بودوباش کو نہایت باریک بینی سے جانچتا ہے اور اپنے سفر نامے کو احاطہ تحریر میں لانے کی کوشش کرتا ہے۔ زیر نظر کتاب" سفر نامہ ابن بطوطہ" عربی کتاب" عجائب الاسفار" کا اردو ترجمہ ہے۔ فاضل مترجم خان بہادر مولوی محمد حسین صاحب نے نہایت سہل اور آسان فہم سلیس اردو ترجمہ کیا ہے۔ کتاب ہذا میں ہندوستان، مالدیپ،...

  • 4 #4774

    مصنف : موسیو ریناں

    مشاہدات : 7255

    ابن رشد و فلسفہ ابن رشد

    (منگل 04 اکتوبر 2016ء) ناشر : تخلیقات، لاہور
    #4774 Book صفحات: 361

    ابن رشد کا پورا نام"ابو الولید محمد بن احمد بن محمد بن احمد بن رشد القرطبی الاندلسی" ہے۔آپ  520 ہجری کو پیدا ہوئے۔آپ نے فلسفہ اور طبی علوم میں شہرت پائی۔آپ نہ صرف فلسفی اور طبیب تھے بلکہ قاضی القضاہ اور کمال کے محدث بھی تھے۔نحو اور لغت پر بھی دسترس رکھتے تھے ساتھ ہی متنبی اور حبیب کے شعر کے حافظ بھی تھے۔ آپ انتہائی با ادب، زبان کے میٹھے، راسخ العقیدہ اور حجت کے قوی شخص تھے۔آپ جس مجلس میں بھی شرکت کرتے تھے ان کے ماتھے پر وضو کے پانی کے آثار ہوتے تھے۔ان سے پہلے ان کے والد اور دادا قرطبہ کے قاضی رہ چکے تھے۔ انہیں قرطبہ سے بہت محبت تھی۔ ابنِ رشد نے عرب عقلیت پر بہت گہرے اثرات چھوڑے ہیں، اور یہ یقیناً ان کی اتاہ محنت کا نتیجہ تھا۔ انہوں نے اپنی ساری زندگی تلاش اور صفحات سیاہ کرنے میں گزاری۔ ان کے ہم عصر گواہی دیتے ہیں کہ انہوں نے اپنی زندگی میں سوائے دو راتوں کے کبھی بھی پڑھنا نہیں چھوڑا۔ پہلی رات وہ تھی جب ان کے والد کا انتقال ہوا، اور دوسری رات جب ان کی شادی ہوئی۔انہیں شہرت کی کبھی طلب نہیں رہی، وہ علم ومعرفت کے ذریعے کمالِ انسانی پر یقین رکھتے...

  • 5 #5708

    مصنف : قاضی اطہر مبارکپوری

    مشاہدات : 3604

    عرب و ہند عہد رسالت ﷺ میں

    (بدھ 13 ستمبر 2017ء) ناشر : تخلیقات، لاہور
    #5708 Book صفحات: 189

    عرب ہند تعلقات انتہائی قدیم ہیں ،قدیم ز مانے سے دونوں کے درمیان مختلف قسم کے تجارتی ،معاشی اور مذہبی تعلقات پائے جاتے تھے ،اہل عرب ہندوستان کے سواحل پر آتے تھے اور ہندوستان کے باشندے عرب سے آمد ورفت رکھتے تھے ، ہندوستانیوں کی مختلف جماعتیں وہاں مستقل طور پر آباد بھی تھی جن کو عرب زط اور مید کے نام سے یاد کرتے تھے ،اسلام سے قبل ہی ہندوستان کی بہت سی چیزیں عرب کی منڈیوں میں فروخت ہوتی تھی ،ہندی تلوار ،مشک ،عود ،کافور ،مرچ ،ساگوان ،ادرک ،سندھی کپڑے عربوں میں بہت متعارف تھے ۔ رسول اللہ ﷺ کی بعثت کے وقت عرب کے مختلف علاقوں میں ہندوستان کے لوگ آتے جاتے تھے اور وہاں مستقل آباد بھی تھے ،خود مکہ میں ہندوستان کے تاجر اور صناع موجود تھے ،آپ ﷺاور حضرات صحابہ ہند اور اہل ہند سے اچھی طرح واقف تھے ۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ عرب و ہند عہد رسالتﷺ میں ‘‘ قاضی محمد اطہر مبارکپوری صاحب کی ہے۔ اس کتاب میں زمانۂ نبوت کے عرب و ہند سے بحث کی گئی ہے۔ کتاب کے آٹھ بڑے ابواب ہیں جن میں سے آخر کے تین ابواب (1) ’’پیغمبر اسلام اور ہندوستانی باشندے‘&lsq...

  • عظیم مسلمان دانشور

    (جمعہ 15 دسمبر 2017ء) ناشر : تخلیقات، لاہور
    #6092 Book صفحات: 483

    سائنس کی تنظیم و تٰرقی کی تاریخ ایک مثبت اور باقاعدہ علم ہے۔ ایسے مثبت علم کی تحصیل میں انسان کی مساعی سے ہر وقت اضافہ ہی ہوتا آ رہا ہے۔ کار ہائے صناعی و فنون لطیفہ کا مطالعہ ہم ان اقوام کی ذہنیت سے واقف کراتا ہے جو ان کے بانی ہیں۔اقوام عالم کے ادیان و مذاہب کے ارتقاء کی جانچ بھی انسان کے لیے نہایت ضروری مشغلہ ہے۔ حال تک لوگ سائنس کو دینیات ہی کا ایک جزو تصور کرتے تھے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’عظیم مسلمان دانشور‘‘مولوی عبد الرحمٰن (صدر حیدر آباد اکیڈمی، سابق پرنسپل عثمانیہ یونیورسٹی کالج) کی ہے۔ جس میں 1950ء میں قرون وسطیٰ کے مسلمانوں کی علمی خدمات کو اجاگر کیا گیا ہے۔مزیدساتویں صدی عیسوی سے لے کر تیرہویں صدی عیسوی تک تمام سائنسی ادوار، شخصیات اور علمی خدمات کو انتہائی تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے۔یہ کتاب علمی لحاظ سے انتہائی مفید ہےجس کے مطالعہ سے ہمارے دلوں میں جذبات پیدا ہوں گے کہ ہم بھی اپنے سابقہ عظیم شخصیات کی طرح نئے نئے کام سر انجام دیں۔ ہم مصنف اور دیگر ساتھیوں کے لئے دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کی محنتوں اور کاوشوں کو قبول فرمائے او...

  • 7 #6097

    مصنف : قاری عبد الرحمن

    مشاہدات : 2239

    مدینہ منورہ کے سات جلیل القدر فقہاء

    (اتوار 17 دسمبر 2017ء) ناشر : تخلیقات، لاہور
    #6097 Book صفحات: 291

    علمائے اسلام نے دین اور کتاب و سنت کی حفاظت و صیانت کے لئے ابتداء میں فن اسماء الرجال سے کام لیا۔ آگے چل کر اس فن میں بڑی وسعت پیدا ہوئی جس کے نتبجہ میں سلف اور خلف کے درمیان واسطۃ العقد کی حیثیت سے طبقات و تراجم کا فن وجود میں آیااور ہر دور میں بے شمار علماء، فقہاء، محدثین، اور ہر علم و فن اور ہر طبقہ کے ارباب فضل و کمال کے حالات زندگی اور دینی و علمی کارناموں سے مسلمانوں کو استفادہ کا موقع ملا۔ اور اس کی افادیت و اہمیت کے پیش نظر علماء نے بہت سے بلاد و امصار کی تاریخ مرتب کر کے وہاں کے علماء و مشائخ کے حالات بیان کئے۔ اس سلسلہ الذہب کی بدولت آج تک اسلاف و اخلاف میں نہ ٹوٹنے والا رابطہ قائم و دائم ہے۔ زیر نظر کتاب’’مدینہ منورہ کے سات جلیل القدر فقہاء‘‘ قاری عبد الرحمن کی ہے۔ جس میں جس میں اسلامی فقہ کی ابتدائی تاریخ و ترویج کی تفصیل،فقہائے سبعہ (سعید ابن المسیب، قاسم ابن محمد، عروہ ابن زبیر، عبید اللہ ابن عبداللہ، ابو بکر ابن عبد الرحمٰن، خارجہ ابن زید، سلیمان ابن یسار) کےحالات و اقعات، کارناموں اور فقہی کاوشوں کو بیان کیا گیا ہے۔...

  • 8 #6294

    مصنف : ول ڈیورانٹ

    مشاہدات : 2862

    یورپ کی بیداری

    (پیر 05 مارچ 2018ء) ناشر : تخلیقات، لاہور
    #6294 Book صفحات: 1043

    یورپ (europe) دنیا کے سات روایتی براعظموں میں سے ایک ہے تاہم جغرافیہ دان اسے حقیقی براعظم نہیں سمجھتے اور اسے یوریشیا کا مغربی جزیرہ نما قرار دیتے ہیں۔ اصطلاحی طور پر کوہ یورال کے مغرب میں واقع یوریشیا کا تمام علاقہ یورپ کہلاتا ہے۔یورپ کے شمال میں بحر منجمد شمالی، مغرب میں بحر اوقیانوس، جنوب میں بحیرہ روم اور جنوب مشرق میں بحیرہ روم اور بحیرہ اسود کو ملانے والے آبی راستے اور کوہ قفقاز ہیں۔ مشرق میں کوہ یورال اور بحیرہ قزوین یورپ اور ایشیا کو تقسیم کرتے ہیں۔یورپ رقبے کے لحاظ سے آسٹریلیا کو چھوڑ کر دنیا کا سب سے چھوٹا براعظم ہے جس کا رقبہ ایک کروڑ چالیس لاکھ مربع کلومیٹر ہے جو زمین کے کل رقبے کا صرف دو فیصد بنتا ہے۔ یورپ سے بھی چھوٹا واحد براعظم آسٹریلیا ہے۔ آبادی کے لحاظ سے یہ تیسرا سب سے بڑا براعظم ہے جس کی آبادی 71 کروڑ ہے جو دنیا کی کل آبادی کا 11 فیصد بنتا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’یورپ کی بیداری‘‘ ول ڈیو رانٹ کی تصنیف ہے جس کو اردو قالب میں یاسر جواد ڈھالا ہے۔ اس کتاب میں پیترارک اور بوکا شیو کا عہد، آوی نوین کے پوپ، میڈیچی کا عروج، ساو ونار ولا اور جمہوریہ ،...

  • 9 #6303

    مصنف : سٹینلی میرن

    مشاہدات : 1841

    پاکستان معاشرہ اور ثقافت

    (ہفتہ 10 مارچ 2018ء) ناشر : تخلیقات، لاہور
    #6303 Book صفحات: 227

    پاکستان کا معاشرہ اور ثقافت مغرب میں بلوچ اور پشتون اور قدیم درد قبائل جیسے پنجابیوں، کشمیریوں، مشرق میں سندھیوں، مہاجرین، جنوب میں مکرانی اور دیگر متعدد نسلی گروہوں پر مشتمل ہے جبکہ شمال میں واکھی، بلتی اور شینا اقلیتیں. اسی طرح پاکستانی ثقافت ترک عوام، فارس، عرب، اور دیگر جنوبی ایشیائی، وسطی ایشیاء اور مشرق وسطی کے عوام کے طور پر اس کے ہمسایہ ممالک، کے نسلی گروہوں نے بہت زیادہ متاثر کیا ہے. کسی بھی معاشرے کے افراد کے طرزِ زندگی یا راہ عمل جس میں اقدار ، عقائد ، ر سم ورواج اور معمولات شامل ہیں ثقافت کہلاتے ہیں، ثقافت ایک مفہوم رکھنے والی صطلاح ہے اس میں وہ تمام خصوصیات ( اچھائیاں اور برائیاں ) شامل ہیں جو کہ کسی بھی قوم کی پہچان ہوتی ہیں دنیا میں انسانی معاشرے کا وجود ٹھوس ثقافی بنیادوں پر قائم ہے انسان ثقافت و معاشرہ لازم و ملزوم ہیں ، ہم ان کو ایک دوسرے سے الگ نہیں کرسکتے ، ثقافت کے اندر انسانی زندگی کی تمام سر گرمیاں خواہ وہ ذہنی ہوں یا مادی ہوں شامل ہیں سی سی کون کا کہنا ہے کہ ” انسان کے رہن سہن کا وہ مجموعہ جو سیکھنے کے عمل کے ذریعے نسل در سنل...

  • 10 #6480

    مصنف : معاذ حسن

    مشاہدات : 2835

    اسلامی ممالک

    (ہفتہ 14 اپریل 2018ء) ناشر : تخلیقات، لاہور
    #6480 Book صفحات: 184

    اسلام ایک نظریہ حیات ہے۔ جس نے انسانیت کو ایک نئے نظام اور نئی تہذیب سے روشناس کیا ہے۔ وفاداریوں اور وابستگیوں کا ایک نیا تصور دیا ہے۔ قومیت کا ایسا ہمہ گیر تصور پیش کیا جس میں انسانوں کی وفاداریوں کو کسی خاص نسل‘ زبان اور علاقہ کی وابستگی کی حدود سے نکال کر ایک وسیع عالمی برادری کے قیام تک وسعت دی۔ یہی وجہ ہے کہ تمام مسلمان علیحدہ علیحدہ مملکتوں میں رہتے ہوئے بھی ایک ہیں۔ قطع نظر اس کے کہ وہ مختلف ممالک میں بکھرے ہوئے ہیں‘ ان کی تہذیب وتمدن مختلف ہیں‘ زبانیں مختلف ہیں اور مختلف نسلوں سے تعلیق رکھتے ہیں۔زیرِ تبصرہ کتاب اسی سلسلے اور نظریہ کی ایک لڑی ہے۔ جس میں مصنف نے ملت اسلامیہ کی اکائی پیش کی اور ’اکائی‘ ہے جس پر دنیا کے ہر خطے میں بسنے والا فرد ایک ہی امت قرار پاتا ہے۔ یعنی امت محمدیﷺ یا ملت اسلامیہ۔ اس میں مصنف نے تمام اسلامی ممالک میں شامل ہر مملکت کے تمام اعدادوشمار پیش کرنے کی کامیاب سعی کی ہےاور کسی بھی ملک کی تاریخ بیان کرتے ہوئے کسی قسم کی جذباتیت اور وابستگی سے قطع نظر اعتدال کی راہ کو اپنایا گیا ہے۔ مختلف عالمی اس...

  • 11 #6536

    مصنف : یاسر جواد

    مشاہدات : 3159

    ان پیج 2000 اردو ، عربی ، فارسی ، سندھی اور پنجابی کے لیے مفید

    (اتوار 20 مئی 2018ء) ناشر : تخلیقات، لاہور
    #6536 Book صفحات: 163

    اِن پیج اردو، فارسی، پشتو، سندھی، عربی اور دیگر عربی رسم الخط کی حامل زبانیں لکھنے اور صفحات کی تزئین و آرائش کا ایک انتہائی مفید سافٹ وئیر ہے جس کا پہلا نسخہ 1994ء میں جاری ہوا۔ اسے بھارت کے کانسپٹ سافٹ وئیر نے تخلیق کیا ہے اور یہ صرف مائکروسافٹ ونڈوز آپریٹنگ سسٹم کے لیے جاری کیا جاتا ہے۔ اِن پیج خاص طور پر اردو زبان کے نستعلیق رسم الخط لکھنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ زیر نظر کتاب ’’ اِن پیج 2000‘‘ جناب یاسر جواد صاحب کی کاوش ہے ۔ فاضل مصنف نے یہ کتاب اِن2000 کو آسان بنانے کی غرض سے مرتب کی ہے ۔ قارئین اس کتاب کی مدد سے اِن پیج کی تمام جدید اور مفید سہولیات سے فائدہ اٹھانے کا طریقہ سیکھ سکتے ہیں ۔ نیز مختلف قسم کے ڈاکومنٹس تیار کرنے کے لیے بنیادی اور اہم چیزوں سے متعارف سے ہوسکتے ہیں ۔ اِن پیج سے خوبصورت ڈاکو منٹس بنانے کے لیے کئی مثالیں اس کتاب میں موجود ہیں ۔ اس کے علاوہ 9 مینوز میں شامل ہر ایک کمانڈ کی مکمل وضاحت بھی کرد ی گئی ہے ۔ کتاب کا آخری حصہ سادہ کتاب ، غزلوں اور ڈکشنری وغیرہ کی فارمیٹنگ سکھانے پر مشتمل ہے ۔(م۔ا)

  • 12 #6610

    مصنف : برائن زیڈ ٹاما ناھا

    مشاہدات : 1992

    قانون کی حکمرانی

    (ہفتہ 01 ستمبر 2018ء) ناشر : تخلیقات، لاہور
    #6610 Book صفحات: 219

    دنیا بھر کے دانشور ٹھوس انداز میں کہہ رہے ہیں کہ قانون کی حکمرانی ہی سب کےلیے بہتر ہے  ترقی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ  قانون کی حکمرانی  کی کے بغیر کوئی پائیدار اقتصادی ترقی ممکن نہیں۔ اس  تصور کی توثیق مختلف معاشرتی ، معاشی اور سیاسی نظا م رکھنے والے ممالک کے سربراہ بھی کرتے آرہے ہیں۔روسی صدر پیوٹن نے عدالتی اصلاحات کے نفاذ اور قانونی کی حکمرانی کے اصولوں کی مکمل عملداری کو اپنے ملک کی اولین ترجیح بنا رکھا ہے۔چینی حکمرانوں کا کہنا ہے کہ وہ قانون کی حکمرانی کے قیام کی حمایت کرتے ہیں ۔زمبابوے  کے صدر رابرٹ موگابے نے کہا صرف  ایک ایسی حکومت ہی اپنے  عوام سے قانون کی حکمرانی  کی اطاعت  کا مطالبہ  کرسکتی ہے جو خود قانون کی حکمرانی کو اپنا شعار بنائے ۔انڈونیشیا کے صدر عبد الرحمٰن  واحد  نے کہا کہ ہماری بڑی بڑی کامیابیوں میں سے ایک  یہ ہےکہ ہم قانون کی حکمرانی کا آغاز کر ر ہے ہیں۔جبکہ بہت سارے لوگ اس تصور کے خلاف ہیں ۔

    زیر نظر کتاب  ’’ قانون کی حک...

  • 13 #6680

    مصنف : قاضی جاوید

    مشاہدات : 2316

    سر سید سے اقبال تک

    (جمعرات 12 جولائی 2018ء) ناشر : تخلیقات، لاہور
    #6680 Book صفحات: 247

    سرسید کو پاکستان کا معمارِ اول کہا جاتا ہے ۔ سرسید نے 1865ء میں کہا تھا کہ ہندوستان میں ایک قوم نہیں بستی، مسلمان اور ہندو دو الگ الگ قومیں بستی ہیں۔ سرسید کے جانشین نواب محسن الملک نے انتخاب کے اس سوال کو اٹھایا اور قوم کے قریب ستر نمائندگان پر مشتمل ایک وفد لے کر گورنر جنرل کے پاس پہنچا۔ ہندوستان کی سیاست میں یہ پہلا موقع تھا جب مسلمانوں نے اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے اس قسم کا قدم اٹھایا۔ یہ کیا تھا؟ سرسید کی ان کوششوں کا نتیجہ کہ مسلمان کو مغربی تعلیم سے بے بہرہ نہیں رہنا چاہیے ۔ اس جدوجہد نے آگے چل کر جداگانہ تنظیم کی شکل اختیار کی اور 1906ء میں آل انڈیا مسلم لیگ کا وجود عمل میں آیا۔ جس کے جائنٹ سیکرٹری علی گڑھ تحریک کے روح رواں نواب محسن الملک اور وقار الملک تھے۔ لیگ کا صدر مقام بھی علی گڑھ ہی تھا۔ یہی وہ تنظیم تھی جو آگے بڑھتے بڑھتے تحریک پاکستان کی صورت اختیار کر گئی اور 1947ء میں یعنی سرسید کی وفات کے پچاس سال بعد مسلمانوں کی جداگانہ مملکت کے حسین پیکر میں نمودار ہوئی۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ سیر سید سے اقبال تک ‘‘ قاضی جاوید صا...

ایڈ وانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین 1517
  • اس ہفتے کے قارئین 12482
  • اس ماہ کے قارئین 1517
  • کل قارئین56451997

موضوعاتی فہرست